۱-کُرِنتِھیوں 14
متن
پولس رسول محبت کو پہلی شرط قرار دیتے ہیں اور پھر جماعت کے اجتماع میں ایک صاف اصول رکھتے ہیں: وہ کلام برتر ہے جو سمجھ میں آئے اور دوسروں کی تعمیر کرے۔ غیرزبان بولنے والا خدا سے بات کرتا ہے مگر جماعت کچھ نہیں سمجھتی، جیسے بےسُرا بانسری یا غیر واضح بِگل؛ اِس لیے نبوّت افضل ہے، اور غیرزبان کے ساتھ ترجمہ لازم ہے۔ آخر میں عملی ترتیب: دو یا تین بولیں، باری باری، نبیوں کو پرکھا جائے، اور ”سب کچھ شائستگی اور ترتیب سے عمل میں آئے“۔
مرکزی بات
اِس باب کا مرکزی لفظ ”تعمیر و ترقی“ ہے، اور یہ روحانیت کی پیمائش کا پیمانہ بدل دیتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ میرا تجربہ کتنا شدید تھا، بلکہ یہ کہ میرے ساتھ بیٹھے شخص کو کیا ملا۔ پولس غیرزبان کو جھوٹا نہیں کہتے؛ وہ خود اقرار کرتے ہیں، ”مَیں خدا کا شکر کرتا ہوں کہ آپ سب کی نسبت زیادہ غیرزبانوں میں بات کرتا ہوں۔“ مگر وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جماعت میں ”پانچ تربیت دینے والے الفاظ کہیں بہتر ہیں“۔ اِس کی بنیاد خدا کی ذات میں ہے: ”اللہ بےترتیبی کا نہیں بلکہ سلامتی کا خدا ہے۔“ جو خدا اپنے آپ کو سمجھنے کے قابل بناتا ہے، اُس کی روح ایسی عبادت پیدا نہیں کرتی جو دوسروں کو باہر رکھے۔
نجات کی کہانی کا تسلسل
آیت 11 میں ایک پرانی گونج ہے: ”مَیں اُس زبان میں بولنے والے کے نزدیک اجنبی ٹھہروں گا اور وہ میرے نزدیک۔“ یہ بابل کا منظر ہے، جہاں زبانوں کی گڑبڑ نے انسانوں کو ایک دوسرے کے لیے اجنبی بنا دیا اور منصوبہ ادھورا رہ گیا۔ پنتِکُست پر خدا نے اِسے پلٹ دیا: ہر آدمی نے اپنی زبان میں خدا کے عظیم کام سنے۔ کرنتھس کا المیہ یہی ہے کہ کلیسیا کے اندر بابل واپس آ گیا تھا۔ اور آگے ایک اَور دھاگا ہے: موسیٰ نے بیابان میں آرزو کی تھی کہ کاش رب کے سب لوگ نبی ہوتے۔ پولس کہتے ہیں یہ ہو چکا: ”آپ سب باری باری نبوّت کر سکتے ہیں۔“ مسیح کی روح نے وہ آرزو پوری کر دی، مگر ترتیب کے ساتھ، انتشار کے ساتھ نہیں۔
آئینہ
یہ باب اُس خواہش کو بےنقاب کرتا ہے جو ہم سب میں چھپی ہے: روحانی نظر آنا۔ چھوٹے حلقے میں وہ شخص جو سب سے دیر تک بولتا ہے؛ وہ دعا جو دراصل سننے والوں کے لیے ایک تقریر ہے؛ وہ اصطلاحیں جو ہم چلاتے ہیں کیونکہ اُن سے ہم گہرے لگتے ہیں، حالانکہ نیا آنے والا کچھ نہیں سمجھتا۔ گھر میں بھی یہی ہوتا ہے، جب ہم بچوں کے سروں کے اوپر سے بات کرتے ہیں اور اُسے تعلیم سمجھتے ہیں۔ پولس کا جواب سخت ہے: ”سمجھ میں بالغ بن جائیں۔“ اور اِس کے پیچھے ایک ڈر بھی ہے، کہ سادہ ہونے سے میں سطحی لگوں گا۔ آج ہی وہ آخری جملہ لکھیں جو آپ نے دعا یا گواہی میں کہا تھا، اور اُسے دوبارہ اُن الفاظ میں لکھیں جو آپ کا غیرایمان دار پڑوسی سمجھ سکے۔
ایک باریک نکتہ
آیت 21 کا حوالہ اکثر نظرانداز ہوتا ہے، اور وہی پورے استدلال کی کنجی ہے: ”مَیں غیرزبانوں اور اجنبیوں کے ہونٹوں کی معرفت اِس قوم سے بات کروں گا۔ لیکن وہ پھر بھی میری نہیں سنیں گے۔“ یسعیاہ نبی نے یہ یہوداہ سے کہا تھا: چونکہ تم نبیوں کی صاف اُردو زبان نہیں سنتے، اِس لیے خدا تم سے اسور کے حملہ آوروں کی اجنبی زبان میں بات کرے گا۔ یعنی ناقابلِ فہم زبان برکت کا نہیں، عدالت کا نشان تھی۔ اِسی لیے آیت 22 کی عجیب منطق کھلتی ہے: غیرزبانیں غیرایمان داروں کے لیے نشان ہیں، اُن کی سختی کا نشان۔ اور دھیان دیجیے، پولس یسعیاہ کو ”شریعت“ کہتے ہیں: پورا پرانا عہدنامہ اُن کے لیے ایک ہی مستند آواز ہے۔
کلام میں گونج
آیت 25 میں ایک پرانا وعدہ زندہ ہو جاتا ہے: غیرایمان دار ”گر کر اللہ کو سجدہ کرے گا اور تسلیم کرے گا کہ فی الحقیقت اللہ آپ کے درمیان موجود ہے۔“ زکریاہ نبی نے دیکھا تھا کہ اقوام کے لوگ ایک یہودی کا دامن پکڑ کر کہیں گے کہ خدا تمہارے ساتھ ہے۔ پولس یہ منظر ہیکل میں نہیں بلکہ کرنتھس کے ایک کرائے کے کمرے میں پورا ہوتا دیکھتے ہیں، جب کلام سمجھ میں آنے والی زبان میں بولا جائے۔ اور ایک تناؤ بھی ماننا پڑے گا: آیت 34 عورتوں کی خاموشی کہتی ہے، جبکہ اِسی خط کے باب 11 میں عورتیں دعا اور نبوّت کرتی ہیں، اور آیت 31 میں ”سب“ نبوّت کر سکتے ہیں۔ غالباً یہاں اُس جانچ پڑتال اور سوال جواب کا ذکر ہے جو اجتماع کو بےترتیب کر رہا تھا (آیت 29، 35)۔ لیکن یہ پورا حل نہیں؛ متن یہاں ہمیں کچھ تنگی میں چھوڑ دیتا ہے، اور اصول آیت 26 اور 40 ہی رہتے ہیں۔
پہلے سننے والے
کرنتھس ایک بندرگاہ تھی جہاں آیت 10 کی بات روزمرہ کا تجربہ تھی: بہت زبانیں، بہت اجنبی۔ یونانی مذہبیت میں بےخودی کی حالت میں بولنا دیوتا کی قربت کا ثبوت سمجھا جاتا تھا؛ کاہنہ کی نامعلوم آوازیں معزز تھیں۔ اِس ماحول میں غیرزبان فوراً رُتبے کا نشان بن گئی، اور ایک ایسی جماعت میں جہاں غلام اور مالدار سرپرست ایک ہی کمرے میں بیٹھتے تھے، رُتبہ ہر چیز پر اثر ڈالتا تھا۔ پولس اُنہیں چونکا دیتے ہیں: وہی چیز جو معبد میں معزز تھی، کلیسیا میں باہر والے کو ”دیوانہ“ کہنے پر مجبور کرے گی۔ ایک اَور بات جو ہم بھول جاتے ہیں: اُن کے اجتماع کھلے تھے، پڑوسی اندر آ سکتا تھا۔ اِس لیے عبادت کا ہر لمحہ گواہی بھی تھا۔
غور و فکر کے سوالات
جب مَیں جماعت یا گھر میں بولتا ہوں، تو کیا میرا اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ ”مَیں کیسا لگوں گا“ یا یہ کہ ”سننے والے کی تعمیر کیا ہو گی“؟
اگر آج کوئی غیرایمان دار ہماری عبادت میں آ جائے، تو وہ کیا سمجھے گا، اور کیا ایسا ہے جو ہم صرف عادت کی بنا پر جاری رکھے ہوئے ہیں؟
1 Corinthians 14 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۱-کُرِنتِھیوں 14 کا کیا مطلب ہے؟
۱-کُرِنتِھیوں 14 کس بارے میں ہے؟
۱-کُرِنتِھیوں 14 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۱-کُرِنتِھیوں 14 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۱-کُرِنتِھیوں 14 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی 1 Corinthians 14 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
پولس نے بےترتیب عبادت کے بارے میں لکھنے کے بعد ایک پیمانہ دیا: ”اگر کوئی اپنے آپ کو نبی یا روحانی سمجھے تو وہ جان لے کہ جو کچھ مَیں آپ کو لکھ رہا ہوں وہ خداوند کا حکم ہے۔“ روحانی ہونے کی پہچان جذبے کی شدت نہیں بلکہ خداوند کے کلام کے سامنے جھکنا ہے۔ جب کلام آپ کی پسند کے خلاف جائے، تب پتا چلتا ہے کہ آپ واقعی کس کے تابع ہیں۔
اے خدا، تُو کئی طرح سے بولتا ہے، مگر میرا دل اکثر بند رہتا ہے۔ مجھے معاف کر کہ میں سنتا تو ہوں پر مانتا نہیں۔ میرے کان کھول دے اور میرے دل کو نرم کر، تاکہ جب تُو پکارے تو میں پہچان لوں اور تیری بات پر چلوں۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
