نوحہ 3
پرائمری عمر (7 تا 12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
The Explanation
یہ باب ایک ایسے شخص کی باتیں ہیں جو بہت زیادہ دُکھ میں ہے۔ وہ کہتا ہے کہ خدا کا غضب اُس پر آیا ہے اور اُس نے اُسے تاریکی میں دھکیل دیا ہے، جیسے کوئی اُسے چاردیواری میں بند کر دے جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔ وہ خدا کو ریچھ اور شیر کی مانند بیان کرتا ہے جو گھات لگا کر اُس پر حملہ کرتا ہے، اور تیر چلا کر اُسے زخمی کرتا ہے۔ یہ الفاظ سخت ہیں، اور یہ جان بوجھ کر سخت لکھے گئے ہیں۔ یہ شخص اپنی تکلیف کو چھپاتا نہیں، وہ اسے پورا کھول کر بیان کرتا ہے۔ لیکن پھر، ٹھیک درمیان میں، کچھ بدل جاتا ہے۔ آیت اکیس سے وہ کہتا ہے کہ اُسے ایک بات یاد آتی ہے جو اُس کی اُمید بن جاتی ہے: خدا کی شفقت کبھی ختم نہیں ہوتی، وہ ہر صبح نئے سرے سے چمک اُٹھتی ہے۔ اس کے بعد وہ خاموشی سے انتظار کرنے کی بات کرتا ہے، اپنے چال چلن کا جائزہ لینے کی، اور خدا کے پاس واپس آنے کی۔ باب کے آخر میں وہ دوبارہ اپنی تکلیف کی طرف لوٹتا ہے، اپنے دشمنوں کی بات کرتا ہے، اور خدا سے انصاف کی دُہائی دیتا ہے۔
What Does This Mean?
یہ باب ہمیں دکھاتا ہے کہ درد اور اُمید ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔ یہ شخص اپنی تکلیف کے بارے میں جھوٹ نہیں بولتا، لیکن وہ اپنی تکلیف کو آخری لفظ بھی نہیں بننے دیتا۔ درمیان میں جو الفاظ آتے ہیں، "رب کی مہربانی ہے کہ ہم نیست و نابود نہیں ہوئے، کیونکہ اُس کی شفقت کبھی ختم نہیں ہوتی"، یہ عہد کی زبان ہے۔ عہد کا مطلب ہے وہ وعدہ جو خدا نے اپنی قوم سے باندھا تھا، کہ وہ اُنہیں کبھی پوری طرح نہیں چھوڑے گا۔ یہ شخص خدا سے ناراض بھی ہے اور خدا پر بھروسا بھی رکھتا ہے، دونوں چیزیں ایک ہی وقت میں۔ یہ عجیب لگ سکتا ہے، لیکن یہی سچی عبادت ہے۔ خدا اِس سے نہیں ڈرتا کہ ہم اپنی تکلیف کی شکایت اُس کے سامنے رکھیں۔
The Common Thread
خدا کی شفقت جو ہر صبح نئی ہوتی ہے، یہ صرف اِس ایک آدمی کے لئے نہیں تھی۔ سالوں بعد خداوند یسوع مسیح خود یروشلم کے لئے روئے، اُس شہر کے لئے جو تباہ ہونے والا تھا۔ اور جب وہ صلیب پر تھے، تو اُنہوں نے بھی تکلیف میں خدا کو پکارا، بالکل اِس شخص کی طرح جو گڑھے کی گہرائیوں سے پکارتا ہے۔ یہ شخص کہتا ہے کہ جب اُس نے خدا کو پکارا تو خدا نے قریب آ کر فرمایا، "خوف نہ کھا۔" یہی وعدہ خدا نے ہر اُس شخص سے کیا ہے جو تکلیف میں اُسے پکارتا ہے۔ یسوع مسیح کی موت اور زندہ ہونے سے ہم جانتے ہیں کہ خدا کی شفقت واقعی کبھی ختم نہیں ہوتی، چاہے راتیں کیسی بھی تاریک ہوں۔
For You
جب تمہاری زندگی میں کوئی دن مشکل ہو، تو تم بھی خدا سے کہہ سکتے ہو کہ یہ کتنا سخت ہے۔ تمہیں اپنی تکلیف چھپانے کی ضرورت نہیں۔ یہ شخص چیخا، رویا، شکایت کی، اور پھر بھی خدا کے قریب رہا۔ شاید تمہارے ساتھ بھی کبھی ایسا ہو کہ تم سمجھ نہ پاؤ کہ خدا کیوں خاموش ہے۔ اُس وقت یہ باب تمہیں سکھاتا ہے کہ صبر سے انتظار کرنا، اور یہ یاد رکھنا کہ نئی صبح آنے والی ہے، ایمان کا حصہ ہے۔ یہ کوئی جادوئی حل نہیں دیتا۔ لیکن یہ تمہیں دکھاتا ہے کہ تم اپنی مکمل حالت کے ساتھ خدا کے سامنے آ سکتے ہو، غصے کے ساتھ بھی، آنسوؤں کے ساتھ بھی، اور اُمید کے ساتھ بھی۔
Talk About It
کیا تمہیں لگتا ہے کہ خدا سے شکایت کرنا ٹھیک ہے، یا کیا یہ بےادبی ہے؟
یہ شخص آخر میں چاہتا ہے کہ خدا اُس کے دشمنوں کو سزا دے۔ کیا تمہیں یہ سمجھ آتا ہے، یا یہ تمہیں مشکل لگتا ہے؟
Praying Together
اے خدا، ہماری زندگی میں بھی کبھی ایسے دن آتے ہیں جو بہت مشکل لگتے ہیں۔ ہمیں سکھا کہ ہم اپنی تکلیف تجھ سے چھپائیں نہیں، بلکہ اُسے تیرے سامنے کھول کر رکھ دیں۔ ہمیں یاد دلا کہ تیری شفقت ہر صبح نئی ہوتی ہے، اور تُو ہمیں کبھی پوری طرح نہیں چھوڑتا۔ یسوع کے نام میں، آمین۔
نوحہ 3 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
نوحہ 3 کس بارے میں ہے؟
نوحہ 3 کیا کہتا ہے؟
نوحہ 3 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
بچے نوحہ 3 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
نوحہ 3 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
قیدی وہی ہے جو اپنے حق میں کچھ نہیں کر سکتا۔ یرمیاہ کہتا ہے، ”جب لوگ ملک کے تمام قیدیوں کو پاؤں تلے کچل دیتے ہیں“ تو شاید انسان نہ دیکھے، مگر خداوند دیکھتا ہے اور اُسے یہ ہرگز منظور نہیں۔ تیری خاموش بےبسی اُس کی نظر سے چھپی نہیں۔ اور جہاں تُو کسی کمزور کو دبا رہا ہے، وہاں بھی وہ خاموش نہیں رہے گا۔
یروشلم راکھ ہو چکا تھا، اور ماتم کرنے والا لکھتا ہے: ”وہ خاموشی سے اکیلا بیٹھے رہے، کیونکہ رب ہی نے یہ بوجھ اُس پر ڈال دیا ہے۔“ یہ ہار ماننا نہیں، یہ بھروسا ہے۔ ہم دُکھ میں بھاگتے ہیں، شور مچاتے ہیں، وضاحتیں ڈھونڈتے ہیں۔ مگر کبھی کبھی خدا ہمیں صرف بیٹھنے کو کہتا ہے۔ کیا تُو اُس خاموشی میں ٹھہر سکتا ہے جہاں صرف وہی بولتا ہے؟
میری آنکھوں سے آنسو بہتے رہتے ہیں اور رُکنے کا نام نہیں لیتے۔" یرمیاہ اپنے شہر کے کھنڈرات کے بیچ بیٹھا ہے اور اُس کے آنسوؤں کی ایک ہی شرط ہے: جب تک رب آسمان سے جھانک کر نہ دیکھے۔ وہ رونا بند نہیں کرتا، بلکہ اپنے آنسو خدا کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ کیا تُو نے بھی اپنا دُکھ اُس کے حضور رکھا ہے، یا اکیلے میں چھپا کر رو رہا ہے؟
گڑھے کی تہہ سے، جہاں روشنی بھی نہیں پہنچتی، یرمیاہ کہتا ہے: ”میری آواز تجھ تک پہنچی۔ اپنا کان میری آہوں اور فریاد سے بند نہ رکھ۔“ غور کر، پہلے وہ کہتا ہے کہ خدا نے سن لیا، پھر بھی سننے کی منت کرتا ہے۔ یہی ایمان ہے۔ تیری آواز کیچڑ میں دب نہیں گئی۔ وہ سن چکا ہے، اور تُو پھر بھی پکار سکتا ہے۔
کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور نوجوانوں (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں