۲-سموئیل 18
متن
داؤد اپنی فوج کو تین حصوں میں بانٹ کر بیٹے کے خلاف جنگ میں بھیجتا ہے، مگر کمانڈروں کو ہدایت دیتا ہے: ”میری خاطر جوان ابی سلوم سے نرمی سے پیش آنا!“ افرائیم کے جنگل میں بغاوت کچلی جاتی ہے، بیس ہزار مارے جاتے ہیں، اور ابی سلوم کے بال بلوط کی شاخوں میں اُلجھ جاتے ہیں؛ وہ ”آسمان و زمین کے درمیان لٹکا“ رہتا ہے جب تک یوآب تین نیزے اُس کے دل میں نہیں گھونپ دیتا۔ فتح کی خبر دو دوڑتے ہوئے قاصدوں کے ذریعے دروازے پر بیٹھے بادشاہ تک پہنچتی ہے، اور بادشاہ فتح سن کر نہیں، بیٹے کی موت سن کر ٹوٹ جاتا ہے۔
اصل بات
یہ باب ایک ہی سانس میں دو سچائیاں بولتا ہے جو ہمیں عموماً الگ الگ سننا پسند ہیں: خدا کی نجات اور خدا کی عدالت یہاں ایک ہی واقعے کا نام ہیں۔ قاصد ٹھیک کہتا ہے، ”رب آپ کے خدا کی تمجید ہو! اُس نے آپ کو اُن لوگوں سے بچا لیا ہے جو میرے آقا اور بادشاہ کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے تھے۔“ یہ جھوٹ نہیں؛ عہد کا خدا اپنے مسح کئے ہوئے بادشاہ کو تخت پر بحال کر رہا ہے۔ مگر وہی نجات داؤد کے گھر پر وہ تلوار ہے جس کا اعلان ناتن نبی نے بَت سبع کے معاملے کے بعد کیا تھا (۲ سموئیل ۱۲)۔ گناہ معاف ہو چکا، نتائج پھر بھی اپنی فصل کاٹ رہے ہیں۔ مقدّس خدا کی حکمرانی سستی نہیں ہوتی؛ وہ بادشاہ کو بچاتا ہے اور اُسی بادشاہ کو اُس کے اپنے بوئے ہوئے بیج کے سامنے کھڑا کرتا ہے۔
سلسلۂ نجات
غور کیجئے کہ باغی بیٹا درخت پر لٹکا ہوا مرتا ہے، اور شریعت کہتی ہے کہ لکڑی پر لٹکایا ہوا شخص لعنتی ہے۔ ابی سلوم اپنی لعنت خود کماتا ہے؛ اُس کی لاش گڑھے میں پھینک کر پتھروں سے ڈھانپ دی جاتی ہے، جبکہ اُس کا کھڑا کیا ہوا یادگاری ستون خالی کھڑا رہ جاتا ہے۔ اور باپ دروازے کے اوپر والے کمرے میں وہ فقرہ چیختا ہے جو پوری بائبل میں گونجتا ہے: ”کاش مَیں ہی تیری جگہ مر جاتا۔“ داؤد یہ کر نہیں سکتا۔ وہ ایک بادشاہ ہے جس کی محبت اُس کی طاقت سے بڑی ہے، اور یہی اُس کی بے بسی ہے۔ صدیوں بعد داؤد کا بڑا بیٹا یہی تبادلہ محض چاہتا نہیں، کرتا ہے: وہ لکڑی پر لٹکا، باغیوں کی جگہ، تاکہ باغی زندہ رہیں (رومیوں ۵:۸)۔ یہاں خواہش ہے؛ گلگتا پر عمل۔
آئینہ
یہ باب اُن لوگوں کو ننگا کرتا ہے جو سمجھتے ہیں کہ ایمان زندگی کو صاف ستھرا کر دیتا ہے۔ آپ کا بیٹا یا بیٹی وہ راستہ چن سکتا ہے جس سے آپ نے پوری عمر بچانا چاہا۔ آپ کی ماضی کی غلطی، وہ رشتہ، وہ معاہدہ، وہ خاموشی، معاف ہونے کے باوجود آپ کے گھر کے کمروں میں چلتی پھرتی رہ سکتی ہے۔ اور جیت بھی ہمیشہ میٹھی نہیں ہوتی: کبھی آپ عدالت میں، دفتر میں، یا خاندانی جھگڑے میں درست ثابت ہوتے ہیں اور اُسی لمحے جانتے ہیں کہ کچھ ٹوٹ گیا جو واپس نہیں آئے گا۔ داؤد ہمیں سکھاتا ہے کہ ایسے وقت میں دین داری کا لبادہ اوڑھنے کی ضرورت نہیں؛ رو لینا جائز ہے۔ آج ہی اُس ایک شخص کا نام کاغذ پر لکھئے جس کے لئے آپ کا دل ٹوٹا ہوا ہے، اور اُس نام کو ہاتھ میں پکڑ کر بلند آواز میں خدا کے سامنے دہرائیے، بغیر کسی وضاحت یا صفائی کے۔
کٹھن سوال
اگر داؤد نے صاف حکم دیا تھا کہ ابی سلوم کو نقصان نہ پہنچایا جائے، تو یوآب کا نیزہ خدا کی مرضی کیسے ہو سکتا ہے؟ گمنام سپاہی نے بادشاہ کا لفظ مانا؛ یوآب نے اُسے روندا اور اُسی سے سلطنت کو استحکام ملا۔ متن یوآب کو ہیرو نہیں بناتا، مگر اُسے روکتا بھی نہیں۔ یہاں وہ تلخ معمہ کھلتا ہے جسے بائبل بار بار چھوتی ہے: خدا اپنے مقصد کو اُن ہاتھوں سے بھی پورا کرا لیتا ہے جو اُس کے حکم سے باہر چل رہے ہیں، اور وہ ہاتھ پھر بھی جوابدہ رہتے ہیں۔ یوآب بعد میں اِس خون کا حساب دے گا۔ ہمیں اِن دو سچائیوں کو ایک منطقی فارمولے میں سمیٹنے کا اختیار نہیں دیا گیا؛ صرف اِن کے بیچ خاموشی سے کھڑے ہونے کا۔
پہلے سننے والے
جو اسرائیلی یہ بیان پہلی بار سن رہے تھے، وہ جانتے تھے کہ تخت کس کا ہے اور خاندان کیا ہوتا ہے۔ اُن کے لئے بیٹے کا باپ کے خلاف اُٹھنا صرف سیاسی بغاوت نہیں، عہد کے ڈھانچے پر حملہ تھا؛ اور اولاد کا بے نام مر جانا سب سے بڑی لعنت۔ اِسی لئے آیت ۱۸ کا طنز اُن کے کان میں زور سے لگتا: ابی سلوم نے اپنی یاد میں ستون اِس لئے کھڑا کیا تھا کہ ”میرا کوئی بیٹا نہیں ہے جو میرا نام قائم رکھے“، اور آخرکار اُسے پتھروں کا ڈھیر ملا۔ وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ بادشاہ شہر کے دروازے پر کیوں بیٹھا ہے: وہاں انصاف ہوتا تھا۔ اُس انصاف کی کرسی پر بیٹھا بادشاہ اپنے ہی بیٹے کے فیصلے کی خبر کا انتظار کر رہا تھا۔
مرکزی کردار
داؤد یہاں دو آدمیوں میں بٹا ہوا ہے۔ ایک طرف وہ تجربہ کار جنرل ہے جو فوج کو ہزاروں اور سیکڑوں میں تقسیم کرتا ہے، مشورہ قبول کرتا ہے، دروازے پر کھڑے ہو کر اپنے مردوں کو گزرتے دیکھتا ہے۔ دوسری طرف وہ باپ ہے جو جنگ کے آغاز میں ہی اپنی حکمتِ عملی کو مجروح کر دیتا ہے: اُس باغی کو بچا لو۔ اُس کے دونوں سوال ایک جیسے ہیں، ”اور میرا بیٹا ابی سلوم؟ کیا وہ محفوظ ہے؟“؛ فتح کی خبر اُس کے کانوں سے پھسل جاتی ہے۔ یہ کمزوری نہیں، بلکہ اُس خدا کی جھلک ہے جس کا دل اپنے نافرمان بچوں کے لئے دھڑکتا ہے۔ داؤد کی محبت اپنی حد پر آ کر ٹوٹ جاتی ہے؛ خدا کی محبت اُسی حد پر صلیب میں بدل جاتی ہے۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کی زندگی میں کون سی ”فتح“ ایسی ہے جس کا ذائقہ آپ کے منہ میں کڑوا رہ گیا، اور کیا آپ نے اُس کا غم کبھی خدا کے سامنے کھل کر رکھا ہے؟
داؤد کہہ سکا ”کاش مَیں ہی تیری جگہ مر جاتا“ مگر کر نہ سکا؛ مسیح نے کر دکھایا۔ یہ فرق آج آپ کے کسی ایک ٹوٹے ہوئے رشتے کو کیسے دیکھنے پر مجبور کرتا ہے؟
2 Samuel 18 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۲-سموئیل 18 کا کیا مطلب ہے؟
۲-سموئیل 18 کس بارے میں ہے؟
۲-سموئیل 18 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۲-سموئیل 18 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۲-سموئیل 18 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی 2 Samuel 18 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
یوآب اخی معض کو روکتا ہے: "آج تُو خوش خبری نہیں پہنچائے گا۔ کسی اَور دن ایسا کر لینا۔ آج بادشاہ کا بیٹا مر گیا ہے۔" فوج کے لیے فتح تھی، مگر باپ کے لیے جنازہ۔ ایک ہی خبر، دو الگ دل۔
کیا ہم بھی کبھی دوڑتے ہوئے کسی کو وہ بات سنا دیتے ہیں جو ہمارے لیے جوش ہے اور اُس کے لیے زخم؟ محبت صرف سچ بولنا نہیں، سننے والے کا دل پہچاننا بھی ہے۔
یُوآب کی فوج جیت گئی، لیکن اُس دن کی سب سے خوفناک بات یہ تھی: ”اُس دن جنگل نے تلوار کی نسبت زیادہ لوگوں کو ہلاک کیا۔“ دشمن کے ہتھیار سے زیادہ وہ گڑھے اور درخت مہلک ثابت ہوئے جو کسی کو نظر ہی نہیں آ رہے تھے۔ بغاوت کا انجام ہمیشہ وہاں تک پہنچتا ہے جہاں تک ہم نے سوچا بھی نہیں تھا۔ تُو جو ضد آج دل میں پال رہا ہے، کیا تُو جانتا ہے کہ وہ کس کس کو اپنے ساتھ لے ڈوبے گی؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
