واعظ 11
متن کا منظر
صبح کا دھندلکا ہے۔ ایک کسان اپنے کھیت کے کنارے کھڑا ہے، بیج کی بوری کندھے پر، اور اُس کی آنکھیں آسمان پر ٹکی ہیں۔ ہَوا کا رُخ بدلتا ہے۔ وہ رُک جاتا ہے۔ بادل جمع ہوتے ہیں، پھر بکھر جاتے ہیں۔ وہ پھر رُک جاتا ہے۔ سورج بلند ہو جاتا ہے، دوپہر ڈھل جاتی ہے، اور بیج اب بھی بوری میں ہے۔ واعظ اُس کے پیچھے کھڑا ہے اور ہنستا نہیں، بس ٹھنڈے لہجے میں کہتا ہے: "جو ہر وقت ہَوا کا رُخ دیکھتا رہے وہ کبھی بیج نہیں بوئے گا۔"
یہ باب اِسی کسان سے شروع ہوتا ہے اور ایک نوجوان پر ختم ہوتا ہے جسے کہا جاتا ہے کہ جوانی کے مزے لے، مگر یاد رکھے کہ حساب دینا ہو گا۔ درمیان میں روٹی پانی پر پھینکنے کی عجیب نصیحت ہے، ملکیت کو سات آٹھ کاموں میں بانٹنے کا مشورہ، اور یہ اعتراف کہ ہم خدا کا کام سمجھ ہی نہیں سکتے۔
مرکزی بات
واعظ کی دلیل الٹی ہے، اور اِسی میں اُس کی گہرائی ہے۔ وہ نہیں کہتا: "چونکہ خدا سب کچھ جانتا ہے، اِس لیے حوصلے سے کام کر۔" وہ کہتا ہے: "چونکہ تُو کچھ نہیں جانتا، اِس لیے کام کر۔" لاعلمی اُس کے ہاں فالج کی وجہ نہیں بلکہ آزادی کی بنیاد ہے۔ جس طرح ماں کے پیٹ میں بچے کی تشکیل تیرے علم سے باہر ہے، اُسی طرح خدا کا کام تیرے قابو سے باہر ہے، "جو سب کچھ عمل میں لاتا ہے"۔ یہاں خدا حساب کتاب کا موضوع نہیں، وہ عامل ہے۔ ایمان اِس باب میں یہ نہیں کہ مجھے نتیجہ معلوم ہے، بلکہ یہ کہ نتیجہ اُس کے ہاتھ میں ہے جس کے کام میرے ذہن سے بڑے ہیں۔ لہٰذا بو۔ صبح بو، شام کو بھی۔
سلسلۂ کلام
پرانے عہدنامے میں بویا ہوا بیج ہمیشہ ایمان کا امتحان ہے۔ اسرائیل کو ایسی زمین دی گئی جہاں بارش خود سے نہیں آتی تھی، جہاں ہر فصل خدا پر انحصار کا اعلان تھی۔ واعظ اِس تجربے کو حکمت میں ڈھالتا ہے۔ اور جب خداوند یسوع مسیح بیج بونے والے کی تمثیل سناتے ہیں، تو وہی منطق آگے بڑھتی ہے: بونے والا ہر قسم کی زمین پر بیج پھینکتا ہے، فیصلہ کرنے والا وہ نہیں۔ کلامِ خدا سنانے والا بھی نہیں جانتا کہ کہاں فصل اُٹھے گی۔ مسیح خود سب سے بڑا بیج ہیں جو زمین میں گرا اور مرا، اور اُس کی فصل صدیوں بعد بھی کٹ رہی ہے۔ روٹی پانی پر پھینکنا بےمعنی سخاوت نہیں؛ یہ اُس بادشاہی کی معیشت ہے جو دینے سے بڑھتی ہے۔
آئینہ
آپ کو معلوم ہے یہ کسان کون ہے۔ وہ نوکری بدلنے کا فیصلہ تین سال سے ٹال رہا ہے، کیونکہ حالات "ابھی ٹھیک نہیں"۔ وہ معافی مانگنے سے پہلے سو بار سوچتا ہے کہ سامنے والا کیا کہے گا۔ وہ پیسہ اُس وقت تک نہیں دیتا جب تک ضرورت مند کی تحقیق مکمل نہ ہو۔ وہ بچے سے دل کی بات کرنے کا "صحیح موقع" ڈھونڈتا ہے، اور بچہ اٹھارہ سال کا ہو جاتا ہے۔ ہم اِسے احتیاط کہتے ہیں، واعظ اِسے بانجھ پن کہتا ہے۔ اور آٹھویں آیت کی تلخی بھی سنیں: "تاریک دن بھی آنے والے ہیں"۔ وقت آپ کے فیصلے کا انتظار نہیں کرے گا؛ کالے بال "دم بھر کے ہی ہیں"۔
آج ہی وہ ایک کام کیجیے جو آپ موسم کے انتظار میں ٹال رہے ہیں: اُس شخص کو ابھی فون کیجیے یا پیغام بھیجیے جس سے بات کرنے کا "صحیح وقت" آپ مہینوں سے تلاش کر رہے ہیں۔ نتیجہ خدا کا کام ہے، بونا آپ کا۔
ہم آہنگ کلام
پولس رسول کُرِنتھِیوں کو لکھتے ہوئے اِسی زمین پر کھڑے ہیں: "مَیں نے لگایا، اپلوس نے پانی دیا، مگر خدا نے بڑھایا۔" یہ واعظ کی آیت پانچ کا نئے عہدنامے میں ترجمہ ہے۔ اور یسوع کی وہ بات کہ آسمان کے پرندے نہ بوتے ہیں نہ کاٹتے ہیں، بظاہر متضاد لگتی ہے، مگر وہ بھی اُسی فکر کے خلاف بولی گئی ہے جو واعظ کے کسان کو جکڑے ہوئے ہے۔ فرق صرف زاویے کا ہے: واعظ کہتا ہے فکر کے مارے کام کرنا چھوڑ نہ دے، مسیح کہتے ہیں کام کے مارے فکر میں نہ ڈوب۔ دونوں کا مرکز ایک ہے، وہ باپ جو بادلوں سے بارش برساتا ہے۔
پہلے سننے والے
یہ سننے والے کوئی سرمایہ دار نہیں تھے۔ فارسی یا یونانی حکومت کے زیرِ سایہ فلستین کا معمولی کاشتکار، جس کی ساری دولت ایک قطعۂ زمین اور چند بکریوں پر مشتمل تھی، اور جس کے سر پر ٹیکس، قحط اور فوجی گزر کا خطرہ ہمیشہ منڈلاتا رہتا۔ اُس کے کان میں "اپنی ملکیت سات بلکہ آٹھ مختلف کاموں میں لگا دے" کا مطلب سرمایہ کاری کا کوئی جدید مشورہ نہیں تھا، بلکہ بقا کی حکمت: سب انڈے ایک ٹوکری میں نہ رکھ، کیونکہ "تجھے کیا معلوم کہ ملک کس کس مصیبت سے دوچار ہو گا"۔ اور جب واعظ نے کہا کہ روشنی بھلی ہے، تو یہ رومانی جملہ نہیں تھا۔ یہ اُس آدمی کی زبان تھی جو جانتا تھا کہ اندھیرا کتنا قریب ہے۔
مرکزی کردار
واعظ خود اِس منظر کا مرکز ہے، اور وہ ایک بوڑھا آدمی ہے جو نوجوان سے بات کر رہا ہے۔ اُس کی آواز میں دو چیزیں ایک ساتھ ہیں: حسرت اور برکت۔ وہ اپنی جوانی کے لوٹ نہ سکنے والے دنوں کو دیکھ کر جھنجھلاتا نہیں، بلکہ نوجوان کو کہتا ہے "خوش رہ اور جوانی کے مزے لیتا رہ"۔ یہ اجازت پرانے عہدنامے کے کسی سخت گیر بزرگ سے نہیں آ رہی؛ یہ ایک ایسے آدمی سے آ رہی ہے جس نے بہت کچھ باطل پایا اور پھر بھی روشنی کو بھلا کہا۔ مگر وہ جھوٹ نہیں بولتا: "جو کچھ بھی تُو کرے اُس کا جواب اللہ تجھ سے طلب کرے گا"۔ خوشی اور جوابدہی، دونوں ایک ہی ہاتھ سے ملتی ہیں۔
غور کے لیے
آپ کی زندگی میں وہ کون سا بیج ہے جو برسوں سے بوری میں پڑا ہے، اور آپ کس "ہَوا کے رُخ" کے انتظار میں ہیں؟
کیا آپ خدا کی خوشی اور خدا کی جوابدہی کو ایک ہی ہاتھ سے قبول کر سکتے ہیں، یا آپ نے ان میں سے ایک کو چن لیا ہے؟
Ecclesiastes 11 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
واعظ 11 کا کیا مطلب ہے؟
واعظ 11 کس بارے میں ہے؟
واعظ 11 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
واعظ 11 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
واعظ 11 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Ecclesiastes 11 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
صبح کو اپنا بیج بو، اور شام تک کام سے باز نہ آ، کیونکہ تُو نہیں جانتا کہ کون سا حصہ کامیاب ہو گا، یہ یا وہ، یا دونوں۔"
کسان یہ نہیں جانتا کہ کون سا دانہ پھل لائے گا، اِس لئے وہ سارا دن بوتا رہتا ہے۔ تُو بھی نہ جان پائے گا کہ تیری کون سی دعا، کون سی محبت، کون سا چھوٹا سا قدم آگے چل کر کھلے گا۔ اِسی لئے بوتا رہ۔ نتیجہ خدا کے ہاتھ میں ہے، مٹھی بھر بیج تیرے ہاتھ میں۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
