فِلپّیوں 2
پرائمری عمر (7 تا 12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
وضاحت
پولس رسول یہ خط جیل سے لکھ رہا ہے۔ اُس کے ہاتھوں میں زنجیریں ہیں، مگر اُس کے دل میں فلپی شہر کے اُس چھوٹے سے کلیسیا کا خیال ہے جس کے لوگوں کو وہ اپنے "عزیزو" کہہ کر پکارتا ہے۔
پہلے وہ اُن سے ایک سوال پوچھتا ہے: کیا آپ کے درمیان مسیح میں حوصلہ افزائی، محبت کی تسلی اور نرم دلی پائی جاتی ہے؟ اگر ہاں، تو پھر وہ اُن سے ایک درخواست کرتا ہے۔ نہ روپیہ، نہ تحفہ، بلکہ یہ کہ وہ "ایک جان اور ایک ذہن" ہو جائیں۔ ایسا لگتا ہے کہ فلپی میں لوگوں کے بیچ کھینچا تانی ہو رہی تھی۔ کوئی چاہتا تھا کہ اُسے سب سے زیادہ عزت ملے۔ اِس لئے پولس لکھتا ہے: "خود غرض نہ ہوں… بلکہ فروتنی سے دوسروں کو اپنے سے بہتر سمجھیں۔"
اور پھر وہ کچھ ایسا کرتا ہے جو حیران کر دیتا ہے۔ وہ نصیحت کی فہرست نہیں گِنواتا۔ وہ ایک گیت گانے لگتا ہے۔ ایک گیت مسیح کے بارے میں۔
مسیح خدا کی صورت پر تھا۔ وہ خدا کے برابر تھا۔ مگر اُس نے اُس مقام کو مُٹھی میں دبا کر نہیں رکھا، جیسے کوئی بچہ اپنا کھلونا سینے سے چمٹا لیتا ہے۔ اُس نے اپنے آپ کو اُس سے محروم کر دیا۔ اُس نے غلام کی صورت اپنائی۔ وہ انسان بن گیا، سچ مچ کا انسان، بھوک اور تھکن اور آنسوؤں کے ساتھ۔ اور وہ اُس سے بھی نیچے گیا: "اُس نے اپنے آپ کو پست کر دیا اور موت تک تابع رہا، بلکہ صلیبی موت تک۔"
صلیب سب سے شرمناک موت تھی۔ نیچے سے نیچے۔ اور ٹھیک وہیں سے گیت اوپر جاتا ہے: اِسی لئے اللہ نے اُسے سب سے اعلیٰ مقام پر سرفراز کر دیا، اور اُسے وہ نام بخشا جو ہر نام سے اعلیٰ ہے۔ ایک دن ہر گھٹنا جھکے گا اور ہر زبان تسلیم کرے گی کہ عیسیٰ مسیح خداوند ہے۔
اِس کے بعد پولس کہتا ہے: اب تم بھی اِسی سوچ کے ساتھ جیو۔ بڑبڑائے بغیر، بحث مباحثہ کئے بغیر۔ ایک ٹیڑھی دنیا کے درمیان آسمان کے ستاروں کی طرح چمکتے ہوئے۔
آخر میں دو ناموں کا ذکر آتا ہے۔ تیمُتھیُس، جو پولس کے بیٹے کی طرح ہے اور جو سچے دل سے فلپی والوں کی فکر کرتا ہے۔ اور اِپَفرُدِتس، جو پولس کی مدد کرنے آیا تھا اور اِتنا بیمار پڑ گیا کہ مرنے کو تھا۔ خدا نے اُس پر رحم کیا اور وہ بچ گیا۔ پولس کہتا ہے: اُس جیسے لوگوں کی عزت کریں۔
اِس کا مطلب کیا ہے؟
ہم عام طور پر سوچتے ہیں کہ بڑا آدمی وہ ہے جو اوپر چڑھتا ہے۔ لیکن یسوع کا راستہ نیچے کی طرف تھا۔ وہ خدا تھا اور غلام بن گیا۔ اور خدا باپ نے اُسی نیچے جانے والے راستے کو سب سے اونچا مقام دیا۔
پولس یہ گیت اِس لئے لکھتا ہے کہ ہم صرف واہ واہ کریں؟ نہیں۔ آیت پانچ کہتی ہے: "وہی سوچ رکھیں جو مسیح عیسیٰ کی بھی تھی۔" فروتنی یعنی خود کو چھوٹا سمجھنا کوئی کمزوری نہیں۔ یہ خدا کا اپنا انداز ہے۔
ایک بات یہاں مشکل بھی ہے۔ آیت بارہ کہتی ہے: "ڈرتے اور کانپتے ہوئے جاں فشانی کرتے رہیں۔" کیا اِس کا مطلب ہے کہ ہمیں خدا سے ڈرنا چاہیے؟ ایسا نہیں۔ یہ اُس عزت والے ڈر کی طرح ہے جو تمہیں کسی بہت قیمتی چیز کو ہاتھ میں لیتے وقت محسوس ہوتا ہے۔ اور فوراً اگلی آیت راز کھول دیتی ہے: "خدا ہی آپ میں وہ کچھ کرنے کی خواہش پیدا کرتا ہے جو اُسے پسند ہے۔" پہلے خدا کام کرتا ہے، پھر ہم۔
سنہری تار
پورا باب ایک ہی شخص کے گرد گھومتا ہے۔ یسوع اوپر سے نیچے آیا اور نیچے سے اوپر گیا۔ یہی خدا کا سب سے بڑا وعدہ ہے: وہ ہمیں لینے خود نیچے آیا، اور اُس کے نام کے سامنے ایک دن پوری کائنات جھکے گی۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ تیمُتھیُس اور اِپَفرُدِتس کی کہانیاں اُسی گیت کی چھوٹی گونج ہیں۔ دونوں نے اپنے فائدے کے بجائے دوسروں کا سوچا۔ مسیح کی سوچ ہمیشہ آگے چلتی ہے۔
ایک سوال میرے پاس بھی ہے جس کا جواب یہ باب نہیں دیتا: خدا نے اِپَفرُدِتس کو شفا دی، مگر ہر بیمار کو شفا نہیں ملتی۔ کیوں؟ مجھے نہیں معلوم۔ پولس بھی وضاحت نہیں کرتا۔ وہ صرف کہتا ہے: اللہ نے اُس پر رحم کیا۔
تمہارے لئے
آج تمہیں کہیں چُننا پڑے گا: کیا میں آگے بڑھوں یا کسی اَور کو آگے جانے دوں؟ کھیل میں، کلاس میں، گھر میں۔ آیت چار بہت سادہ ہے: "ہر ایک نہ صرف اپنا فائدہ سوچے بلکہ دوسروں کا بھی۔" اور آیت چودہ ایک اَور امتحان دیتی ہے: بغیر بڑبڑائے کام کرنا۔ برتن اُٹھاتے ہوئے، ہوم ورک کرتے ہوئے۔ ستارے چیختے نہیں، وہ صرف چمکتے ہیں۔ اور تم اکیلے نہیں ہو: جو خواہش تمہارے اندر جاگتی ہے، وہ خدا خود پیدا کرتا ہے۔
اِس پر بات کریں
کسی کو اپنے سے بہتر سمجھنا کیا واقعی ممکن ہے، یا یہ صرف اچھی بات ہے جو کہنے میں آسان لگتی ہے؟
یسوع نے اپنی طاقت کو مُٹھی میں نہیں دبایا۔ تم کس چیز کو مُٹھی میں دبا کر رکھتے ہو؟
مل کر دعا
خداوند یسوع، آپ خدا تھے اور غلام بن گئے۔ میں یہ پوری طرح سمجھ نہیں سکتا، مگر شکریہ کہ آپ نیچے آئے۔ میرے اندر وہی سوچ پیدا کیجئے جو آپ کی تھی۔ اور جب مجھے مشکل لگے، مجھے طاقت دیجئے۔ آمین۔
فِلپّیوں 2 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
فِلپّیوں 2 کس بارے میں ہے؟
فِلپّیوں 2 کیا کہتا ہے؟
فِلپّیوں 2 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
بچے فِلپّیوں 2 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
فِلپّیوں 2 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
اِپَفْرُدِتُس بیمار تھا، لیکن اُس کی بےچینی اپنی بیماری کی وجہ سے نہیں تھی۔ وہ اِس لئے پریشان تھا کہ "آپ کو اُس کی بیماری کی خبر مل گئی تھی۔" یعنی اُسے فکر تھی کہ کہیں آپ میرے لئے پریشان نہ ہوں۔ کیا کبھی آپ نے کمزوری کے بستر پر پڑے ہوئے بھی کسی اَور کے دل کا بوجھ محسوس کیا ہے؟ محبت ایسی ہی ہوتی ہے، وہ اپنے درد میں بھی دوسرے کو یاد رکھتی ہے۔
پولس یہ بات کسی مثالی دنیا کو نہیں لکھ رہا تھا۔ فلپی کی کلیسیا میں لوگ آپس میں کھنچے ہوئے تھے، اسی لیے وہ کہتا ہے، ”خود غرضی یا بےجا خود پسندی سے کچھ نہ کریں بلکہ فروتنی سے ایک دوسرے کو اپنے سے بہتر سمجھیں۔“
غور کریں، وہ یہ نہیں کہتا کہ دوسرے واقعی آپ سے بہتر ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ اُنہیں بہتر سمجھیں۔ یہ دل کا ایک فیصلہ ہے جو آپ آج اُس شخص کے بارے میں کر سکتے ہیں جس سے آپ کی ان بن ہے۔ کیا آپ اُسے پہلا درجہ دینے کو تیار ہیں؟
اور انسانی شکل میں ظاہر ہو کر اُس نے اپنے آپ کو پست کر دیا اور فرماں بردار رہا یہاں تک کہ موت سہہ لی، بلکہ صلیبی موت۔“ غور کر، مسیح کا راستہ ہمیشہ نیچے کی طرف جاتا ہے۔ ہم عزت کی ایک ایک سیڑھی چڑھنا چاہتے ہیں، وہ آخری سیڑھی تک اُترتا گیا، وہاں جہاں کوئی عزت باقی نہ رہی۔ آج جہاں تجھے جھکنا پڑ رہا ہے، شاید وہیں تُو اُس کے سب سے قریب ہے۔
وہی سوچ اپنائیں جو مسیح عیسیٰ کی تھی۔“ پولس یہ بات کسی مندر میں نہیں، ایک جھگڑالو جماعت کے درمیان کہہ رہا ہے۔ جہاں لوگ اپنا حق مانگ رہے تھے، وہاں وہ ایک ایسے بادشاہ کی طرف اشارہ کرتا ہے جس نے اپنا حق چھوڑ دیا۔ سوچ بدلے بغیر رویہ نہیں بدلتا۔ آج جس شخص سے تیرا دل اٹکا ہوا ہے، اُس کے بارے میں تیری سوچ کیسی ہے؟
کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور نوجوانوں (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں