روت 2
نوجوان (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
The Explanation
نعومی اور روت بیت لحم پہنچ چکی ہیں۔ دو بیوائیں، کوئی مرد نہیں، کوئی زمین نہیں، کوئی آمدنی نہیں۔ اُس زمانے میں یہ صرف غربت نہیں تھی، یہ سماجی موت تھی۔ عورتیں اکیلے نہیں کما سکتی تھیں۔ روت، جو موآب سے آئی ہوئی پردیسی ہے، ایک فیصلہ کرتی ہے: وہ کھیتوں میں جا کر بچی ہوئی بالیں چنے گی۔
یہ کوئی رومانوی منظر نہیں ہے۔ شریعت میں لکھا تھا کہ کسان اپنے کھیت کے کونے پوری طرح نہ کاٹیں اور جو بالیں گر جائیں اُنہیں غریبوں، یتیموں اور پردیسیوں کے لیے چھوڑ دیں۔ لیکن یہ کام سخت تھا: جھکنا، دھوپ میں گھنٹوں کھڑا رہنا، مزدوروں کے پیچھے چلنا، اور یہ خطرہ کہ کوئی آپ کو تنگ کرے یا نکال دے۔
روت اتفاق سے بوعز کے کھیت میں پہنچ جاتی ہے۔ "اتفاق سے" پر غور کیجیے، بائبل جان بوجھ کر یہ لفظ استعمال کرتی ہے۔ بوعز نعومی کے مرحوم شوہر کا رشتے دار ہے، ایک بااثر آدمی۔ جب وہ کھیت میں آتا ہے تو اپنے مزدوروں کو سلام کرتا ہے، "رب آپ کے ساتھ ہو۔" یہ کوئی رسمی جملہ نہیں، یہ اُس کی زندگی کا رنگ ہے۔
بوعز روت کو دیکھتا ہے، اور دیکھنا اہم ہے۔ زیادہ تر لوگ ایک اجنبی موآبی عورت کو نظر انداز کر دیتے۔ لیکن وہ اُس کے بارے میں پوچھتا ہے، اُس سے بات کرتا ہے، اور جو کچھ کہتا ہے وہ حیران کن ہے: "کسی اَور کھیت میں نہ جائیں، یہیں رہیں، پانی پئیں، آپ کو کوئی تنگ نہیں کرے گا۔" وہ اُسے تحفظ دیتا ہے۔
روت منہ کے بل جھک جاتی ہے۔ "مَیں تو پردیسی ہوں۔ آپ کیوں میری قدر کرتے ہیں؟" بوعز کا جواب گہرا ہے: اُس نے سنا ہے کہ روت نے اپنی ساس کے لیے کیا کچھ چھوڑا۔ اور پھر وہ ایک خوبصورت جملہ کہتا ہے: "آپ رب اسرائیل کے خدا کے پَروں تلے پناہ لینے آئی ہیں۔"
کھانے کے وقت بوعز اُسے اپنے مزدوروں کے ساتھ بٹھاتا ہے۔ پردیسی، بیوہ عورت، اُس کے دسترخوان پر۔ وہ اُسے اِتنا کھانا دیتا ہے کہ کچھ بچ جاتا ہے، اور روت وہ بچا ہوا حصہ اپنی ساس کے لیے گھر لے جاتی ہے۔ پھر بوعز اپنے مزدوروں کو خفیہ حکم دیتا ہے: جان بوجھ کر کچھ بالیں گرنے دو۔ اُسے شرمندہ نہ کرو۔
شام تک روت تیرہ کلو جَو جمع کر لیتی ہے، یہ ایک مزدور کی کئی ہفتوں کی اجرت کے برابر ہے۔ جب نعومی یہ دیکھتی ہے تو پہچان جاتی ہے کہ کچھ ہو رہا ہے۔ "رب اُسے برکت دے! وہ ہمارا قریبی رشتے دار ہے۔" پہلی بار باب ۱ کی تلخ نعومی امید سے بولتی ہے: "اللہ ہم پر رحم کرنے سے باز نہیں آیا۔"
What Does This Mean?
یہ باب ظاہری طور پر ایک عام دن کی کہانی ہے: ایک عورت کھیت میں کام پر جاتی ہے۔ کوئی معجزہ نہیں، کوئی فرشتہ نہیں، آسمان سے کوئی آواز نہیں۔ اور پھر بھی خدا ہر سطر میں کام کر رہا ہے۔
یہاں دو باتیں ابھر کر آتی ہیں۔ پہلی: خدا اکثر عام لوگوں کے ذریعے کام کرتا ہے جو اُس کی شریعت کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ بوعز نے کوئی غیر معمولی کام نہیں کیا، اُس نے صرف وہ کیا جو خدا نے پہلے سے حکم دیا تھا: غریبوں کے لیے جگہ چھوڑنا، پردیسی کی حفاظت کرنا، عزت سے پیش آنا۔ لیکن جب کوئی واقعی ایسا کرتا ہے تو ایک بیوہ عورت کی زندگی بدل جاتی ہے۔
دوسری بات: روت "اتفاق سے" بوعز کے کھیت میں نہیں پہنچی۔ راوی جان بوجھ کر یہ لفظ استعمال کرتا ہے تاکہ ہم سمجھ لیں کہ یہ اتفاق نہیں ہے۔ خدا کی رہنمائی اکثر ایسی ہی لگتی ہے، ایک عام فیصلہ، ایک عام دن، جو بعد میں پیچھے مڑ کر دیکھو تو ہدایت نکلتی ہے۔
The Common Thread
بوعز کا لفظ "پَروں تلے پناہ" یاد رکھیے۔ روت ایک پردیسی، غیر اسرائیلی، موآبی عورت، اسرائیل کے خدا کے پَروں تلے پناہ لینے آئی ہے۔ اور خدا اُسے قبول کرتا ہے۔
یہ بوعز مسیح کا ایک عکس ہے۔ شریعت میں "قریبی رشتے دار" (گوئل) وہ آدمی تھا جس کا حق اور فرض تھا کہ وہ اپنے مفلس رشتے داروں کو چھڑائے، اُن کی زمین واپس دلائے، اُن کی حفاظت کرے۔ بوعز روت کا گوئل بنے گا۔ اور یسوع مسیح ہمارا سچا گوئل ہے، وہ رشتے دار جو ہماری قیمت ادا کر کے ہمیں چھڑاتا ہے۔
اور ایک اور بات: روت اِس بوعز سے شادی کرے گی، اور اُن کا پڑپوتا داؤد بادشاہ ہو گا۔ اور داؤد کی نسل سے یسوع مسیح آئے گا۔ متی کی انجیل کے پہلے باب میں یسوع کے شجرۂ نسب میں ایک موآبی عورت کا نام درج ہے۔ خدا نے ایک بیوہ پردیسی کو نجات دہندہ کی نسل کا حصہ بنایا۔
For You
آپ کی زندگی میں شاید ایسے دن ہیں جو مکمل طور پر عام لگتے ہیں۔ اسکول، امتحان، رشتے، تنہائی، شکوک۔ کوئی روشن اشارہ نہیں کہ خدا کہاں ہے۔ روت کا باب ۲ اِسی صورتحال کے لیے ہے۔
روت نے وہ کیا جو اُس کے سامنے تھا۔ اُس نے شکایت نہیں کی کہ زندگی نے اُس کے ساتھ ناانصافی کی، حالانکہ کی تھی۔ اُس نے کوئی
روت 2 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
روت 2 کس بارے میں ہے؟
روت 2 کیا کہتا ہے؟
روت 2 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
نوجوان روت 2 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
روت 2 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
کھیت کے نگران نے اُسے نام سے نہیں پکارا۔ اُس نے بس اِتنا کہا، ”یہ موآبی عورت ہے جو نعومی کے ساتھ موآب سے آئی ہے۔“ یعنی پرائی، اجنبی، باہر کی۔ لوگ اکثر ہمیں ہمارے ماضی یا پس منظر کے لیبل سے جانتے ہیں۔ مگر بوعز نے اُسی عورت میں وفاداری دیکھی۔ کیا تُو بھی کسی کو صرف اُس کے لیبل سے جانتا ہے؟
بوعز نے رُوت کو بُلا کر تحفہ نہیں دیا۔ اُس نے چپکے سے اپنے مزدوروں سے کہا، ”بلکہ بالیوں کے پُولوں میں سے کچھ نکال کر اُس کے لئے چھوڑ دینا تاکہ وہ اُنہیں چن لے۔ اُسے نہ جھڑکنا۔“ رُوت شام کو جو اناج گھر لائی، وہ سمجھی کہ یہ میری محنت کا پھل ہے۔ اُسے پتا ہی نہ چلا کہ کسی نے راستے میں برکت بچھا رکھی تھی۔ آج تیری زندگی میں بھی کتنا کچھ ایسا ہے جو تُو اپنی محنت سمجھتا ہے، مگر دراصل وہ خاموش فضل ہے؟
بوعز نے روت سے یہ نہیں کہا کہ محنت کر کے اپنا پانی خود بھر۔ اُس نے کہا، ”جب تجھے پیاس لگے تو اُن برتنوں کے پاس جا کر پانی پی جو میرے نوکروں نے بھر دیئے ہیں۔“ ایک پردیسی عورت کو دوسروں کی محنت سے سیراب ہونے کی اجازت ملی۔ کیا تُو بھی مانگے بغیر ملنے والی مہربانی قبول کر سکتا ہے، یا اب تک یہی سوچتا ہے کہ ہر گھونٹ کمانا پڑے گا؟
نعومی نے کچھ دن پہلے کہا تھا کہ مجھے مارہ کہو، کیونکہ زندگی کڑوی ہو گئی تھی۔ اور آج وہی زبان برکت دیتی ہے: ”اللہ اُس کو برکت دے جس نے تیرا خیال کیا۔“ روت کی جھولی میں جَو کے دانے تھے، مگر نعومی کے دل میں اُمید کا پہلا بیج گرا۔ کبھی کبھی خدا ہماری تلخی کسی اَور کی مہربانی کے ذریعے توڑتا ہے۔ آج کس نے تیرا خیال کیا؟ کیا تُو نے شکر کیا؟
چھوٹے بچوں کے لیے کچھ تلاش کر رہے ہیں؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور پرائمری عمر (7 تا 12 سال) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں