زبور 25
متن
داؤد کی زبان پر پہلا جملہ درخواست نہیں بلکہ تڑپ ہے: "اے رب، مَیں تیرا آرزومند ہوں۔" اِس کے بعد پوری زبور ایک ہی سانس میں تین دھاگے بُنتی چلی جاتی ہے: راہ دکھانے کی التجا ("اپنی راہیں مجھے دکھا")، معافی کی گزارش ("میری جوانی کے گناہوں اور میری بےوفا حرکتوں کو یاد نہ کر")، اور دشمنوں کے گھیرے سے رِہائی کی پکار ("دیکھ، میرے دشمن کتنے زیادہ ہیں")۔ درمیان میں دعا رُک کر تعلیم بن جاتی ہے: رب بھلا اور عادل ہے، اِس لئے وہ گناہ گاروں کو صحیح راہ سکھاتا ہے۔ اور آخر میں یہ تنہا آدمی، جو خود کو "تنہا اور مصیبت زدہ" کہتا ہے، اچانک اپنی ذات سے نکل کر پوری قوم کے لئے مانگتا ہے: "اے اللہ، فدیہ دے کر اسرائیل کو اُس کی تمام تکالیف سے آزاد کر!"
اصل بات
اِس زبور کا دھڑکتا ہوا دل آیت 8 میں ہے: "رب بھلا اور عادل ہے، اِس لئے وہ گناہ گاروں کو صحیح راہ پر چلنے کی تلقین کرتا ہے۔" غور کیجئے کہ منطق کہاں جوڑی گئی ہے۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ خدا کی بھلائی اور عدل گناہ گار کو راہ سے دُور دھکیل دیں گے؛ داؤد کہتا ہے کہ یہی دونوں صفات خدا کو اُستاد بنا دیتی ہیں۔ نجات یہاں محض نجاتِ جان نہیں، تربیت ہے: معاف شدہ آدمی کو چلنا سکھایا جاتا ہے۔ اور معافی کی بنیاد کہیں بھی داؤد کی نیکی نہیں۔ وہ صاف کہتا ہے: "میرا قصور سنگین ہے، لیکن اپنے نام کی خاطر اُسے معاف کر۔" یعنی خدا اپنی ساکھ پر، اپنے عہد کی وفاداری پر معاف کرتا ہے۔ فضل یہاں رعایت نہیں، خدا کے کردار کا لازمی نتیجہ ہے۔
بڑی کہانی کا دھاگا
آیت 22 اِس زبور کو اچانک ایک بڑے افق پر کھول دیتی ہے: "اے اللہ، فدیہ دے کر اسرائیل کو اُس کی تمام تکالیف سے آزاد کر!" لفظ "فدیہ" مصر سے نکلنے کی یاد ہے: خدا نے قیمت دے کر ایک غلام قوم کو اپنی ملکیت بنایا۔ داؤد اپنی ذاتی معافی کو اُسی بڑے واقعے کے اندر رکھتا ہے۔ اور یہیں سے سیدھی سڑک صلیب تک جاتی ہے، کیونکہ داؤد جو مانگتا ہے وہ دو چیزیں ایک ساتھ ہیں: قصور کی معافی اور دشمنوں سے رِہائی۔ عہدِ جدید انہی دونوں کو ایک شخص میں جوڑ دیتا ہے۔ مسیح نہ صرف "اپنے نام کی خاطر" معاف کرتا ہے بلکہ خود فدیہ بن کر ادائیگی کرتا ہے۔ آیت 9 کے "فروتنوں" کو راہ سکھانے والا خدا آخرکار خود حلیم بن کر راہ پر چلا اور کہا: راہ مَیں ہوں۔
آئینہ
اِس زبور کی سب سے بے رحم سچائی آیت 7 میں ہے: جوانی کے گناہ بوڑھے نہیں ہوتے۔ آپ چالیس کے ہو چکے ہیں، جماعت میں ذمہ دار ہیں، لوگ آپ سے مشورہ لیتے ہیں، اور پھر رات کے دو بجے کوئی پرانی یاد آ کر گلے پر ہاتھ رکھ دیتی ہے: وہ رشتہ، وہ جھوٹ، وہ پیسہ، وہ نظر۔ داؤد اُس یاد سے بھاگتا نہیں اور نہ اُسے حلال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے: "میرا قصور سنگین ہے۔" سنگین، چھوٹا نہیں۔ اور اِسی سانس میں معافی مانگتا ہے، کیونکہ اُس کی اُمید اپنی صفائی پر نہیں، خدا کے نام پر ٹکی ہے۔ آج ہی کیجئے: کاغذ کے ایک ٹکڑے پر وہ ایک پرانا گناہ لکھئے جو آپ کبھی زبان پر نہیں لائے، اُس پر آیت 11 کے الفاظ بلند آواز میں پڑھئے، اور پھر وہ کاغذ پھاڑ کر پھینک دیجئے۔
ایک باریک تفصیل
آیت 14 کا لفظ رُک کر دیکھنے کے قابل ہے: "جو رب کا خوف مانیں اُنہیں وہ اپنے ہم راز بنا کر اپنے عہد کی تعلیم دیتا ہے۔" عبرانی لفظ سود اُس مجلس کے لئے استعمال ہوتا ہے جہاں بادشاہ اپنے قریبی مشیروں کے ساتھ سرگوشی میں بات کرتا ہے۔ یعنی خدا کا خوف ماننے والا آدمی دربار کے دروازے پر کھڑا سائل نہیں رہتا؛ اُسے اندر بلا کر میز کے پاس بٹھایا جاتا ہے۔ یہ حیران کن ہے، کیونکہ ہم "خوف" کو فاصلے کا لفظ سمجھتے ہیں۔ داؤد کے ہاں خوف قربت کا دروازہ ہے: جو خدا کو سنجیدگی سے لیتا ہے، اُسی کو خدا اپنے راز میں شریک کرتا ہے۔ رہنمائی کوئی نقشہ نہیں جو ہاتھ میں تھما دیا جائے، وہ ایک رشتہ ہے جس میں آپ چلتے چلتے سنتے ہیں۔
پس منظر
یہ زبور عبرانی حروفِ تہجی کی ترتیب پر لکھی گئی ہے: ہر آیت اگلے حرف سے شروع ہوتی ہے۔ یہ کوئی ادبی نمائش نہیں؛ ایسا آدمی جس کا اندر بکھرا ہوا ہو، وہ الفاظ کو ایک ڈھانچے میں باندھتا ہے تاکہ بےترتیب دُکھ کے سامنے کچھ تو قائم رہے۔ منظر بھی صاف ہے: داؤد گھرا ہوا ہے۔ قدیم مشرق میں "شرمندگی" محض جذبہ نہیں تھی، سماجی موت تھی؛ جس کے دشمن جیت جائیں، اُس کا خدا بھی جھوٹا ٹھہرتا تھا۔ اِسی لئے وہ بار بار کہتا ہے "مجھے شرمندہ نہ ہونے دے"، اور دشمنوں کے "شادیانہ بجانے" کا ذکر کرتا ہے۔ ساتھ ہی وہ خود کو "تنہا اور مصیبت زدہ" کہتا ہے۔ ایک بادشاہ یا مستقبل کا بادشاہ، جس کے گرد لوگ ہیں مگر کوئی ساتھ نہیں۔
مرکزی کردار
اِس زبور میں دو کردار ہیں، مگر اصل موضوع خدا کا مزاج ہے۔ داؤد ہمیں ایک عجیب آدمی دکھاتا ہے: بہت زخمی، بہت بےباک، اور بالکل بے دفاع۔ وہ اپنے آپ کو معصوم ثابت نہیں کرتا، وہ صرف پناہ لیتا ہے: "مَیں تجھ میں پناہ لیتا ہوں۔" اور اُس کی آنکھیں کہاں ہیں؟ "میری آنکھیں رب کو تکتی رہتی ہیں" ، جال پر نہیں، رسّی چھڑانے والے پر۔ دوسری طرف وہ خدا ہے جو دُور سے حکم نہیں دیتا بلکہ جھکتا ہے: "میری طرف مائل ہو جا۔" یہ خدا یاد رکھنے اور بھول جانے کا انتخاب کرتا ہے؛ اپنی قدیم مہربانی یاد رکھتا ہے اور ہمارے قصور یاد نہیں کرتا۔ ایسا خدا صرف ڈرانے کے لائق نہیں، بھروسے کے لائق ہے۔
غور کے لئے سوال
آیت 7 میں داؤد خدا سے کہتا ہے کہ کیا یاد رکھے اور کیا نہ رکھے۔ آپ کے دل میں کون سی پرانی بات ہے جو آپ خدا سے زیادہ خود کو یاد دلاتے رہتے ہیں، اور کیوں؟
"ہم راز" بنائے جانے کا مطلب سننا ہے۔ پچھلے مہینے میں کوئی ایک موڑ بتائیے جہاں آپ نے واقعی خدا سے راہ پوچھی، نہ کہ فیصلہ کر کے بعد میں دعا میں مہر لگائی؟
Psalms 25 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
زبور 25 کا کیا مطلب ہے؟
زبور 25 کس بارے میں ہے؟
زبور 25 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
زبور 25 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
زبور 25 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Psalms 25 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
داؤد اپنی نیکی کا حوالہ نہیں دیتا۔ وہ کہتا ہے، ”میری جان کی حفاظت کر اور مجھے بچا۔ مجھے شرمندہ نہ ہونے دے، کیونکہ مَیں تجھ میں پناہ لیتا ہوں۔“ اُس کی واحد دلیل یہ ہے کہ وہ خدا کے پاس آ گیا ہے۔ سوچ، تُو نے کتنی بار خدا کے سامنے اپنی خوبیاں گِنوانے کی کوشش کی؟ آج صرف اُس کے دامن میں چھپ جا، یہی کافی ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
