۳-یوحنا 1
متن
بزرگ یوحنا اپنے عزیز گیُس کو لکھتے ہیں: میری دعا ہے کہ آپ جسمانی طور پر بھی اُتنے ہی تندرست ہوں جتنے آپ روحانی لحاظ سے ہیں۔ مسافر بھائیوں نے جماعت کے سامنے گواہی دی ہے کہ گیُس اجنبیوں کی مہمان نوازی میں وفاداری دکھاتا ہے، اور یوحنا اُسے کہتے ہیں کہ اِن مسافروں کو آگے کے سفر کے لئے بھی رخصت کرے۔ پھر ایک تلخ بات: دیترفیس، جو "اوّل ہونے کی خواہش" رکھتا ہے، نہ رسول کو قبول کرتا ہے، نہ مسافروں کو، اور جو کرنا چاہتے ہیں اُنہیں جماعت سے نکال دیتا ہے۔ آخر میں دیمیتریُس کی نیک شہرت، اور یہ وعدہ کہ باقی باتیں قلم اور سیاہی سے نہیں، رُوبرُو ہوں گی۔
پس منظر
پہلی صدی کے آخر میں ایشیائے کوچک کی سڑکوں پر سفر کرنا آسان نہ تھا۔ سرائے بدنام تھیں، مہنگی تھیں، اور اکثر جسم فروشی اور چوری کے اڈے۔ مسیح کے نام پر نکلے ہوئے مبشر نہ کوئی چندہ اکٹھا کرتے تھے، نہ کسی مندر کی سرپرستی میں تھے: "وہ مسیح کے نام کی خاطر سفر کے لئے نکلے ہیں اور غیرایمان داروں سے مدد نہیں لیتے۔" یعنی اُن کی روٹی، بستر اور سفرِ آگے کا خرچ صرف ایمان داروں کے گھروں سے آتا تھا۔ جماعتیں گھروں میں جمع ہوتی تھیں، اور جس کے پاس بڑا صحن ہوتا وہی میزبان بنتا، اور میزبان کے پاس اثر بھی آ جاتا۔ گیُس اور دیترفیس دونوں اِسی دنیا کے آدمی ہیں: ایک دروازہ کھولتا ہے، دوسرا کنڈی چڑھاتا ہے۔
پہلے سننے والے
سوچئے کہ گیُس یہ خط اپنے گھر کے آنگن میں پڑھ رہا ہے، شاید اُسی چراغ کی روشنی میں جس کے نیچے پچھلے ہفتے دو اجنبی بھائی سوئے تھے۔ اُس کے کان اُن الفاظ کو یوں سنتے ہیں جیسے ہم نہیں سنتے۔ "اُن کی سفر کے لئے یوں مدد کریں کہ اللہ خوش ہو" اُس کے لئے ایک نرم مشورہ نہیں، ایک عملی فہرست ہے: روٹی، جوتے، راستے کا کرایہ، اگلے شہر میں کسی جان پہچان والے کا نام۔ اور "جماعت سے نکال دیتا ہے" اُس ماحول میں محض ناراضی نہیں، معاشی اور سماجی موت کے قریب ہے، کیونکہ چھوٹی جماعت ہی اُس کا خاندان، اُس کا رشتہ اور اُس کی حفاظت تھی۔ دیترفیس کا نام سن کر اُس کے پیٹ میں گرہ پڑتی ہے۔
مرکزی بات
یوحنا "سچائی" کو کسی نظری عقیدے کی طرح پیش نہیں کرتے بلکہ چلنے پھرنے والی چیز کی طرح: "آپ کس طرح سچائی کے مطابق زندگی گزارتے ہیں"، لفظی طور پر سچائی میں چلنا۔ اور اِس خط میں اُس چلنے کی پیمائش دروازے سے ہوتی ہے۔ کیا آپ کا دروازہ اُن کے لئے کھلتا ہے جو "آپ کے جاننے والے نہیں ہیں"؟ یہی خدا کا طریقہ ہے، جو ہمیں پہچانے بغیر نہیں، بلکہ اجنبی ہوتے ہوئے قبول کرتا ہے۔ اِس لئے آیت 8 حیرت انگیز ہے: مہمان نوازی کرنے والا "سچائی کا ہم خدمت" بن جاتا ہے۔ یعنی جو منبر پر نہیں کھڑا، جو کوئی خطبہ نہیں دیتا، مگر بستر بچھاتا ہے، وہ انجیل کے کام کا شریک ہے، تماشائی نہیں۔
سلسلۂ کلام
خدا کی قوم ہمیشہ سے مسافروں کی قوم رہی ہے۔ ابرہام کا خیمہ، مصر میں پردیسی، بابل کے راستے، اور پھر وہ جس کے پاس "سر رکھنے کی جگہ" نہ تھی۔ مسیح نے اپنے شاگردوں کو بھی بغیر توشہ دان بھیجا، اِس اعتماد پر کہ کوئی گھر اُنہیں قبول کرے گا۔ 3-یوحنا اُسی سلسلے کی ایک چھوٹی مگر روشن کڑی ہے: انجیل کسی سرکاری نظام سے نہیں، بلکہ ایک کے بعد دوسرے کھلے دروازے سے دنیا میں پھیلی۔ اِسی لئے دیترفیس کا گناہ صرف بدتمیزی نہیں، وہ اُس زنجیر کی ایک کڑی توڑ رہا ہے جس کے ذریعے مسیح کا نام آگے بڑھتا ہے۔ جو دروازہ بند کرتا ہے، وہ راستہ بند کرتا ہے۔
آئینہ
"اوّل ہونے کی خواہش" کو پہچاننا مشکل نہیں، مشکل یہ ہے کہ ہم اُسے اپنے اندر پہچانیں۔ دیترفیس غالباً کوئی گمراہ معلم نہیں تھا؛ اُس کا عقیدہ درست ہو سکتا ہے۔ اُس کا مسئلہ یہ تھا کہ جماعت اُس کے قد کا پیمانہ بن گئی تھی۔ کیا آپ کو بھی وہ لمحہ معلوم ہے جب کوئی نیا آدمی آتا ہے جو زیادہ قابل ہے، اور آپ کے دل میں خوشی کے بجائے حساب شروع ہو جاتا ہے؟ یا وہ لمحہ جب مہمان نوازی کا خرچ سامنے آتا ہے: صاف چادریں، ٹوٹی نیند، وہ ہفتہ جو آپ نے اپنے لئے رکھا تھا۔ گیُس کی وفاداری کوئی جذبہ نہیں، عادت ہے، اور عادتیں مہنگی ہوتی ہیں۔ سچائی میں چلنا آپ کے بجٹ اور آپ کے کیلنڈر میں لکھا ہوتا ہے۔
کلام کی گونج
آیت 11 پہلے خط کی گونج ہے، جہاں یوحنا لکھتے ہیں کہ جو محبت نہیں رکھتا وہ خدا کو نہیں جانتا۔ یہاں وہی بات مہمان نوازی پر لاگو ہوتی ہے: "جو بُرا کام کرتا ہے اُس نے اللہ کو نہیں دیکھا۔" یعنی دروازہ بند کرنا خدا کے بارے میں ایک بیان ہے۔ دوسری گونج مسیح کے اُس فیصلے سے ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ جو تم نے میرے سب سے چھوٹے بھائیوں میں سے ایک کے ساتھ کیا، میرے ساتھ کیا۔ گیُس نہیں جانتا تھا کہ وہ کس کی خدمت کر رہا ہے، اور یہی مہمان نوازی کی خوبصورتی ہے: وہ اجنبی چہرے میں خداوند کو قبول کرتی ہے۔
غور و فکر
آپ کی جماعت میں سب سے آسانی سے کون "جماعت سے نکال دیا" جاتا ہے، اور آپ کہاں کھڑے ہوتے ہیں جب ایسا ہوتا ہے؟
پچھلے مہینے میں آپ کے وقت، پیسے یا گھر کا کوئی ایسا خرچ بتائیے جس سے واقعی ثابت ہو کہ آپ "سچائی کے ہم خدمت" ہیں، نہ صرف اُس کے سننے والے۔
3 John 1 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۳-یوحنا 1 کا کیا مطلب ہے؟
۳-یوحنا 1 کس بارے میں ہے؟
۳-یوحنا 1 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۳-یوحنا 1 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۳-یوحنا 1 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی 3 John 1 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
دیمیتریُس کے بارے میں لکھا ہے، ”سب اُس کے بارے میں اچھی گواہی دیتے ہیں، بلکہ سچائی خود بھی اُس کے حق میں گواہی دیتی ہے۔“ سوچیں، سچائی خود گواہ بن جائے! یعنی اُس کی زندگی اور خدا کا کلام ایک ہی بات کہتے تھے۔ لوگ آپ کی تعریف کریں یا نہ کریں، سوال یہ ہے: کیا آپ کے کام آپ کے ایمان کی تصدیق کرتے ہیں؟
یوحنا اُن مسافر خادموں کی بات کر رہا ہے جو صرف مسیح کے نام کی خاطر نکلے اور غیرایمانداروں سے کچھ لینا گوارا نہ کیا۔ اُن کے لیے دروازہ کھولنا معمولی بات لگتی ہے، مگر لکھا ہے: "چنانچہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ایسے لوگوں کی مہمان نوازی کریں تاکہ ہم سچائی کی خدمت میں اُن کے ہم خدمت بن جائیں۔" آپ کی روٹی، آپ کا کمرہ، آپ کا وقت بھی خدمت بن سکتا ہے۔ کیا کوئی ایسا ہے جسے آپ آج تھام سکتے ہیں؟
یوحنا خالی اصول نہیں دے رہا۔ اُس کے سامنے دو چہرے ہیں: دیترفیس جو سب سے آگے رہنا چاہتا تھا، اور دیمیتریس جس کی نیکی کی سب گواہی دیتے تھے۔ اِسی لیے وہ لکھتا ہے، "بُرائی کے نمونے پر نہ چلیں بلکہ بھلائی کے نمونے پر۔" ہم سب کسی کی نقل کر رہے ہیں۔ سوچیں، آپ آج کس کے جیسے بن رہے ہیں؟ اور کون آپ کو دیکھ کر سیکھ رہا ہے؟
یوحنا کو خوشی کسی بڑی کامیابی کی خبر سے نہیں ملی۔ سفر سے لوٹنے والے بھائیوں نے بس اتنا بتایا کہ گیُس ”سچائی میں چلتا رہتا ہے“، اور بوڑھے رسول کا دل بھر آیا۔ سوچو، لوگ جو تمہارے بارے میں گھر جا کر بتاتے ہیں، وہ کیا ہے؟ تمہاری زبان کی سچائی صرف مانی نہیں جاتی، چلی جاتی ہے، قدم بہ قدم، اور کوئی دُور بیٹھا اُس سے خوش ہوتا ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
