اعمال 26
متن
قیصریہ کے دربار میں پولس زنجیروں سمیت کھڑا ہے اور اگرپا بادشاہ اُسے بولنے کی اجازت دیتا ہے۔ وہ اپنی فریسی پرورش سے بات شروع کرتا ہے، پھر بتاتا ہے کہ کس طرح دمشق کی سڑک پر دوپہر بارہ بجے اُس نے سورج سے تیز روشنی دیکھی اور اُس آواز کو سنا جس نے اُس کی زندگی کا رُخ پلٹ دیا۔ وہ اپنی صفائی کو گواہی میں بدل دیتا ہے، فیستس اُسے دیوانہ کہتا ہے، اگرپا ٹال جاتا ہے، اور جلسہ اِس فیصلے پر برخاست ہوتا ہے کہ یہ آدمی سزا کے لائق نہیں۔
مرکزی بات
یہ باب ہمیں دکھاتا ہے کہ انجیل کی جڑ کسی نئے مذہب میں نہیں بلکہ اُس وعدے میں ہے جو خدا نے صدیوں پہلے کیا تھا۔ پولس اپنی صفائی میں یہ نہیں کہتا کہ میں بےقصور ہوں کیونکہ میں نے کوئی قانون نہیں توڑا؛ وہ کہتا ہے کہ میری عدالت اِس لئے ہو رہی ہے ”کہ مَیں اُس وعدے پر اُمید رکھتا ہوں جو اللہ نے ہمارے باپ دادا سے کیا۔“ یعنی مقدمہ پولس کا نہیں، خدا کی وفاداری کا ہے۔ اور اُس وفاداری کا ثبوت قیامت ہے۔ اِسی لئے پولس کا سوال اتنا تیکھا ہے: ”یہ خیال کیوں ناقابلِ یقین لگتا ہے کہ اللہ مُردوں کو زندہ کر دیتا ہے؟“ ایمان یہاں جذبات کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک ایسے خدا پر بھروسا ہے جو قبر سے بھی اپنا وعدہ نکال لاتا ہے۔
سلسلۂ کلام
پولس خود ہی وہ دھاگا پکڑا دیتا ہے: ”جو کچھ مَیں سناتا ہوں وہ وہی کچھ ہے جو موسیٰ اور نبیوں نے کہا ہے، کہ مسیح دُکھ اُٹھا کر پہلا شخص ہو گا جو مُردوں میں سے جی اُٹھے گا۔“ دُکھ اُٹھانے والا اور پھر جی اُٹھنے والا مسیح کوئی اچانک نیا خیال نہیں، وہ اُس لمبی کہانی کا انجام ہے جو ابرہام سے شروع ہوئی۔ اور آیت اٹھارہ میں جو کام مسیح پولس کے سپرد کرتے ہیں، آنکھیں کھولنا، تاریکی سے نور کی طرف پھیرنا، میراث میں شریک کرنا، وہ یسعیاہ کے اُس خادم کی زبان ہے جسے قوموں کا نور ٹھہرایا گیا۔ مسیح کا کام اب اُن کے گواہ کے ذریعے قوموں تک پھیل رہا ہے۔
آئینہ
ہم سب اپنی زندگی کی ایک ایسی کہانی گھڑ لیتے ہیں جس میں ہم معقول دکھائی دیں۔ پولس یہ آسان راستہ چھوڑ دیتا ہے۔ وہ بادشاہ کے سامنے اپنے سب سے شرمناک باب کو کھول کر رکھ دیتا ہے: ”جب کبھی اُنہیں سزائے موت دینے کا فیصلہ کرنا تھا تو مَیں نے بھی اِس حق میں ووٹ دیا۔“ ہم اپنے ماضی کو دفتر میں، خاندان میں، پرانی دشمنیوں میں چھپاتے ہیں تاکہ عزت بچی رہے۔ پولس اُسے فضل کا ثبوت بنا دیتا ہے۔ اور جب طعنہ آتا ہے، ”ہوش میں آؤ! علم کی زیادتی نے تمہیں دیوانہ کر دیا ہے“، تو وہ نہ غصے میں آتا ہے نہ خاموش ہوتا ہے۔ آج ہی اپنی ڈائری یا فون پر تین سطروں میں لکھیں کہ مسیح نے آپ کو کس چیز سے نکالا، اور وہ تین سطریں کسی ایک شخص کو بھیج دیں۔
کلام کی گونج
اعمال کی کتاب میں پولس کی گواہی تین بار آتی ہے، اور یہ تیسری اور آخری صورت سب سے کھلی ہے: یہاں پہلی بار خداوند خود اُسے قوموں کے پاس بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے نقل کیے گئے ہیں۔ لوقا یہ تکرار بےکار نہیں کرتا؛ وہ دکھانا چاہتا ہے کہ غیریہودیوں تک انجیل کا جانا کلیسیا کی حکمتِ عملی نہیں بلکہ آسمانی حکم تھا۔ دوسری گونج خود خداوند یسوع کے اُس وعدے کی ہے کہ شاگردوں کو حاکموں اور بادشاہوں کے سامنے کھینچا جائے گا اور یہی اُن کے لئے گواہی دینے کا موقع بنے گا۔ باب چھبیس اُس وعدے کی تصویر ہے: کٹہرا منبر بن جاتا ہے۔
سامعین کا نقشہ
تصور کیجئے: قیصریہ کا شاہی ایوان، سمندر کی نمکین ہوا، ہیرودیس کا بنایا ہوا سنگِ مرمر، فوجی افسروں کے چمکتے نشان، شہر کے رئیس، اور اندر آتا ہوا اگرپا دوم اپنی بہن برنیکے کے ساتھ، جن کے تعلق پر روم تک میں سرگوشیاں تھیں۔ یہ سب کچھ ”بڑی شان و شوکت“ کے ساتھ تھا۔ اور اُن کے سامنے ایک چھوٹے قد کا قیدی، زنجیروں میں۔ لوقا کے پہلے قارئین، جو خود رومی عدالتوں سے ڈرتے تھے، اِس منظر میں اپنی جگہ پہچانتے تھے۔ اُنہیں یہ سننا تھا کہ طاقت کے کمرے میں بھی سچائی کی زبان بند نہیں ہوتی، اور یہ بھی کہ رومی حاکم خود اعتراف کرتے ہیں: ”اِس آدمی نے کچھ نہیں کیا جو سزائے موت یا قید کے لائق ہو۔“
مرکزی کردار
پولس اِس کمرے میں سب سے کمزور اور سب سے آزاد آدمی ہے۔ وہ اگرپا کی مذہبی واقفیت کا ادب سے ذکر کرتا ہے، مگر خوشامد پر نہیں رُکتا؛ وہ سیدھا سوال داغ دیتا ہے: ”کیا آپ نبیوں پر ایمان رکھتے ہیں؟“ اور جب بادشاہ طنزیہ ٹال مٹول کرتا ہے، تو پولس کا جواب اُس کے دل کا اصل نقشہ کھول دیتا ہے: ”مَیں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ نہ صرف آپ بلکہ تمام حاضرین میری مانند بن جائیں، سوائے میری زنجیروں کے۔“ نہ تلخی، نہ شکایت، نہ رہائی کی بھیک۔ ایک آدمی جو اپنی قید کو بھی دوسروں کے لئے نہیں چاہتا، مگر اپنا مسیح سب کے لئے چاہتا ہے۔ یہی فضل کا چہرہ ہے۔
غور و فکر
اگر آپ کو آج اپنی زندگی کا حساب دینا پڑے، تو آپ اپنی صفائی پیش کریں گے یا مسیح کی گواہی؟
پولس نے اپنی زنجیریں کسی کے لئے نہیں چاہیں، مگر اپنا ایمان سب کے لئے۔ آپ کی زندگی میں وہ کون ہے جس کے لئے آپ یہی دعا کر سکتے ہیں؟
Acts 26 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
اعمال 26 کا کیا مطلب ہے؟
اعمال 26 کس بارے میں ہے؟
اعمال 26 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
اعمال 26 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
اعمال 26 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Acts 26 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
