حزقی ایل 37
عبارت
خداوند کا ہاتھ حِزقی ایل پر آ ٹھہرتا ہے اور اُسے ایک کھلی وادی میں کھڑا کر دیتا ہے جہاں بےشمار ہڈیاں بکھری پڑی ہیں، "سراسر سوکھی ہوئی"۔ خدا سوال کرتے ہیں: "کیا یہ ہڈیاں دوبارہ زندہ ہو سکتی ہیں؟" نبی کوئی ایمانی نعرہ نہیں لگاتا بلکہ گیند واپس پھینک دیتا ہے: "اے رب قادرِ مطلق، تُو ہی جانتا ہے۔" پھر نبوّت کے دو مرحلے: پہلے ہڈیوں پر گوشت اور جِلد چڑھتی ہے، مگر جسم بےدم پڑے رہتے ہیں؛ پھر دم آتا ہے اور "ایک نہایت بڑی فوج وجود میں آ گئی"۔ باب کے دوسرے حصے میں لکڑی کے دو ٹکڑے ایک ہو جاتے ہیں: یہوداہ اور یوسف، ایک قوم، ایک بادشاہ، ایک ہمیشہ کا عہد۔
مرکزی نکتہ
یہ باب بحالی کے بارے میں نہیں، نئی تخلیق کے بارے میں ہے۔ سوکھی ہڈی وہ چیز ہے جس میں مرمت کی کوئی گنجائش باقی نہیں؛ نہ نبض، نہ گوشت، نہ امکان۔ اور خدا اِسی مقام سے کام شروع کرتے ہیں۔ غور کیجیے کہ نبی کو ہڈیوں سے بات کرنے کا حکم ملتا ہے۔ کلام ہی وہ اوزار ہے جو موت کے میدان میں شور مچا دیتا ہے۔ اور دو مرحلوں والی ترتیب اتفاقی نہیں: ڈھانچے جُڑ سکتے ہیں، گوشت چڑھ سکتا ہے، سب کچھ درست دکھ سکتا ہے، اور پھر بھی "جسموں میں دم نہیں" ہوتا۔ ڈھانچہ بحال کرنا خدا کا نصف کام ہے؛ روح ڈالنا اصل کام ہے۔ اور مقصد زمین یا اقتدار نہیں بلکہ پہچان ہے: "تب تم جان لو گے کہ مَیں ہی رب ہوں۔"
سلسلۂ نجات کی ڈور
عبرانی لفظ روخ کے تین معنی ہیں: ہوا، دم، اور روح۔ حِزقی ایل تینوں سے کھیلتا ہے، اور اِس سے وہ منظر کھلتا ہے جو پیدائش کے دوسرے باب میں پہلی بار پیش آیا تھا: مٹی کا بےجان پُتلا، اور خدا کا پھونکا ہوا دم۔ وادی میں وہی ہاتھ دوبارہ کام کر رہا ہے، مگر اِس بار مٹی پر نہیں، اپنی ہی بغاوت کے ملبے پر۔ نجات یہاں تخلیق کی تکرار ہے۔ اور آیت 24 میں "اُن کا ایک ہی گلہ بان ہو گا" وہ فقرہ ہے جسے خداوند یسوع نے یوحنا 10 میں اپنے اوپر چسپاں کیا جب اُنہوں نے ایک گلہ اور ایک گلہ بان کا وعدہ کیا: بکھری ہوئی بھیڑوں کو جمع کرنے والا داؤد کا بیٹا۔ اور آیت 27 کا "مَیں اُن کا خدا ہوں گا، اور وہ میری قوم ہوں گے" مکاشفہ کے آخری باب تک گونجتا چلا جاتا ہے، جہاں خدا کا خیمہ انسانوں کے درمیان لگ جاتا ہے۔
آئینہ
ہم سب کے پاس ایک ایسی وادی ہے جہاں ہم نے دفن کاری مکمل کر لی ہے۔ وہ رشتہ جس میں اب صرف ڈھانچہ بچا ہے، اور بات چیت رسمی لین دین بن گئی ہے۔ وہ بیٹا یا بیٹی جس کے ایمان کے بارے میں آپ نے چپکے سے ہار مان لی ہے۔ وہ ملازمت، وہ جماعت جو بہترین انتظام کے ساتھ چل رہی ہے مگر جس میں دم نہیں۔ اسرائیل کا جملہ آج بھی دیانت دار لوگوں کے منہ سے نکلتا ہے: "ہماری اُمید جاتی رہی ہے۔ ہم ختم ہی ہو گئے ہیں!" دلچسپ بات یہ ہے کہ خدا اِس مایوسی کو جھٹلاتے نہیں، اُسے پہلے دہراتے ہیں اور پھر توڑتے ہیں۔ آج ہی ایک کاغذ پر وہ ایک نام یا صورتِ حال لکھیں جس کے بارے میں آپ اندر ہی اندر فیصلہ کر چکے ہیں کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا، اور اُس کے اوپر بلند آواز سے آیت 5 پڑھیں: "مَیں تم میں دم ڈالوں گا تو تم دوبارہ زندہ ہو جاؤ گی۔"
پہلے سننے والے
جلاوطنوں نے یہ تمثیل صرف علامت کے طور پر نہیں سنی۔ اُنہوں نے 587 قبل مسیح میں بابل کی فوج کا کام دیکھا تھا: میدانِ جنگ میں بےدفن لاشیں، جنہیں گِدھوں اور کتوں کے لیے چھوڑ دیا جاتا تھا۔ ایک اسرائیلی کے لیے بےدفن ہڈیاں لعنت اور ناپاکی کی انتہا تھیں، اور نبی کو اُن کے درمیان سے گزارا جاتا ہے۔ دوسری بات: لکڑی کے دو ٹکڑوں والا اشارہ سیاسی طور پر تقریباً مذاق تھا۔ شمالی سلطنت ڈیڑھ سو سال پہلے اسور کے ہاتھوں ختم ہو چکی تھی، اُس کے قبیلے قوموں میں گھل گئے تھے۔ افرائیم کی لکڑی اُٹھانا گویا کسی مٹ چکی قوم کا جھنڈا لہرانا تھا۔ خدا صرف یہوداہ کو نہیں، اُس شکستہ خاندان کو بھی واپس لانے کا اعلان کر رہے ہیں جس کا کوئی نام و نشان باقی نہ تھا۔
سیاق و سباق
حِزقی ایل یروشلم میں نہیں، بابل میں دریائے کبار کے کنارے تل ابیب کی جلاوطن بستی میں ہے۔ ہیکل جل چکی ہے، داؤد کا تخت خالی ہے، اور بابل کی شاہی مذہبیات کہتی ہے کہ مردوک نے یہوواہ کو ہرا دیا۔ زمین پر پیچھے رہ جانے والے لوگ جلاوطنوں کی جائیدادوں پر قبضہ جما رہے ہیں۔ اِسی ماحول میں باب 36 وعدہ کرتا ہے: نیا دل، نئی روح۔ باب 37 اُس وعدے کو ڈرامے میں بدل دیتا ہے، کیونکہ نبی جانتا ہے کہ ٹوٹے ہوئے لوگ دلیل سے نہیں، منظر سے قائل ہوتے ہیں۔ نبیوں کے یہ عملی اشارے گلی کا تھیٹر تھے: "اپنے ہم وطنوں کی موجودگی میں لکڑی کے مذکورہ ٹکڑے ہاتھ میں تھامے رکھ"، تاکہ لوگ خود سوال کریں۔
مشکل سوال
وعدے کی زبان مطلق ہے: "آئندہ وہ نہ کبھی دو قوموں میں تقسیم ہو جائیں گے"، "میرا خادم داؤد ابد تک اُن پر حکومت کرے گا"، اور بُتوں سے ناپاکی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ۔ مگر تاریخ کچھ اور کہتی ہے۔ جو لوگ لوٹے وہ فارسی سلطنت کے تابع ایک چھوٹی سی صوبائی آبادی تھے، بغیر بادشاہ، اور اُن کے گناہ ساتھ ہی لوٹ آئے۔ تو کیا نبوّت ناکام ہوئی؟ نئے عہد نامے کا جواب یہ ہے کہ گلہ بان آ گیا اور روح ڈالی جا چکی، مگر ہم اب بھی اُس شہر کے منتظر ہیں جہاں مقدِس ہمیشہ کے لیے درمیان میں ہو گا۔ یعنی وعدہ پورا ہوا اور ابھی پورا ہو رہا ہے، اور اِس وقفے کی تکلیف کو ہم آسانی سے حل نہیں کر سکتے۔ جو چیز ہمیں دی گئی ہے وہ ٹائم ٹیبل نہیں، ایک دستخط ہے: "مَیں یہ کروں گا بھی"۔
غور و فکر
جب خدا نے پوچھا "کیا یہ ہڈیاں دوبارہ زندہ ہو سکتی ہیں؟" تو حِزقی ایل نے فیصلہ خدا پر چھوڑ دیا۔ آپ کی زندگی میں کون سا ایسا معاملہ ہے جس کا فیصلہ آپ نے خدا سے پہلے خود سنا دیا ہے؟
آپ کے ایمان، خاندان یا جماعت میں کہاں ڈھانچہ اور گوشت موجود ہے مگر دم غائب ہے، اور آپ اُس فرق کو ماننے سے کیوں بچتے ہیں؟
Ezekiel 37 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
حزقی ایل 37 کا کیا مطلب ہے؟
حزقی ایل 37 کس بارے میں ہے؟
حزقی ایل 37 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
حزقی ایل 37 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
حزقی ایل 37 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Ezekiel 37 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خداوند، شکر ہے کہ تُو بکھرے ہوؤں کو جمع کر کے اُنہیں ”ایک ہی قوم“ بنا دیتا ہے۔ ہماری کلیسیا اور گھروں کی دراڑوں پر بھی تیرا یہی وعدہ ہے۔ شکر کہ ”ایک ہی بادشاہ اُن سب پر حکومت کرے گا“، اور وہ بادشاہ مسیح ہے جس کے تحت ہم پھر کبھی تقسیم نہیں ہوں گے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
