۱-پطرس 5
پرائمری عمر (7 تا 12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
The Explanation
پطرس رسول اپنے خط کے آخر میں کچھ خاص لوگوں سے سیدھی بات کرتا ہے: جماعتوں کے بزرگوں سے، یعنی وہ لوگ جو کلیسیا کی رہنمائی کرتے تھے۔ وہ خود کو "بزرگ" اور "مسیح کے دُکھوں کا گواہ" کہتا ہے، یعنی اس نے خود دیکھا کہ خداوند یسوع نے کیسے دُکھ اٹھایا۔ وہ بزرگوں سے کہتا ہے کہ وہ اللہ کے گلے یعنی کلیسیا کی دیکھ بھال کریں جیسے ایک گلہ بان بھیڑوں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ مجبوری سے نہیں بلکہ خوشی سے۔ لالچ سے نہیں بلکہ پوری لگن سے۔ اور حکومت جتانے سے نہیں بلکہ اچھا نمونہ بن کر۔
پھر وہ جوانوں سے کہتا ہے کہ وہ بزرگوں کے تابع رہیں، اور سب ایک دوسرے کے ساتھ انکساری سے، یعنی عاجزی سے، پیش آئیں۔ اس کے بعد پطرس ایک بہت گہری بات کہتا ہے: اپنی تمام پریشانیاں خدا پر ڈال دیں، کیونکہ وہ ہماری فکر کرتا ہے۔ وہ خبردار بھی کرتا ہے کہ شیطان ایک دھاڑتے ہوئے شیر کی طرح گھومتا پھرتا ہے اور کسی کو ہڑپ کرنے کی تلاش میں رہتا ہے۔ اس لیے ایمان میں مضبوط رہ کر اس کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔ آخر میں وہ وعدہ کرتا ہے کہ دُکھ ہمیشہ نہیں رہے گا، خدا خود مضبوط بنائے گا۔
What Does This Mean?
یہ باب دراصل کلیسیا کی تصویر ہے، جیسے ایک بھیڑ بکریوں کا باڑہ۔ رہنما بھیڑوں پر مالک بن کر نہیں بلکہ محبت سے چرواہے کی طرح چلتے ہیں۔ اور باقی سب لوگ، جوان ہوں یا بوڑھے، ایک دوسرے کے سامنے عاجز رہتے ہیں۔ یہ کوئی کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہے، کیونکہ متن کہتا ہے کہ "اللہ مغروروں کا مقابلہ کرتا لیکن فروتنوں پر مہربانی کرتا ہے۔" غور کرنے والی بات یہ ہے کہ خدا خود مغروروں کے خلاف کھڑا ہوتا ہے، مگر عاجز لوگوں کے قریب آتا ہے۔
سب سے زیادہ سکون دینے والی بات وہ ہے جو ساتویں آیت میں لکھی ہے: "اپنی تمام پریشانیاں اُس پر ڈال دیں، کیونکہ وہ آپ کی فکر کرتا ہے۔" یہ کوئی سطحی تسلی نہیں، کیونکہ اگلی ہی آیت میں پطرس شیطان کے بارے میں سنجیدہ بات کرتا ہے۔ زندگی میں خطرہ حقیقی ہے، دُکھ حقیقی ہے، مگر خدا کی دیکھ بھال بھی اتنی ہی حقیقی ہے۔
The Common Thread
پطرس یسوع مسیح کو "سردار گلہ بان" کہتا ہے۔ یہ لفظ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یسوع نے خود کہا تھا کہ وہ اچھا چرواہا ہے جو اپنی بھیڑوں کے لیے اپنی جان دیتا ہے۔ کلیسیا کے بزرگ اس بڑے گلہ بان کے نیچے کام کرنے والے چھوٹے گلہ بان ہیں۔ وہ کبھی خود مالک نہیں بنتے، کیونکہ بھیڑیں اصل میں یسوع کی ہیں۔ اور جو دُکھ ابھی برداشت کرنا پڑتا ہے، وہ آخری بات نہیں۔ خدا کا وعدہ ہے کہ وہ خود ہمیں کاملیت تک پہنچائے گا، مضبوط بنائے گا، اور ایک ٹھوس بنیاد پر کھڑا کرے گا۔ یہ وعدہ اُس بڑی کہانی کا حصہ ہے جو مسیح کے دُکھ سے شروع ہو کر اُس کے جلال پر ختم ہوتی ہے، اور ہم اُس جلال میں شریک ہونے کے لیے بلائے گئے ہیں۔
For You
شاید تم ابھی کلیسیا کے بزرگ نہیں ہو، مگر تم روز فیصلہ کرتے ہو کہ دوسروں کے ساتھ کیسے پیش آنا ہے، عاجزی سے یا غرور سے۔ کیا تم اپنے چھوٹے بہن بھائی یا دوست پر حکومت جتاتے ہو، یا اُن کی مدد کرتے ہو؟ اور جب کوئی بات تمہیں پریشان کرے، اسکول کا امتحان ہو یا دوستی میں جھگڑا، تو یاد رکھو کہ خدا کہتا ہے وہ خود تمہاری فکر کرتا ہے۔ یہ کوئی جادوئی حل نہیں کہ پریشانی فوراً ختم ہو جائے، مگر یہ سچ ہے کہ تم اکیلے نہیں ہو۔
Talk About It
خدا کہتا ہے کہ وہ مغروروں کا مقابلہ کرتا ہے مگر فروتنوں پر مہربانی کرتا ہے۔ تمہارے خیال میں عاجز ہونے کا کیا مطلب ہے، اور یہ کمزوری کیوں نہیں؟
شیطان کو دھاڑتے ہوئے شیر سے کیوں تشبیہ دی گئی ہے؟ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے متن کیا کہتا ہے؟
Praying Together
اے خداوند، ہم اپنی سب پریشانیاں تیرے سامنے رکھتے ہیں کیونکہ تُو ہماری فکر کرتا ہے۔ ہمیں عاجزی سکھا، اور جب دُکھ آئے تو ہمیں مضبوط رکھ۔ ہمیں جگا کر رکھ تاکہ ہم ہوش مند رہیں۔ آمین۔
۱-پطرس 5 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
۱-پطرس 5 کس بارے میں ہے؟
۱-پطرس 5 کیا کہتا ہے؟
۱-پطرس 5 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
بچے ۱-پطرس 5 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
۱-پطرس 5 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
پطرس دُکھ اُٹھانے والوں کو یہ نہیں کہتا کہ تکلیف جلد ختم ہو جائے گی، بلکہ یہ: ”آپ تو جانتے ہیں کہ پوری دنیا میں آپ کے بھائی اِسی قسم کا دُکھ اُٹھا رہے ہیں۔“ یعنی آپ کی آزمائش اِس بات کی نشانی نہیں کہ خدا نے آپ کو چھوڑ دیا۔ آپ اکیلے نہیں۔ آج جب اندھیرا گہرا لگے، یاد رکھیں کہ اَور بھی گھٹنوں پر ہیں، اُسی ایمان میں مضبوط کھڑے۔
بزرگوں کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ ریوڑ اُن کا نہیں: "پھر جب گلہ بانوں کا سردار ظاہر ہو گا تو آپ کو جلال کا غیرمُرجھانے والا تاج ملے گا۔" اُس زمانے میں جیتنے والوں کو پتوں کا تاج ملتا تھا جو چند دن میں سوکھ جاتا تھا۔ آج تیری خدمت شاید کسی نے نہ دیکھی ہو، مگر جو تاج تیرا منتظر ہے وہ کبھی نہیں مرجھائے گا۔ سوال یہ ہے کہ تُو کس کی تعریف کے لیے کام کر رہا ہے؟
پطرس کا خط ستائے ہوئے، بکھرے ہوئے مسیحیوں کے لیے تھا، اور وہ اُسے یوں ختم کرتا ہے: ”محبت کے بوسے سے ایک دوسرے کو سلام کہنا۔“ آزمائش کے وقت میں وہ اُنہیں کوئی حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک دوسرے کا لمس دیتا ہے۔ سوچیں، کلیسیا میں کون ہے جسے آج آپ کے گرمجوشی سے سلام کی ضرورت ہے؟ شاید یہی اُس کی سلامتی بن جائے۔
پطرس نے یہ الفاظ اُن مسیحیوں کو لکھے جو دُکھ اُٹھا رہے تھے: "اُسی کی قدرت ابد تک قائم رہے۔ آمین۔" سوچیں، یہ وہی پطرس ہے جس کی اپنی طاقت ایک نوکرانی کے سوال پر ٹوٹ گئی تھی۔ اب وہ کہتا ہے کہ قدرت میری نہیں، اُس کی ہے، اور وہ ہمیشہ قائم رہے گی۔ آپ کی ہمت آج شاید کمزور ہو، مگر جس ہاتھ نے آپ کو پکڑا ہے وہ کبھی نہیں تھکتا۔
کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور نوجوانوں (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں