7 سے 12 سال کے بچے کے لیے

لوقا 21

پرائمری عمر (7 تا 12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی

بائبل

The Explanation

عیسیٰ بیت المُقدّس میں کھڑے تھے اور لوگوں کو چندے کے بکس میں پیسے ڈالتے دیکھ رہے تھے۔ امیر لوگ بڑی بڑی رقمیں ڈال رہے تھے۔ پھر ایک غریب بیوہ آئی۔ اُس نے صرف دو معمولی سِکے ڈالے، تانبے کے، جن کی قیمت بہت کم تھی۔ لیکن عیسیٰ نے کہا کہ اِس بیوہ نے سب سے زیادہ دیا ہے، کیونکہ اُس نے اپنے پاس جو کچھ بھی تھا وہ سب دے دیا، جبکہ امیروں نے تو صرف اپنی زیادتی سے تھوڑا سا حصہ دیا۔

اِس کے بعد کچھ لوگ بیت المُقدّس کی خوبصورتی کی تعریف کرنے لگے۔ عیسیٰ نے ایک حیران کن بات کہی: یہ سب کچھ گرا دیا جائے گا، پتھر پر پتھر نہیں رہے گا۔ شاگردوں نے پوچھا کہ یہ کب ہو گا اور اِس کی نشانیاں کیا ہوں گی۔

عیسیٰ نے پھر جو کچھ فرمایا وہ سننے میں مشکل ہے۔ جنگیں ہوں گی، زلزلے آئیں گے، کال پڑیں گے۔ لوگ عیسیٰ کے پیروکاروں کو ستائیں گے، پکڑیں گے، اور کبھی کبھی اپنے ہی گھر والے دشمن بن جائیں گے۔ یروشلم پر بڑی مصیبت آئے گی۔ سورج، چاند اور ستاروں میں عجیب نشان دکھائی دیں گے۔ اور آخر میں ابنِ آدم، یعنی عیسیٰ خود، بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آئیں گے۔

عیسیٰ نے ایک مثال دی، انجیر کے درخت کی۔ جب اُس پر کونپلیں نکلتی ہیں تو معلوم ہو جاتا ہے کہ گرمی نزدیک ہے۔ اِسی طرح جب یہ سب باتیں ہوں گی تو معلوم ہو گا کہ اللہ کی بادشاہی قریب ہے۔ عیسیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ آسمان و زمین ختم ہو جائیں گے، مگر اُن کی باتیں ہمیشہ قائم رہیں گی۔

آخر میں عیسیٰ نے کہا کہ چوکس رہو اور دعا کرتے رہو، تاکہ دل فکروں اور عیاشی تلے دبے نہ رہیں۔

What Does This Mean?

یہ باب دو مختلف باتیں سکھاتا ہے جو دراصل ایک ہی گہرائی سے نکلتی ہیں۔ پہلی بات: خدا کی نظر میں دل اہم ہے، رقم نہیں۔ بیوہ کے دو سِکے امیروں کی تھیلیوں سے زیادہ قیمتی تھے، کیونکہ اُس نے اپنا سب کچھ دے دیا۔ خدا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم کتنا دیتے ہیں، بلکہ یہ کہ ہم کیسے دیتے ہیں، پورے دل سے یا بس بچا کھچا حصہ۔

دوسری بات مشکل ہے۔ عیسیٰ صاف بتاتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں تباہی، جنگ، اور اذیت ہو گی۔ وہ یہ نہیں کہتے کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ وہ یہ بھی نہیں بتاتے کہ یہ سب کب ہو گا۔ بلکہ وہ کہتے ہیں کہ جب یہ باتیں ہوں تو گھبرانا نہیں، کیونکہ اللہ کی بادشاہی نزدیک ہے۔ مشکل وقت میں بھی خدا کا منصوبہ چل رہا ہوتا ہے۔

The Common Thread

عیسیٰ خود اِس پوری کہانی کا مرکز ہیں۔ وہ "ابنِ آدم" کے نام سے اپنے آنے کی بات کرتے ہیں، بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ۔ یہ ایک وعدہ ہے: جو دنیا ٹوٹتی ہوئی دکھائی دیتی ہے، اُس کے آخر میں عیسیٰ خود آئیں گے۔ اُنہوں نے فرمایا کہ آسمان و زمین جاتے رہیں گے مگر اُن کی باتیں ہمیشہ قائم رہیں گی۔ یہ خدا کا وہ عہد ہے جو کبھی نہیں ٹوٹتا، خدا کا کلام پتھر سے بھی زیادہ مستحکم ہے۔ اور شاگردوں کو یہ حوصلہ بھی دیا گیا کہ جب وہ عیسیٰ کی خاطر ستائے جائیں گے، تب بھی خدا اُن کے ساتھ ہوں گے اور اُن کو الفاظ اور حکمت دیں گے۔

For You

کبھی سوچو، جب تم کچھ دیتے ہو، وقت، پیسہ، یا مدد، کیا تم بچا کھچا حصہ دیتے ہو یا دل سے دیتے ہو؟ بیوہ کی مثال ہمیں یہ نہیں کہتی کہ "ہمیشہ سب کچھ دے دو"، بلکہ یہ سکھاتی ہے کہ خدا دل کو دیکھتے ہیں۔ اور جب زندگی میں مشکل وقت آئے، اسکول میں، دوستی میں، گھر میں، تو یاد رکھو کہ عیسیٰ نے کہا تھا گھبرانا نہیں۔ یہ سب دیکھنا ہی چاہیے کہ خدا کی بادشاہی کہیں نزدیک آ رہی ہے۔

Talk About It

کیا تمہیں لگتا ہے کہ بیوہ کے دو سِکے واقعی امیروں کی رقم سے زیادہ قیمتی تھے؟ کیوں؟

عیسیٰ نے یہ نہیں بتایا کہ یہ سب کب ہو گا۔ تمہیں کیا لگتا ہے، کیا یہ جاننا ضروری ہے؟

Praying Together

اے خداوند یسوع مسیح، ہمیں ایسا دل دیں جو پورے سچے دل سے آپ کو دے، جیسے اُس بیوہ نے دیا۔ جب دنیا میں مشکل باتیں ہوں، ہمیں گھبرانے کے بجائے آپ پر بھروسا رکھنا سکھائیں۔ ہم جانتے ہیں کہ آپ کی باتیں ہمیشہ قائم رہیں گی۔ ہمیں چوکس اور دعا گو بنائیں۔ آمین۔

یہ بائبل کہانی شیئر کریں

دوسرے والدین یا اساتذہ کے لیے جنہیں یہ مددگار لگ سکتا ہے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

لوقا 21 کے بارے میں سوالات

ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔

لوقا 21 کس بارے میں ہے؟
عیسیٰ بیت المُقدّس میں کھڑے تھے اور لوگوں کو چندے کے بکس میں پیسے ڈالتے دیکھ رہے تھے۔ امیر لوگ بڑی بڑی رقمیں ڈال رہے تھے۔ پھر ایک غریب بیوہ آئی۔ اُس نے صرف دو معمولی سِکے ڈالے، تانبے کے، جن کی قیمت بہت کم تھی۔ لیکن عیسیٰ نے کہا کہ اِس بیوہ نے سب سے زیادہ دیا ہے، کیونکہ اُس نے اپنے پاس جو کچھ بھی تھا وہ سب دے دیا، جبکہ امیروں نے تو صرف اپنی زیادتی سے تھوڑا سا حصہ دیا۔
لوقا 21 کیا کہتا ہے؟
عیسیٰ نے پھر جو کچھ فرمایا وہ سننے میں مشکل ہے۔ جنگیں ہوں گی، زلزلے آئیں گے، کال پڑیں گے۔ لوگ عیسیٰ کے پیروکاروں کو ستائیں گے، پکڑیں گے، اور کبھی کبھی اپنے ہی گھر والے دشمن بن جائیں گے۔ یروشلم پر بڑی مصیبت آئے گی۔ سورج، چاند اور ستاروں میں عجیب نشان دکھائی دیں گے۔ اور آخر میں ابنِ آدم، یعنی عیسیٰ خود، بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آئیں گے۔
لوقا 21 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
آخر میں عیسیٰ نے کہا کہ چوکس رہو اور دعا کرتے رہو، تاکہ دل فکروں اور عیاشی تلے دبے نہ رہیں۔
بچے لوقا 21 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
دوسری بات مشکل ہے۔ عیسیٰ صاف بتاتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں تباہی، جنگ، اور اذیت ہو گی۔ وہ یہ نہیں کہتے کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ وہ یہ بھی نہیں بتاتے کہ یہ سب کب ہو گا۔ بلکہ وہ کہتے ہیں کہ جب یہ باتیں ہوں تو گھبرانا نہیں، کیونکہ اللہ کی بادشاہی نزدیک ہے۔ مشکل وقت میں بھی خدا کا منصوبہ چل رہا ہوتا ہے۔
لوقا 21 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
کبھی سوچو، جب تم کچھ دیتے ہو، وقت، پیسہ، یا مدد، کیا تم بچا کھچا حصہ دیتے ہو یا دل سے دیتے ہو؟ بیوہ کی مثال ہمیں یہ نہیں کہتی کہ "ہمیشہ سب کچھ دے دو"، بلکہ یہ سکھاتی ہے کہ خدا دل کو دیکھتے ہیں۔ اور جب زندگی میں مشکل وقت آئے، اسکول میں، دوستی میں، گھر میں، تو یاد رکھو کہ عیسیٰ نے کہا تھا گھبرانا نہیں۔ یہ سب دیکھنا ہی چاہیے کہ خدا کی بادشاہی کہیں نزدیک آ رہی ہے۔

کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟

ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور نوجوانوں (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔

بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں

For parents and teachers: 7 سے 12 سال کے ان بچوں کے لیے تحریر کردہ جو خود پڑھ سکتے ہیں۔ خاندانی عبادت اور اسکول میں بائبل کے اسباق کے لیے بہترین۔ This explanation is generated automatically by language models. While we strive for theological soundness, the software can make mistakes.

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network