۲-توارِیخ 16
پرائمری عمر (7 تا 12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
وضاحت
آسا یہوداہ کا بادشاہ تھا، اور کئی سالوں سے اُس کی حکومت پُرسکون رہی تھی۔ لیکن حکومت کے 36ویں سال میں خطرہ سرحد پر آ گیا۔ اسرائیل کے بادشاہ بعشا نے رامہ شہر کی قلعہ بندی شروع کر دی۔ رامہ سڑک پر ایک تالے کی طرح بیٹھا تھا: نہ کوئی یہوداہ میں آ سکے، نہ کوئی نکل سکے۔ سوچو، جیسے کوئی تمہارے گھر کے واحد دروازے کے سامنے دیوار چن دے۔
آسا نے کیا کیا؟ اُس نے رب کے گھر اور شاہی محل کے خزانوں سے سونا چاندی نکالی اور شام کے بادشاہ بن ہدد کو بھیج دی۔ پیغام یہ تھا: یہ تحفہ قبول کریں اور بعشا کے ساتھ اپنا عہد منسوخ کر دیں۔ عہد کا مطلب ہے ایک پکا وعدہ، ایک ایسا رشتہ جس پر دونوں فریق قسم کھاتے ہیں۔ بن ہدد مان گیا، اُس کی فوج نے اسرائیل کے شہروں پر حملہ کیا، اور بعشا کو مجبوراً رامہ چھوڑنا پڑا۔ آسا نے وہی پتھر اور شہتیر اُٹھوا لیے جن سے بعشا دیوار بنا رہا تھا، اور اُن سے جِبع اور مِصفاہ کی قلعہ بندی کی۔
منصوبہ کامیاب ہو گیا۔ لیکن پھر حنانی غیب بین آیا۔ غیب بین یعنی نبی، وہ آدمی جسے خدا اپنی بات بتاتے ہیں۔ اُس نے کہا: ”افسوس کہ آپ نے رب اپنے خدا پر اعتماد نہ کیا بلکہ اَرام کے بادشاہ پر۔“ اور اُس نے آسا کو ماضی یاد دلایا: ایتھوپیا اور لبیا کی بےشمار فوج، رتھ اور گھڑسوار۔ اُس وقت آسا نے خدا پر بھروسا کیا تھا اور خدا نے دشمن کو اُس کے حوالے کر دیا تھا۔ اب وہی آسا سونے چاندی سے حفاظت خریدنے لگا۔
آسا کا ردعمل دُکھ دینے والا ہے۔ وہ ”غصے سے لال پیلا“ ہو گیا اور نبی کے پاؤں کاٹھ میں ٹھونکوا دیے۔ اُس وقت سے وہ اپنی قوم کے لوگوں پر بھی ظلم کرنے لگا۔ تین سال بعد اُس کے پاؤں میں بیماری لگ گئی، اور یہاں لکھا ہے کہ اُس نے رب کو تلاش نہ کیا بلکہ صرف ڈاکٹروں کے پیچھے پڑ گیا۔ 41ویں سال میں وہ مر گیا۔ اُس کا جنازہ بہت شاندار تھا، خوشبودار تیل، مرہم اور آگ کا زبردست ڈھیر۔ باہر سے سب عزت، اندر سے ایک اُداس کہانی۔
اِس کا مطلب کیا ہے؟
یہ باب ایک عجیب سوال ہمارے سامنے رکھتا ہے: آسا کا منصوبہ تو چل گیا، پھر خدا ناراض کیوں ہوئے؟ اِس کا جواب آیت 9 میں چھپا ہے۔ ”رب تو اپنی نظر پوری رُوئے زمین پر دوڑاتا رہتا ہے تاکہ اُن کی تقویت کرے جو پوری وفاداری سے اُس سے لپٹے رہتے ہیں۔“ خدا صرف نتیجہ نہیں دیکھتے، وہ دل دیکھتے ہیں۔ آسا نے جیت لی، مگر خدا کو ایک طرف رکھ کر۔
اور غور کرو: آسا نے رب کے گھر کا خزانہ اُٹھا کر ایک بُت پرست بادشاہ کو دے دیا۔ جو چیز خدا کی عبادت کے لیے تھی، وہ خوف مٹانے کے لیے خرچ ہو گئی۔ خوف ہمیں عجیب فیصلے کرواتا ہے۔
یہ بھی سیکھو: آسا بُرا بادشاہ نہیں تھا۔ وہ اچھا بادشاہ تھا جو بوڑھا ہوتے ہوئے سخت دل ہو گیا۔ سچ سُننا اُسے ناگوار لگنے لگا۔ اور یہاں ایک ایسی بات ہے جس کا آسان جواب مجھے بھی نہیں ملتا: بیماری میں ڈاکٹروں کے پاس جانا غلط نہیں ہے۔ لیکن متن کہتا ہے کہ اُس نے ”رب کو تلاش نہ کیا“۔ مسئلہ ڈاکٹر نہیں تھا، مسئلہ یہ تھا کہ خدا کے لیے اُس کے دل میں کوئی جگہ نہ بچی تھی۔
سنہری ڈور
آیت 9 پوری بائبل میں گونجتی ہے: خدا کی نظر زمین پر دوڑتی رہتی ہے، ڈھونڈتی رہتی ہے، کسی کو مضبوط کرنے کے لیے۔ خدا شکار کرنے والے کی طرح نہیں دیکھتے، وہ مدد کرنے والے کی طرح دیکھتے ہیں۔
آسا نے سونا دے کر امن خریدا۔ خداوند یسوع مسیح نے کچھ اور کیا: اُنہوں نے سونا نہیں، اپنی جان دی، اور وہ امن دیا جو کوئی خزانہ خرید نہیں سکتا۔ آسا نے نبی کو کاٹھ میں ڈالا کیونکہ سچ چبھتا تھا۔ یسوع خود سچ ہیں، اور لوگوں نے اُنہیں صلیب پر ٹھونک دیا۔ فرق یہ ہے کہ یسوع نے بدلہ نہ لیا، بلکہ معافی مانگی۔ اور جو دل آسا کے دل جیسا سخت ہو چکا ہو، خدا اُسے نیا بنا سکتے ہیں۔
تمہارے لیے
جب تم ڈرتے ہو، مثلاً امتحان سے، کسی گروپ سے، یا کسی ایسی بات سے جو گھر میں چل رہی ہے، تو تمہارا پہلا قدم کیا ہوتا ہے؟ کوئی چالاک راستہ، کوئی جھوٹ، کوئی ایسا دوست جو تمہیں بچا لے؟ اِن میں سے کچھ چیزیں کام بھی کر جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے: کیا تم اُس میں خدا کو ساتھ لیتے ہو؟
اور دوسری بات: جب کوئی تمہیں سچ بتاتا ہے جو تمہیں پسند نہیں، امی، ابو، ٹیچر یا دوست، تو تمہارا چہرہ فوراً لال پیلا ہو جاتا ہے یا تم ایک لمحہ رُک کر سوچتے ہو؟ جو سچ سُننا سیکھ لیتا ہے، وہ سخت دل نہیں ہوتا۔
مل کر بات کریں
کوئی ایسی چیز بتاؤ جس پر تم خدا سے زیادہ بھروسا کرنے لگتے ہو۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟
آسا نے سچ بتانے والے نبی کو سزا دی۔ تمہیں سچ سُننا کب مشکل لگتا ہے؟
مل کر دعا
خداوند، آپ کی نظر پوری زمین پر دوڑتی ہے تاکہ آپ ہمیں مضبوط کریں۔ ہمیں یاد رکھنے میں مدد دیں کہ ڈر کے وقت پہلے آپ کے پاس آئیں۔ ہمارے دل نرم رکھیں، تاکہ جب کوئی ہمیں سچ بتائے تو ہم سُن سکیں۔ آمین۔
۲-توارِیخ 16 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
۲-توارِیخ 16 کس بارے میں ہے؟
۲-توارِیخ 16 کیا کہتا ہے؟
۲-توارِیخ 16 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
بچے ۲-توارِیخ 16 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
۲-توارِیخ 16 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
رامہ کے پتھر اور لکڑی سے آسا نے جِبع اور مِصفاہ کی قلعہ بندی کی۔ باہر سے دیکھیں تو یہ کامیابی تھی، دشمن رُک گیا، دیواریں بلند ہو گئیں۔ لیکن یہ فتح رب پر بھروسا کرنے سے نہیں، شام کے بادشاہ کو رشوت دینے سے ملی تھی، اور قیمت رب کے گھر کی چاندی تھی۔
سوچ کہ تیری کون سی دیوار ایسے پتھروں سے بنی ہے؟ کبھی ہمارا سب سے مضبوط قلعہ ہی وہ جگہ ہوتی ہے جہاں ہم نے خدا کی مدد کے بغیر کام چلا لیا۔
جب بعشا کو یہ خبر ملی تو اُس نے رامہ کی قلعہ بندی روک کر اپنا کام بند کر دیا۔“ آسا کی ترکیب کام کر گئی۔ لیکن قیمت کیا تھی؟ رب کے گھر کی چاندی اور سونا ایک بُت پرست بادشاہ کے ہاتھ میں۔ کبھی کبھی جو چال کامیاب ہوتی ہے وہی ہمیں خدا سے دُور لے جاتی ہے۔ سوچ، تیری زندگی میں کون سا حل کارگر ثابت ہوا مگر دعا کی جگہ خالی رہ گئی؟
کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور نوجوانوں (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں