عبرانیوں 10
متن
عبرانیوں ۱۰ میں مصنف اپنی سب سے بڑی دلیل کو انجام تک پہنچاتا ہے: پرانے نظام کی قربانیاں سال بہ سال دہرائی جاتی تھیں کیونکہ وہ کبھی گناہ کو دُور نہ کر سکیں، مگر مسیح نے اپنے بدن کی ایک ہی قربانی پیش کی اور پھر بیٹھ گیا، کیونکہ کام مکمل ہو چکا تھا۔ اِس کے بعد باب کا رُخ اچانک بدل جاتا ہے: چونکہ راستہ کھل گیا ہے، اِس لئے آؤ، ہم قریب آئیں، اُمید کو تھامے رکھیں، ایک دوسرے کو اُبھاریں، جمع ہونے سے باز نہ آئیں۔ اور پھر ایک سخت انتباہ: جو جان بوجھ کر پیچھے ہٹتا ہے، وہ زندہ خدا کے ہاتھوں میں پڑتا ہے۔ آخر میں مصنف اُنہیں اُن کے اپنے ماضی کی یاد دلاتا ہے، جب اُن کا مال لُوٹا گیا اور اُنہوں نے یہ خوشی سے برداشت کیا۔
مرکزی بات
اِس باب کا اخلاقی مرکز آیت ۱۲ کے ایک لفظ میں چھپا ہے: مسیح "بیٹھ گیا"۔ کوئی امام کبھی نہیں بیٹھتا تھا؛ آیت ۱۱ کہتی ہے وہ "روز بہ روز مقدِس میں کھڑا" رہتا ہے، کیونکہ اُس کا کام کبھی ختم نہیں ہوتا۔ مسیح کا بیٹھ جانا اعلان ہے کہ حساب برابر ہو گیا۔ اِس کا نتیجہ نہ سُستی ہے نہ لاپروائی۔ جس ضمیر کو مسلسل صفائی کی ضرورت نہیں رہی، وہ آزاد ہو جاتا ہے تاکہ دوسروں کی طرف متوجہ ہو۔ جو شخص ہر روز اپنے گناہ کا حساب چکانے میں مصروف ہے، اُس کے پاس پڑوسی کے لئے وقت نہیں۔ کامل قربانی ہمیں اپنی ذات کی مرمت سے فارغ کر کے محبت کے کام پر لگا دیتی ہے۔
سلسلۂ کلام
آیات ۵ سے ۷ میں زبور ۴۰ کے الفاظ مسیح کے منہ میں رکھے گئے ہیں: "اے خدا، مَیں حاضر ہوں تاکہ تیری مرضی پوری کروں"۔ یہ اُس پرانی شکایت کا جواب ہے جو انبیا بار بار دہراتے تھے: خدا کو جانوروں کا خون نہیں، فرمانبردار دل چاہیے۔ مگر پرانے عہد میں کوئی ایسا دل نہ ملا۔ اِسی لئے یرمیاہ ۳۱ کا وعدہ آیت ۱۶ میں دہرایا جاتا ہے: شریعت دلوں میں ڈالی جائے گی۔ مسیح وہ پہلا انسان ہے جس کا دل مکمل طور پر خدا کی مرضی سے ہم آہنگ تھا، اور اُس کی فرمانبرداری ہمیں مخصوص و مُقدّس کرتی ہے۔ یوں پرانا نظام ٹوٹتا نہیں، پورا ہوتا ہے، اور ہماری اخلاقی زندگی رسم سے نکل کر باطن میں منتقل ہو جاتی ہے۔
آئینہ
آیت ۲۵ ہمیں تکلیف دیتی ہے کیونکہ وہ عادت کا ذکر کرتی ہے: "جس طرح بعض کی عادت بن گئی ہے"۔ ایمان عموماً ایک دھماکے سے نہیں مرتا، وہ آہستہ آہستہ غیرحاضری کی عادت میں گھلتا ہے۔ پہلے ایک اتوار، پھر تین، پھر وہ گروپ جس میں آپ کھلے دل سے بات کرتے تھے۔ اور آیت ۳۴ ہمارے بٹوے پر ہاتھ رکھتی ہے: وہ لوگ قید میں پڑے بھائیوں کے ساتھ شریک ہوئے اور مال کا نقصان خوشی سے سہا، کیونکہ اُن کے پاس ایک بہتر مال تھا۔ ہم اپنی نوکری، اپنی عزت، اپنے آرام کو اُس مقام پر رکھتے ہیں جہاں ہم قربانی دینے کے قابل ہی نہیں رہتے۔ سوال یہ نہیں کہ آپ کتنا دیتے ہیں، بلکہ یہ کہ کیا آپ کچھ کھو کر بھی خوش رہ سکتے ہیں۔
آج ہی اُس ایک شخص کا نام کاغذ پر لکھیں جو کچھ عرصے سے جماعت سے غائب ہے، اور ابھی اُسے ایک مختصر پیغام بھیجیں: صرف یہ کہ آپ نے اُسے یاد کیا۔
مرکزی کردار
آیات ۵ سے ۱۰ میں مسیح بولتا ہے، اور یہ اِس باب کا سب سے حیران کن لمحہ ہے۔ وہ دنیا میں آتے وقت اپنے آنے کی وجہ خود بیان کرتا ہے، اور وہ وجہ کوئی منصوبہ یا مشن نہیں بلکہ ایک رضامندی ہے: "مَیں حاضر ہوں"۔ اُس کے پاس دینے کے لئے صرف ایک چیز تھی، وہ بدن جو خدا نے اُس کے لئے تیار کیا۔ یہاں مسیح کی تصویر مظلوم شکار کی نہیں، فرمانبردار بیٹے کی ہے جو اپنی جان دینے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اور آیت ۱۳ اُس کے انتظار کا ذکر کرتی ہے: وہ صبر سے بیٹھا ہے جب تک سب کچھ اُس کے پاؤں تلے نہ آ جائے۔ فرمانبرداری اور صبر، یہی دو چیزیں وہ اپنے پیروکاروں سے بھی مانگتا ہے۔
ایک باریک نکتہ
آیت ۲۴ کا لفظ "دھیان دیں" یونانی میں وہی لفظ ہے جو کسی چیز کو غور سے جانچنے، مسئلے کی طرح سوچنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یہاں ہدایت یہ نہیں کہ "ایک دوسرے سے محبت کرو" بلکہ یہ کہ سوچ بچار کرو کہ کس طرح دوسرے کو محبت اور نیک کام پر اُبھارا جا سکے۔ یہ ایک ذہنی محنت ہے، منصوبہ بندی ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنی جماعت کے لوگوں کو اِتنا جانیں کہ سمجھ سکیں کِس کو کیا ضرورت ہے: کسی کو حوصلہ، کسی کو چیلنج، کسی کو خاموش ساتھ۔ محبت کے اِس تصور میں جذبے سے زیادہ توجہ شامل ہے، اور توجہ وقت مانگتی ہے۔
پس منظر
یہ خط اُن مسیح ایمانداروں کے لئے لکھا گیا جو یہودی پس منظر سے آئے تھے اور جن پر شدید سماجی دباؤ تھا۔ آیات ۳۲ سے ۳۴ ہمیں اُن کا ماضی دکھاتی ہیں: عوامی بےعزتی، ایذا رسانی، قید، اور جائیداد کی لُوٹ۔ اُس معاشرے میں اپنی برادری سے کٹ جانا معاشی خودکشی تھی؛ گاہک، رشتے، تحفظ، سب ختم۔ اِس لئے کچھ لوگ خاموشی سے پیچھے ہٹ رہے تھے، جمع ہونا چھوڑ رہے تھے، پرانے، محفوظ نظام کی طرف لوٹ رہے تھے۔ آیات ۲۶ سے ۳۱ کی سختی اِسی صورتِ حال میں سمجھ آتی ہے۔ یہ ٹھوکر کھانے والوں کو ڈرانا نہیں، بلکہ اُن کو خبردار کرنا ہے جو جان بوجھ کر عہد کے خون کو حقیر جان کر پیٹھ پھیر رہے تھے۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کی زندگی میں وہ کون سی "عادت" بن رہی ہے جو آہستہ آہستہ آپ کو ایمانداروں کی رفاقت سے دُور کر رہی ہے، اور آپ نے اُسے کیا نام دیا ہے تاکہ وہ معقول لگے؟
آیت ۳۴ کے لوگ مال کھو کر بھی خوش رہے۔ آج آپ کے پاس کیا ہے جس کے کھو جانے پر آپ کا ایمان ہل جائے گا، اور یہ آپ کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟
Hebrews 10 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
عبرانیوں 10 کا کیا مطلب ہے؟
عبرانیوں 10 کس بارے میں ہے؟
عبرانیوں 10 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
عبرانیوں 10 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
عبرانیوں 10 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Hebrews 10 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
ہم ایک دوسرے سے ملنا نہ چھوڑیں جس طرح بعض کی عادت ہے، بلکہ ہم ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کریں۔“ غور کریں، یہ حکم اُن لوگوں کو ملا جن پر دباؤ تھا، جن کے لئے جمع ہونا خطرناک تھا۔ اُن کے لئے بھی بہانہ نہیں تھا۔ آپ کی خاموش جگہ کسی کے دل میں خالی جگہ بن جاتی ہے۔ کیا کوئی ہے جو اِس اتوار آپ کے آنے کا انتظار کر رہا ہے؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں