متی 25:40
متن
عدالت کے تخت کے سامنے ایک عجیب بحث ہو رہی ہے۔ راست باز لوگ حیران ہیں: خداوند، ہم نے آپ کو کب بھوکا، پیاسا، اجنبی یا جیل میں دیکھا؟ اُنہیں یاد ہی نہیں کہ اُنہوں نے کبھی بادشاہ کی خدمت کی ہو۔ اور بادشاہ کا جواب اُن کی پوری دنیا اُلٹ دیتا ہے: ”مَیں تمہیں سچ بتاتا ہوں کہ جو کچھ تم نے میرے اِن سب سے چھوٹے بھائیوں میں سے ایک کے لئے کیا وہ تم نے میرے ہی لئے کیا۔“ یعنی جو روٹی کسی گمنام بھوکے کے ہاتھ میں رکھی گئی، وہ دراصل تختِ جلال پر بیٹھے ہوئے شخص کے ہاتھ میں رکھی گئی تھی۔ خدمت کا نشان کوئی مذہبی تقریب نہیں، بلکہ ایک بےنام، بےطاقت انسان کا چہرہ ہے۔
مرکزی بات
یہ آیت خدا کے بارے میں ایک ایسی بات کہتی ہے جو پہلی صدی کے کان کے لئے تقریباً ناقابلِ برداشت تھی۔ قدیم دنیا میں معزز آدمی اپنی پہچان اپنے سرپرستوں اور برابر کے دوستوں سے جوڑتا تھا، نیچے والوں سے نہیں۔ لیکن ابنِ آدم اپنی شناخت قیدی، ننگے اور اجنبی کے ساتھ جوڑ لیتا ہے، اور اُنہیں ”میرے بھائی“ کہتا ہے۔ یہ محض اخلاقی نصیحت نہیں کہ غریبوں کا خیال رکھو؛ یہ مجسم ہونے کا منطقی انجام ہے۔ جو خدا آخور میں پیدا ہوا اور صلیب پر برہنہ لٹکا، وہی اب کہتا ہے کہ ہر محتاج جسم میں مَیں چھپا ہوا ہوں۔ اور نجات پانے والوں کی سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اُنہوں نے حساب نہیں رکھا۔ فضل سے پیدا ہونے والی محبت خود کو گنتی نہیں۔
کہانی کا سلسلہ
یہ آیت متی کی انجیل میں اچانک نہیں آتی۔ اِس کے فوراً بعد وہی ابنِ آدم جو تخت پر بیٹھا ہے، خود بھوکا ہو گا جب وہ باغِ گتسمنی میں رات گزارے گا، اجنبی ہو گا جب اُس کے اپنے شاگرد اُسے چھوڑ کر بھاگ جائیں گے، قیدی ہو گا جب سپاہی اُسے باندھ کر لے جائیں گے، اور ننگا ہو گا جب اُس کے کپڑے صلیب کے نیچے تقسیم کئے جائیں گے۔ یعنی بادشاہ اُن چھ حالتوں کی فہرست گنوا رہا ہے جن میں سے وہ خود چند دن بعد گزرنے والا ہے۔ یہی وہ دھاگا ہے جو پرانے عہدنامے سے چلا آتا ہے: وہ خدا جو مصر میں غلاموں کی چیخ سنتا ہے، جو یتیم اور بیوہ کا مقدمہ خود لڑتا ہے، آخرکار خود بےگھر اور مجروح ہو کر ہماری صف میں کھڑا ہو جاتا ہے۔ اِس لئے محتاج کی خدمت کوئی الگ نیک کام نہیں، بلکہ اُس مصلوب بادشاہ کو پہچاننا ہے۔
آئینہ
یہ آیت ہمارے اُس حساب کو توڑ دیتی ہے جس میں ہم اپنی نیکی کو نمایاں کاموں سے ناپتے ہیں۔ ہم اجلاس میں شریک ہوتے ہیں، چندہ دیتے ہیں، منصوبے بناتے ہیں، اور اِس دوران وہ بوڑھی خاتون جو ہماری گلی میں اکیلی رہتی ہے، ہماری فہرست میں کبھی نہیں آتی۔ ہم اُن لوگوں کی خدمت کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جن سے کچھ لوٹ کر آتا ہے: تعریف، رشتہ، عزت۔ لیکن یہاں بادشاہ اُن کاموں کو گنتا ہے جن کا کوئی گواہ نہیں تھا اور جن سے کچھ واپس نہیں ملا۔ آپ کے دفتر میں وہ آدمی جسے سب نظرانداز کرتے ہیں، آپ کے خاندان میں وہ رشتہ دار جس سے ملنا بوجھ لگتا ہے، وہ قیدی جس کے بچے اب کسی کے پاس نہیں جاتے: مسیح وہیں کھڑا ہے۔ آج ہی اُس ایک شخص کا نام کاغذ پر لکھیں جو اِس ہفتے آپ کو بیمار، تنہا یا تنگ حال دکھائی دیا، اور ابھی، اِسی وقت، اُسے فون کر کے پوچھیں کہ اُسے کس چیز کی ضرورت ہے۔
دیگر کلام کی گونج
امثال میں ایک حیران کن جملہ ہے کہ جو غریب پر رحم کرتا ہے وہ درحقیقت رب کو قرض دیتا ہے، اور رب اُسے خود ادا کرے گا۔ متی 25 اُسی سوچ کو انتہا تک لے جاتا ہے: اب یہ قرض نہیں، بلکہ ذاتی شناخت ہے۔ خدا محتاج کے پیچھے کھڑا نہیں، وہ اُس کے ساتھ جُڑا ہوا ہے۔ اور دمشق کی راہ پر جب ساؤل کلیسیا کے لوگوں کو گھسیٹ رہا تھا، آسمان سے آواز آئی کہ تُو اُنہیں نہیں، مجھے ستا رہا ہے۔ یہی وہی منطق ہے، بس اُلٹی سمت سے: جیسے چھوٹوں پر کی گئی نیکی مسیح تک پہنچتی ہے، ویسے ہی اُن پر کیا گیا ظلم بھی سیدھا اُسی تک پہنچتا ہے۔ ہمارے ہاتھ کبھی خالی فضا میں کام نہیں کرتے۔
پس منظر
یہ تعلیم زیتون کے پہاڑ پر دی گئی، فسح کے چند دن پہلے، جب نیچے یروشلیم کی گلیاں زائرین سے بھری تھیں اور ہیکل کی سنہری چھت شام کی روشنی میں چمک رہی تھی۔ سننے والے گلیل کے چند مزدور پیشہ آدمی تھے، ایک مقبوضہ ملک کے باشندے، جو خود رومی ٹیکس کے نیچے پس رہے تھے۔ بھیڑ اور بکری کی مثال اُن کے لئے روزمرہ کا منظر تھی: دن بھر ملا جلا ریوڑ چرتا ہے، شام کو چرواہا اُنہیں الگ کرتا ہے کیونکہ بکریوں کو رات کی سردی سے بچانا پڑتا ہے۔ اور قید کا ذکر کوئی استعارہ نہیں تھا: رومی قید خانے میں کھانا سرکار نہیں دیتی تھی، رشتہ داروں اور دوستوں کو روٹی پہنچانی پڑتی تھی، اور ایسا کرنا خطرناک تھا، کیونکہ آپ خود مشکوک ہو جاتے تھے۔ مہمان نوازی بھی محض شائستگی نہیں بلکہ زندگی اور موت کا معاملہ تھی، کیونکہ سرائے کم اور راستے ڈاکوؤں سے بھرے تھے۔
مرکزی کردار
اِس منظر کا مرکزی کردار وہ بادشاہ ہے جو تخت پر بیٹھا ہے مگر بولتا اُس کی زبان میں ہے جو نیچے پڑا تھا۔ اُس کا لہجہ سرد جج کا نہیں: وہ ”آؤ، میرے باپ کے مبارک لوگو“ کہتا ہے، گویا میزبان دروازے پر کھڑا ہے۔ لیکن وہی آواز دوسری طرف مڑ کر بےرحمی کی حد تک صاف ہو جاتی ہے۔ اُس کے دل میں کوئی غیرجانبداری نہیں؛ وہ اپنے چھوٹوں کے ساتھ اِس قدر جُڑا ہوا ہے کہ اُن کی بھوک اُس کی اپنی بھوک بن جاتی ہے۔ یہی خدا کا سب سے حیران کن پہلو ہے: اُس کی عظمت اُسے دور نہیں کرتی بلکہ اُسے سب سے کمزور جگہ پر لے جاتی ہے۔ اور یہی اُس کی سچی پہچان کی کسوٹی ہے، کیونکہ جو اُسے غریب کے چہرے میں نہیں پہچانتا، وہ اُسے جلال کے تخت پر بھی اجنبی پائے گا۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کی زندگی میں وہ کون سا ”سب سے چھوٹا“ چہرہ ہے جسے آپ روز دیکھتے ہیں مگر واقعی دیکھتے نہیں؟
راست باز لوگ اپنی نیکی بھول چکے تھے۔ آپ کی خدمت میں کتنا حصہ ایسا ہے جس کا کوئی گواہ، ریکارڈ یا تعریف نہیں؟
Matthew 25:40 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
متی 25:40 کا کیا مطلب ہے؟
متی 25:40 کس بارے میں ہے؟
متی 25:40 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
متی 25:40 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
متی 25:40 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Matthew 25 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
مالک نے اُس نوکر سے یہ نہیں کہا کہ تُو نے پانچ توڑے کیوں نہ کمائے۔ اُس نے کہا، ”کیوں نہ تُو نے میرے پیسے بینک میں جمع کرائے؟ پھر واپسی پر مجھے کم از کم وہ رقم سود سمیت مل جاتی۔“ یعنی تھوڑا سا قدم بھی کافی تھا۔ ڈر نے اُسے بڑا نہیں، صفر بنا دیا۔ آج تُو جو کر سکتا ہے، وہ چھوٹا سہی، مگر کر۔ مٹی میں دبا دینا ہی اصل نقصان ہے۔
خداوند، شکر ہے کہ تُو ہمیں نیند سے جگاتا ہے، جیسے وہ کنواریاں جاگ کر اپنی مشعلیں تیار کرنے لگیں۔ شکریہ کہ تُو ہمیں پکارتا ہے، ہوش دلاتا ہے، اور دولھے کے استقبال کے لیے ہمارے دلوں کی مشعل سنوارتا ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں