بائبل کی تشریح

۱-کُرِنتِھیوں 16

بائبل
یہ باب JL Group کے تعاون سے ممکن ہوا

متن

پولس کا خط اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ عملی ہدایات، سفر کے منصوبے، لوگوں کے نام، سلام، اور آخر میں اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا ایک سخت جملہ اور ایک دعا۔ یروشلم کے غریب مقدّسین کے لیے چندہ جمع کرنا ہے، تیمُتھیُس اور اپلّوس کا ذکر ہے، ستفناس کے گھرانے کی خدمت کی قدر ہے، اور پھر وہ گونجدار پکار: "اے ہمارے خداوند، آ!"

دل کی بات

ذرا رکیے۔ پولس نے ابھی ابھی پندرہ باب لکھے ہیں جن میں کلیسیائی تقسیم، جنسی بدکاری، عشائے ربّانی کی بےحرمتی، روحانی نعمتوں کا غرور، اور قیامت کے انکار جیسے آتش فشاں موضوعات پر لکھا۔ اور اب؟ اب وہ پیسوں کی بات کرتا ہے، سفر کے پروگرام کی، اور کس کو سلام کہنا ہے۔ لگتا ہے جیسے کوئی عظیم سمفنی اچانک روزمرہ کی گفتگو میں ڈھل گئی ہو۔

لیکن یہی اِس باب کا بھید ہے۔ پولس کے نزدیک بلند ترین الہٰیات اور ہفتے کے پہلے دن اپنی جیب سے چند سکّے الگ رکھنا ایک ہی تانے بانے کا حصہ ہیں۔ قیامت کا یقین (باب ۱۵) اور یروشلم کے بھوکے بھائیوں کے لیے چندہ (باب ۱۶) ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ جسم اگر جی اُٹھے گا، تو آج جسم کو کھلانا بھی مقدّس کام ہے۔ ایمان زمین پر اترتا ہے، جیب میں، کیلنڈر میں، مہمان نوازی میں۔

مشترک دھاگہ

یروشلم کے لیے چندہ صرف رفاہی کام نہیں تھا۔ یہ ایک الہٰیاتی بیان تھا۔ کرنتھس کے غیریہودی ایمان دار یروشلم کے یہودی ایمان داروں کو پیسے بھیج رہے تھے، اور اِس کے ذریعے وہ کہہ رہے تھے: ہم ایک بدن ہیں۔ مسیح کی صلیب نے وہ دیوار توڑ دی جو صدیوں سے کھڑی تھی۔

یہی وہ دھاگہ ہے جو کتاب مقدّس میں کھنچا چلا آتا ہے: ابرہام سے وعدہ کہ اُس کے ذریعے قوموں کو برکت ملے گی، اور صلیب پر یہ برکت گوشت پوست بن گئی۔ اب کرنتھس کے یونانی ایمان دار ہر اتوار کو ایک سکّہ رکھ کر اُس وعدے کو پورا کر رہے ہیں۔ چھوٹا سا عمل، مگر اُس میں پوری نجات کی داستان جھلک رہی ہے۔

آئینہ

پولس لکھتا ہے: "ہر اتوار کو آپ میں سے ہر کوئی اپنے کمائے ہوئے پیسوں میں سے کچھ اِس چندے کے لئے مخصوص کر کے اپنے پاس رکھ چھوڑے۔" یہ ہدایت آج بھی چبھتی ہے۔ نہ جذباتی اپیل، نہ کوئی خصوصی مہم۔ بس ایک عادت۔ ہفتہ وار۔ منصوبہ بند۔

ہم روحانیت کو اکثر جذبے کا معاملہ سمجھتے ہیں، مگر پولس کی نظر میں یہ نظم و ضبط کا معاملہ بھی ہے۔ آپ کا بینک اکاؤنٹ آپ کے دل کا آئینہ ہے۔ اگر آپ اپنی تنخواہ ملنے پر پہلا سوال یہ نہیں پوچھتے کہ خدا کی بادشاہی میں میرا حصّہ کتنا ہے، تو باقی سب باتیں محض شور ہیں۔

اور آیت ۱۴ کا وہ چھوٹا سا جملہ: "سب کچھ محبت سے کریں۔" سب کچھ۔ ای میل بھی، اختلافات بھی، پیسے کا لین دین بھی، بچوں کی تربیت بھی۔

بین المتن

آیت ۲۲ کا وہ آرامی لفظ "مَرَنَاتھا" یعنی "اے ہمارے خداوند، آ!" ابتدائی کلیسیا کی عبادت کی گونج ہے۔ یہی پکار مکاشفہ کے آخری باب میں بھی سنائی دیتی ہے: "آمین۔ اے خداوند یسوع، آ۔" کلیسیا کا سفر ہمیشہ سے اِسی انتظار میں ہے۔

اور جب پولس ستفناس کے گھرانے کو "اخیہ کا پہلا پھل" کہتا ہے، تو وہ فصل کی وہی زبان استعمال کر رہا ہے جو باب ۱۵ میں مسیح کے لیے تھی: "مسیح مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے اور وہ سو جانے والوں کا پہلا پھل ہے۔" مسیح پہلا پھل، پھر پوری فصل۔ ستفناس پہلا پھل، پھر پورا اخیہ۔ نجات کی تاریخ ایسے ہی چلتی ہے۔

مرکزی کردار

پولس اِس باب میں بہت انسانی نظر آتا ہے۔ وہ منصوبہ باندھتا ہے مگر "شرط یہ ہے کہ خداوند مجھے اجازت دے" کہہ کر اپنی حد جانتا ہے۔ وہ اِفسس میں کھلے دروازے کی خوشی اور بہت سے مخالفوں کے دباؤ کو ایک ہی سانس میں بیان کرتا ہے، کیونکہ اُس کے تجربے میں یہ دونوں ایک ساتھ چلتے ہیں۔

وہ نوجوان تیمُتھیُس کی فکر کرتا ہے کہ کہیں کرنتھس کے تیز مزاج ایمان دار اُسے حقیر نہ جانیں۔ وہ اپلّوس کی آزادی کا احترام کرتا ہے، اُسے مجبور نہیں کرتا۔ وہ ستفناس، فرتُوناتُس اور اخیکُس کی آمد سے "تازہ" ہوا ہے، جیسے کوئی پیاسا مسافر پانی سے۔

اور آخر میں، اپنے ہاتھ سے قلم اُٹھا کر وہ لکھتا ہے: "لعنت اُس شخص پر جو خداوند سے محبت نہیں رکھتا۔" یہ سخت جملہ اور فوراً بعد "خداوند عیسیٰ کا فضل آپ کے ساتھ رہے" — یہی پولس ہے۔ محب

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

1 Corinthians 16 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

۱-کُرِنتِھیوں 16 کا کیا مطلب ہے؟
پولس کا خط اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ عملی ہدایات، سفر کے منصوبے، لوگوں کے نام، سلام، اور آخر میں اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا ایک سخت جملہ اور ایک دعا۔ یروشلم کے غریب مقدّسین کے لیے چندہ جمع کرنا ہے، تیمُتھیُس اور اپلّوس کا ذکر ہے، ستفناس کے گھرانے کی خدمت کی قدر ہے، اور پھر وہ گونجدار پکار: "اے ہمارے خداوند، آ!
۱-کُرِنتِھیوں 16 کس بارے میں ہے؟
یروشلم کے لیے چندہ صرف رفاہی کام نہیں تھا۔ یہ ایک الہٰیاتی بیان تھا۔ کرنتھس کے غیریہودی ایمان دار یروشلم کے یہودی ایمان داروں کو پیسے بھیج رہے تھے، اور اِس کے ذریعے وہ کہہ رہے تھے: ہم ایک بدن ہیں۔ مسیح کی صلیب نے وہ دیوار توڑ دی جو صدیوں سے کھڑی تھی۔
۱-کُرِنتِھیوں 16 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
ہم روحانیت کو اکثر جذبے کا معاملہ سمجھتے ہیں، مگر پولس کی نظر میں یہ نظم و ضبط کا معاملہ بھی ہے۔ آپ کا بینک اکاؤنٹ آپ کے دل کا آئینہ ہے۔ اگر آپ اپنی تنخواہ ملنے پر پہلا سوال یہ نہیں پوچھتے کہ خدا کی بادشاہی میں میرا حصّہ کتنا ہے، تو باقی سب باتیں محض شور ہیں۔
۱-کُرِنتِھیوں 16 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
اور جب پولس ستفناس کے گھرانے کو "اخیہ کا پہلا پھل" کہتا ہے، تو وہ فصل کی وہی زبان استعمال کر رہا ہے جو باب ۱۵ میں مسیح کے لیے تھی: "مسیح مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے اور وہ سو جانے والوں کا پہلا پھل ہے۔" مسیح پہلا پھل، پھر پوری فصل۔ ستفناس پہلا پھل، پھر پورا اخیہ۔ نجات کی تاریخ ایسے ہی چلتی ہے۔
۱-کُرِنتِھیوں 16 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
اور آخر میں، اپنے ہاتھ سے قلم اُٹھا کر وہ لکھتا ہے: "لعنت اُس شخص پر جو خداوند سے محبت نہیں رکھتا۔" یہ سخت جملہ اور فوراً بعد "خداوند عیسیٰ کا فضل آپ کے ساتھ رہے" — یہی پولس ہے۔ محب
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی 1 Corinthians 16 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

شکرگزاری ادارتی کو آیت 4

خدا کا شکر ہے کہ آپ کی خدمت اکیلے کرنے کے لیے نہیں دی گئی۔ پولس نے کہا، "اگر مناسب ہو تو وہ میرے ساتھ ہی جائیں گے۔" شکریہ کہ آپ ہمیں ہم سفر ساتھی دیتے ہیں، ایسے بھائی جو بوجھ، امانت اور راستے کی دھول ہمارے ساتھ مل کر اُٹھاتے ہیں۔

بصیرت ادارتی کو آیت 17

پولس بہت سی مشکلات میں گھرا تھا، اور کُرِنتھس کی جماعت میں جھگڑے بھی تھے۔ پھر بھی وہ لکھتا ہے، ”مجھے خوشی ہے کہ ستفناس، فرتوناتس اور اخیکُس آ گئے ہیں، کیونکہ جو کمی آپ کی طرف سے تھی وہ اُنہوں نے پوری کی۔“ تین آدمیوں کا آ جانا ہی اُس کے لئے تازگی بن گیا۔ سوچیں، آپ کی موجودگی بھی کسی تھکے ہوئے دل کے لئے یہی کام کر سکتی ہے۔ کیا آپ آج کسی کے پاس جائیں گے؟

بصیرت ادارتی کو آیت 12

پولس نے اپلوس کو بہت سمجھایا، پھر بھی اپلوس جانے کو تیار نہ ہوا۔ اور پولس کیا کہتا ہے؟ کوئی طعنہ نہیں، کوئی الزام نہیں، صرف ”اپلوس بھائی“۔ جس کلیسیا میں لوگ اِن دونوں کے نام پر بٹے ہوئے تھے، وہاں یہ دو خادم ایک دوسرے کو آزادی دے رہے ہیں۔ سوچیں، جب کوئی آپ کی بات ماننے سے انکار کرے، تو کیا وہ آپ کے لئے پھر بھی ”بھائی“ رہتا ہے؟

بصیرت ادارتی کو آیت 21

پولس رسول نے یہ پورا خط شاید کسی اور کے ہاتھ سے لکھوایا تھا، لیکن آخر میں قلم خود اپنے ہاتھ میں لیا: "مَیں پَولُس اپنے ہاتھ سے سلام لِکھتا ہُوں۔"

سوچیں، ایک تھکا ہوا رسول، جس کے ہاتھ کام سے سخت ہو چکے ہیں، رُک کر خود چند لفظ لکھتا ہے۔ یہ محبت کی نشانی ہے۔ کورنتھس کی کلیسیا میں کتنے جھگڑے تھے، پھر بھی پولس اُنہیں اپنا سمجھتا ہے۔

کیا آپ کسی کے لیے آج ایسا ذاتی لمس رکھتے ہیں؟

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

کمپنی؟