ملاکی 4
پرائمری عمر (7 تا 12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
وضاحت
ملاکی نبی کی کتاب پرانے عہدنامے کا آخری ورق ہے۔ اِس کے بعد تقریباً چار سو سال تک آسمان خاموش رہا۔ کوئی نبی نہیں، کوئی نیا پیغام نہیں۔ تو یہ آخری صفحہ خاص طور پر غور سے پڑھنے کے قابل ہے۔
ملاکی کے زمانے میں لوگ تھکے ہوئے تھے۔ بیت المُقدّس دوبارہ بن گیا تھا، مگر زندگی بےرنگ لگتی تھی۔ لوگ کہتے تھے: خدا کی خدمت کرنے سے کیا فائدہ؟ جو لوگ خدا کی پروا نہیں کرتے، وہی تو خوش نظر آتے ہیں۔ اِن سوالوں کے جواب میں خدا ایک دن کے بارے میں بولتے ہیں، ”وہ دن“، جب سب کچھ صاف ظاہر ہو جائے گا۔
اُس دن کی دو تصویریں ہیں، اور دونوں ہمارے چاروں طرف کی دنیا سے لی گئی ہیں۔ پہلی تصویر بھٹی کی ہے: ایک تیز جلتی ہوئی آگ، اور اُس میں بھوسا۔ بھوسا وہ سوکھا چھلکا ہے جو گندم جھاڑنے کے بعد بچ جاتا ہے۔ وہ آگ کے قریب آتے ہی بھڑک کر ختم ہو جاتا ہے۔ خدا فرماتے ہیں کہ گستاخ اور بےدین لوگ ”جڑ سے لے کر شاخ تک“ مٹ جائیں گے۔ کچھ باقی نہ رہے گا۔
دوسری تصویر بالکل اُلٹ ہے: سورج طلوع ہونے کی۔ ”تم پر جو میرے نام کا خوف مانتے ہو راستی کا سورج طلوع ہو گا، اور اُس کے پَروں تلے شفا ہو گی۔“ ذرا سوچو: صبح کے وقت جب سورج کی پہلی کرنیں پھیلتی ہیں تو وہ کسی پرندے کے کھلے پَروں جیسی لگتی ہیں۔ اور اُن پَروں کے نیچے شفا ہے، یعنی چنگا ہو جانا، ٹھیک ہو جانا۔ اِس کے ساتھ ایک اور تصویر آتی ہے: باڑے میں بند بچھڑے جنہیں کھول دیا جاتا ہے۔ وہ باہر نکل کر کودتے پھاندتے ہیں، کیونکہ اُن کے پاؤں میں پہلی بار جگہ ہے۔
آیت 3 مشکل ہے، اور مَیں اُسے چھپانا نہیں چاہتا۔ اُس میں لکھا ہے کہ خدا کے لوگ بےدینوں کو پاؤں تلے کی خاک بنا دیں گے۔ یہ سخت الفاظ ہیں۔ اِن کا مطلب یہ نہیں کہ ہم دوسروں سے بدلہ لیں۔ یہ ایک تصویر ہے: جو برائی آج بڑی اور طاقتور لگتی ہے، وہ اُس دن مٹی سے زیادہ کچھ نہ ہو گی۔
آخر میں خدا دو باتیں کہتے ہیں۔ پہلی: موسیٰ کی شریعت کو یاد رکھو، وہ احکام جو سینا پہاڑ پر دیئے گئے۔ دوسری: ”مَیں تمہارے پاس الیاس نبی کو بھیجوں گا۔“ وہ آئے گا اور باپوں کے دل بیٹوں کی طرف اور بیٹوں کے دل باپوں کی طرف مائل کرے گا۔ کیوں؟ ”تاکہ مَیں آ کر ملک کو… نیست و نابود نہ کروں۔“
اِس کا مطلب کیا ہے؟
سب سے پہلے یہ: خدا لاپروا نہیں ہیں۔ وہ سب کچھ دیکھتے ہیں۔ جو کچھ آج ٹیڑھا ہے، وہ ہمیشہ ٹیڑھا نہیں رہے گا۔
دوسری بات حیران کن ہے: بھٹی اور سورج ایک ہی دن ہیں۔ ایک ہی خدا، ایک ہی روشنی۔ فرق اِس میں ہے کہ تم اُس روشنی میں کھڑے ہو یا اُس سے بھاگ رہے ہو۔ ”نام کا خوف ماننے“ کا مطلب ڈر کر کانپنا نہیں، بلکہ خدا کو واقعی سنجیدگی سے لینا، اُس کا ادب کرنا۔
اور سب سے آخری جملہ سب سے نرم ہے۔ خدا الیاس کو بھیجتے ہیں تاکہ اُنہیں تباہ نہ کرنا پڑے۔ خدا کا دل سزا دینے کو نہیں مچلتا۔ وہ پہلے ایک پیغام بر بھیجتے ہیں۔ اور اُس پیغام بر کا کام کیا ہے؟ خاندانوں میں دل جوڑنا۔ باپ اور بیٹے کے درمیان ٹوٹا ہوا رشتہ خدا کے لیے کوئی چھوٹی بات نہیں۔
بڑی کہانی کا سلسلہ
پرانا عہدنامہ ایک وعدے پر ختم ہوتا ہے: ایک پیغام بر آئے گا۔ اور نیا عہدنامہ کیسے شروع ہوتا ہے؟ ایک آدمی سے جو ریگستان میں لوگوں کو پکارتا ہے کہ توبہ کرو: یوحنا بپتسمہ دینے والا۔ خداوند یسوع مسیح نے خود کہا کہ وہ الیاس ہے جسے آنا تھا۔ چار سو سال کی خاموشی کے بعد بھی خدا نے اپنا لفظ نہیں بھلایا۔
اور ”راستی کا سورج“؟ مسیح کی کلیسیا نے ہمیشہ اِن الفاظ میں خداوند یسوع کو دیکھا ہے: وہ روشنی جو اندھیرے میں طلوع ہوئی، جس کے پَروں تلے شفا ہے۔ کیا ملاکی جانتا تھا کہ وہ کس کے بارے میں لکھ رہا ہے؟ پورا تو غالباً نہیں۔ نبی کبھی کبھی اُس سے زیادہ کہتے ہیں جتنا وہ خود سمجھتے ہیں۔
تیرے لیے
اگر تُو نے کبھی سوچا ہے، ”خدا کی راہ پر چلنے سے کیا فرق پڑتا ہے، جھوٹ بولنے والے تو آسانی سے بچ نکلتے ہیں،“ تو جان لے کہ یہ سوال بائبل میں موجود ہے۔ خدا نے اِس پر ناراض ہونے کے بجائے جواب دیا۔
اور ایک بہت ہی عملی بات: خدا کو خاندان کے دل عزیز ہیں۔ کیا تیرے اور تیرے امی ابو کے درمیان، یا تیرے اور کسی بھائی بہن کے درمیان کوئی بات اٹکی ہوئی ہے؟ آج ایک قدم اُٹھا۔ ”مجھے افسوس ہے“ کہنا مشکل ہے، مگر خدا کے نزدیک یہ اُن کاموں میں سے ہے جو وہ خود شروع کرتے ہیں۔
اِس پر بات کریں
کیا تُو نے کبھی محسوس کیا کہ اچھائی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو رہا؟ اُس وقت ملاکی 4 کی کون سی بات تجھے تسلی دے سکتی ہے؟
خدا نے سزا سے پہلے ایک پیغام بر بھیجا۔ یہ خدا کے دل کے بارے میں ہمیں کیا بتاتا ہے؟
مل کر دعا
اے خداوند، آپ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ سکتے، اور آپ ہمیں یوں ہی نہیں چھوڑ دیتے۔ ہمارے دلوں پر اپنی روشنی طلوع کیجئے، اور ہمارے گھروں میں جو کچھ ٹوٹا ہے اُسے جوڑ دیجئے۔ ہمیں آپ کا ادب کرنا سکھائیے۔ آمین۔
ملاکی 4 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
ملاکی 4 کس بارے میں ہے؟
ملاکی 4 کیا کہتا ہے؟
ملاکی 4 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
بچے ملاکی 4 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
ملاکی 4 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
پرانے عہدنامے کا آخری پیغام کوئی تخت یا ہیکل نہیں بلکہ گھر کی دہلیز ہے: ”وہ والدین کے دلوں کو اُن کے بچوں کی طرف اور بچوں کے دلوں کو اُن کے والدین کی طرف مائل کرے گا۔“ خدا کی نظر میں قوم کی شفا وہاں شروع ہوتی ہے جہاں ایک باپ اپنے بیٹے کی طرف مُڑتا ہے۔ آج تیرے گھر میں کون سا دل تجھ سے پھرا ہوا ہے؟ اور کیا تُو پہلا قدم اُٹھائے گا؟
مالاکی کے بعد آسمان تقریباً چار سو سال خاموش رہا۔ اور اُس لمبی خاموشی سے پہلے خدا کا آخری لفظ کوئی نیا انکشاف نہیں تھا: "میرے خادم موسیٰ کی شریعت کو یاد رکھو۔" پرانی بات، وہی بات۔ جب تجھے لگے کہ خدا چپ ہے، شاید وہ نئی آواز کا نہیں بلکہ اُس بات پر عمل کا منتظر ہے جو وہ تجھ سے پہلے ہی کہہ چکا ہے۔
ملاکی کے زمانے میں لوگ شکایت کر رہے تھے کہ بدکار ہی کامیاب ہوتے ہیں۔ اللہ کا جواب یہ تھا، ”یقیناً وہ دن آنے والا ہے جو بھڑکتے تنور کی طرح ہو گا۔“ جو آج تُجھے تناور درخت لگتے ہیں
کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور نوجوانوں (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں