اِستِثنا 12:26
متن
آیت ۲۶ ایک سرحد کھینچتی ہے: "لیکن جو چیزیں رب کے لئے مخصوص و مُقدّس ہیں یا جو تُو نے مَنت مان کر اُس کے لئے مخصوص کی ہیں لازم ہے کہ تُو اُنہیں اُس جگہ لے جائے جسے رب مقدِس کے لئے چنے گا۔" اِس سے پہلے موسیٰ نے کھلی چھوٹ دی تھی: عام گوشت اپنے شہر میں، اپنے گھر میں، جس طرح جی چاہے کھا لو۔ لیکن جہاں کوئی چیز خدا کے لئے الگ کی جا چکی ہو، وہاں آزادی ختم ہو جاتی ہے۔ وہ چیز اب تمہاری میز کی نہیں رہی؛ اُسے سفر کرنا ہو گا، اُس جگہ تک جو رب خود چنے گا۔ مخصوص کی ہوئی چیز گھر میں نہیں رہ سکتی۔
مرکزی بات
یہاں دو باتیں ایک ساتھ چلتی ہیں، اور دونوں کو تھامے رکھنا ضروری ہے۔ پہلی: خدا اپنے لوگوں کی روزمرّہ زندگی پر کوئی تنگ، دم گھونٹنے والا پہرہ نہیں بٹھاتا۔ آیت ۱۵ اور ۲۰ میں وہ کہتے ہیں کہ اپنی برکت سے جس طرح جی چاہے کھاؤ۔ ایمان کا مطلب مسلسل مذہبی دباؤ نہیں۔ دوسری، اور یہی وہ جگہ ہے جہاں متن کاٹتا ہے: جو چیز ایک بار خدا کے لئے مخصوص ہو گئی، وہ واپس عام استعمال میں نہیں آ سکتی۔ مَنت زبان سے نکلی ایک جذباتی بات نہیں، بلکہ ملکیت کی منتقلی ہے۔ بحران کی رات میں کیا گیا وعدہ خوش حالی کی صبح میں بھی قائم رہتا ہے۔ خدا ہماری عقیدت کا وہ حصہ قبول نہیں کرتے جو ہم اپنی سہولت کی جگہ پر، اپنی شرائط پر پیش کریں۔ مخصوص ہونے کا مطلب ہے: یہ اب میرا فیصلہ نہیں رہا۔
مشترکہ دھاگا
یہ آیت ایک جگہ کی طرف اشارہ کرتی ہے جو ابھی موجود نہیں: "اُس جگہ لے جائے جسے رب مقدِس کے لئے چنے گا۔" اسرائیل کو ایک ایسے پتے پر چلنا تھا جو ابھی لکھا نہیں گیا تھا۔ بعد میں وہ جگہ یروشلیم ٹھہری، اور پھر ہیکل۔ لیکن جب سامری عورت نے یسوع سے پوچھا کہ سچی عبادت کا مقام کون سا ہے، تو خداوند نے پہاڑ کا نام نہیں لیا بلکہ اپنی طرف اشارہ کیا (یوحنا ۴)۔ چنی ہوئی جگہ آخرکار ایک شخص نکلی۔ اِس سے آیت ۲۶ منسوخ نہیں ہوتی، بلکہ اَور تیز ہو جاتی ہے: جو تم نے خدا کے لئے الگ کیا ہے، اُسے اب بھی گھر پر نہیں رکھا جا سکتا؛ اُسے مسیح تک لے جانا ہے، اُس کے حکم کے تابع، اُس کے بدن یعنی کلیسیا کے درمیان، نہ کہ اپنی نجی عقیدت کے کسی محفوظ گوشے میں۔
آئینہ
ہم سب نے کچھ نہ کچھ مخصوص کیا ہے۔ ہسپتال کے انتظار میں کہا: اگر رپورٹ ٹھیک آ گئی تو مَیں اپنی زندگی بدل دوں گا۔ نوکری ملنے سے پہلے کہا: پہلی تنخواہ سے دسواں حصہ خدا کا۔ بچے کی پیدائش پر کہا: اِسے خداوند کے لئے پالیں گے۔ پھر رپورٹ ٹھیک آ گئی، تنخواہ آ گئی، بچہ بڑا ہو گیا، اور وہ وعدہ خاموشی سے ہمارے بٹوے، ہمارے کیلنڈر اور ہماری سہولت میں واپس جذب ہو گیا۔ یہی وہ چوری ہے جس کا کوئی گواہ نہیں۔ ہم اُسے چوری نہیں کہتے، ہم اُسے "حالات" کہتے ہیں۔ متن یہاں نرمی نہیں برتتا: جو الگ کیا گیا، وہ تمہاری میز کا گوشت نہیں۔ آج دس منٹ نکالو، کاغذ پر وہ ایک وعدہ لکھو جو تم نے خدا سے کیا اور خاموشی سے واپس لے لیا، اور اُس کے نیچے وہ تاریخ لکھو جب تم اُسے پورا کرو گے، پھر بلند آواز سے خدا کے حضور وہ تاریخ کہہ دو۔
ایک تفصیل
لفظ پر غور کرو: "لے جائے"۔ حکم یہ نہیں کہ چیز الگ رکھ دو، بلکہ یہ کہ اُسے اٹھا کر چلو۔ ایک کسان کے لئے اِس کا مطلب تھا: جانور کو باندھو، اناج کی بوری لادو، کئی دن کا سفر کرو، کھیت چھوڑو، اخراجات برداشت کرو۔ فاصلہ خود اطاعت کا حصہ تھا۔ خدا نے یہ آسان نہیں بنایا، حالانکہ وہ بنا سکتے تھے۔ اور یہی وہ بات ہے جو ہماری روحانیت کو چبھتی ہے، کیونکہ ہم عقیدت کو ایسی چیز سمجھتے ہیں جو دل کے اندر، بغیر حرکت کے، بغیر لاگت کے مکمل ہو جائے۔ آیت ۲۶ کہتی ہے: نیت کو ٹانگیں چاہئیں۔ جب تک وہ چیز اٹھائی نہ جائے اور لے جائی نہ جائے، وہ ابھی تمہاری ہے۔
پہلے سننے والے
جو لوگ یہ سن رہے تھے وہ ایسے ملک میں داخل ہونے والے تھے جہاں ہر پہاڑی اور ہر گھنے درخت کے نیچے عبادت کی ایک جگہ موجود تھی (آیت ۲)۔ کنعانی مذہب کی خوبی یہی تھی کہ وہ قریب تھا، سستا تھا، اور ہر خاندان اپنے مطابق چلا سکتا تھا۔ آیت ۲۶ اُس سہولت کو چھین لیتی ہے۔ ایک کسان کے لئے یہ محض عبادت کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ معیشت کا: مخصوص چیزوں کا مرکزی مقام پر جانا یعنی وہ مال اُس کے قابو سے نکل جانا، اور وہیں اُس کے بیٹے بیٹیاں، غلام، لونڈیاں اور بےزمین لاوی سب مل کر کھاتے (آیت ۱۸)۔ یعنی خدا کا حصہ گھر سے نکلتے ہی برادری کی خوراک بن جاتا تھا۔ نجی مذہب ہمیشہ غریب کو بھوکا چھوڑ دیتا ہے۔
مرکزی کردار
اِس آیت میں فیصلہ کرنے والا صرف ایک ہے: "جسے رب مقدِس کے لئے چنے گا۔" خدا خود اپنا پتہ مقرر کرتے ہیں۔ یہ وہ خدا نہیں جو ہماری سہولت کے مطابق دستیاب ہو، جسے ہم اپنی شرائط پر، اپنی جگہ پر، اپنے وقت میں ملنے آئیں۔ اُن کے پاس اختیار ہے اور وہ اُسے استعمال کرتے ہیں۔ مگر ساتھ ہی دیکھو کہ وہ اُس چنی ہوئی جگہ پر کیا کرواتے ہیں: کھانا، خوشی، خاندان، نوکر، لاوی، سب ایک دسترخوان پر (آیت ۷ اور ۱۲)۔ یہ مالک اپنا حق وصول کر کے دروازہ بند نہیں کرتا؛ وہ اپنے حصے کو دعوت میں بدل دیتا ہے۔ سختی اور مہمان نوازی ایک ہی ہاتھ سے آتی ہیں، اور جو پہلی سے بچنا چاہے وہ دوسری سے بھی محروم رہ جاتا ہے۔
غور و فکر
کون سا وعدہ تم نے خدا سے کسی بحران میں کیا تھا، اور وہ اِس وقت کہاں پڑا ہے: اُس جگہ جو رب نے چنی، یا تمہارے اپنے گھر میں؟
تمہاری عقیدت کا کون سا حصہ ایسا ہے جسے تم نے کبھی کسی دوسرے کے ساتھ بانٹا ہی نہیں، اور کیا وہ واقعی خدا کے لئے مخصوص ہے یا صرف تمہارے لئے آرام دہ؟
Deuteronomy 12:26 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
اِستِثنا 12:26 کا کیا مطلب ہے؟
اِستِثنا 12:26 کس بارے میں ہے؟
اِستِثنا 12:26 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
اِستِثنا 12:26 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
اِستِثنا 12:26 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Deuteronomy 12 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خداوند، تیرا شکر کہ تُو نے ہمیں بھٹکتے رہنے کے لیے نہیں چھوڑا بلکہ ایک ٹھکانا دیا ہے۔ تُو ہی ہمیں ارد گرد کے دشمنوں سے محفوظ رکھتا ہے، اِسی لیے ہم آج سکون سے سو سکتے ہیں اور چین کی سانس لے سکتے ہیں۔ یہ آرام تیری ہی بخشش ہے۔
اسرائیل کے لوگ چاہتے تو ہر پہاڑی پر اپنی مرضی کی قربان گاہ بنا سکتے تھے، مگر رب نے کہا: ”وہیں اپنی بھسم ہونے والی قربانیاں چڑھانا اور وہ کچھ کرنا جو مَیں تجھے بتاتا ہوں۔“ پرستش ہماری پسند کا معاملہ نہیں۔ اور یہی اِس میں تسلی بھی ہے: خدا نے خود ایک جگہ چنی تاکہ تُو اُسے ڈھونڈتا نہ پھرے۔ آج تُو اُسے کہاں ملنا چاہتا ہے، اپنی شرطوں پر یا اُس کی؟
خون کو زمین پر اُنڈیل دینا کوئی بےکار رسم نہیں تھی۔ ہر بار جب اسرائیلی گوشت کھاتے، اُنہیں یاد دلایا جاتا کہ جان خدا کی ملکیت ہے، میری نہیں۔ "اُسے مت کھانا بلکہ اُسے پانی کی طرح زمین پر اُنڈیل دینا۔" سوچ، تیرے روزمرہ کے کھانے میں بھی کیا کوئی لمحہ ہے جب تُو رُک کر مانتا ہے کہ یہ زندگی تجھے دی گئی ہے؟ اور مسیح نے اپنا خون زمین پر بہایا، تاکہ تُو جی سکے۔
ریگستان میں ہر ذبیحہ مقدِس تک لانا پڑتا تھا، لیکن ملک میں داخل ہوتے وقت خدا کہتا ہے کہ اپنے گھر میں بھی گوشت کھا سکتے ہو: ”ناپاک اور پاک شخص دونوں اُسے کھا سکتے ہیں۔“ یعنی وہ صرف عبادت کے لمحوں کا خدا نہیں، آپ کے سادہ سے دسترخوان کا بھی خدا ہے۔ کیا آپ اُسے صرف اتوار کو یاد کرتے ہیں، یا اپنی ہر پلیٹ پر بھی؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں