۲-کُرِنتِھیوں 11
متن
پولس رسول قلم اٹھاتے ہیں اور فوراً معافی مانگتے ہیں: ”خدا کرے کہ جب مَیں اپنی حماقت کا کچھ اظہار کرتا ہوں تو آپ مجھے برداشت کریں۔“ وہ کرنتھس کی جماعت کو ایک دُلھن کہتے ہیں جس کا رشتہ اُنہوں نے مسیح سے باندھا تھا، اور ڈرتے ہیں کہ سانپ نے حوا کو جس چالاکی سے بہکایا، اُسی طرح یہ جماعت بھی بہکائی جا رہی ہے۔ پھر وہ اُن ”نام نہاد خاص رسولوں“ کے مقابلے میں اپنا حساب پیش کرتے ہیں، مگر عجیب حساب: کوڑے، جیل، جہاز کی تباہی، بھوک، سردی، اور آخر میں دمشق کی دیوار سے ٹوکرے میں لٹکتا ہوا ایک آدمی۔
مرکزی بات
غور کریں کہ پولس فخر کرتے ہوئے کیا چُنتے ہیں۔ اگر وہ چاہتے تو معجزوں، جماعتوں کی تعداد، یا آسمانی مکاشفات کا ذکر کر سکتے تھے۔ مگر وہ کہتے ہیں: ”اگر مجھے فخر کرنا پڑے تو مَیں اُن چیزوں پر فخر کروں گا جو میری کمزور حالت ظاہر کرتی ہیں۔“ یہ محض عاجزی کا مظاہرہ نہیں بلکہ ایک الٰہیاتی دعویٰ ہے: خدا اپنی سچائی طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ مجروح خادموں کے ذریعے دنیا میں رکھتا ہے۔ جھوٹے رسول چمک سے پہچانے جاتے ہیں، سچے خادم زخموں سے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ابلیس کا سب سے کارآمد روپ بدصورتی نہیں بلکہ ”نور کے فرشتے“ کا روپ ہے۔ جھوٹ خوفناک نہیں لگتا، وہ متاثر کُن لگتا ہے۔
سلسلۂ کلام
پولس دو کہانیاں ایک ساتھ جوڑتے ہیں۔ پہلی باغِ عدن کی ہے: پیدایش 3 میں سانپ حوا سے خدا کے کلام پر بحث نہیں کرتا، وہ اُس کے بارے میں ایک نرم شک بوتا ہے۔ پولس کہتے ہیں کہ یہی چالاکی کرنتھس کی گلیوں میں چل رہی ہے، اور نتیجہ یہ نہیں کہ لوگ مسیح کا انکار کریں بلکہ یہ کہ ”وہ خلوص دلی اور پاک لگن ختم ہو جائے گی“۔ دوسری کہانی شادی کی ہے: پرانے عہد میں خدا بار بار اسرائیل کو اپنی دُلھن کہتے ہیں، اور یہاں پولس خود کو دُلھن کے باپ یا وکیل کے مقام پر رکھتے ہیں جو بیٹی کو ایک ہی مرد، مسیح، کے حضور پیش کرنا چاہتا ہے۔ نجات کی پوری کہانی اِس نکاح کی طرف بڑھتی ہے، اور جھوٹی تعلیم محض غلطی نہیں، وہ بےوفائی ہے۔
آئینہ
ہم سب جانتے ہیں کہ کس قسم کا خادم ہمیں بھاتا ہے: جو روانی سے بولے، جس کے پاس جواب ہوں، جو کمرے میں داخل ہو تو کمرہ بھر جائے۔ پولس خود مانتے ہیں، ”ہو سکتا ہے کہ مَیں بولنے میں ماہر نہیں ہوں۔“ اور کرنتھس کے لوگوں کو یہی بات کھٹکتی تھی۔ آپ کے دفتر میں، آپ کی جماعت میں، آپ کے اپنے دل میں وہی ترازو کام کر رہا ہے: کامیابی قابلِ ذکر ہے، کمزوری چھپانے کی چیز ہے۔ ہم اپنی نیند سے محروم راتیں، اپنے قرض، اپنی اولاد کی بغاوت، اپنی بیماری کسی کو نہیں بتاتے؛ ہم صرف وہ بتاتے ہیں جو ہمیں قابلِ احترام بناتا ہے۔ پولس اِس ترازو کو توڑ دیتے ہیں۔ آج ایک کاغذ پر اپنی وہ ایک کمزوری لکھیں جو آپ جماعت میں کسی کو نہیں بتاتے، اور اُسی کاغذ کو ہاتھ میں لے کر بلند آواز سے خدا کے سامنے ایک جملہ کہیں: ”یہی میرا فخر ہے، کیونکہ یہیں آپ کام کرتے ہیں۔“
کلام کی گواہی
اعمال 9 میں لوقا دمشق سے پولس کے فرار کو مختصراً بیان کرتے ہیں: شاگردوں نے اُسے ٹوکرے میں رات کے وقت دیوار سے اُتارا۔ لوقا کے لیے یہ ایک تفصیل ہے؛ پولس کے لیے یہ اُن کے فخر کا عروج ہے، اِس لیے وہ اپنی ساری فہرست اِسی پر ختم کرتے ہیں۔ رومی فوج میں سب سے بڑا اعزاز اُس سپاہی کو ملتا تھا جو سب سے پہلے دشمن کی فصیل پر چڑھتا تھا۔ پولس کہتے ہیں: مَیں دیوار پر چڑھا نہیں، مجھے دیوار سے نیچے لٹکایا گیا، ایک سبزی کے ٹوکرے میں۔ اور پیدایش 3 کا سانپ اِس باب میں صرف ماضی کا کردار نہیں، وہ ”نور کے فرشتے کا روپ دھار کر“ اب بھی جماعتوں میں گھومتا پھرتا ہے۔
مرکزی کردار
پولس اِس باب میں غصے، طنز اور محبت کے درمیان لڑکھڑاتے ہیں۔ ”مَیں یہ کیوں کہہ رہا ہوں؟ اِس لئے کہ مَیں آپ سے محبت نہیں رکھتا؟ خدا ہی جانتا ہے کہ مَیں آپ سے محبت رکھتا ہوں۔“ یہ کسی عہدے کی حفاظت کرنے والے آدمی کی آواز نہیں بلکہ اُس باپ کی ہے جو دیکھ رہا ہے کہ اُس کی بیٹی ایک دھوکے باز کے ساتھ جا رہی ہے۔ اُن کا طنز تیز ہے: ”بےشک آپ خود اِتنے دانش مند ہیں کہ آپ احمقوں کو خوشی سے برداشت کرتے ہیں۔“ مگر اُن کا سب سے کھلا زخم آیت 29 میں ہے: ”جب کوئی کمزور ہے تو مَیں اپنے آپ کو بھی کمزور محسوس کرتا ہوں۔“ یہ شخص اپنی جماعتوں سے جذباتی فاصلہ رکھنا سیکھا ہی نہیں تھا۔
سامعین کا خاکہ
کرنتھس ایک بندرگاہی شہر تھا جہاں عزت خریدی اور دکھائی جاتی تھی۔ وہاں استاد کا مقام اُس کی فصاحت اور اُس کے سرپرستوں سے ناپا جاتا تھا، اور جو استاد معاوضہ لینے سے انکار کرے وہ شکرگزاری نہیں بلکہ شک پیدا کرتا تھا: یا تو اُس کی تعلیم بےقیمت ہے، یا وہ رشتہ قبول کرنے سے کتراتا ہے۔ اِسی لیے پولس کو صفائی دینی پڑی کہ مکدُنیہ کے بھائیوں نے اُن کی ضروریات پوری کیں۔ اور جب اُنہوں نے کہا کہ ”آپ یہ بھی برداشت کرتے ہیں جب لوگ آپ کو غلام بناتے، آپ کو لُوٹتے … اور آپ کو تھپڑ مارتے ہیں“، تو سننے والے جانتے تھے کہ آزاد شہری کے منہ پر تھپڑ کا مطلب کیا ہے۔ وہ اپنی تذلیل کو روحانیت سمجھ بیٹھے تھے، بشرطیکہ تذلیل کرنے والا متاثر کُن ہو۔
غور و فکر
آپ کی جماعت یا آپ کا دل آج کس قسم کے ”نور کے فرشتے“ سے سب سے جلدی متاثر ہوتا ہے؟
اگر آپ کو آج اپنی خدمت کا حساب پولس کے پیمانے پر لکھنا پڑے، یعنی زخموں اور کمزوریوں کی فہرست، تو اُس میں کیا آئے گا؟
2 Corinthians 11 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۲-کُرِنتِھیوں 11 کا کیا مطلب ہے؟
۲-کُرِنتِھیوں 11 کس بارے میں ہے؟
۲-کُرِنتِھیوں 11 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۲-کُرِنتِھیوں 11 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۲-کُرِنتِھیوں 11 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی 2 Corinthians 11 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خداوند، شکر ہے کہ پولس نے کھل کر مانا کہ "ہم اِس کے لئے بہت کمزور تھے" اور آپ نے اُسی کمزوری میں اپنا کام جاری رکھا۔ شکریہ کہ ہمیں مضبوط دکھنے کا ڈھونگ نہیں کرنا پڑتا، اور یہ کہ آپ کی خدمت ہماری طاقت پر نہیں بلکہ آپ کے فضل پر کھڑی ہے۔
پولس شیخی مارنے پر مجبور ہوا، مگر دل سے نہیں۔ "چونکہ بہت لوگ دنیاوی طور پر شیخی مارتے ہیں، اِس لئے مَیں بھی ایسا کروں گا۔" وہ جانتا تھا کہ یہ حماقت ہے، پھر بھی کلیسیا کو بچانے کے لئے اُس نے یہ بوجھ اُٹھایا۔ کبھی کبھی ہمیں بھی اپنی خدمت کا حساب دینا پڑتا ہے۔ سوال یہ ہے: کیا میں اپنے لئے بول رہا ہوں یا اُن لوگوں کے لئے جنہیں میں محبت کرتا ہوں؟
اے خدا، جب زندگی کی لہریں مجھے ہر طرف سے گھیر لیتی ہیں اور رات لمبی لگتی ہے، تو مجھے یاد دلا کہ تُو گہرے پانی میں بھی میرے ساتھ ہے۔ ٹوٹے ہوئے دل اور تھکے ہوئے جسم کے ساتھ بھی میں تیرا نام لینا نہ چھوڑوں۔ مجھے سنبھالے رکھ۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
