رومیوں 15
متن
پولس رومیوں کی جماعت سے کہتا ہے کہ جو ایمان میں مضبوط ہیں وہ کمزوروں کا بوجھ اُٹھائیں، کیونکہ مسیح نے بھی اپنی خوشی کو مقدم نہ رکھا بلکہ گالیوں کا بوجھ اپنے اوپر لے لیا۔ اِس کے بعد وہ پرانے عہدنامے کی چار آیتیں یکے بعد دیگرے پیش کرتا ہے تاکہ ثابت کرے کہ غیریہودیوں کا خدا کی حمد میں شامل ہونا کوئی نئی بات نہیں بلکہ ابتدا ہی سے وعدے کا حصہ تھا۔ آخر میں وہ اپنی خدمت، سپین جانے کا منصوبہ، یروشلم کے غریب ایمان داروں کے لئے ہدیہ اور دعا کی درخواست بیان کرتا ہے۔
مرکزی نکتہ
آیت 3 میں پولس مسیح کے بارے میں زبور 69 کی سطر نقل کرتا ہے: ”جو تجھے گالیاں دیتے ہیں اُن کی گالیاں مجھ پر آ گئی ہیں۔“ یہ زبور اُس دُکھی راست باز کا گیت ہے جو خدا کی خاطر بےعزت ہوا۔ پولس اِسے مسیح کے منہ میں رکھتا ہے، اور نتیجہ نکالتا ہے: خدا کی محبت کا طریقہ ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ کوئی دوسرے کی بےعزتی اپنے اوپر لے۔ اِس لئے جماعت میں کھانے پینے یا دنوں کے جھگڑے پر ”میں ٹھیک ہوں“ کہنا کافی نہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کون درست ہے بلکہ یہ کہ کون دوسرے کی ”بہتری اور روحانی تعمیر و ترقی“ کے لئے اپنی آزادی محدود کرنے کو تیار ہے۔ یہی مسیح کا نمونہ ہے، اور یہی وہ جگہ ہے جہاں فضل عملی شکل اختیار کرتا ہے۔
سلسلۂ کلام
آیات 9 تا 12 میں پولس نے جو چار حوالے چنے ہیں، وہ اتفاقیہ نہیں: ایک زبور داؤد سے، ایک موسیٰ کے گیت سے، ایک زبور کی حمد سے، اور آخر میں یسعیاہ نبی سے۔ یعنی توریت، زبور اور انبیا، تینوں گواہی دیتے ہیں کہ قومیں خدا کی اُمّت کے ساتھ خوشی منائیں گی۔ اور کلائمکس یسعیاہ 11 کی وہ پیشین گوئی ہے: ”یسّی کی جڑ سے ایک کونپل پھوٹ نکلے گی۔“ یسّی داؤد کا باپ تھا؛ اُس کا خاندان کٹے ہوئے درخت کی طرح تھا، مگر ٹھونٹھ سے نئی شاخ نکلی۔ مسیح ابراہیم، اسحاق اور یعقوب سے کئے گئے وعدوں کی تصدیق کے لئے ”یہودیوں کا خادم“ بنا، اور اُسی وفاداری کے ذریعے غیرقوموں تک رحم پہنچا۔ اسرائیل کو نظرانداز کر کے نہیں، اسرائیل کے راستے سے۔
آئینہ
آپ نے شاید کبھی جماعت میں یہ سوچا ہو کہ ”میں تو صحیح سمجھتا ہوں، دوسرے کی کمزوری میرا مسئلہ نہیں۔“ یہ متن اُس اطمینان کو توڑتا ہے۔ کمزور بھائی کی حساسیت برداشت کرنا وقت مانگتا ہے، اور وقت وہ چیز ہے جو ہم سب سے کم دینا چاہتے ہیں۔ اسی طرح آیت 26 کا ہدیہ: مکدُنیہ اور اخیہ کی جماعتیں خود امیر نہ تھیں، پھر بھی اُنہوں نے دُور کے، اجنبی، یہودی ایمان داروں کے لئے پیسہ جمع کیا۔ ہمارا بٹوہ ہماری الٰہیات کا سب سے ایماندار ترجمان ہے۔ اور دعا: پولس نے لکھا ”میری روحانی جنگ میں شریک ہو جائیں۔“ کسی کے لئے دعا کرنا ایک نرم رسم نہیں، یہ محاذ پر کھڑا ہونا ہے۔
مرکزی کردار
پولس اِس باب میں عجیب توازن دکھاتا ہے۔ ایک طرف وہ کہتا ہے کہ وہ ”مسیح عیسیٰ میں اللہ کے سامنے اپنی خدمت پر فخر کر سکتا ہوں“، دوسری طرف فوراً حد باندھتا ہے: ”مَیں صرف اُس کام کے بارے میں بات کرنے کی جرأت کروں گا جو مسیح نے میری معرفت کیا ہے۔“ وہ اپنے آپ کو امام کے طور پر دیکھتا ہے جو غیریہودیوں کو قربانی کے طور پر پیش کرتا ہے، مگر قربانی کو مُقدّس کرنے والا روح القدس ہے، پولس نہیں۔ اور یہ وہی آدمی ہے جو یروشلم جاتے ہوئے ڈرتا ہے: دعا مانگتا ہے کہ ”غیرایمان داروں سے بچا رہوں“ اور یہ بھی کہ اُس کا ہدیہ قبول ہو جائے۔ ایمان اور خوف ایک ہی دل میں ساتھ رہ سکتے ہیں۔
مشکل سوال
پولس نے لکھا: ”مَیں جانتا ہوں کہ جب مَیں آپ کے پاس آؤں گا تو مسیح کی پوری برکت لے کر آؤں گا۔“ وہ سپین کا منصوبہ بناتا ہے اور روم میں تازگی کی اُمید رکھتا ہے۔ مگر اعمال کی کتاب بتاتی ہے کہ وہ روم قیدی بن کر پہنچا، اور سپین پہنچنے کا کوئی ثبوت نہیں۔ تو کیا اُس کا یقین غلط تھا؟ متن ہمیں آسان جواب نہیں دیتا۔ شاید یہی سیکھنا ہے کہ خدا وعدہ پورا کرتا ہے مگر ہمارے نقشے کے مطابق نہیں۔ پولس نے خود دعا میں شرط لگائی تھی: ”اللہ کی مرضی سے۔“ وہ چار الفاظ ہر منصوبے پر لکھے ہونے چاہئیں، اور وہ تکلیف بھی دیتے ہیں۔
پہلے سننے والے
روم کی جماعت میں یہودی ایمان دار تھے جو شہنشاہ کلودیوس کے حکم سے نکالے جانے کے بعد لوٹے تھے، اور غیریہودی ایمان دار جو اُن کی غیرحاضری میں جماعت چلاتے رہے تھے۔ واپسی پر کشیدگی فطری تھی: کون میزبان ہے، کون مہمان؟ اِسی لئے پولس کا حکم ”ایک دوسرے کو بھی قبول کریں“ محض شائستگی نہیں تھا بلکہ سماجی زلزلہ۔ اور یروشلم کے لئے ہدیہ اُن کے کانوں میں ایک عملی گواہی تھا: یونانی جماعتیں یہودی مسیحیوں کو پیسہ بھیج رہی ہیں، کیونکہ وہ اُن کی ”روحانی برکتوں میں شریک ہوئے ہیں۔“ ایک ہی میز، ایک ہی آواز، ایک ہی جلال۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کی جماعت میں وہ کون ہے جس کی ”کمزوری“ آپ کو تنگ کرتی ہے، اور اُس کی تعمیر کے لئے آپ کس حق سے دستبردار ہو سکتے ہیں؟
آپ کے کن منصوبوں پر ”اللہ کی مرضی سے“ لکھنا ابھی باقی ہے، اور کیا آپ اُس کے بدلے ہوئے راستے کو بھی برکت کہہ سکیں گے؟
Romans 15 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
رومیوں 15 کا کیا مطلب ہے؟
رومیوں 15 کس بارے میں ہے؟
رومیوں 15 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
رومیوں 15 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
رومیوں 15 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Romans 15 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
پولس اپنی خدمت کو امام کی خدمت کہتا ہے، مگر اُس کی قربانی جانور نہیں بلکہ لوگ ہیں: "تاکہ غیریہودی ایک ایسی قربانی بن جائیں جو اللہ کو پسند آئے۔" سوچیں، آپ خود وہ نذر ہیں جو قربان گاہ پر رکھی گئی۔ اور آپ کو پاک کرنے والا کوئی رسم نہیں، روح القدس ہے۔ کیا آپ اپنے آپ کو اِتنا قیمتی سمجھتے ہیں؟
پولس نے پرانے عہدنامے سے یہ فقرہ چُنا: ”اے غیریہودیو، اُس کی قوم کے ساتھ خوشی مناؤ۔“ غور کریں، خوشی الگ الگ نہیں بلکہ ”ساتھ“ منانی ہے۔ خدا نے آپ کو صرف نجات نہیں دی، ایک خاندان بھی دیا ہے۔ اور شاید یہی سب سے مشکل حصہ ہے۔ کیا آپ اُس بہن یا بھائی کے ساتھ بیٹھ کر خوش ہو سکتے ہیں جو آپ جیسا نہیں؟ مسیح کی میز پر دونوں کی جگہ ایک ہی ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
