۲-توارِیخ 2
متن
پہاڑیوں میں ہتھوڑوں کی آواز گونج رہی ہے۔ اسّی ہزار آدمی پتھر کاٹ رہے ہیں، ستّر ہزار اُنہیں یروشلم کی طرف گھسیٹ رہے ہیں، اور ساڑھے تین ہزار نگران دھوپ میں کھڑے حساب رکھ رہے ہیں۔ اِسی شور کے بیچ سلیمان صور کے بادشاہ حیرام کو خط لکھواتا ہے: لبنان کی دیودار بھیجیں، ایک ماہر کاری گر بھیجیں، اور معاوضے میں گندم، جَو، مَے اور تیل لے لیں۔ حیرام کا جواب آتا ہے، اور وہ جواب محض کاروباری نہیں بلکہ حیران کن حد تک ایمان بھرا ہے: ”رب اپنی قوم کو پیار کرتا ہے، اِس لئے اُس نے آپ کو اُس کا بادشاہ بنایا ہے۔“
مرکزی بات
خط کے درمیان سلیمان اچانک رُک جاتا ہے۔ ابھی وہ ناپ تول اور لکڑی کی بات کر رہا تھا، اور اب وہ کہتا ہے: ”کون اُس کے لئے ایسا گھر بنا سکتا ہے جو اُس کے لائق ہو؟ بلندترین آسمان بھی اُس کی رہائش کے لئے چھوٹا ہے۔ تو پھر میری کیا حیثیت ہے کہ اُس کے لئے گھر بناؤں؟“ یہ کمزوری کا لمحہ نہیں، یہ پورے منصوبے کی بنیاد ہے۔ سلیمان جانتا ہے کہ وہ خدا کو کسی عمارت میں بسا نہیں سکتا۔ وہ صرف ایک جگہ بنا رہا ہے جہاں قربانیاں چڑھائی جا سکیں، جہاں خدا اپنے نام کو رکھنے کا وعدہ کرے۔ ہیکل خدا کا پنجرہ نہیں، خدا کے فضل کا پتہ ہے۔ جو شخص یہ فرق بھول جائے، وہ عبادت گاہ کو بُت بنا دیتا ہے۔
سلسلۂ کلام
جس عمارت کے لئے پہاڑ کاٹے جا رہے ہیں، وہ بالآخر جل کر راکھ ہو گئی۔ مگر سلیمان کا سوال زندہ رہا: خدا کہاں بسے گا؟ یوحنا اپنی انجیل میں اُسی سوال کا جواب دیتا ہے جب وہ لکھتا ہے کہ کلام مجسم ہوا اور ہمارے درمیان خیمہ زن ہوا۔ آسمان جسے سما نہ سکا، وہ ایک بدن میں آ بسا۔ اور غور کیجئے: سلیمان کی ہیکل کا مقصد قربانی کی جگہ فراہم کرنا تھا، ”جس میں اُس کے لئے قربانیاں چڑھائی جا سکیں“۔ مسیح میں وہ جگہ اور وہ قربانی ایک ہی شخص میں مل جاتی ہیں۔ پتھر کاٹنے والے ہزاروں مزدوروں کی محنت ایک اشارہ تھی، اصل عمارت کھڑی ہونا ابھی باقی تھی۔
آئینہ
ہم سب کچھ نہ کچھ تعمیر کر رہے ہیں: کیریئر، گھر، خدمت، بچوں کا مستقبل، ایک ایسی زندگی جس کی طرف لوگ دیکھیں۔ اور ہمارے اندر سلیمان کا وہ سوال شاذ و نادر ہی اُٹھتا ہے۔ ہم منصوبے کی عظمت پر فخر کرتے ہیں مگر یہ نہیں پوچھتے کہ ”میری کیا حیثیت ہے؟“ دوسری طرف، بعض لوگ اِس سوال میں ڈوب کر ہاتھ روک لیتے ہیں: اگر میں ناکافی ہوں تو کوشش کیوں کروں؟ سلیمان دونوں غلطیوں سے بچتا ہے۔ وہ اپنی کمی مانتا ہے اور پھر بہترین کاری گر طلب کرتا ہے۔ عاجزی سُستی کا بہانہ نہیں۔
آج ہی جو کام آپ کے ہاتھ میں ہے، اُس کے شروع میں بلند آواز سے یہ جملہ کہیں: ”یہ کام تیرے لائق نہیں، مگر میں یہ تیرے لئے کرتا ہوں۔“
سوال
باب ہمیں ایک تکلیف دہ بات سے فارغ نہیں ہونے دیتا۔ سلیمان نے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ غیرملکیوں کی مردم شماری کروائی اور اُنہیں کانوں اور بوجھ اُٹھانے پر لگا دیا۔ یہ رضاکار نہیں تھے۔ وہی قوم جو خود مصر میں اینٹیں بناتی رہی تھی، اب دوسروں سے پتھر نکلوا رہی ہے۔ متن اِس پر کوئی تبصرہ نہیں کرتا، نہ تعریف نہ مذمت، اور یہی خاموشی کھٹکتی ہے۔ کیا خدا کا گھر ایسی مزدوری سے بن سکتا ہے؟ تواریخ کا مصنف ہمیں جواب نہیں دیتا۔ مگر وہ آگے چل کر یہ ضرور دکھاتا ہے کہ یہی جبری مشقت سلیمان کے بیٹے کے دور میں سلطنت کو دو ٹکڑے کر دے گی۔ شان و شوکت کی قیمت کوئی نہ کوئی چکاتا ہے، اور خدا اُس قیمت کو نہیں بھولتا۔
سامعین کا نقشہ
یہ کتاب اُن لوگوں کے لئے لکھی گئی جو جلاوطنی سے لوٹے تھے اور جن کے سامنے ایک چھوٹی، سادہ سی ہیکل کھڑی تھی۔ اُن کے بزرگ روتے تھے کہ پہلی ہیکل کیسی تھی۔ اُن کے پاس نہ بادشاہ تھا، نہ لبنان سے دیودار منگوانے کے وسائل، نہ صور کا دوست بادشاہ۔ اُنہیں یہ باب سنایا گیا تاکہ وہ جان لیں کہ وہ کس سلسلے کا حصہ ہیں: عبادت کی وہی ترتیب، وہی بخور، وہی نذر کی روٹیاں، وہی سبت اور عیدیں جو ”اسرائیل کا دائمی فرض ہے“۔ سونا کم تھا، فرض وہی تھا۔ اور غیرقوم کا بادشاہ اسرائیل کے خدا کی حمد کر رہا تھا، یہ اُن کے لئے اُمید کی کِرن تھی۔
پس منظر
دسویں صدی قبل مسیح۔ داؤد کی فتوحات کے بعد پہلی بار اسرائیل کے پاس امن اور دولت دونوں ہیں۔ صور ساحل پر بسا ایک تجارتی شہر ہے، جہاز رانی اور لکڑی کے کاروبار کا مرکز، اور اُس کے پاس وہ ہے جو یہوداہ کے پہاڑوں میں نہیں: لبنان کے جنگل اور تجربہ کار لکڑہارے۔ سلیمان کے پاس زرعی پیداوار کی فراوانی ہے۔ دونوں بادشاہ برابری کے رشتے میں نہیں بلکہ سود مند شراکت میں ہیں، اور خط کی زبان میں آداب کی باریکیاں چھپی ہیں: حیرام سلیمان کو ”میرے آقا“ کہتا ہے۔ حیرام ابی کی ماں اسرائیلی، باپ صوری، ایک ایسا آدمی جو دونوں دنیاؤں میں گھر جیسا محسوس کرتا ہے۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں کون سا ایسا کام ہے جس پر آپ کو فخر ہے، اور کیا آپ اُس کے بارے میں سلیمان کا سوال ”میری کیا حیثیت ہے؟“ پوچھنے کو تیار ہیں؟
آپ کی کامیابی یا سہولت کی قیمت خاموشی سے کون چکا رہا ہے، اور آپ اُس کے بارے میں کیا کر سکتے ہیں؟
2 Chronicles 2 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۲-توارِیخ 2 کا کیا مطلب ہے؟
۲-توارِیخ 2 کس بارے میں ہے؟
۲-توارِیخ 2 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۲-توارِیخ 2 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۲-توارِیخ 2 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی 2 Chronicles 2 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، تُو ہی ہے جو محنت کرنے والوں کی روزی کا بندوبست کرتا ہے۔ مجھے سکھا کہ جو میرے لیے کام کرتے ہیں اُن کا حق کشادہ دلی سے ادا کروں، اور کبھی کسی کی محنت کو معمولی نہ سمجھوں۔ میرے ہاتھ بھی دینے والے ہاتھ بن جائیں۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
