بائبل کی تشریح

یوحنا 10

بائبل
یہ باب JL Group کے تعاون سے ممکن ہوا

متن

یسوع مسیح باڑے، دروازے اور چرواہے کی تصویر سے بات شروع کرتے ہیں: جو دروازے سے نہیں آتا وہ چور ہے، اور اصلی چرواہا اپنی ہر بھیڑ کا نام لے کر بلاتا ہے اور وہ اُس کی آواز پہچانتی ہیں۔ پھر وہ خود کو دونوں کہتے ہیں، دروازہ بھی اور "اچھا چرواہا" بھی، اور فرق یہ بتاتے ہیں کہ اچھا چرواہا اپنی جان دیتا ہے جبکہ مزدور بھیڑیے کو دیکھ کر بھاگ جاتا ہے۔ حنوکا کی عید پر یروشلم میں لوگ اُنہیں گھیر لیتے ہیں: "اگر آپ مسیح ہیں تو ہمیں صاف صاف بتا دیں۔" جواب اُنہیں پتھر اُٹھانے پر مجبور کر دیتا ہے۔

مرکزی بات

یہ تمثیل تسلی سے شروع ہوتی ہے مگر ذمہ داری پر آ کر ٹکتی ہے۔ خدا اپنے لوگوں کا مالک ہے، اور مالک ہونے کا مطلب یہاں قیمت چکانا ہے، نہ کہ حق جتانا۔ "اچھا چرواہا اپنی بھیڑوں کے لئے اپنی جان دیتا ہے" میں لفظ "اپنی" دو بار آتا ہے: بھیڑیں اُس کی اپنی ہیں، اِس لیے جان بھی اُس کی اپنی جاتی ہے۔ نجات کا دل یہی ہے: خدا نے ہمیں بچانے کا خرچ کسی اور پر نہیں ڈالا۔ اور اِسی سے اخلاقیات پیدا ہوتی ہے۔ جہاں کہیں آپ کے سپرد لوگ ہیں، وہاں محبت کا پیمانہ جذبات نہیں بلکہ یہ سوال ہے: بھیڑیا آنے پر آپ کہاں کھڑے ہوں گے؟

سلسلۂ کلام

اسرائیل کے نبیوں نے بار بار اُن چرواہوں پر ماتم کیا جو گلے کو کھاتے تھے اور گلے کو چَراتے نہ تھے؛ حزقی ایل ۳۴ میں خدا خود وعدہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنی بھیڑوں کو ناکارہ چرواہوں کے ہاتھ سے چھین کر خود چَرائیں گے۔ یسوع مسیح کا "اچھا چرواہا مَیں ہوں" اُس وعدے پر مہر ہے، اور ساتھ ہی اُس وعدے کا ایک غیر متوقع انجام: خدا آ کر صرف انتظام نہیں سنبھالتے، وہ مرتے ہیں۔ مزید یہ کہ گلہ ایک ہی رہے گا: "میری اَور بھی بھیڑیں ہیں جو اِس باڑے میں نہیں ہیں۔" قوم، زبان اور خاندان کی دیواریں چرواہے کی آواز کے سامنے ٹوٹ جاتی ہیں۔ کلیسیا کی وحدت کوئی خوش نما نعرہ نہیں، یہ صلیب کا منطقی نتیجہ ہے۔

آئینہ

ہم میں سے بہت کم لوگ چور ہیں۔ ہم مزدور ہیں۔ مزدور بُرا آدمی نہیں، وہ صرف حد بندی کرنا جانتا ہے: یہاں تک میری ذمہ داری ہے، اِس سے آگے میرا معاملہ نہیں۔ دفتر میں جب کسی ماتحت پر الزام آتا ہے تو ہم خاموش رہ جاتے ہیں، کیونکہ بولنے کی قیمت ہے۔ گھر میں بچہ چوتھی بار وہی سوال پوچھتا ہے اور ہم فون سے نظر نہیں ہٹاتے۔ اُس رشتہ دار کی بیماری لمبی ہو جاتی ہے اور ہمارے پیغام مختصر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ بھیڑیا ہمیشہ ڈرامائی نہیں ہوتا؛ اکثر وہ صرف تھکن، بدنامی یا وقت کا نقصان ہوتا ہے، اور ہم چپکے سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ اِس کے مقابل چرواہا "ہر ایک بھیڑ کا نام لے کر" بلاتا ہے: انفرادی، مہنگا، بےحساب۔

آج ہی اُس ایک شخص کا نام لکھیں جس سے آپ فاصلہ رکھ رہے ہیں کیونکہ اُس کی فکر کرنا آپ کو کچھ خرچ کرواتی ہے، اور اِسی دس منٹ میں اُسے فون کر کے نام سے پکاریں اور پوچھیں کہ وہ واقعی کیسا ہے۔

ایک باریکی

آیت ۱۸ کا فقرہ آسانی سے پھسل جاتا ہے: "کوئی میری جان مجھ سے چھین نہیں سکتا بلکہ مَیں اُسے اپنی مرضی سے دے دیتا ہوں۔" یعنی صلیب یسوع مسیح کے ساتھ ہونے والا حادثہ نہیں، اُن کا فعل ہے۔ یہ اخلاقی طور پر فیصلہ کن ہے۔ قربانی جو مجبوری سے دی جائے، وہ اندر ہی اندر ناراضی پالتی ہے؛ ہم اپنی خدمت کا بل بناتے رہتے ہیں اور کسی دن اُسے پیش کر دیتے ہیں۔ مسیح کی دی ہوئی جان میں کوئی شکایت نہیں، کیونکہ وہ چھینی نہیں گئی۔ جہاں آپ خود کو شہید محسوس کرنے لگیں، وہاں ٹھہر کر پوچھیں: کیا مَیں یہ بوجھ اپنی مرضی سے اُٹھا رہا ہوں، یا دباؤ میں، تاکہ بعد میں بدلے کا حق جتا سکوں؟

سیاق و سباق

یہ بات سردیوں میں حنوکا کے موقع پر کہی گئی، اُس عید پر جو مکّابیوں کی فتح اور ہیکل کی نئی مخصوصیت کی یاد تھی۔ ماحول قومی اور سیاسی طور پر گرم تھا: لوگ ایسے مسیح کے منتظر تھے جو رومیوں کو نکال دے۔ اِسی لیے وہ اُنہیں "گھیر کر" صاف جواب مانگتے ہیں؛ یہ سوال نہیں، شکنجہ ہے۔ اور فوراً پہلے باب ۹ میں وہ نابینا شخص عبادت گاہ سے نکال دیا گیا تھا: یعنی وقت کے چرواہوں نے ایک زخمی بھیڑ کو باڑے سے باہر پھینکا تھا۔ اُس پس منظر میں "اچھا چرواہا مَیں ہوں" ایک نرم تصویر نہیں بلکہ مذہبی قیادت پر براہِ راست الزام ہے۔ اِسی لیے پتھر اُٹھائے جاتے ہیں۔

بین المتون

زبور ۸۲، جسے یسوع مسیح خود آیت ۳۴ میں پیش کرتے ہیں، اُن منصفوں پر خدا کی عدالت ہے جنہیں اختیار دیا گیا مگر جو غریب کا انصاف نہ کر سکے۔ اِس حوالے کا زور یہی ہے: اختیار رکھنے والوں کو "خدا" کہا گیا تو اُن سے حساب بھی ویسا ہی لیا گیا۔ دوسری طرف زبور ۲۳ کا اعتماد، کہ خداوند میرا چرواہا ہے، یہاں آیت ۲۸ میں پورا ہوتا ہے: "کوئی اُنہیں میرے ہاتھ سے چھین نہ لے گا۔" دونوں کو ساتھ پڑھیں: جس ہاتھ میں آپ محفوظ ہیں، وہی ہاتھ آپ سے پوچھے گا کہ جو لوگ آپ کے سپرد تھے، آپ نے اُن کے ساتھ کیا کیا۔

غور و فکر

آپ کی زندگی میں وہ کون سا رشتہ ہے جس میں آپ چرواہے کے بجائے مزدور بن چکے ہیں، اور اُس میں "بھیڑیا" کس شکل میں آتا ہے؟

جو آوازیں آپ روز سنتے ہیں، اُن میں مسیح کی آواز کو آپ کس بنیاد پر پہچانتے ہیں، اور آخری بار کب آپ نے کسی اجنبی آواز سے واقعی "بھاگ" جانے کا فیصلہ کیا؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

John 10 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

یوحنا 10 کا کیا مطلب ہے؟
یسوع مسیح باڑے، دروازے اور چرواہے کی تصویر سے بات شروع کرتے ہیں: جو دروازے سے نہیں آتا وہ چور ہے، اور اصلی چرواہا اپنی ہر بھیڑ کا نام لے کر بلاتا ہے اور وہ اُس کی آواز پہچانتی ہیں۔ پھر وہ خود کو دونوں کہتے ہیں، دروازہ بھی اور "اچھا چرواہا" بھی، اور فرق یہ بتاتے ہیں کہ اچھا چرواہا اپنی جان دیتا ہے جبکہ مزدور بھیڑیے کو دیکھ کر بھاگ جاتا ہے۔ حنوکا کی عید پر یروشلم میں لوگ اُنہیں گھیر لیتے ہیں: "اگر آپ مسیح ہیں تو ہمیں صاف صاف بتا دیں۔" جواب اُنہیں پتھر اُٹھانے پر مجبور کر دیتا ہے۔
یوحنا 10 کس بارے میں ہے؟
اسرائیل کے نبیوں نے بار بار اُن چرواہوں پر ماتم کیا جو گلے کو کھاتے تھے اور گلے کو چَراتے نہ تھے؛ حزقی ایل ۳۴ میں خدا خود وعدہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنی بھیڑوں کو ناکارہ چرواہوں کے ہاتھ سے چھین کر خود چَرائیں گے۔ یسوع مسیح کا "اچھا چرواہا مَیں ہوں" اُس وعدے پر مہر ہے، اور ساتھ ہی اُس وعدے کا ایک غیر متوقع انجام: خدا آ کر صرف انتظام نہیں سنبھالتے، وہ مرتے ہیں۔ مزید یہ کہ گلہ ایک ہی رہے گا: "میری اَور بھی بھیڑیں ہیں جو اِس باڑے میں نہیں ہیں۔" قوم، زبان اور خاندان کی دیواریں چرواہے کی آواز کے سامنے ٹوٹ جاتی ہیں۔ کلیسیا کی وحدت کوئی خوش نما نعرہ نہیں، یہ صلیب کا منطقی نتیجہ ہے۔
یوحنا 10 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
آج ہی اُس ایک شخص کا نام لکھیں جس سے آپ فاصلہ رکھ رہے ہیں کیونکہ اُس کی فکر کرنا آپ کو کچھ خرچ کرواتی ہے، اور اِسی دس منٹ میں اُسے فون کر کے نام سے پکاریں اور پوچھیں کہ وہ واقعی کیسا ہے۔
یوحنا 10 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یہ بات سردیوں میں حنوکا کے موقع پر کہی گئی، اُس عید پر جو مکّابیوں کی فتح اور ہیکل کی نئی مخصوصیت کی یاد تھی۔ ماحول قومی اور سیاسی طور پر گرم تھا: لوگ ایسے مسیح کے منتظر تھے جو رومیوں کو نکال دے۔ اِسی لیے وہ اُنہیں "گھیر کر" صاف جواب مانگتے ہیں؛ یہ سوال نہیں، شکنجہ ہے۔ اور فوراً پہلے باب ۹ میں وہ نابینا شخص عبادت گاہ سے نکال دیا گیا تھا: یعنی وقت کے چرواہوں نے ایک زخمی بھیڑ کو باڑے سے باہر پھینکا تھا۔ اُس پس منظر میں "اچھا چرواہا مَیں ہوں" ایک نرم تصویر نہیں بلکہ مذہبی قیادت پر براہِ راست الزام ہے۔ اِسی لیے پتھر اُٹھائے جاتے ہیں۔
یوحنا 10 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
آپ کی زندگی میں وہ کون سا رشتہ ہے جس میں آپ چرواہے کے بجائے مزدور بن چکے ہیں، اور اُس میں "بھیڑیا" کس شکل میں آتا ہے؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی John 10 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

دعا ادارتی کو آیت 19

اے خدا، تیرے بارے میں لوگوں کی رائے بٹی ہوئی ہے، اور کبھی میرا دل بھی الجھ جاتا ہے۔ شور کے درمیان مجھے اپنی آواز پہچاننے کی توفیق دے۔ جہاں سمجھ کم پڑ جائے، وہاں بھروسہ بڑھا دے، اور مجھے تیرے پیچھے چلتے رہنے کا حوصلہ دے۔

دعا ادارتی کو آیت 40

اے خدا، جب لوگوں کی مخالفت اور شور بڑھ جاتا ہے تو مجھے بھی وہ جگہ یاد آتی ہے جہاں تُو نے پہلی بار مجھے اپنا بنایا تھا۔ مجھے وہیں لوٹا لے، اپنی خاموشی میں، اپنی حضوری میں۔ مجھے سکون دے کہ میں تیرے ساتھ ٹھہر سکوں اور نئی طاقت پاؤں۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

کمپنی؟