۱-پطرس 2
پرائمری عمر (7 تا 12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
تشریح
پطرس رسول ایک خط لکھ رہا ہے۔ وہ اُن مسیحیوں کو لکھتا ہے جو اپنے شہروں میں اجنبیوں کی طرح رہتے تھے۔ لوگ اُن کے بارے میں غلط باتیں کرتے تھے، اور بعض کو صرف اِس لیے تکلیف اُٹھانی پڑی کہ وہ خداوند یسوع مسیح پر ایمان رکھتے تھے۔
پطرس شروع میں کہتا ہے: اپنی زندگی سے بُرائی، دھوکا، ریاکاری، حسد اور بہتان نکال دو۔ اِس کے بجائے وہ ایک عجیب تصویر استعمال کرتا ہے: تم نومولود بچے ہو، اِس لیے خالص روحانی دودھ پینے کے آرزومند رہو۔ جیسے ایک بھوکا بچہ دودھ کے لیے روتا ہے، ویسے ہی ایمان رکھنے والے خدا کے کلام کے لیے بھوکے ہوں۔ کیونکہ ایمان اپنے آپ نہیں بڑھتا۔
پھر تصویر بدل جاتی ہے۔ اب بات پتھروں کی ہے۔ خداوند یسوع ایک "زندہ پتھر" ہے۔ انسانوں نے اُسے رد کیا، یعنی ایک بےکار پتھر کی طرح پھینک دیا۔ لیکن اللہ کی نظر میں وہی پتھر چنیدہ اور قیمتی تھا، اور وہی کونے کا بنیادی پتھر بن گیا، وہ پتھر جس پر پوری عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ اور یہاں حیرت کی بات آتی ہے: پطرس کہتا ہے کہ تم بھی زندہ پتھر ہو۔ اللہ تم سے اپنا روحانی مقدِس، اپنا گھر بنا رہا ہے۔ اِس گھر میں کوئی صرف تماشائی نہیں، سب امام ہیں۔
پطرس چار نام دیتا ہے: چنی ہوئی نسل، آسمانی بادشاہ کے امام، مخصوص و مُقدّس قوم، اللہ کی ملکیت۔ اور وجہ بھی: "وہ آپ کو تاریکی سے اپنی حیرت انگیز روشنی میں لایا ہے۔" پہلے وہ خدا کی قوم نہیں تھے، اب ہیں۔ پہلے اُن پر رحم نہیں ہوا تھا، اب ہوا ہے۔
اِس کے بعد پطرس عملی باتیں کرتا ہے۔ اِس دنیا میں تم اجنبی اور مہمان ہو، اِس لیے ایسی زندگی گزارو کہ اگر لوگ تم پر غلط الزام بھی لگائیں، تو اُنہیں تمہارے نیک کام دکھائی دیں۔ حکومت کا احترام کرو۔ ہر ایک کی عزت کرو۔ آزاد ہو، لیکن آزادی کو غلط کام چھپانے کے لیے استعمال نہ کرو۔
آخر میں سب سے مشکل حصہ آتا ہے۔ پطرس اُن غلاموں سے بات کرتا ہے جن کے مالک ظالم تھے۔ وہ کہتا ہے: اگر تمہیں اچھا کام کرنے کی وجہ سے دُکھ سہنا پڑے اور تم صبر کرو، تو یہ اللہ کا فضل ہے۔ اور پھر وہ خداوند یسوع کی طرف اشارہ کرتا ہے: "جب لوگوں نے اُسے گالیاں دیں تو اُس نے جواب میں گالیاں نہ دیں۔" اُس نے اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دیا۔
اِس کا مطلب کیا ہے؟
پطرس اُن لوگوں کو لکھ رہا ہے جو اپنے آپ کو چھوٹا اور نکارا محسوس کرتے تھے۔ اور وہ اُنہیں بتاتا ہے کہ اللہ کی نظر میں وہ کیا ہیں: پتھر جو پھینکے نہیں گئے بلکہ عمارت میں لگائے گئے۔
یہ سچ ہے: لوگوں کی نظر اور خدا کی نظر ایک جیسی نہیں ہوتی۔ خداوند یسوع کے ساتھ بھی ایسا ہوا۔ لوگوں نے کہا: بےکار۔ اللہ نے فرمایا: قیمتی۔
ایک بات اِس باب میں مشکل رہ جاتی ہے۔ پطرس آٹھویں آیت میں لکھتا ہے کہ جو ٹھوکر کھاتے ہیں، اُن کے لیے یہی اللہ کی مرضی تھی۔ اِس آیت پر ایمان دار صدیوں سے سوچتے آئے ہیں، اور میرے پاس بھی اِس کا پورا جواب نہیں ہے۔ پطرس اِتنا کہتا ہے کہ وہ کلامِ مُقدّس کے تابع نہیں ہوتے۔ باقی بات ہمیں اللہ کے ہاتھ میں چھوڑنی پڑتی ہے۔
کہانی کا سنہری دھاگا
اِس باب کا مرکز چوبیسویں آیت ہے: "مسیح خود اپنے بدن پر ہمارے گناہوں کو صلیب پر لے گیا۔" پطرس یہ نہیں کہتا کہ یسوع صرف ایک اچھا نمونہ ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ اُن کے زخموں سے ہمیں شفا ملی۔
اور آخری آیت پھر تصویر بدل دیتی ہے۔ پتھروں کے بعد بھیڑیں: "پہلے آپ آوارہ بھیڑوں کی طرح آوارہ پھر رہے تھے، لیکن اب آپ اپنی جانوں کے چرواہے اور نگران کے پاس لوٹ آئے ہیں۔" یہ پوری بائبل کا دھاگا ہے۔ انسان بھٹک جاتا ہے، اور خدا اُسے واپس بلاتا ہے۔
تمہارے لیے
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی تمہارے بارے میں کچھ کہتا ہے جو سچ نہیں ہے۔ پطرس کا مشورہ عجیب ہے: جواب میں گالی نہ دو، بلکہ ایسی زندگی گزارو کہ تمہارے کام خود بولیں۔ یہ آسان نہیں۔ یہ کمزوری بھی نہیں۔ یسوع نے یہی کیا، اور اُس نے اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کر دیا جو انصاف سے عدالت کرتا ہے۔
اور دوسری بات: تم اکیلا پتھر نہیں ہو۔ ایک پتھر عمارت نہیں بنتا۔ اِسی لیے کلیسیا میں جانا، مل کر گانا اور دعا کرنا اہم ہے۔ تم اُس گھر کا حصہ ہو جسے اللہ اپنے ہاتھوں سے بنا رہا ہے۔
اِس پر بات کریں
جب تم پر کوئی غلط الزام لگاتا ہے، تو تمہارے اندر پہلا ردِعمل کیا ہوتا ہے؟ اور یسوع نے کیا کیا؟
"تم زندہ پتھر ہو" یہ سُن کر تمہیں کیسا لگتا ہے؟ کیا اِس پر یقین کرنا تمہارے لیے آسان ہے یا مشکل؟
مل کر دعا
خداوند یسوع، لوگوں نے آپ کو رد کیا، لیکن آپ اللہ کے نزدیک قیمتی تھے۔ شکریہ کہ آپ ہمارے گناہ صلیب پر اُٹھا لے گئے۔ ہم بھٹکی ہوئی بھیڑوں کی طرح تھے، اور آپ ہمیں واپس لے آئے۔ ہمیں سکھائیے کہ جب ہمارے ساتھ ناانصافی ہو تو ہم کیا کریں۔ ہمیں اپنے کلام کے لیے بھوکا بنائیے۔ آمین۔
۱-پطرس 2 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
۱-پطرس 2 کس بارے میں ہے؟
۱-پطرس 2 کیا کہتا ہے؟
۱-پطرس 2 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
بچے ۱-پطرس 2 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
۱-پطرس 2 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
پطرس اُن مسیحیوں کو لکھ رہا تھا جو ایک ایسی حکومت کے نیچے جی رہے تھے جو اُن سے ہمدردی نہیں رکھتی تھی۔ پھر بھی وہ گورنروں کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ ”مجرموں کو سزا دینے اور نیک کام کرنے والوں کو شاباش دینے“ کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ سوچیں، آپ کی خاموش دیانت داری وہ زبان ہے جو مخالف بھی سمجھ لیتا ہے۔ آج آپ کے کام کو دیکھ کر کوئی کیا کہے گا؟
پطرس نے ابھی لکھا تھا کہ ایک دوسرے سے دل کی گہرائی سے محبت رکھیں، اور پھر فوراً یہ فہرست: بُرائی، دھوکا، ریاکاری، حسد، بہتان۔ غور کریں، یہ سب گناہ کسی اجنبی کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے ہی بھائی بہنوں کے درمیان ہوتے ہیں۔ یہ میل کچیل ہے جو نئی زندگی کے لباس پر نہیں جچتی۔ آج کس بات کو اُتارنے کی ضرورت ہے؟ شاید وہ بات جو آپ نے کسی کے بارے میں کل کہی تھی۔
پطرس اُن لوگوں کو لکھ رہا ہے جو اپنے ہی ملک میں اجنبی بن چکے تھے، اور حکومت اُن کے حق میں نہیں تھی۔ پھر بھی وہ کہتا ہے: "خداوند کی خاطر ہر انسانی ادارے کے تابع رہیں۔" غور کریں، وجہ حاکم کی نیکی نہیں بلکہ خداوند ہے۔ یعنی آپ کی فرمانبرداری کسی انسان کے قدموں میں نہیں گرتی، وہ مسیح کے قدموں میں رکھی جاتی ہے۔ یہ کمزوری نہیں، یہ آزادی ہے۔ آج آپ کس کے لیے صبر کر رہے ہیں؟
پطرس نے بدنامی کا علاج بحث نہیں بتایا۔ اُس نے لکھا: ”غیرایمانداروں کے درمیان رہتے ہوئے شریف زندگی گزاریں۔“ الزام لگانے والے کان سے نہیں، آنکھ سے قائل ہوتے ہیں، اور آنکھ کو وقت لگتا ہے۔ جو پڑوسی آج تمہارے بارے میں غلط بات کہہ رہا ہے، وہ برسوں تمہیں دیکھتا بھی رہے گا۔ کیا تمہاری خاموش نیکی اُس کے دل میں خدا کا جلال بو رہی ہے؟
کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور نوجوانوں (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں