۲-سموئیل 5
متن
اسرائیل کے قبیلے حبرون آتے ہیں اور داؤد کو اپنا بادشاہ تسلیم کرتے ہیں؛ رب کے حضور عہد باندھا جاتا ہے اور داؤد مسح کیا جاتا ہے۔ اِس کے بعد وہ یبوسیوں کے شہر یروشلم پر قبضہ کرتا ہے، وہاں اپنا دار الحکومت بناتا ہے، صور کے بادشاہ حیرام سے محل تعمیر کرواتا ہے، مزید بیویاں اور داشتائیں رکھتا ہے، اور دو بار فلستیوں کو شکست دیتا ہے۔ دونوں جنگوں سے پہلے وہ ایک ہی کام کرتا ہے: رب سے دریافت کرتا ہے۔
اصل بات
آیت 10 اور آیت 13 ایک دوسرے سے صرف تین جملوں کے فاصلے پر ہیں، اور وہ فاصلہ اِس باب کا اصل سوال ہے۔ ”داؤد زور پکڑتا گیا، کیونکہ رب الافواج اُس کے ساتھ تھا۔“ یہ ’کیونکہ‘ سب کچھ طے کر دیتا ہے: طاقت کمائی ہوئی چیز نہیں، سونپی ہوئی امانت ہے۔ آیت 12 اِسے اور باریک کرتی ہے؛ داؤد جان لیتا ہے کہ رب نے اُس کی بادشاہی ”اپنی قوم اسرائیل کی خاطر“ سرفراز کی ہے۔ یعنی اختیار کسی اور کے فائدے کے لئے دیا جاتا ہے۔ جس لمحے آپ اپنی ترقی، اپنی آمدنی یا اپنے اثر کو اپنی قابلیت کا انعام سمجھنے لگتے ہیں، آپ اُسی لمحے سے اُسے غلط استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ محل تحفہ تھا، تمغہ نہیں۔
سلسلۂ کلام
قبیلے داؤد کو جس لفظ سے پکارتے ہیں وہ ’بادشاہ‘ نہیں بلکہ ’چرواہا‘ ہے: ”تُو میری قوم اسرائیل کا چرواہا بن کر اُس پر حکومت کرے گا۔“ یہ پورے کلامِ مقدّس میں حکمرانی کی سب سے زیادہ کھینچی ہوئی تصویر ہے، کیونکہ چرواہا ریوڑ سے کھاتا نہیں، ریوڑ کے لئے جاگتا ہے۔ داؤد اِس بلانے پر پورا نہیں اترتا، اور یہی خالی جگہ آگے چل کر ایک دوسرے چرواہے کی طرف اشارہ کرتی ہے جو اُسی شہر میں داخل ہوا، مگر پانی کی سرنگ سے نہیں بلکہ گدھے پر، اور جس کی فتح دوسروں کو مارنے سے نہیں، اپنی جان دینے سے حاصل ہوئی۔ داؤد کا شہر آخرکار اُسی کا شہر نکلا۔
آئینہ
غور کیجئے کہ داؤد دوسری جنگ سے پہلے بھی ”رب سے دریافت“ کرتا ہے۔ پہلی بار کامیابی مل چکی تھی؛ نسخہ موجود تھا۔ ہم میں سے اکثر یہیں پھسلتے ہیں۔ جو فیصلہ پچھلی بار درست نکلا، اُسے ہم اگلی بار دعا کے بغیر دہراتے ہیں۔ اور خدا کا جواب اِس بار مختلف ہے: ”اِس مرتبہ اُن کا سامنا مت کرنا بلکہ اُن کے پیچھے جا کر بکا کے درختوں کے سامنے اُن پر حملہ کر۔“ وہی دشمن، وہی وادی، مگر دوسرا طریقہ۔
یہ بات آپ کے دفتر کی حکمتِ عملی پر لاگو ہوتی ہے، آپ کے بڑے ہوتے بیٹے کے ساتھ گفتگو کے انداز پر، اُس رشتے پر جہاں آپ نے دس سال سے ایک ہی لہجہ آزمایا ہے۔ تجربہ برکت ہے، مگر تجربہ دعا کا متبادل نہیں۔
آج ہی دس منٹ نکالیں: وہ ایک فیصلہ لکھیں جو آپ دل میں پہلے ہی کر چکے ہیں اور جس کے بارے میں آپ نے خدا سے کچھ نہیں پوچھا، اور پھر اُسے بلند آواز میں سوال کی صورت میں خدا کے سامنے رکھیں، اعلان کی صورت میں نہیں۔
پہلا سامع
جو لوگ یہ باب پہلی بار سن رہے تھے، وہ خانہ جنگی کی یادیں رکھتے تھے۔ ساڑھے سات سال تک ایک قوم دو ٹکڑوں میں بٹی رہی تھی۔ اِس لئے بزرگوں کا جملہ ”ہم آپ ہی کی قوم اور آپ ہی کے رشتے دار ہیں“ محض خوشامد نہیں، ایک زخم کا اعتراف ہے۔ وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ یروشلم کسی قبیلے کی ملکیت نہیں تھا؛ یبوسیوں سے لیا گیا یہ شہر غیر جانب دار زمین تھا، اِس لئے شمال اور جنوب دونوں اُسے قبول کر سکتے تھے۔ اور حیرام کا وفد؟ وہ بین الاقوامی تسلیم کا اعلان تھا۔ بعد کی نسلوں نے، جنہوں نے یہی شہر کھوتے دیکھا، یہ باب آنسوؤں کے ساتھ پڑھا ہو گا۔
ایک تفصیل
”لنگڑوں اور اندھوں“ والا فقرہ اِس باب کا سب سے کھردرا حصہ ہے۔ پہلے یبوسی طعنہ دیتے ہیں کہ معذور بھی داؤد کو روکنے کے لئے کافی ہیں۔ پھر داؤد اُسی طعنے کو اُٹھا کر نفرت میں بدل دیتا ہے: ”اُن لنگڑوں اور اندھوں کو مارے جن سے میری جان نفرت کرتی ہے۔“ اور آخر میں وہ ایک محاورہ بن جاتا ہے، ایک پالیسی: معذور گھر میں نہیں آ سکتے۔ دیکھئے یہ کیسے ہوا۔ دشمن کی توہین نے فاتح کی زبان بنا دی۔ جس چیز کا آپ مذاق سنتے ہیں، اُسی کا مذاق آپ اُڑانے لگتے ہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ داؤد خود بعد میں ایک لنگڑے آدمی، مفی بوست، کو اپنی میز پر بٹھاتا ہے۔ نفرت کا محاورہ ٹوٹ سکتا ہے، مگر توڑنا پڑتا ہے۔
سوال
آیت 13 بغیر کسی تبصرے کے گزر جاتی ہے: داؤد مزید بیویاں اور داشتائیں رکھتا ہے۔ کوئی ملامت نہیں، کوئی تنبیہ نہیں، صرف بیٹوں کی فہرست۔ کیا خدا اِس پر خاموش ہے؟ کہانی کی خاموشی رضامندی نہیں۔ اِسی فہرست سے وہ خاندان نکلے گا جس میں بھائی بھائی کا خون کرے گا اور بیٹا باپ کے خلاف بغاوت کرے گا۔ متن ہمیں فیصلہ سنانے کی جلدی نہیں دکھاتا، بیج بوتے ہوئے دکھاتا ہے۔ اور یہی بے چین کرنے والی بات ہے: خدا اُس آدمی کے ساتھ تھا جو اُسی وقت اپنے لئے ایسی چیزیں جمع کر رہا تھا جو آگے چل کر اُسے زخمی کریں گی۔ فضل بُرائی کو جائز نہیں ٹھہراتا؛ وہ صرف اُس کے باوجود کام کرتا رہتا ہے، اور یہ راحت سے زیادہ ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔
غور و فکر
آپ کے پاس اِس وقت جو اختیار، وقت یا پیسہ ہے، وہ کس شخص یا کس جماعت ”کی خاطر“ آپ کو دیا گیا ہے؟ کیا آپ اُس کا نام لے سکتے ہیں؟
کون سا کامیاب نسخہ آپ اِتنی بار دہرا چکے ہیں کہ اب آپ اُس کے بارے میں دعا کرنا ہی بھول گئے ہیں؟
2 Samuel 5 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۲-سموئیل 5 کا کیا مطلب ہے؟
۲-سموئیل 5 کس بارے میں ہے؟
۲-سموئیل 5 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۲-سموئیل 5 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۲-سموئیل 5 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی 2 Samuel 5 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
داؤد اُسی دشمن کے سامنے دوبارہ کھڑا تھا، مگر اِس بار اللہ نے پچھلا نسخہ نہیں دہرایا۔ اُسے انتظار کرنا پڑا: ”جوں ہی تجھے بکا کے درختوں کی چوٹیوں میں قدموں کی چاپ سنائی دے تو فوراً حملہ کرنا۔“ فتح کا راز تلوار میں نہیں، سننے میں تھا۔ کیا تُو بھی اُس آہٹ کے لئے ٹھہرنا سیکھے گا، یا پچھلی کامیابی دہرانے کی جلدی میں ہے؟
اے خدا، داؤد نے جیسا تُو نے کہا ویسا ہی کیا، اور تُو نے راستہ کھول دیا۔ مجھے بھی یہی سادہ فرمانبرداری سکھا، کہ اپنی سمجھ سے آگے نہ نکلوں اور تیرے وقت کا انتظار کروں۔ میری جیت میری طاقت نہیں، تیرا ساتھ ہے۔
وہی دشمن، وہی وادی، لیکن اِس بار رب کا حکم بدل گیا: ”اِس دفعہ اُن پر سیدھا حملہ مت کرنا بلکہ اُن کے پیچھے جا کر بکا کے درختوں کے سامنے اُن پر حملہ کرنا۔“ داؤد نے پچھلی فتح کو نسخہ نہیں بنایا، اُس نے دوبارہ پوچھا۔ تُو بھی شاید کسی پرانی آزمائش سے گزر رہا ہے۔ پوچھ لے۔ ہو سکتا ہے خدا اِس بار نیا راستہ دکھائے۔
داؤد نے پہلے قلعے میں رہائش اختیار کی، پھر تعمیر شروع کی۔ اور غور کریں کہ وہ تعمیر کس طرف بڑھی: "وہ ملو سے شروع ہوئی اور اندر کی طرف بڑھتی گئی۔" باہر سے اندر کی طرف۔ ہم اکثر اُلٹا چاہتے ہیں، کہ باہر کی دیواریں اونچی ہوں اور لوگ دیکھیں۔ مگر خدا آپ کی زندگی میں اندر کی طرف کام کر رہا ہے، وہاں جہاں کوئی نہیں دیکھتا۔ کیا آپ اُسے اندر آنے دیں گے؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
