بائبل کی تشریح

۱-کُرِنتِھیوں 10

پڑھیں

متن

پولس رسول کورنتھس کی جماعت کو صحرا میں لے جاتے ہیں: ہمارے باپ دادا سب بادل کے نیچے تھے، سب سمندر میں سے گزرے، سب نے ایک ہی روحانی خوراک کھائی اور ایک ہی روحانی پانی پیا، ”کیونکہ مسیح روحانی چٹان کی صورت میں اُن کے ساتھ ساتھ چلتا رہا۔“ پھر وہ جملہ آتا ہے جو دم گھونٹ دیتا ہے: ”اِس کے باوجود اُن میں سے بیشتر لوگ اللہ کو پسند نہ آئے۔“ اِس کے بعد رسول چار خطرے گنواتے ہیں، بُت پرستی، زناکاری، خداوند کی آزمائش اور بڑبڑانا، اور پھر خبردار کرتے ہیں کہ کھڑا ہونے والا گر بھی سکتا ہے۔ آخری حصے میں بات مائدۂ خداوند، بازار کے گوشت، دوسرے کے ضمیر اور اُس اصول پر آ جاتی ہے: ”سب کچھ اللہ کے جلال کی خاطر کریں۔“

اصل مرکز

اِس باب کا مرکزی دعویٰ یہ ہے کہ خدا کی نعمتیں کبھی تعویذ نہیں بنتیں۔ اسرائیل کو سب کچھ ملا تھا، رہنمائی، نجات، خوراک، پانی، حتیٰ کہ مسیح خود اُن کے ساتھ چلتا رہا، اور پھر بھی اُن کی لاشیں ریگستان میں بکھر گئیں۔ بپتسمہ اور عشائے ربانی کوئی جادوئی بیمہ پالیسی نہیں، بلکہ حقیقی شراکت ہیں، اور یونانی لفظ کوئنونیا کا مطلب محض ساتھ بیٹھنا نہیں بلکہ ایک ہی زندگی میں حصہ لینا ہے۔ اِسی لیے دو میزوں پر بیک وقت بیٹھنا ناممکن ہے: ”آپ خداوند کے پیالے اور ساتھ ہی شیاطین کے پیالے سے نہیں پی سکتے۔“ خدا کی غیرت کوئی چھوٹی بات نہیں۔ مگر اِسی سختی کے بیچ رحمت کھڑی ہے: ”اللہ وفادار ہے۔“ وہ نکلنے کی راہ خود بناتا ہے۔ فضل ڈھیل نہیں دیتا، وہ راستہ کھولتا ہے۔

مشترکہ سلسلہ

پولس مصر سے نکلنے کے واقعے کو محض مثال نہیں بناتے، وہ اُسے نمونہ کہتے ہیں: ”یہ ماجرے عبرت کی خاطر اُن پر واقع ہوئے۔“ یعنی خروج کی کہانی کلیسیا کی کہانی کا خاکہ ہے۔ سمندر سے گزرنا بپتسمہ کی طرف اشارہ کرتا ہے، من اور چٹان کا پانی اُس میز کی طرف جس پر روٹی توڑی جاتی ہے۔ اور بیچ میں وہ حیران کن جملہ کہ چٹان مسیح تھا: نجات دینے والا وہی ہے جو صحرا میں ساتھ چلتا رہا اور آج پیالے میں اپنا خون بانٹتا ہے۔ مگر یہی سلسلہ خبردار بھی کرتا ہے۔ مصر سے نکلنا اور کنعان میں داخل ہونا ایک ہی چیز نہیں۔ نجات کا آغاز ضمانت نہیں کہ سفر پورا ہو گا؛ ضمانت مسیح کی وفاداری ہے، ہماری ابتدائی خوشی نہیں۔

آئینہ

سوال پوچھیں: آپ کس بات کو اپنا تعویذ بنائے بیٹھے ہیں؟ برسوں کی کلیسیائی حاضری، بپتسمہ کا سرٹیفکیٹ، وہ گروپ جو آپ چلاتے ہیں، یا وہ گواہی جو آپ نے دس سال پہلے دی تھی؟ ”جو سمجھتا ہے کہ وہ مضبوطی سے کھڑا ہے، خبردار رہے کہ گر نہ پڑے۔“ یہ آیت خاص طور پر اُن کے لیے ہے جو گرنے والوں کے بارے میں فوراً رائے دیتے ہیں۔ اور چاروں خطروں میں سے جو آج ہمیں سب سے کم گناہ لگتا ہے وہی سب سے مہلک نکلا: بڑبڑانا۔ تنخواہ پر، شریکِ حیات پر، پادری پر، بچوں پر، خدا کے وقت پر۔ شکایت کرتے ہوئے ہم خود کو مظلوم سمجھتے ہیں، مگر متن اِسے بغاوت کہتا ہے۔

آج ہی ایک کاغذ پر وہ ایک شکایت لکھیں جو اِس ہفتے آپ کے منہ سے سب سے زیادہ نکلی، پھر اُسے بلند آواز میں خدا کے سامنے دعا کی صورت میں کہہ کر کاغذ پھاڑ دیں۔

مرکزی کردار

اِس باب میں اصل کردار خدا ہیں، اور اُن کی دو خصوصیات ساتھ ساتھ کھڑی ہیں۔ پہلی، غیرت: ”یا کیا ہم اللہ کی غیرت کو اُکسانا چاہتے ہیں؟“ یہ چڑچڑاپن نہیں، یہ محبت کی سنجیدگی ہے۔ جو شوہر اپنی بیوی کی بےوفائی پر بےپروا رہے وہ نرم دل نہیں، بےتعلق ہے۔ خدا بےتعلق نہیں۔ دوسری، وفاداری: ”اللہ وفادار ہے۔“ وہی خدا جو صحرا میں ہلاکت ہونے دیتا ہے، وہی آزمائش میں سے نکلنے کی راہ بناتا ہے۔ ہم اِن دونوں کو الگ کرنا چاہتے ہیں، ایک نرم خدا یا ایک سخت خدا۔ پولس اجازت نہیں دیتے۔ چٹان جو پانی دیتی ہے اور جج جو حساب لیتا ہے، ایک ہی ہستی ہیں، اور یہی بات ہمیں سنجیدہ اور محفوظ، دونوں بناتی ہے۔

مشکل سوال

آیت 13 کو ہم تسلی کی طرح دہراتے ہیں: خدا طاقت سے زیادہ آزمائش نہیں آنے دیتا۔ مگر ہم سب ایسے لوگوں کو جانتے ہیں جو ٹوٹ گئے، ایمان چھوڑ بیٹھے، یا بوجھ تلے دب گئے۔ تو کیا وعدہ جھوٹا ہے؟ غور کریں کہ پولس یہ بات کس تناظر میں کہتے ہیں: اُن لوگوں سے جو گرے تھے۔ وعدہ یہ نہیں کہ درد ہماری برداشت سے کم ہو گا، بلکہ یہ کہ گناہ ناگزیر نہیں؛ راہ ہمیشہ موجود ہے، اکثر وہاں سے بھاگنے کی صورت میں، جیسے آیت 14 کہتی ہے۔ لیکن یہ سوال باقی رہتا ہے کہ کچھ لوگ نکلنے کی راہ کیوں نہیں دیکھ پاتے۔ میں اِس کا جواب نہیں جانتا۔ میں صرف جانتا ہوں کہ اِس آیت کو دوسروں پر پھینکنا ظلم ہے اور اپنے لیے تھامنا ایمان۔

پہلے سننے والے

کورنتھس میں گوشت زیادہ تر مندروں سے آتا تھا، اور مندر شہر کا ریستوران، کلب اور تجارتی نیٹ ورک تھا۔ دعوت ٹھکرانے کا مطلب کاروبار کھونا، رشتے داروں کو ناراض کرنا، سماجی مقام سے گرنا تھا۔ ”سمجھ دار“ مسیحی کہتے تھے کہ بُت کچھ بھی نہیں، لہٰذا کھانے میں حرج کیا ہے؟ پولس اُن کے علم کی تصدیق کرتے ہیں اور پھر اُسے الٹ دیتے ہیں: بُت کچھ نہیں، مگر مندر کی میز پر جو رفاقت بنتی ہے وہ حقیقی ہے۔ اور آخر میں وہ آزادی چھینتے نہیں، اُسے موڑ دیتے ہیں: ”ہر کوئی اپنے ہی فائدے کی تلاش میں نہ رہے بلکہ دوسرے کے۔“ پہلے سننے والوں نے یہ سنا کہ ایمان اُن کی سماجی زندگی کے مرکز کو چھو رہا ہے، نہ کہ صرف اُن کے اتوار کو۔

غور و فکر کے سوالات

کون سی چیز آپ کی زندگی میں ”دوسری میز“ ہے، یعنی وہ رفاقت جس سے آپ الگ نہیں ہونا چاہتے حالانکہ جانتے ہیں کہ وہ آپ کو خداوند سے دور کھینچتی ہے؟

جب آپ نے پچھلی بار کوئی آزادی دوسرے کے ضمیر کی خاطر چھوڑی، تو کیا آپ نے اُسے قربانی سمجھا یا محبت؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

1 Corinthians 10 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

۱-کُرِنتِھیوں 10 کا کیا مطلب ہے؟
پولس رسول کورنتھس کی جماعت کو صحرا میں لے جاتے ہیں: ہمارے باپ دادا سب بادل کے نیچے تھے، سب سمندر میں سے گزرے، سب نے ایک ہی روحانی خوراک کھائی اور ایک ہی روحانی پانی پیا، ”کیونکہ مسیح روحانی چٹان کی صورت میں اُن کے ساتھ ساتھ چلتا رہا۔“ پھر وہ جملہ آتا ہے جو دم گھونٹ دیتا ہے: ”اِس کے باوجود اُن میں سے بیشتر لوگ اللہ کو پسند نہ آئے۔“ اِس کے بعد رسول چار خطرے گنواتے ہیں، بُت پرستی، زناکاری، خداوند کی آزمائش اور بڑبڑانا، اور پھر خبردار کرتے ہیں کہ کھڑا ہونے والا گر بھی سکتا ہے۔ آخری حصے میں بات مائدۂ خداوند، بازار کے گوشت، دوسرے کے ضمیر اور اُس اصول پر آ جاتی ہے: ”سب کچھ اللہ کے جلال کی خاطر کریں۔“
۱-کُرِنتِھیوں 10 کس بارے میں ہے؟
پولس مصر سے نکلنے کے واقعے کو محض مثال نہیں بناتے، وہ اُسے نمونہ کہتے ہیں: ”یہ ماجرے عبرت کی خاطر اُن پر واقع ہوئے۔“ یعنی خروج کی کہانی کلیسیا کی کہانی کا خاکہ ہے۔ سمندر سے گزرنا بپتسمہ کی طرف اشارہ کرتا ہے، من اور چٹان کا پانی اُس میز کی طرف جس پر روٹی توڑی جاتی ہے۔ اور بیچ میں وہ حیران کن جملہ کہ چٹان مسیح تھا: نجات دینے والا وہی ہے جو صحرا میں ساتھ چلتا رہا اور آج پیالے میں اپنا خون بانٹتا ہے۔ مگر یہی سلسلہ خبردار بھی کرتا ہے۔ مصر سے نکلنا اور کنعان میں داخل ہونا ایک ہی چیز نہیں۔ نجات کا آغاز ضمانت نہیں کہ سفر پورا ہو گا؛ ضمانت مسیح کی وفاداری ہے، ہماری ابتدائی خوشی نہیں۔
۱-کُرِنتِھیوں 10 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
آج ہی ایک کاغذ پر وہ ایک شکایت لکھیں جو اِس ہفتے آپ کے منہ سے سب سے زیادہ نکلی، پھر اُسے بلند آواز میں خدا کے سامنے دعا کی صورت میں کہہ کر کاغذ پھاڑ دیں۔
۱-کُرِنتِھیوں 10 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
آیت 13 کو ہم تسلی کی طرح دہراتے ہیں: خدا طاقت سے زیادہ آزمائش نہیں آنے دیتا۔ مگر ہم سب ایسے لوگوں کو جانتے ہیں جو ٹوٹ گئے، ایمان چھوڑ بیٹھے، یا بوجھ تلے دب گئے۔ تو کیا وعدہ جھوٹا ہے؟ غور کریں کہ پولس یہ بات کس تناظر میں کہتے ہیں: اُن لوگوں سے جو گرے تھے۔ وعدہ یہ نہیں کہ درد ہماری برداشت سے کم ہو گا، بلکہ یہ کہ گناہ ناگزیر نہیں؛ راہ ہمیشہ موجود ہے، اکثر وہاں سے بھاگنے کی صورت میں، جیسے آیت 14 کہتی ہے۔ لیکن یہ سوال باقی رہتا ہے کہ کچھ لوگ نکلنے کی راہ کیوں نہیں دیکھ پاتے۔ میں اِس کا جواب نہیں جانتا۔ میں صرف جانتا ہوں کہ اِس آیت کو دوسروں پر پھینکنا ظلم ہے اور اپنے لیے تھامنا ایمان۔
۱-کُرِنتِھیوں 10 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کون سی چیز آپ کی زندگی میں ”دوسری میز“ ہے، یعنی وہ رفاقت جس سے آپ الگ نہیں ہونا چاہتے حالانکہ جانتے ہیں کہ وہ آپ کو خداوند سے دور کھینچتی ہے؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی 1 Corinthians 10 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

بصیرت ادارتی کو آیت 18

پولس ایک سادہ سی بات یاد دلاتا ہے: ”اسرائیلی قوم پر غور کریں۔ کیا قربانی کا گوشت کھانے والے قربان گاہ کے شریک نہیں ہوتے؟“ کھانا صرف پیٹ بھرنا نہیں تھا، یہ رشتہ جوڑنا تھا۔ آپ جس میز پر بیٹھتے ہیں، اُس کے ساتھ آپ کا ناتا بن جاتا ہے۔ تو ذرا سوچیں، آپ کی زندگی روز کس میز پر بیٹھتی ہے؟ کس چیز میں شریک ہو رہی ہے؟

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network