صفنیاہ 3
پرائمری عمر (7 تا 12) کے لیے وضاحت اور بائبل کی کہانی
وضاحت
صفنیاہ نبی کی کتاب کا یہ تیسرا باب ایک تلخ جملے سے شروع ہوتا ہے۔ نبی ایک شہر کا نام نہیں لیتا، مگر سب سمجھ جاتے ہیں کہ کون ہے: ”اُس سرکش، ناپاک اور ظالم شہر پر افسوس جو یروشلم کہلاتا ہے۔“ یروشلم! وہی شہر جہاں خدا کا گھر تھا، جہاں قربانیاں پیش کی جاتی تھیں۔ اور اُسی شہر کے بارے میں خدا کہتے ہیں: ”نہ وہ سنتا، نہ تربیت قبول کرتا ہے۔“
پھر نبی شہر کے بڑے لوگوں کی تصویر کھینچتا ہے، اور یہ تصویر خوبصورت نہیں ہے۔ بزرگ دہاڑتے ہوئے شیر ہیں۔ قاضی، یعنی جج، شام کے وقت بھوکے پھرنے والے بھیڑیئے ہیں جو صبح تک شکار کی ایک ہڈی تک نہیں چھوڑتے۔ نبی گستاخ ہیں، اور امام مقدِس کی بےحرمتی کرتے ہیں۔ ذرا سوچو: جن لوگوں کو قوم کی حفاظت کرنی تھی، وہی سب سے زیادہ نقصان پہنچا رہے تھے۔
اور اِس سارے اندھیرے کے درمیان آیت 5 آتی ہے، جیسے ایک روشن کھڑکی: ”لیکن رب بھی شہر کے بیچ میں ہے، اور وہ راست ہے، وہ بےانصافی نہیں کرتا۔“ خدا وہاں سے چلے نہیں گئے۔ ہر صبح وہ اپنا انصاف قائم رکھتے ہیں۔ مگر جو بےدین ہے وہ شرم سے واقف ہی نہیں۔
خدا فرماتے ہیں کہ اُنہوں نے سوچا تھا کہ یروشلم سبق سیکھ لے گا۔ ”بےشک یروشلم میرا خوف مان کر میری تربیت قبول کرے گا۔“ لیکن ہوا اُلٹا: ”اُس کے باشندے مزید جوش کے ساتھ اپنی بُری حرکتوں میں لگ گئے۔“
اِس کے بعد باب اچانک مڑ جاتا ہے۔ خدا کہتے ہیں کہ وہ قوموں کے ہونٹوں کو پاک صاف کریں گے، تاکہ لوگ رب کا نام لے کر عبادت کریں اور شانہ بشانہ، یعنی کندھے سے کندھا ملا کر، اُن کی خدمت کریں۔ ایتھوپیا کے دریاؤں کے پار سے بھی لوگ آئیں گے۔ شہر میں سے مغرور شیخی باز نکالے جائیں گے، اور جو باقی رہیں گے وہ غریب اور ضرورت مند لوگ ہوں گے، وہ سب جو رب کے نام میں پناہ لیتے ہیں۔ اُن کی زبان پر فریب نہیں ہو گا، اور وہ بھیڑوں کی طرح چراگاہ میں آرام کریں گے، اور اُنہیں ڈرانے والا کوئی نہیں ہو گا۔
آخری حصہ گیت جیسا ہے۔ ”اے صیون بیٹی، خوشی کے نعرے لگا!“ کیوں؟ کیونکہ رب نے سزا مٹا دی ہے اور دشمن کو بھگا دیا ہے۔ اور پھر وہ آیت آتی ہے جو یاد رکھنے کے قابل ہے: ”رب تیرا خدا تیرے درمیان ہے، تیرا پہلوان تجھے نجات دے گا۔ وہ شادمان ہو کر تیری خوشی منائے گا۔“ خدا لنگڑانے والے کو بچائیں گے اور جو بکھر گئے ہیں اُنہیں جمع کریں گے۔
اِس کا مطلب کیا ہے؟
یہ باب ایک ساتھ دو باتیں کہتا ہے، اور دونوں سچ ہیں۔ پہلی: خدا گناہ کو ہلکا نہیں سمجھتے۔ جب ججوں نے غریبوں کو نوچا اور رہنماؤں نے جھوٹ بولا، تو خدا نے آنکھ بند نہیں کی۔ خدا کا غصہ اُن کے انصاف کا حصہ ہے۔ دوسری: خدا کا آخری لفظ سزا نہیں بلکہ خوشی ہے۔ وہی خدا جو باب کے شروع میں افسوس کرتے ہیں، آخر میں گانے لگتے ہیں۔
یہ الجھن پیدا کرتا ہے، اور ایمانداری سے کہوں تو صفنیاہ خود ہمیں پوری وضاحت نہیں دیتا کہ خدا کا قہر اور خدا کی محبت ایک ہی دل میں کیسے رہتے ہیں۔ ہم صرف یہ دیکھتے ہیں کہ محبت کو آخری بات کہنے کی اجازت ملتی ہے۔
اور دھیان دو کہ کون بچتا ہے: شیخی باز نہیں، بلکہ ”قوم کے غریب اور ضرورت مند“، وہ لوگ جو رب کے نام میں پناہ لیتے ہیں۔ خدا کے پاس جگہ اُس کے لیے ہے جو مانتا ہے کہ مجھے مدد کی ضرورت ہے۔
سنہری دھاگا
”رب تیرا خدا تیرے درمیان ہے۔“ یہ فقرہ پوری بائبل میں گونجتا ہے۔ صفنیاہ کے سینکڑوں سال بعد خدا واقعی اپنے لوگوں کے درمیان آ گئے، ایک بچے کی صورت میں، اور اُس بچے کا نام یسوع رکھا گیا۔ وہی ”پہلوان“ ہے جو نجات دیتا ہے، جس نے سزا اپنے اوپر لے لی تاکہ ہماری سزا مٹ جائے۔
اور آیت 17 کا وہ حیرت انگیز جملہ، ”اُس کی محبت تیرے قصور کا ذکر ہی نہیں کرے گی“، وہی معافی ہے جو یسوع دیتا ہے۔ معاف کرنا صرف یہ نہیں کہ خدا بھول جائیں؛ اِس کا مطلب ہے کہ وہ اُس بات کو دوبارہ تمہارے منہ پر نہیں ماریں گے۔
تمہارے لیے
آیت 13 کہتی ہے کہ بچے ہوئے لوگوں کی زبان پر فریب نہیں ہو گا۔ زبان! یہی وہ جگہ ہے جہاں ہم میں سے اکثر پھسلتے ہیں: چھوٹا سا جھوٹ، آدھی سچائی، کسی کے بارے میں ایسی بات جو مزے کی ہو مگر سچ نہ ہو۔ خدا کے لوگ ایسے لوگ ہیں جن کی بات پر بھروسا کیا جا سکتا ہے۔ آج ایک بات سچ سچ کہہ دو، چاہے مشکل ہو۔
اور دوسری بات: اگر تم کبھی سوچتے ہو کہ خدا میرے بارے میں کیا محسوس کرتے ہیں، تو آیت 17 پڑھو۔ وہ تمہاری خوشی مناتے ہیں۔ وہ تھکے ہوئے استاد کی طرح نہیں دیکھتے، بلکہ گاتے ہیں۔
مل کر بات کریں
خدا نے یروشلم کو چھوڑا نہیں، حالانکہ وہاں سب کچھ غلط ہو رہا تھا۔ تمہیں لگتا ہے کہ خدا کیوں رُک گئے؟
”اُس کی محبت تیرے قصور کا ذکر ہی نہیں کرے گی۔“ کیا کسی نے کبھی تمہیں ایسے معاف کیا ہے؟ اور کیا کوئی ایسا ہے جسے تمہیں ایسے معاف کرنا چاہیے؟
مل کر دعا
خداوند، آپ ہمارے درمیان ہیں، یہ سوچ کر ہمیں حیرت ہوتی ہے۔ ہمیں سچ بولنے والے لوگ بنائیے، اور ہمیں یقین دلائیے کہ آپ ہماری خوشی مناتے ہیں۔ جہاں ہم غلط ہوئے ہیں، وہاں ہمیں معاف کیجیے اور دوبارہ شروع کرنے کی طاقت دیجیے۔ آمین۔
صفنیاہ 3 کے بارے میں سوالات
ہر اُس شخص کے لیے مختصر جوابات جو پہلی بار اِس بارے میں پڑھ رہا ہے۔
صفنیاہ 3 کس بارے میں ہے؟
صفنیاہ 3 کیا کہتا ہے؟
صفنیاہ 3 ہمیں خدا کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
بچے صفنیاہ 3 سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
صفنیاہ 3 ایک اہم بائبل کی کہانی کیوں ہے؟
دوسروں نے کیا پایا
خدا یہاں صرف قصور معاف نہیں کرتا، وہ دل کے اندر سے وہ چیز نکال دیتا ہے جو بار بار گناہ کی جڑ بنتی ہے: "مَیں تیرے درمیان سے تیرے مغرور شیخی بازوں کو نکالوں گا۔" شرمندگی کا علاج ماضی کو چھپانا نہیں، بلکہ اُس غرور کا خاتمہ ہے جس نے تجھے وہاں پہنچایا۔ کیا تُو اُسے اپنے اندر یہ کام کرنے دے گا؟
اُس کے سردار دہاڑتے ہوئے شیرببر ہیں، اُس کے قاضی شام کے بھیڑیے ہیں جو صبح تک کچھ نہیں چھوڑتے۔“ جن کے ہاتھ میں ریوڑ کی حفاظت تھی، وہی شکاری بن گئے۔ اور دیکھ، ان کی بھوک کبھی ختم نہیں ہوتی، صبح تک ایک ہڈی بھی باقی نہیں رہتی۔ تیرے پاس بھی تھوڑا سا اختیار ہے، کسی گھر میں، کسی دفتر میں۔ سوال یہ ہے: تُو اُس سے بچاتا ہے یا کھاتا ہے؟
صفنیاہ کی کتاب عدالت کے اعلان سے بھری ہوئی ہے، آگ، غضب، رب کا خوفناک دن۔ اور پھر اچانک گانے کی آواز: ”رب تیرا خدا تیرے درمیان ہے، وہ پہلوان ہے جو تجھے چھٹکارا دے گا۔“ جو پہلوان تجھے بچانے کے لئے کافی طاقتور ہے، وہی تیرے اوپر خوشی کے گیت گاتا ہے۔ سوچ، کیا تُو نے کبھی سنا کہ خدا تیرے بارے میں گا رہا ہے؟
رب نے تیری سزا مٹا کر تیرے دشمن کو بھگا دیا ہے۔ اسرائیل کا بادشاہ یعنی رب خود تیرے درمیان ہے۔“ غور کر، پہلے سزا ہٹتی ہے، پھر بادشاہ قریب آتا ہے۔ تیرا خوف اِس لئے نہیں جاتا کہ راستہ آسان ہو گیا، بلکہ اِس لئے کہ وہ تیرے بیچ میں کھڑا ہے۔ کیا تُو آج بھی اپنی پرانی سزا کا بوجھ اُٹھائے پھر رہا ہے جسے وہ کب کا مٹا چکا ہے؟
کسی اور عمر کے گروپ کی تلاش ہے؟
ہمارے پاس چھوٹے بچوں (3 تا 6 سال) اور نوجوانوں (12 سال اور اس سے زائد) کے لیے بھی الگ نسخے موجود ہیں۔
بچوں کی بائبل کے ٹول میں کھولیں