۱-پطرس 2
متن
پطرس اپنے بکھرے ہوئے مسیحی بہن بھائیوں سے کہتے ہیں: پرانی بُرائی، دھوکا اور حسد اُتار پھینکو، اور نومولود بچے کی طرح خالص روحانی دودھ کے آرزومند رہو۔ پھر وہ ایک عمارت کی تصویر کھینچتے ہیں: مسیح وہ "زندہ پتھر" ہے جسے معماروں نے رد کیا مگر خدا نے کونے کا بنیادی پتھر بنا دیا، اور ایمان دار خود زندہ پتھر ہیں جن سے خدا اپنا روحانی مقدِس تعمیر کر رہا ہے۔ آخر میں وہ اِس نئی شناخت کو زمین پر اُتارتے ہیں: اجنبیوں کی طرح جیو، حاکموں کا احترام کرو، ظالم مالکوں کے تحت بھی صبر کرو، کیونکہ مسیح نے دُکھ سہنے میں نمونہ چھوڑا ہے۔
اصل بات
تصور کیجیے: ایک تعمیراتی جگہ، پتھر تراشے جا رہے ہیں، اور ایک پتھر ایسا ہے جو کسی پیمانے پر پورا نہیں اُترتا۔ معمار اُسے ٹھوکر مار کر ایک طرف پھینک دیتے ہیں۔ برسوں بعد وہی پتھر عمارت کے کونے میں رکھا جاتا ہے، جہاں سے ساری دیواروں کا زاویہ طے ہوتا ہے۔ یہی خدا کا طریقہ ہے۔ جسے دنیا ناکارہ ٹھہراتی ہے، خدا اُسے "چنیدہ اور قیمتی" کہتے ہیں۔ اور یہاں پطرس ایک حیران کن قدم اُٹھاتے ہیں: وہ کہتے ہیں کہ رد کیے گئے پتھر کے ساتھ جُڑنے والے بھی زندہ پتھر بن جاتے ہیں۔ نجات صرف معافی نہیں، شناخت کی تبدیلی ہے۔ کوئی مندر کی عمارت نہیں بنائی جا رہی؛ لوگ خود عمارت ہیں، اور خود امام بھی۔
سنہری دھاگا
آیت ۹ میں پطرس جو الفاظ استعمال کرتے ہیں، وہ نئے نہیں ہیں۔ خروج میں سینا پہاڑ کے دامن میں خدا نے اسرائیل سے یہی کہا تھا: تم میری خاص ملکیت، کاہنوں کی بادشاہی، مقدّس قوم ہو گے۔ اب یہ الفاظ اُن لوگوں پر ڈالے جا رہے ہیں جو ایشیائے کوچک کے شہروں میں بکھرے ہوئے ہیں، جن میں بہت سے غیریہودی ہیں، جن کا کوئی مشترکہ نسب نہیں۔ "ایک وقت تھا جب آپ اُس کی قوم نہیں تھے، لیکن اب آپ اللہ کی قوم ہیں۔" یہ ہوسیع نبی کی وہ آواز ہے جو بےوفا اسرائیل کے لیے بولی گئی تھی، اور اب اُن پر لاگو ہوتی ہے جو کبھی عہد سے باہر تھے۔ یہی وہ دھاگا ہے: خدا مسترد لوگوں سے اپنی قوم بناتے ہیں۔
آئینہ
اب ذرا رُکیے۔ پطرس صرف بلند خیالات نہیں دے رہے۔ وہ فہرست گنواتے ہیں: بُرائی، دھوکے بازی، ریاکاری، حسد، بہتان۔ یہ گناہ اکیلے میں نہیں ہوتے؛ یہ کمیونٹی کے گناہ ہیں۔ حسد وہ ہے جو آپ کے ساتھی استاد کی ترقی پر آپ کے سینے میں پھڑکتا ہے۔ بہتان وہ ہے جو دعا کی درخواست کے لباس میں کسی کے بارے میں کہا جاتا ہے۔ ریاکاری وہ ہے جب آپ اتوار کو گاڑی سے اُترتے وقت اپنا چہرہ بدل لیتے ہیں۔ پطرس کہتے ہیں: یہ سب اُتار دو، جیسے میلا کپڑا۔ اور اِس کی جگہ بھوک رکھو، وہ بھوک جو ایک نومولود کو رات کے دو بجے جگا دیتی ہے۔ کیا کلام کے لیے آپ کی بھوک اِتنی بےصبری ہے؟
سامعین کا خاکہ
یہ خط پڑھا جا رہا ہے۔ ایک کمرے میں بیس تیس لوگ بیٹھے ہیں: کچھ کاریگر، ایک آدھ تاجر کی بیوی، اور کئی غلام جو مالک کے گھر سے چوری چھپے آئے ہیں۔ اُن کے پڑوسی اُنہیں شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، کیونکہ اُنہوں نے شہر کے دیوتاؤں کی قربانیوں میں جانا چھوڑ دیا ہے۔ لوگ کہتے ہیں یہ لوگ سماج دشمن ہیں، خفیہ رسمیں کرتے ہیں۔ اور اب اُن کے کانوں میں یہ الفاظ پڑتے ہیں: "آپ اللہ کی چنی ہوئی نسل ہیں۔" جن کے پاس شہری حقوق نہیں تھے، اُنہیں بتایا جا رہا ہے کہ وہ ایک بادشاہ کی ملکیت ہیں۔ اور ساتھ ہی یہ بھی: اِتنی اچھی زندگی گزارو کہ تہمت خود بےبنیاد ثابت ہو۔
مرکزی کردار
آیت ۲۳ میں کیمرا اچانک ایک چہرے پر رُک جاتا ہے۔ گالیاں دی جا رہی ہیں، اور وہ جواب نہیں دیتا۔ کوڑے پڑ رہے ہیں، اور وہ دھمکی نہیں دیتا۔ پطرس نے یہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا؛ وہ اُس صحن میں موجود تھے جہاں خود اُن کی زبان جھوٹ بولنے کے لیے کھل گئی تھی۔ شاید اِسی لیے وہ لکھتے ہیں: "نہ کوئی فریب کی بات اُس کے منہ سے نکلی۔" مگر یہ خاموشی کمزوری نہیں تھی۔ "اُس نے اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر دیا جو انصاف سے عدالت کرتا ہے۔" یہی فرق ہے۔ مسیح نے انصاف کو ترک نہیں کیا، اُسے اپنے ہاتھ سے نکال کر باپ کے ہاتھ میں رکھ دیا۔ اور یہ صرف نمونہ نہیں: وہ ہمارے گناہ اپنے بدن پر صلیب تک لے گیا۔
سوال
مگر ایک بات ہے جو گلے میں اٹکتی ہے۔ "اے غلامو… اُن کے ساتھ بھی جو ظالم ہیں۔" کیا پطرس غلامی کی توثیق کر رہے ہیں؟ نہیں، اور وہ اُسے ختم بھی نہیں کر رہے۔ وہ اُن لوگوں سے بات کر رہے ہیں جن کے پاس کوئی طاقت نہیں تھی، کوئی عدالت نہیں، کوئی راستہ نہیں۔ اُن سے وہ کہتے ہیں: تمہاری بےبسی تمہاری بےعزتی نہیں؛ تم اُسی راستے پر ہو جس پر تمہارا خداوند چلا۔ لیکن ہمیں یہ آسانی سے دوسروں پر لاگو کرنے سے ڈرنا چاہیے۔ یہ آیت مظلوم کے ہاتھ میں تسلی ہے، ظالم کے ہاتھ میں ہتھیار نہیں۔ متن اِس تناؤ کو حل نہیں کرتا۔ وہ صرف ایک چرواہے کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کے پاس آوارہ بھیڑیں لوٹ آئی ہیں۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں وہ کون سی جگہ ہے جہاں آپ نے انصاف اپنے ہاتھ میں رکھا ہوا ہے، اور اُسے "انصاف سے عدالت کرنے والے" کے حوالے کرنا کیسا لگے گا؟
اگر آپ واقعی "زندہ پتھر" ہیں جو کسی عمارت کا حصہ ہے، تو آپ کے آس پاس کے کون سے پتھر آپ کے وزن پر انحصار کر رہے ہیں؟
1 Peter 2 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
۱-پطرس 2 کا کیا مطلب ہے؟
۱-پطرس 2 کس بارے میں ہے؟
۱-پطرس 2 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
۱-پطرس 2 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
۱-پطرس 2 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی 1 Peter 2 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
پطرس اُن سے مخاطب ہے جنہیں اُس زمانے میں کوئی پوچھتا تک نہ تھا: ”نوکرو، ہر لحاظ سے اپنے مالکوں کے تابع رہیں، نہ صرف اُن کے جو نیک اور نرم دل ہیں بلکہ اُن کے بھی جو سخت دل ہیں۔“ وہ اُن کی بےبسی پر رحم نہیں کھاتا، بلکہ اُنہیں ایسی عزت دیتا ہے جیسے وہ خود فیصلہ کرنے والے لوگ ہوں۔ تیرا مالک، تیرا افسر سخت ہے؟ تب بھی تیرا کردار اُس کے ہاتھ میں نہیں، مسیح کے ہاتھ میں ہے۔
کیونکہ مسیح نے بھی آپ کی خاطر دُکھ اُٹھا کر آپ کو ایک نمونہ دیا تاکہ آپ اُس کے نقشِ قدم پر چلیں۔“ پطرس یہ بات اُن غلاموں کو لکھ رہا تھا جن کے ساتھ ناانصافی ہو رہی تھی۔ وہ اُن سے یہ نہیں کہتا کہ تمہارا دُکھ بےمعنی ہے، بلکہ یہ کہ تمہارے آگے آگے کوئی چل چکا ہے۔ نقشِ قدم پر چلنے کا مطلب ہے کہ آپ کو پورا راستہ نظر نہیں آتا، صرف وہ جگہ دکھتی ہے جہاں وہ قدم رکھ چکا ہے۔ آج آپ کی تکلیف میں بھی وہ نشان موجود ہیں۔ ذرا نیچے دیکھیں۔
اے خداوند، تیری مہربانی کا تھوڑا سا ذائقہ بھی دل کو بدل دیتا ہے۔ کبھی میں بھول جاتا ہوں کہ تُو کتنا اچھا ہے، اور دوسری چیزوں سے پیٹ بھرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ مجھے پھر سے بھوکا کر دے، اپنی ہی بھوک، تاکہ میں تیرے پاس لوٹ آؤں۔
اے خدا، تو مجھے زندہ پتھر کی طرح اپنے گھر میں جوڑ رہا ہے۔ کبھی لگتا ہے میں بے کار ہوں، پھر بھی تو مجھے اپنی جگہ دیتا ہے۔ میری زندگی، میرا کام، میری محبت تیرے حضور ایک قربانی بن جائے جو تجھے پسند آئے۔ مجھے دوسروں کے ساتھ مل کر کھڑے رہنا سکھا۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
