۲-توارِیخ 9
متن
سبا کی ملکہ دُور دراز سے یروشلم آتی ہے، اونٹوں پر سونا اور بلسان لادے، تاکہ مشکل پہیلیوں سے سلیمان کی دانش جانچے۔ وہ سب کچھ دیکھتی ہے: جوابات، محل، میزوں کے کھانے، بیروں کی وردیاں، اور آخر میں رب کے گھر میں چڑھائی جانے والی قربانیاں، اور ہکا بکا رہ جاتی ہے۔ اِس کے بعد باب ایک فہرست میں بدل جاتا ہے: سالانہ سونا، سونے کی ڈھالیں، ہاتھی دانت کا تخت، بحری جہاز، گھوڑے، اور آخر میں ایک مختصر جملہ کہ سلیمان مر کر اپنے باپ دادا سے جا ملا اور رحبعام تخت نشین ہوا۔
اصل بات
ملکہ کی نظر کھانوں اور وردیوں پر سے ہوتی ہوئی اُس جگہ پر جا ٹھہرتی ہے جہاں جانور جلائے جا رہے ہیں۔ جہاں دھواں اور خون ہے، وہیں اُس کی زبان کھلتی ہے۔ اور وہ سلیمان کی تعریف نہیں کرتی بلکہ کہتی ہے: ”رب آپ کے خدا کی تمجید ہو جس نے آپ کو پسند کر کے اپنے تخت پر بٹھایا۔“ غور کیجئے، وہ اُسے ”اپنے تخت“ کہتی ہے، یعنی تخت سلیمان کا نہیں، رب کا ہے۔ یہی اِس باب کا دھڑکتا ہوا دل ہے۔ یہ سارا سونا کسی انسانی کامیابی کی داستان نہیں بلکہ عہد کی گواہی ہے: ”آپ کا خدا اسرائیل سے محبت رکھتا ہے۔“ دولت یہاں محبت کا ثبوت ہے، محبت کی قیمت نہیں۔ اور اِس تخت کا مقصد صاف بتایا گیا ہے: ”تاکہ انصاف اور راست بازی قائم رکھیں۔“ اقتدار یہاں انعام نہیں، امانت ہے۔
سنہری دھاگا
ایک غیریہودی ملکہ دُور سے آ کر داؤد کے بیٹے کے سامنے کھڑی ہوتی ہے اور اسرائیل کے خدا کی حمد کرتی ہے۔ یہ منظر اتفاق نہیں؛ یہ اُس وعدے کی جھلک ہے کہ ابرہام کی نسل میں قوموں کو برکت ملے گی۔ خداوند یسوع نے خود اِسی ملکہ کو یاد کیا اور فرمایا کہ وہ دنیا کے کنارے سے سلیمان کی حکمت سننے آئی، ”اور دیکھو، یہاں وہ ہے جو سلیمان سے بھی بڑا ہے“ (متی ۱۲)۔ یعنی یہ باب ایک شاندار سایہ ہے: ایک بادشاہ جس کے سامنے قومیں جھکتی ہیں، جس کی میز بھری ہے، جس کے گھر میں قربانی جلتی ہے۔ مگر سایہ جسم نہیں۔ سلیمان کا تخت چھ پائیوں پر کھڑا تھا اور اُس کے بعد اُس کی قبر کا ذکر آتا ہے۔ مسیح کا تخت قبر سے آگے جاتا ہے۔
آئینہ
یہ باب ہماری کامیابی کی بھوک کو ننگا کرتا ہے۔ ہم بھی چاہتے ہیں کہ لوگ ہمارا گھر دیکھ کر، ہمارے بچوں کی تربیت دیکھ کر، ہمارے کام کی ترتیب دیکھ کر ”ہکا بکا“ رہ جائیں۔ مگر ملکہ کی زبان اُس وقت کھلی جب اُس نے قربان گاہ دیکھی، یعنی وہ جگہ جہاں سلیمان خود جھکتا تھا۔ سوال یہ ہے کہ جو لوگ آپ کی زندگی قریب سے دیکھتے ہیں، آپ کی بیوی، آپ کے ماتحت، آپ کے طالب علم، کیا وہ کہیں آپ کو جھکتے ہوئے بھی دیکھتے ہیں؟ اور دوسرا، زیادہ کھٹکنے والا سوال: آپ کے پاس جو تھوڑا بہت اختیار ہے، کیا وہ ”انصاف اور راست بازی“ کے لئے استعمال ہو رہا ہے یا صرف اپنی حفاظت کے لئے؟ آج ہی ایک کاغذ پر اُس ایک شخص کا نام لکھئے جس پر آپ کا اختیار ہے اور جس کے ساتھ آپ نے انصاف نہیں کیا، اور وہ نام بلند آواز سے دعا میں خدا کے سامنے رکھ دیجئے۔
پہلے سننے والے
تواریخ کی کتابیں اُن لوگوں کے لئے لکھی گئیں جو جلاوطنی سے لوٹے تھے: ایک چھوٹی سی، غریب، بے بادشاہ جماعت، جس کی ہیکل پرانی شان کے مقابلے میں معمولی تھی اور جس پر فارس کے حاکم مقرر تھے۔ اُن کے کانوں میں ”23,000 کلو گرام“ سونا اور ہاتھی دانت کا تخت کسی طعنے کی طرح بھی لگ سکتا تھا۔ مگر اُنہوں نے کچھ اَور سنا: کہ ہمارا خدا وہ ہے جو داؤد کے گھرانے سے وعدہ باندھتا ہے اور قوموں کو یروشلم کی طرف کھینچ لاتا ہے۔ اُنہیں یاد دلایا جا رہا تھا کہ وہ جو ملبے پر دیوار اٹھا رہے ہیں، ایک ایسے عہد کے وارث ہیں جسے خدا ”ابد تک قائم رکھنا چاہتا ہے“۔ یہ فہرستیں ماضی کی یادگار نہیں، مستقبل کی اُمید تھیں۔
مشکل سوال
تواریخ کا مصنف سلیمان کی گراوٹ کا ذکر نہیں کرتا؛ کوئی غیرملکی بیویاں، کوئی بت، کوئی خدا کا غصہ۔ کیا یہ خوشامد نہیں؟ اور پھر بھی، اگر آپ غور سے پڑھیں تو خطرے کی گھنٹیاں خود متن میں بجتی ہیں۔ شریعت نے بادشاہ کو منع کیا تھا کہ وہ گھوڑے بڑھائے، خاص کر مصر سے، اور سونا چاندی جمع کرے (استثنا ۱۷)۔ یہاں ہم پڑھتے ہیں: ”بادشاہ کے گھوڑے مصر اور دیگر کئی ملکوں سے درآمد ہوتے تھے“ اور ”اُس کے 12,000 گھوڑے تھے“۔ مصنف اِس پر کوئی تبصرہ نہیں کرتا۔ وہ ہمیں شریعت کے ساتھ تنہا چھوڑ دیتا ہے۔ شاید یہی اُس کا طریقہ ہے: چمک دکھاؤ، اور پڑھنے والے کو خود محسوس ہونے دو کہ اِس چمک میں دراڑ کہاں ہے۔ اگلا ہی باب ملک کو دو ٹکڑے کر دیتا ہے۔
مرکزی کردار
سلیمان اِس باب میں عجیب طور پر خاموش ہے۔ وہ جواب دیتا ہے، تحفے دیتا ہے، تخت بنواتا ہے، مگر ایک بار بھی خدا کا نام اُس کے منہ سے نہیں نکلتا۔ وہ تعریف سنتا ہے اور چپ رہتا ہے۔ جو شخص کبھی حکمت مانگنے کے لئے گھٹنوں پر جھکا تھا، اب چھ پائے چڑھ کر سونے کی چوکی پر پاؤں رکھتا ہے۔ یہ کوئی کھلا گناہ نہیں، بس ایک خاموش فاصلہ ہے، اور ایسی ہی خاموشیوں میں دل آہستہ آہستہ سرکتا ہے۔ اصل مرکزی کردار اِس باب میں خدا ہے، جو نہ دکھائی دیتا ہے نہ بولتا ہے، مگر ملکہ کے منہ سے اپنی وفاداری کی گواہی دلواتا ہے۔ جب بادشاہ خاموش ہو جائے تو بھی عہد بولتا رہتا ہے۔
غور و فکر کے سوالات
جو لوگ آپ کی زندگی قریب سے دیکھتے ہیں، کیا وہ آپ کی کامیابی کے ساتھ ساتھ آپ کی قربان گاہ بھی دیکھتے ہیں، یعنی وہ جگہ جہاں آپ جھکتے ہیں؟
سلیمان کی طرح کس معاملے میں آپ خدا کے بارے میں خاموش ہو گئے ہیں، اور وہ خاموشی آپ کو کس طرف لے جا رہی ہے؟
2 Chronicles 9 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۲-توارِیخ 9 کا کیا مطلب ہے؟
۲-توارِیخ 9 کس بارے میں ہے؟
۲-توارِیخ 9 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۲-توارِیخ 9 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۲-توارِیخ 9 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی 2 Chronicles 9 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، جیسے لوگ سال بہ سال اپنے بہترین تحفے بادشاہ کے حضور لاتے تھے، میں بھی اپنا دل، اپنا وقت اور جو کچھ میرے پاس ہے تیرے سامنے رکھتا ہوں۔ مجھے بچا کر رکھنے کی عادت سے آزاد کر، اور سکھا کہ دینے میں ہی اصل خوشی ہے۔ تو ہی سب کچھ دینے والا ہے۔
خداوند، تیرا شکر کہ تُو دُور دراز اوفیر سے بھی اپنی برکتیں پہنچا دیتا ہے۔ سونا، قیمتی لکڑی اور جواہر اُن مزدوروں اور جہازیوں کے ہاتھوں آئے جن کے نام ہمیں معلوم نہیں۔ شکر کہ تُو آج بھی اجنبی ہاتھوں سے ہماری ضرورت پوری کرتا اور اپنے گھر کو سجاتا ہے۔
جو سونا سلیمان کو سالانہ ملتا تھا اُس کا وزن تقریباً 23,000 کلو گرام تھا۔" ایک سال کا حساب، اور وہ بھی اتنا کہ گننا مشکل ہو جائے۔ مگر یہی آدمی آخر میں اپنا دل خدا سے پھیر بیٹھا۔ سونا تولا جا سکتا ہے، دل نہیں۔ آپ اپنی زندگی کس ترازو پر رکھ کر دیکھتے ہیں؟ جو آپ کے ہاتھ میں آیا، یا جو آپ کے دل میں بچا؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
