کُلسِیوں 1
متن
پولس رسول کُلُسّے کی جماعت کو خط لکھتا ہے، اُن کے ایمان اور محبت پر خدا کا شکر ادا کرتا ہے، اور دعا کرتا ہے کہ وہ روحانی حکمت میں بڑھتے جائیں۔ پھر اچانک وہ ایک عظیم گیت کی طرف بڑھ جاتا ہے: مسیح اَن دیکھے خدا کی صورت ہے، تمام کائنات کا خالق، سر اور مقصد۔ اُسی کے صلیبی خون سے آسمان و زمین کی صلح ہوئی۔ آخر میں پولس اُس "راز" کا ذکر کرتا ہے جو نسلوں سے پوشیدہ تھا: "مسیح آپ میں ہے"۔
مغز
اِس باب کا مرکز آیت 15 سے 20 تک کا مسیحی گیت ہے، جو شاید ابتدائی کلیسیا میں گایا جاتا تھا۔ یہاں پولس کوئی نئی بات ایجاد نہیں کر رہا، بلکہ ایک ایسی سچائی سامنے رکھتا ہے جو کائنات کے بارے میں ہمارے پورے تصور کو الٹ دیتی ہے: جس نجّار کو رومیوں نے صلیب دی، وہی وہ ہستی ہے جس کے ذریعے ستارے، تخت اور اختیار وجود میں آئے۔ مسیح صرف نجات دہندہ نہیں، وہ خالق بھی ہے، اور وہ محافظ بھی، "اُسی میں سب کچھ قائم رہتا ہے"۔ خدا کے بارے میں سوچنے کا مسیحی طریقہ یہ ہے: اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ خدا کیسا ہے، مسیح کو دیکھیے۔ اُس سے پرے کوئی چھپا ہوا خدا نہیں۔
سلسلہ
عبرانی صحیفے ایک ایسے خدا کی گواہی دیتے ہیں جو تخلیق کرتا ہے، عہد باندھتا ہے، اور اپنے لوگوں کو "روشنی میں" چلنے کو بلاتا ہے۔ پولس یہاں وہی دھاگے اٹھاتا ہے۔ جب وہ کہتا ہے مسیح "پہلوٹھا" ہے، تو یہ اسرائیل کی زبان ہے: پہلوٹھا وہ ہے جو میراث کا وارث ہے، جو خاندان کا نمائندہ ہے۔ مسیح نئی انسانیت کا پہلوٹھا ہے، مُردوں میں سے پہلا جی اٹھنے والا۔ اور آیت 20 میں "صلح" کا لفظ عبرانی "شالوم" کی گونج ہے، وہ مکمل بحالی جس کے انبیاء منتظر تھے۔ پرانے عہد نامے کا ہر سایہ، ہر قربانی، ہر بادشاہ، ہر ہیکل، اُس ایک شخص کی طرف اشارہ تھا جس کا خون صلیب پر بہا تاکہ آسمان و زمین دوبارہ جڑ جائیں۔ پولس یہ نہیں کہہ رہا کہ پرانا عہد نامہ ختم ہو گیا؛ وہ کہہ رہا ہے کہ اُس کی منزل آ گئی۔
آئینہ
آیت 21 کھردری ہے: "آپ بھی پہلے اللہ کے سامنے اجنبی تھے اور دشمن کی سی سوچ رکھ کر بُرے کام کرتے تھے۔" یہ ماضی کی بات نہیں جو ایمان کے بعد پوری طرح مٹ گئی۔ ہم میں سے کتنے ایسے ہیں جو اتوار کو عبادت کرتے ہیں اور پیر کو دفتر میں، گھر میں، پیسے کے معاملے میں ایسے فیصلے کرتے ہیں جیسے مسیح وہاں موجود ہی نہیں؟ ہم اجنبیت کو پرانی عادت کی طرح پہنے پھرتے ہیں۔ پولس کہتا ہے: اب ایسا نہیں۔ آپ کو "مُقدّس، بےداغ اور بےالزام" کھڑا کرنے کے لیے مسیح کا بدن توڑا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا آپ اِس نئی شناخت میں جینے کو تیار ہیں، یا پرانی دشمنی سے چمٹے رہنا زیادہ آسان لگتا ہے؟ اور آیت 23 کا لفظ "قائم رہیں" یاد دلاتا ہے: ایمان کوئی ایک بار کا فیصلہ نہیں، وہ ایک ٹھوس بنیاد پر کھڑے رہنے کی روزانہ محنت ہے۔
بین المتن
یوحنا 1 کی گونج یہاں صاف سنائی دیتی ہے: "کلام کے وسیلے سے سب کچھ خلق ہوا۔" دونوں رسول ایک ہی سچائی کہہ رہے ہیں، مختلف الفاظ میں۔ اور جب پولس کہتا ہے کہ مسیح "اللہ کی صورت" ہے، تو پیدائش 1:27 سنائی دیتی ہے، جہاں انسان خدا کی صورت پر بنایا گیا۔ مسیح وہ سچا انسان ہے جو ہم بننا تھے مگر بن نہ سکے۔ آدم گرا، مسیح کھڑا رہا۔ آیت 27 کا "راز" افسیوں کے خط سے جڑا ہے: غیریہودی بھی اُس میراث میں شریک ہیں۔ صدیوں سے یہ نبیوں کی زبان پر آدھا ادا ہوتا تھا؛ اب پولس کہتا ہے، یہ کھل گیا۔
سوال
آیت 24 ٹھوکر کھلاتی ہے: پولس اپنے دُکھوں سے "مسیح کی مصیبتوں کی کمیاں" پوری کرتا ہے۔ کیا مسیح کی قربانی ناقص تھی؟ نہیں، صلیبی کام مکمل ہے، یہ باب خود کہہ رہا ہے۔ لیکن مسیح کے جسم یعنی کلیسیا کو دنیا میں ابھی بھی دُکھ اٹھانا ہے، اور پولس اپنے حصے کی تکلیف کو اُس جاری سلسلے کا حصہ سمجھتا ہے۔ یہ بات ہضم کرنا مشکل ہے، خاص طور پر جب ہم دُکھ سے بچنے کو ایمان کی کامیابی سمجھتے ہیں۔ پولس اُلٹ کہتا ہے: "مَیں خوشی مناتا ہوں۔" یہاں کوئی مسوکیت نہیں، بلکہ یہ یقین ہے کہ اُس کی تکلیف بھی مسیح کے کام میں شامل ہو گئی ہے۔ اِس راز کو پوری طرح حل کرنا شاید ممکن نہیں۔
پس منظر
کُلُسّے ایک چھوٹا شہر تھا، اور وہاں
Colossians 1 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
کُلسِیوں 1 کا کیا مطلب ہے؟
کُلسِیوں 1 کس بارے میں ہے؟
کُلسِیوں 1 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
کُلسِیوں 1 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
کُلسِیوں 1 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Colossians 1 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
پولس تین بار ایک ہی لفظ دہراتا ہے: "ہر ایک کو سمجھاتے اور ہر ایک کو پوری حکمت کے ساتھ تعلیم دیتے ہیں تاکہ ہر ایک کو مسیح میں کامل حالت میں پیش کر سکیں۔" کوئی چھوٹا نہیں، کوئی چھوٹ نہیں گیا۔ سوچ، کیا تیری کلیسیا میں کوئی ایسا ہے جسے تُو نے خاموشی سے فہرست سے نکال دیا ہے؟ مسیح اُسے بھی کامل دیکھنا چاہتا ہے۔
اے خداوند یسوع، تُو ہی سب کا سر ہے، اور میری زندگی بھی تیری ہی ہے۔ مجھے معاف کر کہ میں اکثر خود کو اوّل رکھ لیتا ہوں۔ آج میرا دل، میرے فیصلے اور میرے رشتے تیرے حوالے ہیں۔ تُو ہر بات میں پہلا ہو، اور میں خوشی سے تیرے پیچھے چلوں۔
صدیوں تک یہ بھید چھپا رہا، اور جب کھلا تو حیران کن نکلا: "مسیح آپ میں ہے۔" پولس یہ بات اُن لوگوں کو لکھ رہا ہے جو خود کو اللہ سے سب سے دُور سمجھتے تھے، غیریہودی، اجنبی، باہر والے۔ آج بھی سوچ یہی ہے کہ مسیح مقدسوں کے قریب رہتا ہے، مجھ جیسے کے نہیں۔ مگر تیرا سینہ ہی وہ جگہ ہے جہاں اُس نے بسنا چُنا۔ تیری اُمید کسی دُور کی چیز پر نہیں، اندر رہنے والے پر ٹکی ہے۔
پولس رسول کُلسّیوں کے ایمانداروں کے بارے میں لکھتا ہے: "کیونکہ ہم نے تمہارے ایمان کا جو مسیح یسوع پر ہے اور اُس محبت کا جو سب مُقدسوں سے رکھتے ہو حال سنا ہے۔"
غور کیجئے، پولس اُن سے کبھی نہیں ملا تھا۔ پھر بھی اُن کا ایمان اور محبت اتنی مہک رہی تھی کہ خبر دور دور تک پہنچ گئی۔ سوچیں، کیا آپ کی زندگی سے بھی ایسی خوشبو اُٹھتی ہے کہ کوئی اجنبی بھی مسیح کو آپ میں دیکھ سکے؟ ایمان صرف دل میں نہیں رہتا، وہ محبت بن کر باہر آتا ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
