حبقوق 3
پرائمری عمر (7 تا 12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
The Explanation
حبقوق نبی ایک دعا لکھتا ہے، اور یہ کوئی عام دعا نہیں بلکہ ایک گیت ہے جسے سازوں کے ساتھ گانا تھا۔ حبقوق نے پہلے دو باب میں اللہ سے شکایت کی تھی، اُس نے پوچھا تھا کہ ظلم اور بےانصافی کب تک چلے گی۔ اب تیسرے باب میں وہ ایک نئی جگہ پر پہنچتا ہے۔ وہ کہتا ہے، ”اے رب، مَیں نے تیرا پیغام سنا ہے۔ اے رب، تیرا کام دیکھ کر مَیں ڈر گیا ہوں۔“ حبقوق کو خوف آتا ہے، مگر ساتھ ہی وہ اللہ سے رحم کی درخواست کرتا ہے۔
پھر حبقوق ایک زبردست منظر بیان کرتا ہے۔ اللہ تیمان اور فاران کے پہاڑی علاقے سے آ رہا ہے، اُس کا جلال آسمان پر چھا جاتا ہے۔ زمین ہلتی ہے، پہاڑ پھٹ جاتے ہیں، اقوام لرز اُٹھتی ہیں۔ سورج اور چاند بھی رُک جاتے ہیں۔ یہ ایسی تصویر ہے جیسے پوری کائنات اللہ کی طاقت کے سامنے تھرا رہی ہو۔ حبقوق پرانے واقعات کو یاد کر رہا ہے، جب اللہ نے اپنی قوم کو مصر سے رِہا کیا اور دشمنوں کو شکست دی۔ وہ لکھتا ہے، ”تُو اپنی قوم کو رِہا کرنے کے لئے نکلا، اپنے مسح کئے ہوئے خادم کی مدد کرنے آیا ہے۔“
یہ سب سن کر حبقوق کا اپنا جسم لرز اُٹھتا ہے، اُس کے دانت بجنے لگتے ہیں اور گھٹنے کانپ اُٹھتے ہیں۔ مگر پھر بھی وہ ایک عجیب فیصلہ کرتا ہے۔ حالانکہ درختوں پر پھل نہیں، کھیتوں میں فصل نہیں، اور باڑوں میں بھیڑبکریاں بھی نہیں، وہ کہتا ہے، ”تاہم مَیں رب کی خوشی مناؤں گا۔“
What Does This Mean?
یہ باب ہمیں دکھاتا ہے کہ خوف اور بھروسا ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔ حبقوق جھوٹی ہمت نہیں دکھا رہا، وہ سچ مچ ڈرا ہوا ہے۔ لیکن اُس کا ڈر اُسے اللہ سے دور نہیں لے جاتا بلکہ اُسے یاد دلاتا ہے کہ یہی اللہ پہلے بھی اپنی قوم کو بچا چکا ہے۔ حبقوق کی خوشی حالات پر منحصر نہیں ہے۔ اُس کے پاس نہ فصل ہے نہ جانور، یعنی اُس کی زندگی میں سب کچھ خالی ہے، پھر بھی وہ خوشی منانے کا فیصلہ کرتا ہے کیونکہ اُس کا بھروسا کسی چیز پر نہیں بلکہ اللہ کی ذات پر ہے۔
The Common Thread
حبقوق ایک ”مسح کئے ہوئے خادم“ کی بات کرتا ہے جسے اللہ بچانے آتا ہے۔ عہد عتیق میں بادشاہ اور کاہن کو تیل سے مسح کیا جاتا تھا تاکہ ظاہر ہو کہ وہ خدا کے خاص کام کے لئے چنے گئے ہیں۔ یسوع مسیح کا نام بھی اِسی سے جڑا ہے، ”مسیح“ کا مطلب ہے ”مسح کیا ہوا“۔ حبقوق کو ابھی معلوم نہیں تھا کہ ایک دن اللہ اپنے سب سے خاص مسیح کو بھیجے گا، مگر اُس کی دعا ہمیں اُس بڑی کہانی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ جس طرح اللہ نے پرانے زمانے میں اپنی قوم کو رِہا کیا، اُسی طرح یسوع مسیح ہمیں گناہ اور موت سے رِہائی دیتے ہیں۔ یہ ایک وعدہ ہے جو صدیوں تک چلتا رہا۔
For You
کبھی کبھی تمہاری زندگی میں بھی ایسا وقت آتا ہے جب سب کچھ خالی لگتا ہے۔ شاید اسکول میں کوئی مشکل بات ہو، یا دل میں کوئی خوف ہو جس کی وجہ تم خود بھی نہیں جانتے۔ حبقوق ہمیں سکھاتا ہے کہ اپنے خوف کو چھپانا ضروری نہیں۔ اللہ سے سچ بولا جا سکتا ہے۔ اور ساتھ ہی، جب حالات خراب ہوں تب بھی خوشی ممکن ہے، اگر وہ خوشی حالات سے نہیں بلکہ اللہ کی ذات سے آئے۔ یہ کوئی جھوٹی مسکراہٹ نہیں ہے بلکہ ایک گہرا بھروسا کہ خداوند مجھے چھوڑے گا نہیں۔
Talk About It
کیا تم نے کبھی محسوس کیا ہے کہ خوف اور بھروسا دونوں ایک ساتھ ہو سکتے ہیں؟ کب؟
حبقوق کے پاس فصل، پھل، اور جانور کچھ نہیں تھا، پھر بھی وہ خوش تھا۔ تمہارے خیال میں یہ خوشی کہاں سے آتی ہے؟
Praying Together
اے خداوند، کبھی کبھی ہم بھی ڈر جاتے ہیں جب مشکل وقت آتا ہے۔ ہمیں یاد دلا کہ تُو نے پہلے بھی اپنی قوم کو بچایا ہے، اور تُو آج بھی ہمارے ساتھ ہے۔ ہمیں ایسا بھروسا دے جو حالات پر نہیں بلکہ تیری ذات پر ٹِکا ہو۔ آمین۔
حبقوق 3 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
حبقوق 3 کس بارے میں ہے؟
حبقوق 3 کیا کہتا ہے؟
حبقوق 3 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
بچے حبقوق 3 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
حبقوق 3 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
جو پہاڑ تُو سب سے زیادہ مضبوط سمجھتا ہے، وہی حبقوق کی رویا میں سب سے پہلے گر جاتے ہیں۔ "قدیم پہاڑ پاش پاش ہو جاتے ہیں، ازلی ٹیلے جھک جاتے ہیں۔" نوکری، صحت، رشتے، وہ سب جو ہمیشہ قائم لگتے تھے۔ لیکن آیت یہیں ختم نہیں ہوتی: "اُس کی راہیں ازل سے ایسی ہی ہیں۔" جو ہلتا نہیں وہ خدا خود ہے۔ تیرا بھروسا آج کس پر ٹکا ہے؟
حبقوق نے خدا کے پرانے کاموں کے بارے میں صرف سنا تھا، اور وہی سننا اُسے کانپنے پر مجبور کر گیا۔ پھر اُس کی دعا نکلتی ہے: "اِسے ہمارے ایام میں از سرِ نو جاری رکھ۔" وہ عدالت کو ٹالنے کی منت نہیں کرتا بلکہ کہتا ہے، "غضب میں رحم کرنا نہ بھول۔" کیا تُو بھی اپنی مشکل کے بیچ یہی مانگ سکتا ہے، کہ وہ اپنا رحم یاد رکھے؟
حبقوق خدا کو جنگجو کی طرح آتے دیکھتا ہے، کمان بے نیام، تیر تیار۔ اور پھر یہ عجیب بات: ”تُو نے زمین کو پھاڑ کر ندیاں بہنے دیں۔“ جہاں خدا نے زمین کو چیرا، وہیں سے پانی پھوٹ نکلا۔ شاید تیری زندگی کی وہ دراڑ جسے تُو تباہی سمجھتا ہے، اُسی جگہ سے وہ ندی نکلنی ہے جو تجھے زندہ رکھے گی۔ کیا تُو اُس پھٹی ہوئی جگہ پر اُس کا ہاتھ پہچان سکتا ہے؟
حبقوق نے خدا کی عظمت دیکھی اور ٹوٹ گیا: ہونٹ کانپنے لگے، ہڈیاں گلنے لگیں، گھٹنے لڑکھڑانے لگے۔ مگر اِسی لرزتے جسم کے ساتھ وہ کہتا ہے کہ ”توبھی مَیں صبر سے اُس دن کے انتظار میں رہوں گا۔“ ایمان کا مطلب یہ نہیں کہ تُو کانپنا چھوڑ دے۔ کبھی ایمان صرف یہ ہوتا ہے کہ تُو کانپتے ہوئے بھی اپنی جگہ سے نہ ہٹے اور خدا کا انتظار کرتا رہے۔
کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور نوجوانوں (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں