7 سے 12 سال کے بچے کے لیے

اِفسِیوں 2

پرائمری عمر (7 تا 12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی

بائبل

وضاحت

پولوس رسول اِن آیات میں دو باتیں بیان کرتا ہے: پہلے ہم کہاں تھے، اور اب خدا نے کیا کر دیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہم اپنی خطاؤں اور گناہوں کی وجہ سے روحانی طور پر مُردہ تھے۔ یہ سن کر عجیب لگتا ہے، کیونکہ ہم تو زندہ تھے، کھیلتے کودتے، باتیں کرتے۔ مگر پولوس کی مراد یہ ہے کہ ہمارا خدا کے ساتھ رشتہ مُردہ جیسا تھا، بالکل ختم۔ ہم اِس دنیا کے طور طریقوں کے مطابق زندگی گزارتے تھے اور اپنی پرانی خواہشات کے تابع تھے۔

لیکن پھر ایک "لیکن" آتا ہے جو سب کچھ بدل دیتا ہے: "اللہ کا رحم اِتنا وسیع ہے۔" خدا نے ہمیں مسیح کے ساتھ زندہ کر دیا، محض اپنے فضل سے، یعنی اپنی مفت مہربانی سے، نہ کہ اِس لئے کہ ہم نے کچھ اچھا کیا تھا۔ پولوس واضح کہتا ہے کہ یہ نجات تمہارے کاموں کا نتیجہ نہیں، تاکہ کوئی فخر نہ کرے۔

پھر وہ یہودیوں اور غیریہودیوں کی بات کرتا ہے۔ غیریہودی عیسائیوں کو یاد دلایا جاتا ہے کہ پہلے وہ اسرائیل قوم کا حصہ نہیں تھے، اُن وعدوں سے باہر تھے جو خدا نے اپنے لوگوں سے کئے تھے، اور اُن کی کوئی امید نہیں تھی۔ مگر اب، مسیح کے خون کے وسیلے سے، جو دور تھے وہ قریب لائے گئے ہیں۔ پرانے زمانے میں دونوں گروہوں کے درمیان ایک دیوار تھی، جیسے دشمنی کی دیوار۔ مسیح نے اپنی موت سے یہ دیوار گرا دی اور دونوں کو ایک نئی قوم بنا دیا۔ اب دونوں مل کر ایک عمارت کی طرح بنتے ہیں جس کا بنیادی پتھر خود مسیح ہے۔

اِس کا کیا مطلب ہے؟

یہ باب ہمیں بتاتا ہے کہ نجات ایک تحفہ ہے، انعام نہیں۔ اگر آپ اسکول میں کسی امتحان میں پاس ہوتے ہیں تو یہ آپ کی اپنی محنت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ مگر نجات ایسی نہیں۔ خدا نے یہ کام اُس وقت کیا جب ہم کچھ نہیں کر سکتے تھے، جب ہم روحانی طور پر مُردہ تھے۔ ایک مُردہ شخص اپنے آپ کو زندہ نہیں کر سکتا۔ صرف خدا ہی یہ کر سکتا ہے۔ یہی اُس کا فضل ہے، یعنی ایسی مہربانی جو ہم نے کمائی نہیں بلکہ ملی ہے۔

پولوس یہ بھی کہتا ہے کہ ہم خدا کی مخلوق ہیں جنہیں مسیح میں نیک کام کرنے کے لئے بنایا گیا ہے، اور یہ کام خدا نے پہلے سے ہمارے لئے تیار کر رکھے ہیں۔ تو نیک کام نجات کی شرط نہیں، بلکہ نجات کا نتیجہ ہیں، جیسے پھل درخت کے زندہ ہونے کا نتیجہ ہوتا ہے، اُس کی جڑ نہیں۔ اِس باب میں یہ بھی صاف نظر آتا ہے کہ خدا کا منصوبہ صرف ایک شخص کو بچانا نہیں بلکہ ایک نئی قوم بنانا ہے، جہاں مختلف پس منظر کے لوگ ایک گھرانے کا حصہ بن جاتے ہیں۔

مشترکہ دھاگہ

یہ پورا باب مسیح کے گرد گھومتا ہے۔ ہر بار جب پولوس کہتا ہے "مسیح میں" یا "مسیح کے ساتھ"، وہ یہی بتا رہا ہے کہ ہماری نئی زندگی کا سرچشمہ یسوع مسیح ہیں۔ یہ خدا کا پرانا وعدہ ہے جو پورا ہو رہا ہے: وہ اپنی قوم کے ساتھ ساتھ باقی دنیا کو بھی اپنے پاس لانا چاہتا تھا۔ مسیح کی صلیبی موت نے وہ دیوار گرا دی جو یہودیوں اور غیریہودیوں کو الگ رکھتی تھی۔ اب مسیح خود بنیادی پتھر ہیں جس پر خدا کا گھر، یعنی کلیسیا، تعمیر ہو رہی ہے۔ یہ سوچنے والی بات ہے کہ خدا کسی عمارت کی طرح ہمیں آپس میں جوڑ رہا ہے، اینٹ اینٹ کر کے۔ کیا یہ آسان ہے؟ متن خود نہیں کہتا کہ یہ آسان تھا۔ دیوار گرانے کے لئے مسیح کو اپنی جان دینی پڑی۔

آپ کے لئے

کبھی آپ نے محسوس کیا کہ کوئی آپ کو باہر کا سمجھتا ہے، جیسے آپ کسی گروہ میں فٹ نہیں بیٹھتے؟ یہ باب کہتا ہے کہ خدا کے گھر میں کوئی پردیسی یا اجنبی نہیں رہتا۔ جو مسیح میں ہیں، وہ سب ایک ہی گھرانے کے ہیں، چاہے اُن کا پس منظر کچھ بھی ہو۔ یہ سوچنا اچھا ہے کہ نجات کمانی نہیں پڑتی، آپ کو صرف قبول کرنی ہے۔ اور جب آپ کسی ایسے دوست سے ملتے ہیں جو آپ سے بالکل مختلف ہے، تو یاد رکھیں کہ خدا نے ایسی دیواریں گرائی ہیں جو اِس سے کہیں بڑی تھیں۔

اِس پر بات کریں

اگر نجات ہمارے اپنے کاموں سے نہیں ملتی تو پھر نیک کام کرنے کا کیا فائدہ ہے؟

کیا آپ کسی ایسی صورتحال کو جانتے ہیں جہاں دو مختلف گروہوں کے درمیان دیوار تھی؟ اُسے کیسے گرایا جا سکتا ہے؟

ملکر دعا

اے خدا، شکریہ کہ آپ نے ہمیں مسیح کے ساتھ زندہ کیا جب ہم خود کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ ہمیں اپنے فضل پر بھروسا کرنا سکھائیے، نہ کہ اپنے کاموں پر۔ ہمیں ایسی آنکھیں دیجئے جو دوسروں میں دیوار کے بجائے بھائی بہن دیکھیں۔ یسوع مسیح کے نام میں، آمین۔

یہ بائبل کہانی شیئر کریں

دوسرے والدین یا اساتذہ کے لیے جنہیں یہ مددگار لگ سکتا ہے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

اِفسِیوں 2 کے بارے میں سوالات

ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔

اِفسِیوں 2 کس بارے میں ہے؟
پولوس رسول اِن آیات میں دو باتیں بیان کرتا ہے: پہلے ہم کہاں تھے، اور اب خدا نے کیا کر دیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہم اپنی خطاؤں اور گناہوں کی وجہ سے روحانی طور پر مُردہ تھے۔ یہ سن کر عجیب لگتا ہے، کیونکہ ہم تو زندہ تھے، کھیلتے کودتے، باتیں کرتے۔ مگر پولوس کی مراد یہ ہے کہ ہمارا خدا کے ساتھ رشتہ مُردہ جیسا تھا، بالکل ختم۔ ہم اِس دنیا کے طور طریقوں کے مطابق زندگی گزارتے تھے اور اپنی پرانی خواہشات کے تابع تھے۔
اِفسِیوں 2 کیا کہتا ہے؟
پھر وہ یہودیوں اور غیریہودیوں کی بات کرتا ہے۔ غیریہودی عیسائیوں کو یاد دلایا جاتا ہے کہ پہلے وہ اسرائیل قوم کا حصہ نہیں تھے، اُن وعدوں سے باہر تھے جو خدا نے اپنے لوگوں سے کئے تھے، اور اُن کی کوئی امید نہیں تھی۔ مگر اب، مسیح کے خون کے وسیلے سے، جو دور تھے وہ قریب لائے گئے ہیں۔ پرانے زمانے میں دونوں گروہوں کے درمیان ایک دیوار تھی، جیسے دشمنی کی دیوار۔ مسیح نے اپنی موت سے یہ دیوار گرا دی اور دونوں کو ایک نئی قوم بنا دیا۔ اب دونوں مل کر ایک عمارت کی طرح بنتے ہیں جس کا بنیادی پتھر خود مسیح ہے۔
اِفسِیوں 2 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
پولوس یہ بھی کہتا ہے کہ ہم خدا کی مخلوق ہیں جنہیں مسیح میں نیک کام کرنے کے لئے بنایا گیا ہے، اور یہ کام خدا نے پہلے سے ہمارے لئے تیار کر رکھے ہیں۔ تو نیک کام نجات کی شرط نہیں، بلکہ نجات کا نتیجہ ہیں، جیسے پھل درخت کے زندہ ہونے کا نتیجہ ہوتا ہے، اُس کی جڑ نہیں۔ اِس باب میں یہ بھی صاف نظر آتا ہے کہ خدا کا منصوبہ صرف ایک شخص کو بچانا نہیں بلکہ ایک نئی قوم بنانا ہے، جہاں مختلف پس منظر کے لوگ ایک گھرانے کا حصہ بن جاتے ہیں۔
بچے اِفسِیوں 2 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
کبھی آپ نے محسوس کیا کہ کوئی آپ کو باہر کا سمجھتا ہے، جیسے آپ کسی گروہ میں فٹ نہیں بیٹھتے؟ یہ باب کہتا ہے کہ خدا کے گھر میں کوئی پردیسی یا اجنبی نہیں رہتا۔ جو مسیح میں ہیں، وہ سب ایک ہی گھرانے کے ہیں، چاہے اُن کا پس منظر کچھ بھی ہو۔ یہ سوچنا اچھا ہے کہ نجات کمانی نہیں پڑتی، آپ کو صرف قبول کرنی ہے۔ اور جب آپ کسی ایسے دوست سے ملتے ہیں جو آپ سے بالکل مختلف ہے، تو یاد رکھیں کہ خدا نے ایسی دیواریں گرائی ہیں جو اِس سے کہیں بڑی تھیں۔
اِفسِیوں 2 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
اے خدا، شکریہ کہ آپ نے ہمیں مسیح کے ساتھ زندہ کیا جب ہم خود کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ ہمیں اپنے فضل پر بھروسا کرنا سکھائیے، نہ کہ اپنے کاموں پر۔ ہمیں ایسی آنکھیں دیجئے جو دوسروں میں دیوار کے بجائے بھائی بہن دیکھیں۔ یسوع مسیح کے نام میں، آمین۔

دوسروں نے کیا پایا

بصیرت ادارتی کو آیت 7

تاکہ آنے والے زمانوں میں وہ ہمیں مسیح عیسیٰ میں اپنی مہربانی سے اپنے فضل کی لامحدود دولت دکھائے۔“ سوچیں، خدا نے آپ کو صرف بچایا ہی نہیں بلکہ آپ کو اپنے فضل کا نمونہ بنا دیا ہے۔ ابدیت میں آپ کی زندگی وہ ثبوت ہو گی کہ خدا کتنا مہربان ہے۔ جس ماضی پر آپ شرمندہ ہیں، وہی اُس کی محبت کی گواہی بنے گا۔

بصیرت ادارتی کو آیت 16

صلیب پر جو کچھ مرا، وہ آپ کا دشمن نہیں بلکہ دشمنی خود تھی۔ لکھا ہے: ”صلیب پر اُس نے دونوں کی دشمنی کو مار ڈالا۔“ ہم اکثر اُلٹ کرتے ہیں، دشمنی کو زندہ رکھتے ہیں اور انسان کو دفن کر دیتے ہیں۔ کیا کوئی ایسا نام ہے جسے آپ نے دل میں دیوار بنا رکھا ہے؟ مسیح نے وہ دیوار پہلے ہی گرا دی ہے۔

بصیرت ادارتی کو آیت 13

لیکن اب آپ جو پہلے دُور تھے مسیح میں ہو کر اُس کے خون کے وسیلے سے قریب ہو گئے ہیں۔“ غور کریں کہ فاصلہ آپ نے طے نہیں کیا۔ آپ نے کوشش کر کے، اپنے آپ کو سنوار کر قربت نہیں کمائی۔ مسیح کا خون وہ پُل ہے جس پر چل کر آپ گھر پہنچے۔ اِس لیے جب دل کہے ”تُو ابھی بھی باہر کا آدمی ہے“ تو یاد رکھیں، اب لفظ ”دُور“ آپ کے ماضی کا حصہ ہے، آپ کی پہچان کا نہیں۔

بصیرت ادارتی کو آیت 22

اُس میں آپ کو بھی مل کر تعمیر کیا جا رہا ہے تاکہ آپ روح میں اللہ کی سکونت گاہ بن جائیں۔“ غور کریں کہ کام ابھی جاری ہے۔ آپ ادھوری دیوار جیسے لگتے ہیں، مگر معمار نے ہاتھ نہیں کھینچا۔ اور یہ بھی دیکھیں: ”مل کر“۔ اکیلے آپ اللہ کا گھر نہیں بنتے۔ جس بھائی یا بہن سے آپ دور بھاگ رہے ہیں، وہ بھی اُسی عمارت کا پتھر ہے۔

کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟

ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور نوجوانوں (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔

بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں

For parents and teachers: 7 سے 12 سال کے ان بچوں کے لیے تحریر کردہ جو خود پڑھ سکتے ہیں۔ خاندانی عبادت اور اسکول میں بائبل کے اسباق کے لیے بہترین۔ This explanation is generated automatically by language models. While we strive for theological soundness, the software can make mistakes.

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network