۲-سموئیل 2
متن
ساؤل کی موت کے بعد داؤد خدا سے پوچھ کر حبرون میں جا بستا ہے، جہاں یہوداہ کے لوگ اُسے مسح کر کے بادشاہ بناتے ہیں؛ وہ یبیس جِلعاد کے مردوں کو اُن کی وفاداری پر دعائیہ برکت بھیجتا ہے۔ دوسری طرف ساؤل کا کمانڈر ابنیر اُس کے بیٹے اِشبوست کو محنائم میں تخت پر بٹھا دیتا ہے۔ جِبعون کے تالاب پر دونوں فوجیں آمنے سامنے آتی ہیں، بارہ بارہ جوانوں کا "مقابلہ" خونریز جنگ میں بدل جاتا ہے، عساہیل ابنیر کا پیچھا کرتے ہوئے مارا جاتا ہے، اور دن کے اختتام پر دونوں طرف لاشیں گنی جاتی ہیں۔
دل کی بات
یہ باب ایک بےچین سچائی بولتا ہے: خدا کا انتخاب فوراً تخت نہیں دیتا۔ داؤد مسح ہو چکا ہے، خدا نے صاف کہا ہے "ہاں، واپس جا"، اور پھر بھی وہ صرف ایک قبیلے کا بادشاہ ہے، ساڑھے سات سال تک۔ خدا نے اُس کے راستے سے حریف نہیں ہٹایا۔ دوسری طرف ابنیر اپنے ہاتھ سے بادشاہ "مقرر" کرتا ہے، اور اُس کے پاس دس قبیلے ہیں۔ تعداد سے سچائی ثابت نہیں ہوتی۔ یہاں دو قسم کی بادشاہی آمنے سامنے ہیں: ایک جو پوچھ کر چلتی ہے، دوسری جو طاقت سے بنائی جاتی ہے۔ اور دونوں کے درمیان بھائی بھائی کا خون بہتا ہے، کیونکہ جب انسان خدا کے وقت کا انتظار نہیں کرتا، تو قیمت اکثر معصوم جوان چکاتے ہیں۔
سلسلۂ نجات
داؤد کی بادشاہی ٹکڑوں میں آتی ہے، اور یہی نمونہ مسیح کی بادشاہی پر روشنی ڈالتا ہے۔ گلگُتا پر مسح شدہ بادشاہ تخت نشین ہوا، مگر زمین پر اُس کی حکومت ابھی ہر قبیلے، ہر دل پر قائم نہیں۔ ہم بھی ایک ایسے "حبرون" میں جیتے ہیں جہاں بادشاہ سچا ہے مگر مملکت ادھوری دکھتی ہے۔ فرق یہ ہے کہ مسیح نے اپنی بادشاہی تلوار سے آگے نہیں بڑھائی۔ گتسمنی میں جب پطرس نے تلوار نکالی، خداوند نے اُسے روک دیا (متی ۲۶) — بالکل وہی حکم جو ابنیر عساہیل کو دیتا ہے اور جو یوآب دیر سے مانتا ہے۔ جِبعون کا تالاب ہمیں دکھاتا ہے کہ خدا کے نام پر لڑی گئی لڑائیاں بھی تلخی کے سوا کچھ پیدا نہیں کرتیں، جب تک بادشاہ خود میدان میں نہ ہو۔
آئینہ
عساہیل کی موت آپ کو دیکھ رہی ہے۔ وہ بُرا آدمی نہیں تھا؛ وہ تیز تھا، بہادر تھا، اور بالکل غلط سمت میں پوری رفتار سے دوڑ رہا تھا۔ ابنیر نے اُسے دو بار موقع دیا: "دائیں یا بائیں طرف ہٹ کر کسی اَور کو پکڑیں!" مگر لکھا ہے کہ وہ "نہ دائیں، نہ بائیں طرف ہٹا"۔ ہم اِسے وفاداری کہتے ہیں؛ متن اِسے ضد کہتا ہے۔ آپ کے اندر بھی کوئی تعاقب چل رہا ہے: وہ رشتہ دار جسے آپ ہر خاندانی تقریب میں ایک بار پھر غلط ثابت کرنا چاہتے ہیں، وہ ساتھی جس کی ہر ای میل آپ محفوظ رکھتے ہیں، وہ بحث جو تین سال پرانی ہے اور آپ آج بھی جیتنا چاہتے ہیں۔ عساہیل کے پیٹ میں نیزہ ابنیر کی مرضی سے نہیں لگا؛ ابنیر مجبور ہوا۔ کچھ زخم ہماری اپنی رفتار سے لگتے ہیں۔ آج دس منٹ نکالیں: اپنے فون میں وہ پیغام کھولیں جو آپ نے لکھا مگر بھیجا نہیں، یا جو آپ بھیجنے کے لیے دل میں تیار کر چکے ہیں، اور اُسے مٹا دیں۔ ایک قدم دائیں طرف ہٹ جائیں۔
سیاق و سباق
ساؤل اور یونتن جِلبوعہ کے پہاڑ پر مارے گئے ہیں، فلستی شمال پر قابض ہیں، اور اسرائیل سر کٹے جسم کی طرح ہے۔ داؤد اُس وقت فلستیوں کے زیرِ اثر صِقلاج میں رہتا تھا، یعنی قانونی طور پر ایک مشتبہ شخص۔ حبرون یہوداہ کے قلب میں ابراہیم کے زمانے سے مقدّس شہر ہے؛ وہاں بسنا اور مسح ہونا یہوداہ کے سامنے اپنی جڑیں قائم کرنا ہے۔ ابنیر اِشبوست کو محنائم لے جاتا ہے، یردن کے پار، فلستی تلوار سے دور — یعنی شاہی خاندان جلاوطنی میں حکومت کر رہا ہے۔ یبیس جِلعاد کو داؤد کا پیغام محض شکریہ نہیں، سیاست بھی ہے: وہ ساؤل کے وفاداروں کو بتا رہا ہے کہ نیا بادشاہ پرانے مالک کی عزت کرتا ہے۔ جِبعون کا تالاب سرحدی علاقہ تھا، اور بارہ بارہ جوانوں کا مقابلہ بڑی جنگ کا متبادل سمجھا جاتا تھا۔
مرکزی کردار
داؤد اِس باب میں شاید ہی لڑتا ہے، اور یہی اُس کی تصویر ہے۔ وہ پہلے پوچھتا ہے: "کیا مَیں یہوداہ کے کسی شہر میں واپس چلا جاؤں؟" اور جب جواب ملتا ہے تو اگلا سوال بھی پوچھتا ہے، "مَیں کس شہر میں جاؤں؟" یہ وہ آدمی ہے جو تفصیل میں بھی ہدایت چاہتا ہے۔ وہ اُن لوگوں کو برکت دیتا ہے جنہوں نے اُس کے حریف کو دفنایا، اور اُن سے کہتا ہے "اب مضبوط اور دلیر ہوں"۔ مگر یہ تصویر بےداغ نہیں: جِبعون میں اُس کا بھانجا یوآب تلوار چلاتا ہے، اور داؤد کا نام ۳۶۰ لاشوں پر لکھا جاتا ہے۔ صبر رکھنے والے لوگ بھی اُن کے کام کے ذمہ دار ہوتے ہیں جنہیں وہ قابو میں نہیں رکھتے۔ داؤد کی روحانی عظمت اور اُس کے گھر کی خونریزی ایک ہی باب میں ساتھ چلتی ہیں۔
دیگر صحائف کی گواہی
۱ سموئیل ۱۶ میں سموئیل نے داؤد کو بیت لحم میں مسح کیا تھا، برسوں پہلے۔ اُس تیل سے اِس تخت تک کا فاصلہ بتاتا ہے کہ خدا کی بلاہٹ اور اُس کی تکمیل کے درمیان پوری جوانی گزر سکتی ہے؛ جو لوگ "مَیں نے تو صاف محسوس کیا تھا" کہہ کر مایوس ہیں، اُن کے لیے یہ تسلی ہے اور امتحان بھی۔ دوسری گونج متی ۲۶ سے آتی ہے، جہاں خداوند یسوع تلوار نکالنے والے کو روکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تلوار اٹھانے والے تلوار سے ہلاک ہوں گے۔ ابنیر کے الفاظ، "ایسی حرکتیں صرف تلخی پیدا کرتی ہیں"، اُسی سچائی کا پرانے عہد نامے کا ایڈیشن ہیں، مگر منہ سے نکلے اُس آدمی کے جس نے خود مقابلہ شروع کیا تھا۔ ہم اکثر اپنی لڑائیوں کی حقیقت تب سمجھتے ہیں جب ہارنے لگتے ہیں۔
غور و فکر کے سوالات
آپ اِس وقت کس کا تعاقب کر رہے ہیں جو آپ سے کہہ چکا ہے "دائیں یا بائیں طرف ہٹ جائیں"، اور آپ کیوں نہیں ہٹ رہے؟
داؤد نے ہر قدم پر پوچھا؛ آپ نے پچھلا بڑا فیصلہ پوچھ کر کیا یا جواز بنا کر؟
2 Samuel 2 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۲-سموئیل 2 کا کیا مطلب ہے؟
۲-سموئیل 2 کس بارے میں ہے؟
۲-سموئیل 2 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۲-سموئیل 2 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۲-سموئیل 2 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی 2 Samuel 2 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
جوآب اور ابنیر نے سوچا تھا کہ بارہ بارہ جوان آپس میں مقابلہ کر لیں تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔ مگر نتیجہ یہ نکلا کہ "ہر ایک نے اپنے مقابل کا سر پکڑ کر اُس کے پہلو میں تلوار گھونپ دی، اور وہ سب مل کر گر گئے۔" کوئی جیتا نہیں، چوبیس لاشیں بچھ گئیں۔ گھر کی لڑائیوں میں بھی یہی ہوتا ہے۔ آپ جس کو ہرانا چاہتے ہیں، کیا وہ واقعی آپ کا دشمن ہے؟
سورج غروب ہو رہا تھا، مگر یوآب اور ابی شے رُکے نہیں۔ "جب سورج غروب ہوا تو وہ امّہ پہاڑی کے پاس پہنچ گئے۔" ان کا بھائی عسائیل اِسی ضد میں مارا گیا تھا کہ وہ پیچھا چھوڑنے کو تیار نہ تھا، اور اب وہی دوڑ بھائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بدلہ کبھی نہیں کہتا کہ بس، کافی ہے۔ تیرے دل میں بھی کوئی ایسا تعاقب ہے جو اندھیرا ہونے پر بھی ختم نہیں ہوتا؟
اے خدا، داؤد کو حبرون میں سالوں تک انتظار کرنا پڑا، اس سے پہلے کہ تیرا وعدہ پورا ہوتا۔ میں بھی ادھورے وقتوں میں کھڑا ہوں۔ مجھے سکھا کہ اس چھوٹی سی جگہ پر بھی وفادار رہوں، جہاں تو نے مجھے آج رکھا ہے، اور تیرے وقت پر بھروسا کروں۔
لیکن داؤد کے فوجیوں نے ابنیر کے 360 بن یمینی مردوں کو مار ڈالا تھا۔" یہ صرف ایک عدد ہے، لیکن ہر عدد کے پیچھے ایک ماں تھی جو بیٹے کا انتظار کرتی رہی۔ اور مرنے والے دشمن نہیں تھے، وہی اسرائیل کے بھائی تھے۔ تخت کی لڑائی میں ہمیشہ عام لوگ قیمت چکاتے ہیں۔ آپ کے کسی ضد یا حق کی جنگ میں کون خاموشی سے قیمت ادا کر رہا ہے؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
