رومیوں 3
متن
پولس رسول ایک سوال سے شروع کرتے ہیں جو اُن کے یہودی بھائیوں کے دل میں کھٹک رہا تھا: اگر سب برابر مجرم ہیں تو پھر ختنہ اور یہودی ہونے کا فائدہ کیا؟ جواب دو حصوں میں آتا ہے: فائدہ بہت ہے، کیونکہ ”اللہ کا کلام اُن کے سپرد کیا گیا ہے“، مگر یہ فائدہ کسی کو کٹہرے سے باہر نہیں نکالتا۔ زبور اور یسعیاہ کے حوالوں کی ایک لڑی سے پولس ثابت کرتے ہیں کہ ”کوئی نہیں جو راست باز ہے، ایک بھی نہیں“، اور پھر اُس موڑ پر پہنچتے ہیں جہاں سے انجیل کی روشنی پھوٹتی ہے: اللہ نے مسیح عیسیٰ کے خون کے وسیلے سے راست بازی کی ایک نئی راہ کھول دی ہے، مفت، ایمان سے، سب کے لئے۔
مرکزی بات
اِس باب کا اصل مسئلہ انسان کا گناہ نہیں، بلکہ خدا کی راستی ہے۔ سوال یہ ہے: اگر خدا گناہ گاروں کو معاف کر دے تو کیا وہ خود بےانصاف نہیں ٹھہرتا؟ ایک جج جو مجرم کو بری کر دے، رحم دل نہیں بلکہ بدعنوان کہلاتا ہے۔ پولس کا جواب آیت ۲۵ اور ۲۶ میں ہے: صلیب پر خدا نے اپنی راستی ظاہر کی، ”پہلے ماضی میں جب وہ اپنے صبر و تحمل میں گناہوں کی سزا دینے سے باز رہا“، اور اب بھی۔ یعنی کفارہ صرف ہمیں بچانے کے لئے نہیں، خدا کے کردار کو صاف کرنے کے لئے بھی ہے۔ وہ ”راست ہے اور ہر ایک کو راست باز ٹھہراتا ہے“۔ یہ دو باتیں صرف صلیب پر ایک ساتھ کھڑی رہ سکتی ہیں۔
سلسلۂ کلام
آیت ۲۵ میں جو لفظ ”کفارہ کا وسیلہ“ ترجمہ ہوا ہے، یونانی میں وہ hilastērion ہے، وہی اصطلاح جو یونانی توریت میں عہد کے صندوق کے ڈھکنے، یعنی ”تختِ رحمت“ کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ سال میں ایک بار امامِ اعظم اُس ڈھکنے پر خون چھڑکتا تھا اور قوم کے گناہ ڈھانپے جاتے تھے، مگر پردے کے پیچھے، تاریکی میں، ہر سال دوبارہ۔ پولس کہتے ہیں: خدا نے عیسیٰ کو ”پیش کیا“، یعنی سرِعام، دن کی روشنی میں، ایک بار۔ اِسی لئے وہ کہہ سکے کہ ”توریت اور نبیوں کے صحیفے بھی اِس کی تصدیق کرتے ہیں“۔ قربانی کا سارا نظام کوئی متبادل راستہ نہ تھا بلکہ اُس ایک قربانی کا سایہ تھا جس کی طرف وہ اشارہ کرتا رہا۔
آئینہ
ہم میں سے اکثر ختنہ پر بھروسا نہیں کرتے، مگر ہمارے پاس اپنی فہرستیں ہیں: کلیسیا میں باقاعدگی، صبح کی عبادت، وہ عادت جو ہم نے چھوڑ دی، وہ رقم جو ہم نے دی۔ اِن میں سے کوئی چیز بُری نہیں، جس طرح کلام کا سپرد کیا جانا بُرا نہ تھا۔ خطرہ اُس لمحے پیدا ہوتا ہے جب یہ فہرست ہمیں کسی اَور کے مقابلے میں تھوڑا اونچا کھڑا کر دیتی ہے، اپنے بہنوئی کے مقابلے میں، اُس ہمسائے کے مقابلے میں جس کی زندگی بکھری ہوئی ہے۔ آیت ۲۷ اِسی پر چھری چلاتی ہے: ”اب ہمارا فخر کہاں رہا؟ اُسے تو ختم کر دیا گیا ہے۔“ اگر آپ کی نجات مفت ہے تو آپ کے پاس شیخی کے لئے کچھ نہیں بچا، اور یہی سب سے بڑی آزادی ہے۔
مرکزی کردار
اِس باب کا اصل کردار خدا ہے، اور اُس کا سب سے نمایاں وصف وفاداری ہے۔ انسان بےوفا نکلا، مگر ”کیا اِس سے اللہ کی وفاداری بھی ختم ہو جائے گی؟ کبھی نہیں!“ یہ کوئی ٹھنڈی الٰہیاتی بات نہیں؛ اِس کے پیچھے ایک ایسے خدا کی تصویر ہے جو اپنے عہد سے پیچھے نہیں ہٹتا، چاہے دوسری طرف سے وعدہ بار بار توڑا جائے۔ ساتھ ہی وہ خدا ہے جو صبر کرتا ہے: صدیوں تک اُس نے سزا روکے رکھی، مگر گناہ کو نظرانداز نہیں کیا، بلکہ اُس کا بوجھ اپنے بیٹے پر ڈال دیا۔ صبر اور انصاف، رحم اور سچائی، یہ سب ایک ہی ذات میں، اور یہ سب صلیب پر ایک نقطے پر آ ملتے ہیں۔
پہلے سننے والے
روم کی کلیسیا میں یہودی اور غیریہودی ایمان دار ایک ہی کمرے میں بیٹھتے تھے، اور یہ آسان نہ تھا۔ شہنشاہ کلودیُس نے کچھ سال پہلے یہودیوں کو روم سے نکالا تھا؛ جب وہ لوٹے تو کلیسیا زیادہ تر غیریہودیوں کی ہو چکی تھی۔ کون میزبان ہے اور کون مہمان؟ کس کی تاریخ زیادہ وزنی ہے؟ آیت ۲۹ اُسی زخم پر ہاتھ رکھتی ہے: ”کیا اللہ صرف یہودیوں کا خدا ہے؟ غیریہودیوں کا نہیں؟“ یہودی سننے والے کے لئے یہ فہرست شرمناک تھی، کیونکہ پولس اُن کے اپنے صحیفوں سے اُن پر الزام لگاتے ہیں۔ غیریہودی سننے والے کے لئے یہ حیران کن تھا کہ وہ کسی دوسرے درجے کا رکن نہیں، بلکہ اُسی فضل کا برابر کا وارث ہے۔
پس منظر
پولس یہ خط تقریباً ۵۷ عیسوی میں کرنتھس سے لکھتے ہیں، ایک ایسی کلیسیا کو جسے اُنہوں نے خود قائم نہیں کیا تھا۔ وہ اسپین جانا چاہتے ہیں اور روم کی حمایت درکار ہے، اِس لئے وہ اپنی انجیل کو کھول کر رکھ دیتے ہیں۔ باب ۱ سے یہاں تک اُن کی دلیل ایک عدالتی مقدمے کی طرح چلی ہے: پہلے غیرقوموں پر فردِجرم، پھر یہودیوں پر، اور اب فیصلہ کہ ”تمام دنیا اللہ کے سامنے مجرم ٹھہرے“۔ آیت ۲۱ کا ”لیکن اب“ اِسی مقدمے میں وہ لمحہ ہے جب منصف خود قیمت ادا کرنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ شریعت کا کام ختم نہیں ہوا؛ وہ ہمیں مجرم ثابت کرتی رہتی ہے تاکہ ہم مسیح کے پاس آئیں۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں وہ کون سی چیز ہے جو ختنہ کی طرح اچھی ہے، مگر جسے آپ چپکے سے اپنی قبولیت کی بنیاد بنا لیتے ہیں؟
اگر خدا نے صلیب پر اپنی راستی اور اپنا رحم ایک ساتھ ظاہر کیا، تو یہ اُس شخص کے بارے میں آپ کے رویے کو کیسے بدلتا ہے جس کا قرض آپ معاف نہیں کر پا رہے؟
Romans 3 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
رومیوں 3 کا کیا مطلب ہے؟
رومیوں 3 کس بارے میں ہے؟
رومیوں 3 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
رومیوں 3 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
رومیوں 3 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Romans 3 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
شریعت تو صرف یہ ظاہر کرتی ہے کہ ہم گناہ گار ہیں۔" آئینہ چہرے کی گرد دکھا تو سکتا ہے، دھو نہیں سکتا۔ اِسی لیے تیری کوششیں تجھے تھکا دیتی ہیں، وہ تیرا زخم کھول تو دیتی ہیں مگر باندھ نہیں پاتیں۔ سوال یہ ہے کہ تُو آئینے کے سامنے کھڑا رہے گا یا اُس کے پاس جائے گا جو دھونے آیا ہے؟
پولس پوچھتا ہے کہ یہودی ہونے کا آخر فائدہ کیا ہے، اور جواب دیتا ہے، ”ہاں، ہر لحاظ سے! اوّل تو یہ کہ اللہ کا کلام اُن کے سپرد کیا گیا۔“ غور کریں، سپرد کیا گیا۔ یعنی امانت، ملکیت نہیں۔ اسرائیل نے بار بار ٹھوکر کھائی، پھر بھی خدا نے اپنا کلام واپس نہ لیا۔ آپ کی الماری میں پڑی وہ بائبل بھی امانت ہے۔ آج آپ نے اُسے کھولا؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
