اِفسِیوں 1
متن
آیت 3 سے 14 تک پولس یونانی میں سانس لیے بغیر ایک ہی لمبا جملہ بولتا ہے: باپ نے "دنیا کی تخلیق سے پیشتر ہی" مسیح میں چن لیا، بیٹے نے اپنے خون سے فدیہ دے کر گناہوں کو معاف کیا، اور روح القدس نے مُہر لگا کر میراث کا بیعانہ بن کر ضمانت دی۔ اِس کے بعد حمد دعا میں بدل جاتی ہے: پولس مانگتا ہے کہ سننے والوں کے "دلوں کی آنکھیں روشن ہو جائیں" تاکہ وہ اُس قدرت کو پہچان لیں جس نے مسیح کو مُردوں میں سے زندہ کر کے آسمان پر بٹھایا اور سب کچھ اُس کے پاؤں تلے کر دیا۔
اصل بات
یہ باب انسان سے شروع نہیں ہوتا۔ اِس میں کوئی فیصلہ، کوئی توبہ، کوئی قدم نہیں جو ہم اُٹھاتے ہیں؛ سب کچھ خدا کے ارادے سے نکلتا ہے اور خدا کے جلال پر ختم ہوتا ہے۔ تین بار وہی گونج آتی ہے: "اُس کے جلال کی ستائش"۔ نجات یہاں پہلے قدم پر ذاتی راحت نہیں بلکہ کائناتی منصوبہ ہے، "کہ جب مقررہ وقت آئے گا تو اللہ مسیح میں تمام کائنات کو جمع کر دے گا"۔ گناہ نے جو کچھ بکھیرا، مسیح اُسے ایک سر کے نیچے سمیٹتا ہے۔ اور اِس منصوبے میں ہماری جگہ حادثاتی نہیں: فدیہ، معافی، فرزندیت اور میراث ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں، جو مفت نعمت سے شروع ہوتی ہے۔
بڑی کہانی کا دھاگا
پولس کے الفاظ پرانے عہدنامے سے قرض لیے ہوئے ہیں۔ "فدیہ" اور "خون" مصر کی اُس رات کی زبان ہے جب برّے کے خون نے اسرائیل کو غلامی سے آزاد کیا؛ اب وہ خروج مسیح کے خون میں دہرایا جاتا ہے، مگر کسی ایک قوم کے لیے نہیں۔ "مُقدّس اور بےعیب" احبار کی قربانی کی اصطلاح ہے: بےعیب جانور قربان گاہ پر آتا تھا، یہاں بےعیب لوگ خدا کے حضور کھڑے ہوتے ہیں۔ "میراث" کنعان کی زمین کی گونج ہے، جو قرعے سے بانٹی گئی تھی؛ اب میراث کوئی خطہ نہیں بلکہ خود خدا کی ملکیت ہونا ہے۔ اور آیت 20 سے 22 میں دو زبور ایک ساتھ بجتے ہیں: زبور 110 کا "میرے دہنے ہاتھ بیٹھ" اور زبور 8 کا "سب کچھ اُس کے پاؤں کے نیچے"۔ ایک شاہی تخت نشینی، دوسری آدم کو دی گئی حکمرانی۔ مسیح دونوں کو پورا کرتا ہے: سچا بادشاہ اور سچا انسان۔
آئینہ
جو شخص اپنی قیمت کارکردگی سے ناپتا ہے، اُس کے لیے یہ باب بےچین کر دینے والا ہے۔ یہاں آپ کے بارے میں فیصلہ آپ کی پیدائش سے پہلے ہو چکا تھا، آپ کی محنت، آپ کے گناہ اور آپ کی ناکامیوں سے بہت پہلے۔ نہ ترقی، نہ اولاد کی کامیابی، نہ خدمت کا ریکارڈ اُس فیصلے میں کچھ جوڑتا ہے۔ یہ ہماری خودی کے لیے توہین ہے اور تھکے ہوئے دل کے لیے آرام۔ دوسری طرف پولس یہ سب اُن لوگوں کو لکھتا ہے جو ایسے شہر میں رہتے تھے جہاں غیبی طاقتوں کا خوف ہوا میں تھا؛ اگر آپ رات کو ملازمت، بیماری یا بچوں کے مستقبل کے اندیشوں سے جاگتے ہیں، تو آیت 21 آپ کے لیے ہے: جو آپ کو ڈراتا ہے وہ مسیح کے قدموں سے نیچے ہے۔ آج ہی کسی ایک شخص کا نام لے کر آیت 18 کی دعا بلند آواز میں پڑھیں: "وہ کرے کہ آپ کے دلوں کی آنکھیں روشن ہو جائیں۔"
مشکل سوال
"پہلے ہی سے اُس نے فیصلہ کر لیا" ہمیں چین سے بیٹھنے نہیں دیتا۔ اگر خدا "سب کچھ یوں سرانجام دیتا ہے کہ اُس کی مرضی کا ارادہ پورا ہو جائے"، تو جو ایمان نہیں لاتے اُن کا کیا؟ اور میرا اپنا فیصلہ کیا تھا، محض ایک منظرنامہ؟ کلام اِس کشمکش کو خود بھی کھلا چھوڑتا ہے: حزقی ایل میں خدا قسم کھا کر کہتا ہے کہ اُسے شریر کی موت میں خوشی نہیں، اور پولس خود تیمُتھیُس کو لکھتا ہے کہ خدا چاہتا ہے سب لوگ نجات پائیں۔ دونوں سچائیاں ایک ہی بائبل میں کھڑی ہیں۔ غور کیجیے کہ پولس یہ تعلیم فلسفے کے طور پر نہیں بلکہ حمد کے طور پر دیتا ہے۔ چناؤ کی بات تب زہر بنتی ہے جب ہم اُس سے دوسروں کے بارے میں فیصلہ کرنے لگیں؛ وہ اپنی جگہ پر تب ہے جب وہ ہمیں گھٹنوں پر لے آئے۔
پس منظر
پولس یہ خط قید سے لکھتا ہے، غالباً روم سے۔ اِفسس ایشیائے کوچک کا سب سے بڑا شہر تھا، بندرگاہ، عدالت، اور آرتمس کا وہ مندر جو دنیا کے عجائبات میں شمار ہوتا تھا۔ وہاں تعویذ، جادوئی نسخے اور روحانی طاقتوں کے نام بازار میں بکتے تھے؛ اعمال کی کتاب بتاتی ہے کہ ایمان لانے والوں نے اپنی جادو کی کتابیں جلا دیں۔ اِس پس منظر میں "ہر حکمران، اختیار، قوت، حکومت، ہاں ہر نام" کی فہرست محض شاعری نہیں، بلکہ ایک محاذ ہے۔ خط میں مقامی مسائل کا ذکر تقریباً نہیں، اِس لیے بہت سے قدیم نسخوں میں "اِفسس" کا نام غائب ہے: یہ غالباً پورے علاقے کی جماعتوں کے لیے گشتی خط تھا، ایک عمومی، وسیع نظر والا اعلان۔
سننے والوں کا چہرہ
آیت 13 میں پولس کا انداز بدلتا ہے: "آپ بھی مسیح میں ہیں"۔ یہ چھوٹا سا "بھی" اُن غیریہودی سننے والوں کے لیے سب کچھ تھا۔ وہ لوگ تھے جن کے پاس نہ ابراہام کا شجرہ تھا، نہ ہیکل میں جگہ، نہ کوئی موروثی زمین۔ اُن کے کانوں میں "چناؤ"، "میراث" اور "مُقدّسین" وہ الفاظ تھے جو صدیوں سے کسی اَور قوم کے تھے، اور اب اُن پر لگا دیے گئے۔ غلاموں اور غیرشہریوں سے بھری اُس جماعت کے لیے "بیٹے بیٹیاں بنا لے گا" قانونی گود لینے کی اصطلاح تھی: وارث بننا، نام پانا، عزت پانا۔ اور جو لوگ روزانہ نامعلوم طاقتوں سے ڈرتے تھے، اُن کے لیے یہ خبر تھی کہ اُن کا خداوند اُن سب کے اوپر تخت پر ہے۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کی روزمرہ زندگی میں کون سی "طاقت" عملاً آپ پر حکومت کرتی ہے، حالانکہ آیت 22 کے مطابق وہ مسیح کے پاؤں کے نیچے ہے؟
اگر آپ کی قدر آپ کے کاموں سے نہیں بلکہ تخلیق سے پیشتر ہوئے چناؤ سے آتی ہے، تو آپ کے اِس ہفتے کے کن فیصلوں کو بدلنا پڑے گا؟
Ephesians 1 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
اِفسِیوں 1 کا کیا مطلب ہے؟
اِفسِیوں 1 کس بارے میں ہے؟
اِفسِیوں 1 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
اِفسِیوں 1 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
اِفسِیوں 1 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Ephesians 1 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، میرے دل کی آنکھیں کھول دے تاکہ میں دیکھ سکوں کہ تُو نے مجھے کس اُمید کے لیے بلایا ہے۔ جب اندھیرا چھا جائے اور سب کچھ بےمعنی لگے، تو مجھے یاد دلا کہ تیرے لوگوں کے لیے کتنی بڑی میراث محفوظ ہے۔ میری نظر صاف کر دے۔
خداوند، تیرا شکر کہ تُو نے ہمیں ایسا ایمان بخشا جس کی خبر دُور دُور تک پہنچتی ہے، اور ایسی محبت جو تمام مُقدّسین کو گلے لگاتی ہے۔ شکر کہ تُو نے ہمیں ایسے بھائی بہن دیئے جو ہمارا ذکر کرتے وقت تیرا شکر کرنے سے باز نہیں آتے۔
پولس قید میں ہے، پھر بھی لکھتا ہے، ”مَیں آپ کے لئے خدا کا شکر کرنے سے باز نہیں آتا۔ ہاں، مَیں اپنی دعاؤں میں آپ کو یاد کرتا رہتا ہوں۔“ اُس کی زنجیریں اُس کی دعاؤں کو نہیں باندھ سکیں۔ سوچیں، آج کون آپ کا نام دعا میں لے رہا ہو گا؟ اور آپ کس کا نام لیتے ہیں؟ کسی کو یاد رکھنا محبت کی سب سے خاموش صورت ہے۔
اُس نے ہمیں دنیا کی پیدائش سے پیشتر مسیح میں چن لیا تاکہ ہم اُس کے حضور مُقدّس اور بےالزام ہوں۔" ذرا سوچیں، جب زمین ابھی بنی بھی نہیں تھی، تب بھی آپ خدا کے ذہن میں تھے۔ آپ نے اپنی قابلیت سے یہ مقام نہیں کمایا، اور نہ اپنی ناکامی سے اسے کھو سکتے ہیں۔ آپ کی پاکیزگی چناؤ کی شرط نہیں، اُس کا مقصد ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں