گلتیوں 5
متن
پولس ایک ہی سانس میں دو باتیں کہتے ہیں جو بظاہر ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں: تم آزاد ہو، اور اب ایک دوسرے کے غلام بن جاؤ۔ پہلے وہ گلتیہ کی جماعتوں کو خبردار کرتے ہیں کہ ختنہ اور شریعت کے ذریعے راست بازی حاصل کرنے کی کوشش انہیں مسیح سے کاٹ دے گی، پھر وہ اُس آزادی کا مطلب کھولتے ہیں: نہ من مانی، بلکہ محبت میں خدمت۔ آخری حصے میں دو فہرستیں آتی ہیں، پرانی فطرت کے کام اور روح القدس کا پھل، اور ایک عجیب سا مطالبہ: ”قدم بہ قدم اُس کے مطابق چلتے بھی رہیں۔“
مرکزی بات
آیت ۱ کی بُنت پر ٹھہریں: ”مسیح نے ہمیں آزاد رہنے کے لئے ہی آزاد کیا ہے۔“ آزادی مقصد ہے، ذریعہ نہیں۔ ہم عام طور پر آزادی کو کسی اور چیز کے لئے چاہتے ہیں: سکون کے لئے، کامیابی کے لئے، اپنی مرضی کے لئے۔ پولس کہتے ہیں کہ خدا کے پاس آزادی خود ہی منزل ہے، کیونکہ آزاد انسان ہی محبت کر سکتا ہے۔ غلام اطاعت کرتا ہے، مگر محبت نہیں کر سکتا۔ اِسی لئے آیت ۶ میں فیصلہ کن بات ختنہ نہیں بلکہ ”وہ ایمان جو محبت کرنے سے ظاہر ہوتا ہے۔“ یہاں سوال یہ نہیں کہ کتنے احکام ہم نے پورے کیے، بلکہ یہ کہ ہمارے اندر کون زندہ ہے۔ اور یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ہم خود پوری طرح جانچ نہیں سکتے۔
سلسلۂ کلام
آزادی کی زبان بائبل میں نئی نہیں۔ اسرائیل مصر سے نکلا، پھر سینا پہنچا، اور وہاں شریعت پائی۔ ترتیب یہی تھی: پہلے رہائی، پھر حکم۔ حکم آزادی کی قیمت نہ تھا، اُس کی شکل تھا۔ گلتیہ میں یہی ترتیب اُلٹ دی جا رہی تھی، اور پولس اِسے واپس مصر کا سفر سمجھتے ہیں: ”دوبارہ اپنے گلے میں غلامی کا جوا ڈالنے نہ دیں۔“ مسیح کی صلیب اِس کہانی کا نیا خروج ہے، اور روح القدس وہ ستون ہے جو بیابان میں آگے آگے چلتا ہے۔ مگر غور کریں: پولس شریعت کو ردّی نہیں کہتے۔ وہ کہتے ہیں پوری شریعت ایک حکم میں ”سمائی ہوئی“ ہے۔ سمٹنا، مٹنا نہیں۔ جو روح میں چلتا ہے، وہ شریعت کو توڑتا نہیں، اُس سے آگے نکل آتا ہے۔
آئینہ
آیت ۱۷ ایمانداروں کے لئے تسلی سے زیادہ ایک تلخ سچائی ہے: ”آپ وہ کچھ نہیں کر پاتے جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔“ آپ صبح دعا میں طے کرتے ہیں کہ آج بیوی سے نرمی سے بات کریں گے، اور شام کو وہی پرانا لہجہ لوٹ آتا ہے۔ آپ دفتر میں فیصلہ کرتے ہیں کہ اُس ساتھی سے حسد نہیں کریں گے جس کی ترقی ہوئی، اور دل چپکے سے حساب لگاتا رہتا ہے۔ پولس اِس تجربے کو انکار نہیں کرتے، نہ اِسے آسان بناتے ہیں۔ وہ صرف ایک بات کہتے ہیں: یہ جنگ اِس بات کا ثبوت نہیں کہ روح آپ میں نہیں، بلکہ اِس کا ثبوت ہے کہ روح آپ میں ہے۔ مُردہ جسم لڑتا نہیں۔ سوال یہ نہیں کہ آپ لڑ رہے ہیں یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کس طرف کھڑے ہو کر لڑ رہے ہیں۔
باہمی حوالے
پولس آیت ۱۴ میں احبار ۱۹ باب کا وہ فقرہ اُٹھاتے ہیں جو خداوند یسوع نے بھی اُٹھایا تھا: ”اپنے پڑوسی سے ویسی محبت رکھنا جیسی تُو اپنے آپ سے رکھتا ہے۔“ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ حکم پرانے عہدنامے ہی کا ہے، یعنی جس شریعت سے پولس آزادی کا اعلان کر رہے ہیں، اُسی سے وہ زندگی کا نقشہ لے رہے ہیں۔ دوسری گونج یوحنا ۱۵ باب سے آتی ہے، جہاں مسیح انگور کی بیل اور شاخوں کی بات کرتے ہیں۔ پولس بھی ”پھل“ کہتے ہیں، ”کام“ نہیں۔ پھل بنایا نہیں جاتا، وہ اُگتا ہے، آہستہ، خاموشی سے، زیرِ زمین جڑ کے سہارے۔ یہ استعارہ ہماری کارکردگی کی ثقافت پر ایک مہربان مگر سخت تنقید ہے۔
پس منظر
گلتیہ کی جماعتیں زیادہ تر غیریہودی تھیں، رومی سلطنت کے وسطی اناطولیہ میں، جہاں مذہب سیاسی حفاظت بھی تھا۔ یہودیت کو رومی قانون میں ایک تسلیم شدہ مقام حاصل تھا؛ مسیح یقین رکھنے والے غیریہودیوں کے پاس ایسی کوئی چھت نہ تھی۔ سو ختنہ کروانا محض دینی مسئلہ نہ تھا، یہ سماجی تحفظ اور عزت کی طرف ایک قدم تھا: ایک قابلِ شناخت شناخت، ایک محفوظ ٹھکانا۔ اِسی لئے پولس آیت ۱۱ میں ایذا رسانی کا ذکر کرتے ہیں۔ صلیب پر بھروسا رکھنے والی جماعت کے پاس کوئی سماجی سند نہ تھی، صرف ایک مصلوب مسیح تھا، جو یہودیوں کے لئے ٹھوکر اور یونانیوں کے لئے حماقت۔ آزادی مہنگی تھی۔ آج بھی ہے۔
ایک باریک بات
آیت ۹ کی چھوٹی سی بات پر ٹھہریں: ”تھوڑا سا خمیر تمام گُندھے ہوئے آٹے کو خمیر کر دیتا ہے۔“ پولس کوئی بڑی بدعت کا ذکر نہیں کر رہے۔ خمیر خاموش ہوتا ہے، نظر نہیں آتا، کوئی شور نہیں کرتا۔ آٹا صبح تک بدل چکا ہوتا ہے، اور کسی نے کچھ ہوتا دیکھا نہیں۔ گلتیہ میں مسیح کا انکار نہیں ہوا تھا؛ صرف ایک چھوٹی سی شرط اُس کے ساتھ جوڑ دی گئی تھی۔ ایک لفظ ”اور“۔ مسیح اور ختنہ۔ فضل اور کارکردگی۔ پولس اِس ”اور“ کو خمیر کہتے ہیں، کیونکہ فضل جیسے ہی کسی چیز کے ساتھ شریک ہوتا ہے، فضل رہنا چھوڑ دیتا ہے۔ ہمارے دلوں میں یہ ”اور“ کہاں چھپا بیٹھا ہے؟ عام طور پر ہمیں معلوم نہیں ہوتا، جب تک کوئی ہمیں یہ آیت پڑھ کر نہ سنائے۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں وہ کون سی چیز ہے جو آپ چپکے سے مسیح کے ساتھ ”اور“ لگا کر جوڑ رہے ہیں، اور آپ اُسے چھوڑنے سے کیوں ڈرتے ہیں؟
روح القدس کا پھل اُگتا ہے، بنایا نہیں جاتا۔ آپ کی زندگی میں اِس وقت کون سی چیز صبر مانگ رہی ہے، جہاں آپ زور لگانے کے بجائے صرف ٹھہرنے کے لئے بلائے گئے ہیں؟
Galatians 5 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
گلتیوں 5 کا کیا مطلب ہے؟
گلتیوں 5 کس بارے میں ہے؟
گلتیوں 5 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
گلتیوں 5 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
گلتیوں 5 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Galatians 5 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
پولس نے روح کے پھل کا ذکر کرنے کے بعد لکھا، ”ہم مغرور نہ ہوں، نہ ایک دوسرے کو مشتعل کریں، نہ ایک دوسرے سے حسد کریں۔“ غور کریں کہ کھوکھلا فخر دو شکلیں لیتا ہے۔ جو آپ سے پیچھے ہے اُسے آپ چھیڑتے ہیں، اور جو آگے ہے اُس سے جلتے ہیں۔ دونوں کی جڑ ایک ہی ہے، خود کو ناپنے کی عادت۔ آج کس کے ساتھ آپ خود کو تول رہے ہیں؟
پولس نے ابھی کہا تھا کہ ساری شریعت ایک ہی حکم میں پوری ہوتی ہے، "اپنے پڑوسی سے ویسی محبت رکھ جیسی تُو اپنے آپ سے رکھتا ہے۔" پھر فوراً تنبیہ آتی ہے: "لیکن اگر تم ایک دوسرے کو کاٹتے اور پھاڑ کھاتے ہو تو خبردار، ایسا نہ ہو کہ تم ایک دوسرے کو برباد کر دو۔" غور کریں، یہ لفظ جنگلی جانوروں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ جو باتیں آپ کسی بہن یا بھائی کے بارے میں کہتے ہیں، کیا وہ تعمیر کرتی ہیں یا چیر پھاڑ؟
پولس یہ بات دوسری بار کہہ رہا ہے: ”جس طرح مَیں پہلے بتا چکا ہوں اب بھی آپ کو آگاہ کرتا ہوں۔“ جو شخص پروا نہ کرے وہ دہراتا نہیں۔ یہ خبردار کرنا سختی نہیں، محبت ہے۔ اور غور کریں، وہ ایک بار کی لغزش کی نہیں بلکہ اُن ”حرکتوں“ کی بات کرتا ہے جو ہماری عادت اور ہمارا راستہ بن جاتی ہیں۔ آج آپ کس راستے پر چل رہے ہیں؟
یہ ترغیب اُس کی طرف سے نہیں ہے جو آپ کو بُلاتا ہے۔" پولس نے گلتیہ کے ایمان داروں کو ایک سادہ پیمانہ دیا۔ ہر قائل کرنے والی آواز خدا کی نہیں ہوتی۔ جو آواز آپ کو دوبارہ اپنی محبت کمانے کی دوڑ میں ڈال دے، وہ اُس کی نہیں جس نے مفت میں آپ کو بلایا۔ ذرا سوچیں، آج جو بات آپ کے دل پر دباؤ ڈال رہی ہے، وہ کس کی آواز ہے؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
