عبرانیوں 11
متن خود
باب کا آغاز ایک تعریف سے ہوتا ہے: ایمان یہ ہے کہ ہم اُس میں قائم رہیں جس پر اُمید رکھتے ہیں اور اُس کا یقین رکھیں جو ہم نہیں دیکھ سکتے۔ اِس کے بعد مصنّف ایک لمبی فہرست پیش کرتا ہے: ہابیل، حنوک، نوح، ابراہیم، سارہ، موسیٰ، راحب، قاضی، انبیا۔ اور آخر میں ایک عجیب جملہ: اِن سب کو اچھی گواہی ملی، مگر "اِنہیں وہ کچھ حاصل نہ ہوا جس کا وعدہ اللہ نے کیا تھا۔"
اِس فہرست کو پڑھنے سے پہلے ایک منظر ذہن میں لائیں۔ پہلی صدی کا کوئی کرائے کا مکان، شام کا وقت، تیل کے چراغ کی بو، بیس پچیس لوگ فرش پر بیٹھے ہیں۔ اُن میں سے کئی کے گھر لُوٹے جا چکے ہیں، کچھ کے رشتے دار قید میں ہیں، کچھ کو خاندان نے مسیح کی وجہ سے بےعزت کرکے نکال دیا ہے۔ کوئی بھائی کھڑا ہو کر یہ خط بلند آواز میں پڑھ رہا ہے۔ اور جب وہ آیت 37 تک پہنچتا ہے، "بعض کو بھیڑبکریوں کی کھالوں میں گھومنا پھرنا پڑا"، تو سننے والوں کے ذہن میں کوئی مذہبی تصویر نہیں بنتی؛ اُنہیں اپنی حالت یاد آتی ہے۔
اصل بات
اِس باب کو ہم عام طور پر "ایمان کے ہیرو" کے نام سے پڑھتے ہیں، لیکن مصنّف کا مقصد ہیرو دکھانا نہیں، بلکہ خدا کی وفاداری کو دکھانا ہے۔ غور کریں: ہر بار زور اِس بات پر ہے کہ اللہ نے بولا اور کسی نے سُنا۔ نوح کو "آنے والی باتوں کے بارے میں آگاہ" کیا گیا؛ ابراہیم کو بُلایا گیا۔ ایمان یہاں انسان کی اندرونی طاقت نہیں بلکہ کسی کلام کے سامنے جھکنے کا نام ہے۔ اور جو خدا بولتا ہے وہ ایسا خدا ہے جو نظر نہ آنے والی چیزوں سے کائنات بناتا ہے (آیت 3) اور مُردوں کو زندہ کر سکتا ہے (آیت 19)۔ ایمان اُسی خدا پر بھروسا ہے: جو کچھ نہیں ہے، اُس سے کچھ بنا دینے والا۔
سلسلۂ نجات کی ڈور
پورا باب ایک ہی سمت میں بہتا ہے: خیموں سے شہر کی طرف۔ ابراہیم وعدے کے ملک میں پہنچ کر بھی "اجنبی کی حیثیت سے" رہتا ہے، کیونکہ وہ "اُس شہر کے انتظار میں تھا جس کی مضبوط بنیاد ہے"۔ یہ آرزو صدیوں تک ادھوری رہی، اور آیت 40 اُس کا جواب دیتی ہے: خدا نے "ہمارے لئے ایک ایسا منصوبہ بنایا تھا جو کہیں بہتر ہے۔" یعنی مسیح۔ ابراہیم، موسیٰ، داؤد، سب ایک ایسے وعدے کی طرف چل رہے تھے جو صلیب اور خالی قبر میں پورا ہوا۔ اِسی لئے آیت 26 حیران کن حد تک آگے بڑھ کر کہتی ہے کہ موسیٰ نے "مسیح کی خاطر" رُسوائی کو مصر کے خزانوں سے قیمتی سمجھا۔ مصنّف کے نزدیک ایمان کی تاریخ ہمیشہ مسیح کی طرف جھکی ہوئی تھی۔
آئینہ
اِس فہرست میں دو قسم کے لوگ ہیں، اور یہی اِس باب کی چبھن ہے۔ کچھ نے شیرببروں کے منہ بند کیے اور لشکروں کو شکست دی؛ کچھ کو "آرے سے چیرا گیا"۔ دونوں کو ایک ہی گواہی ملی۔ ہم عام طور پر پہلی قسم کا ایمان چاہتے ہیں: وہ ایمان جو نوکری بچاتا ہے، رشتہ جوڑتا ہے، رپورٹ صاف لے آتا ہے۔ اور جب ایسا نہیں ہوتا، تو ہمیں لگتا ہے ہمارا ایمان ناکام ہو گیا۔ یہ باب اُس حساب کو توڑ دیتا ہے۔ اگر آپ نے برسوں دعا کی اور بیماری نہ ٹلی، اگر آپ نے دیانت داری کی قیمت ادا کی اور ترقی کسی اور کو ملی، آپ فہرست سے باہر نہیں ہوئے۔ آپ آیت 35 کے دوسرے حصے میں ہیں، اور خدا وہاں بھی اپنا نام آپ کے ساتھ جوڑنے سے "نہیں شرماتا"۔
کلام کی گونج
پیدایش 12 میں ابراہیم کی روانگی محض ایک ہجرت لگتی ہے؛ عبرانیوں 11 اُسے کھول کر دکھاتا ہے کہ اُس کے قدموں کے پیچھے ایک شہر کی اُمید تھی۔ اِسی طرح پیدایش 22 میں کہانی خوف ناک حد تک خاموش ہے کہ ابراہیم کے دل میں کیا تھا؛ یہاں ہمیں بتایا جاتا ہے: اُس نے سوچا، "اللہ مُردوں کو بھی زندہ کر سکتا ہے۔" پھر اگلے ہی باب میں یہ ساری فہرست ایک ہی مرکز پر ٹھہر جاتی ہے، جہاں ہمیں یسوع کی طرف دیکھنے کو کہا جاتا ہے، جو ایمان کا بانی اور اُسے کامل کرنے والا ہے۔ فہرست تعریف کے لیے نہیں، اشارے کے لیے ہے۔
ایک باریک تفصیل
آیت 13 کا ایک لفظ رُک کر پڑھنے کے لائق ہے: اُنہوں نے وعدے کو "صرف دُور ہی سے دیکھ کر خوش آمدید کہا۔" یونانی زبان کا لفظ یہاں کسی مہمان کو گلے لگا کر سلام کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ تصور کریں: ایک بوڑھا آدمی پہاڑی پر کھڑا ہے، افق پر کوئی چیز دُور دُور نظر آتی ہے، اور وہ ہاتھ اُٹھا کر اُسے سلام کرتا ہے، جانتے ہوئے کہ وہ اُس تک زندہ نہ پہنچے گا۔ ایمان یہی ہے: جو ہاتھ میں نہیں آیا، اُس کا استقبال کرنا۔ نہ انکار، نہ خودفریبی، بلکہ دُور سے پہچان لینا کہ وہ آ رہا ہے۔
مشکل سوال
پھر بھی سوال باقی رہتا ہے: آیت 33 کہتی ہے "اُنہیں اللہ کے وعدے حاصل ہوئے"، اور آیت 39 کہتی ہے "اِنہیں وہ کچھ حاصل نہ ہوا جس کا وعدہ اللہ نے کیا تھا۔" یہ تناؤ مصنّف جان بوجھ کر رکھتا ہے۔ خدا وقت میں وفادار ہے، مگر اُس کا آخری وعدہ وقت کے اندر پورا نہیں ہوتا۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان دار زندگی کا اختتام اکثر ادھورا لگتا ہے، اور یہ ناکامی نہیں۔ یہ آسان تسلی نہیں دیتا؛ جو قبر پر کھڑا ہے اُس کے لیے یہ جواب کڑوا ہے۔ لیکن آیت 40 ایک عجیب رشتہ کھولتی ہے: وہ ہمارے بغیر کامل نہیں ہوتے، اور ہم اُن کے بغیر نہیں۔ ہم سب ایک ہی شہر کے دروازے پر ایک ساتھ پہنچیں گے۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کی زندگی میں کون سا وعدہ ایسا ہے جسے آپ نے ابھی تک صرف "دُور ہی سے" دیکھا ہے، اور کیا آپ اُسے خوش آمدید کہنے کو تیار ہیں؟
آپ ایمان کو کامیابی سے کہاں تک جوڑ لیتے ہیں، اور آیت 35 کا دوسرا حصہ اُس پیمانے کو کیسے بدلتا ہے؟
Hebrews 11 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
عبرانیوں 11 کا کیا مطلب ہے؟
عبرانیوں 11 کس بارے میں ہے؟
عبرانیوں 11 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
عبرانیوں 11 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
عبرانیوں 11 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Hebrews 11 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، ابرہام کی طرح مجھے بھی یقین دے کہ تُو مُردوں کو بھی زندہ کر سکتا ہے۔ جب مجھے وہ چیز چھوڑنی پڑے جو میرے دل کے سب سے قریب ہے، تو مجھے یاد دِلا کہ تیرے ہاتھ میں کوئی بات ختم نہیں ہوتی۔ میرا بھروسہ تجھ پر قائم رکھ۔
خداوند، شکر ہے کہ اُن سب کو اُن کے ایمان کے سبب سے اچھی گواہی ملی، حالانکہ اُن کے جیتے جی وہ وعدہ پورا نہ ہوا۔ شکر کہ تُو نے کچھ بہتر ہمارے لیے رکھ چھوڑا اور اُن کا لمبا انتظار رائیگاں نہ گیا بلکہ ہمارے ساتھ مل کر تکمیل تک پہنچا۔
ایمان کے ذریعے ہم جانتے ہیں کہ کائنات اللہ کے کلام سے وجود میں آئی۔ یہ عجیب بات ہے۔ سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ کیسے، مگر ایمان ہمیں بتاتا ہے کہ کس نے۔
جو ستارے تُو رات کو دیکھتا ہے، وہ کسی حادثے کا نتیجہ نہیں۔ وہ ایک بولنے والے خدا کی آواز کی گونج ہیں۔ اور جس نے لفظ سے جہان بنایا، وہ تیری ٹوٹی زندگی بھی اپنے کلام سے دوبارہ بنا سکتا ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
