حزقی ایل 19
متن
حزقی ایل کو حکم ملتا ہے کہ وہ گیت گائے، مگر خوشی کا نہیں: ”اے نبی، اسرائیل کے رئیسوں پر ماتمی گیت گا۔“ پہلے حصے میں ایک شیرنی ہے جو اپنے بچوں کو پالتی ہے؛ دو بچے طاقتور شیر بن جاتے ہیں، مگر دونوں پکڑے جاتے ہیں، ایک مصر میں گھسیٹا جاتا ہے اور دوسرا شاہِ بابل کے پاس، ناک میں کانٹے اور گردن میں پٹا ڈال کر۔ دوسرے حصے میں وہی ماں انگور کی بیل ہے، پانی کے کنارے لگی، اِتنی مضبوط کہ ”اُن سے شاہی عصا بن سکتے تھے“۔ پھر اُسے اُکھاڑا جاتا ہے، مشرقی لُو اُسے سُکھا دیتی ہے، اور آخر میں صرف ریگستان اور راکھ باقی رہ جاتی ہے۔
اصل بات
یہ باب داؤد کے گھرانے کی موت کا اعلان ہے، اور یہی اِس کی چبھن ہے۔ خدا نے داؤد سے تخت کا وعدہ کیا تھا، اور یہاں اُسی خدا کا نبی گا رہا ہے کہ ”اب کوئی مضبوط شاخ نہیں رہی جس سے شاہی عصا بن سکے“۔ خدا اپنی ہی قائم کردہ سلطنت کو گرنے دیتا ہے، کیونکہ عہد کوئی جادوئی تحفظ نہیں بلکہ ایک رشتہ ہے جس میں وفاداری مانگی جاتی ہے۔ اور غور کیجیے: شیر کی طاقت یہاں کوئی خوبی نہیں۔ ”انسان بھی اُس کی خوراک بن گئے“ ایک الزام ہے۔ جو بادشاہ اپنی رعایا کو کھا جاتا ہے، وہ خود شکار بن جاتا ہے۔
سنہری دھاگا
شیرببر اور شاہی عصا کا جوڑ اتفاقی نہیں۔ یعقوب نے مرتے وقت یہوداہ کو شیرببر کا بچہ کہا تھا اور فرمایا تھا کہ سلطنت کا عصا یہوداہ سے نہیں ہٹے گا جب تک وہ نہ آئے جس کا حق ہے۔ حزقی ایل اُسی تصویر کو اُٹھا کر ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہے: شیر پنجرے میں، عصا کے قابل کوئی شاخ نہیں۔ مگر ماتمی گیت آخری لفظ نہیں۔ یہی سوکھی جڑ ہے جس میں سے یسّی کے تنے کی کونپل نکلتی ہے، اور مکاشفہ میں بزرگ یوحنا سے کہتا ہے کہ رونا بند کرو، یہوداہ کے قبیلے کا شیرببر غالب آیا ہے۔ حزقی ایل کے ہاتھ میں جو عصا ٹوٹا، وہ مسیح کے ہاتھ میں لوٹ آیا۔
آئینہ
یہ گیت اُس مقام پر انگلی رکھتا ہے جہاں ہم اپنی حفاظت رکھتے ہیں۔ ہم سب کوئی نہ کوئی ”بیل“ لگاتے ہیں: ایک کاروبار جو نسلوں تک چلے، ایک خاندانی نام، ایک کلیسیا جسے ہم نے کھڑا کیا، بچوں کی تعلیم جس میں ہم نے سب کچھ جھونک دیا۔ اور ہم خاموشی سے مان لیتے ہیں کہ خدا اُسے گرنے نہیں دے گا، کیونکہ یہ تو اُسی کے لیے ہے۔ یہوداہ نے بھی یہی سوچا تھا۔ مشرقی لُو ایک ہی موسم میں سب سُکھا سکتی ہے: ایک تشخیص، ایک برطرفی، ایک بیٹے کا منہ موڑ لینا۔ سوال یہ نہیں کہ خدا آپ کی بیل کی حفاظت کرے گا یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ اگر وہ ریگستان میں لگ گئی تو آپ کے پاس خدا باقی رہے گا یا صرف ماتم۔
ایک باریک بات
”ناک میں کانٹے“ پر رُکیے۔ یہ محض شاعری نہیں، یہ اسیریوں اور بابلیوں کی حقیقی رسم تھی: قیدی بادشاہوں کے نتھنوں میں کنڈا ڈال کر اُنہیں رسّی سے کھینچا جاتا تھا، جیسے بیل کو۔ سلطنت کے نقوش میں شیر شاہی طاقت کی علامت تھا؛ یہاں وہ شیر مویشی کی طرح گھسیٹا جا رہا ہے۔ اور دوسری بار تو ”گردن میں پٹا“ بھی ہے، یعنی کتّے یا جانور کا پٹا۔ داؤد کا بیٹا، جس کی گرج پہاڑوں پر گونجتی تھی، اب ایک نمائشی جانور ہے۔ حزقی ایل اپنے سامعین کو یہ منظر دکھاتا ہے تاکہ وہ اپنی قومی شان کے بارے میں کوئی خوش فہمی نہ پالیں۔
کلام میں گونج
دو گیت اِس گیت کے پیچھے کھڑے ہیں۔ زبور اسّی میں اسرائیل وہ بیل ہے جسے خدا مصر سے نکال کر لایا، جس نے پہاڑوں کو ڈھانپ لیا، اور پھر اُس کی باڑ توڑ دی گئی۔ یسعیاہ پانچ میں خداوند اپنے تاکستان کا گیت گاتے ہیں جس نے اچھے انگور کے بجائے کھٹے انگور دیے۔ حزقی ایل اِن دونوں کو جانتا ہے اور ایک قدم آگے جاتا ہے: اُس کی بیل صرف بے پھل نہیں، وہ جل چکی ہے، اور آگ باہر سے نہیں آئی بلکہ ”اُس کے تنے کی ایک ٹہنی سے“ نکلی۔ خودکشی کی سی تباہی۔ اور یرمیاہ، جو اُسی زمانے میں یروشلم میں تھا، یوسیاہ کے بیٹوں پر بالکل ایسا ہی نوحہ کرتا ہے: جو مصر گیا وہ لوٹ کر نہیں آئے گا۔ دو نبی، دو شہر، ایک ہی ماتم۔
پس منظر
حزقی ایل بابل میں ہے، دریائے کبار کے کنارے جلاوطنوں کی بستی میں، غالباً 590 قبلِ مسیح کے آس پاس۔ یروشلم ابھی کھڑا ہے اور صِدقیاہ تخت پر بیٹھا ہے، اِس لیے جلاوطنوں کے دل میں امید سلگ رہی ہے کہ جلد واپسی ہوگی۔ ”شیرنی“ غالباً یوسیاہ کی بیوہ حموطل ہے، جس کے دو بیٹے یہوآخز اور صِدقیاہ تخت پر بیٹھے؛ یا پھر خود داؤدی گھرانہ۔ پہلا بیٹا تین مہینے بعد مصر لے جایا گیا، دوسرا بابل۔ قدیم مشرق میں ماتمی گیت میت پر گایا جاتا تھا، اور حزقی ایل یہ گیت اُس گھرانے پر گا رہا ہے جو ابھی سانس لے رہا ہے۔ اِس سے زیادہ سخت پیغام ممکن نہیں تھا۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کی زندگی میں وہ کون سی ”بیل“ ہے جس کے بارے میں آپ خاموشی سے یقین رکھتے ہیں کہ خدا اُسے کبھی اُکھڑنے نہیں دے گا؟
حزقی ایل کو ایک زندہ گھرانے پر ماتم کرنے کو کہا گیا۔ کیا آپ اُس نقصان کا سچ بولنے کو تیار ہیں جو ابھی مکمل نہیں ہوا، یا آپ اُمید کا بھیس بدل کر انکار کرتے ہیں؟
Ezekiel 19 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
حزقی ایل 19 کا کیا مطلب ہے؟
حزقی ایل 19 کس بارے میں ہے؟
حزقی ایل 19 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
حزقی ایل 19 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
حزقی ایل 19 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Ezekiel 19 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
