بائبل کی تشریح

یسعیاہ 22:13

بائبل

متن

خدا نے ماتم کا حکم دیا تھا: رونا، سر منڈوانا، ٹاٹ پہننا۔ شہر کی دیوار میں دراڑیں پڑ چکی تھیں، دشمن کے رتھ وادیوں میں کھڑے تھے، اور رب الافواج چاہتا تھا کہ اُس کی قوم رُک کر اپنے دل کا جائزہ لے۔ لیکن جو ہوا وہ بالکل اُلٹ تھا۔ آیت تیرہ ہمیں چھتوں پر لے جاتی ہے جہاں شادیانے بج رہے ہیں، بَیل اور بھیڑبکریاں ذبح ہو رہی ہیں، گوشت اور مَے کی مہک ہر گلی میں پھیلی ہوئی ہے۔ اور اِس ساری رونق کے بیچ ایک جملہ گونجتا ہے جو دراصل ایک فلسفہ ہے: ”آؤ، ہم کھائیں پئیں، کیونکہ کل تو مر ہی جانا ہے۔“ یہ جشن نہیں، یہ مایوسی کا سب سے خوش نما لباس ہے۔

مرکزی بات

یہاں گناہ کا چہرہ وہ نہیں جو ہم عام طور پر سمجھتے ہیں۔ کوئی بت نہیں تراشا گیا، کوئی قتل نہیں ہوا۔ صرف یہ ہوا کہ لوگوں نے خدا کی پکار سنی اور جواب میں دسترخوان بچھا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اگلی آیت اِتنی سخت ہے: ”یقیناً یہ قصور تمہارے مرتے دم تک معاف نہیں کیا جائے گا۔“ کیونکہ جو آدمی توبہ کی دعوت کو تفریح سے دبا دیتا ہے، وہ اُس دروازے کو اندر سے بند کر رہا ہے جس سے معافی داخل ہوتی ہے۔ آیت کا جملہ ظاہری طور پر زندگی سے محبت کا اعلان لگتا ہے، مگر اصل میں یہ موت کے سامنے ہتھیار ڈالنا ہے۔ جہاں امید مر جاتی ہے، وہاں پیٹ خدا بن جاتا ہے۔ خدا اِس بے حسی کو ہلکا نہیں لیتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ماتم ہی وہ راستہ تھا جو اُس کے رحم تک پہنچتا۔

بڑی کہانی کا سلسلہ

دلچسپ بات یہ ہے کہ اِسی باب میں، صرف چند آیتوں بعد، خدا اِلیاقیم کے کندھے پر ”داؤد کے گھرانے کی چابی“ رکھتا ہے، اور کہتا ہے کہ جو دروازہ وہ کھولے گا اُسے کوئی بند نہیں کر سکے گا۔ یہ تصویر مکاشفہ میں مسیح پر لاگو ہوتی ہے۔ یعنی وہی باب جو ایک بند دل کی بات کرتا ہے، ایک ایسے خادم کا وعدہ بھی دیتا ہے جو دروازے کھولنے کا اختیار رکھتا ہے۔ اور غور کیجئے: یروشلم کے لوگ میز پر بیٹھ کر کہتے ہیں ”کل تو مر ہی جانا ہے“، جبکہ خداوند یسوع میز پر بیٹھ کر کہتے ہیں کہ یہ میرا بدن ہے جو تمہارے لئے توڑا جاتا ہے، اور پھر واقعی اگلے دن مر جاتے ہیں۔ ایک میز خوف سے بھاگنے کے لئے سجائی گئی، دوسری موت کے بیچ سے گزرنے کے لئے۔ انجیل کی خوشی اِسی فرق پر کھڑی ہے۔

آئینہ

آپ بت نہیں تراشتے۔ آپ کسی کا خون نہیں کرتے۔ مگر جب ڈاکٹر کی رپورٹ آتی ہے، جب بیٹے کا رویہ دل توڑ دیتا ہے، جب شادی کے کمرے میں خاموشی بھاری ہو جاتی ہے، تو آپ کیا کرتے ہیں؟ زیادہ تر ہم وہی کرتے ہیں جو یروشلم نے کیا: آواز بڑھا دیتے ہیں۔ ایک اور سیریز، ایک اور اسکرول، ایک اور دعوت، ایک اور شفٹ دفتر میں۔ ہم بے دین نہیں ہوتے، بس مصروف ہو جاتے ہیں، کیونکہ خاموشی میں وہ سوال اُٹھ کھڑا ہوتا ہے جس کا سامنا ہم نہیں کرنا چاہتے۔ یہ آیت آپ کی تفریح پر حملہ نہیں کرتی؛ یہ اُس لمحے کو پکڑتی ہے جب تفریح دوا بن جاتی ہے اور توبہ کی جگہ لے لیتی ہے۔ خدا نے رونے کا حکم دیا، اور ہم نے میوزک تیز کر دیا۔

آج: کاغذ کے ایک ٹکڑے پر وہ ایک بات لکھئے جس سے آپ مہینوں سے خود کو مصروف رکھ کر بھاگ رہے ہیں، پھر فون الٹا رکھ کر، بلند آواز میں وہ جملہ خدا کے سامنے پڑھئے اور کہئے: ”یہ ہے، میں اب اِس سے نہیں بھاگتا۔“ دس منٹ کافی ہیں۔

کلام کی گونج

پولس رسول نے قرنتھیوں کے پہلے خط میں یہی جملہ اُٹھایا ہے: اگر مُردے جی نہیں اُٹھتے، تو آؤ کھائیں پئیں کیونکہ کل مر جائیں گے۔ وہ اِسے گناہ کا نعرہ نہیں بلکہ قیامت کے انکار کا منطقی نتیجہ کہتا ہے۔ یعنی یسعیاہ کے لوگوں کا اصل مسئلہ شراب نہیں، اُمید کی موت تھی۔ دوسری گونج خداوند یسوع کی اُس تمثیل میں ہے جہاں ایک دولت مند آدمی اپنی جان سے کہتا ہے کہ آرام کر، کھا پی، اور اُسی رات اُس کی جان طلب کر لی جاتی ہے۔ دونوں جگہ وہی ڈھانچہ ہے: بھرا ہوا دسترخوان، خالی مستقبل۔ کلامِ مقدّس کھانے پینے کے خلاف نہیں؛ وہ اُس کھانے پینے کے خلاف ہے جو خدا کے بغیر کل کا سامنا کرنے کی کوشش ہے۔

پہلے سننے والے

یہ لوگ احمق نہیں تھے۔ اُنہوں نے دراڑیں دیکھی تھیں، اسلحہ گنا تھا، پانی کا ذخیرہ کیا تھا، مکان گرا کر دیوار مضبوط کی تھی۔ آٹھویں صدی قبلِ مسیح کے یروشلم میں اسور کی فوج ایک حقیقت تھی، اور ہر گھرانہ جانتا تھا کہ محاصرے میں ذخیرہ شدہ مویشی بھوک سے پہلے مر جائیں گے۔ تو ذبح کرنا عملی بھی تھا۔ مگر یسعیاہ اُن کی حکمتِ عملی پر نہیں، اُن کی آنکھوں کی سمت پر انگلی رکھتا ہے: ”تم اُس کی پروا نہیں کرتے جو یہ سارا سلسلہ عمل میں لایا۔“ اُنہوں نے ہر چیز کا حساب لگایا سوائے اُس کے جس کے ہاتھ میں شہر تھا۔ اُن کے کانوں میں یہ آیت ایک طنز تھی: دیکھو، تم نے سب کچھ دیکھا، بس خدا کو نہیں دیکھا۔

مشکل سوال

آیت چودہ کھٹکتی ہے: ”یقیناً یہ قصور تمہارے مرتے دم تک معاف نہیں کیا جائے گا۔“ کیا خدا کی معافی کی کوئی حد ہے؟ متن اِسے نرم نہیں کرتا، اور ہمیں بھی نہیں کرنا چاہئے۔ لیکن غور کیجئے کہ یہ فیصلہ کس بات پر آتا ہے: ایک ایسی نسل پر جس نے توبہ کی صاف دعوت سنی اور اُس پر ہنس دی۔ معافی اُن کے لئے بند نہیں ہوئی جو مانگتے ہیں؛ وہ اُن کے لئے بند ہوئی جنہوں نے مانگنے سے انکار کو اپنی زندگی کا انداز بنا لیا۔ یہ بات تسلی نہیں دیتی، اور شاید دینا بھی نہیں چاہئے۔ کیونکہ اِس آیت کا مقصد ہمیں یہ حساب کرنا سکھانا نہیں کہ خدا کا صبر کہاں ختم ہوتا ہے، بلکہ یہ کہ آج ہی اُس کے سامنے جھکنا کیوں ضروری ہے۔

غور و فکر کے سوالات

جب دل پر بوجھ آتا ہے، تو آپ سب سے پہلے کس چیز کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہیں، اور وہ عادت آپ کے بارے میں کیا بتاتی ہے؟

اگر خدا نے آپ کو آج ”گریہ و زاری“ کا حکم دیا، تو کون سی ایک بات ہے جس پر آپ کو واقعی رونا چاہئے مگر آپ نے ابھی تک نہیں رویا؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Isaiah 22:13 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

یسعیاہ 22:13 کا کیا مطلب ہے؟
خدا نے ماتم کا حکم دیا تھا: رونا، سر منڈوانا، ٹاٹ پہننا۔ شہر کی دیوار میں دراڑیں پڑ چکی تھیں، دشمن کے رتھ وادیوں میں کھڑے تھے، اور رب الافواج چاہتا تھا کہ اُس کی قوم رُک کر اپنے دل کا جائزہ لے۔ لیکن جو ہوا وہ بالکل اُلٹ تھا۔ آیت تیرہ ہمیں چھتوں پر لے جاتی ہے جہاں شادیانے بج رہے ہیں، بَیل اور بھیڑبکریاں ذبح ہو رہی ہیں، گوشت اور مَے کی مہک ہر گلی میں پھیلی ہوئی ہے۔ اور اِس ساری رونق کے بیچ ایک جملہ گونجتا ہے جو دراصل ایک فلسفہ ہے: ”آؤ، ہم کھائیں پئیں، کیونکہ کل تو مر ہی جانا ہے۔“ یہ جشن نہیں، یہ مایوسی کا سب سے خوش نما لباس ہے۔
یسعیاہ 22:13 کس بارے میں ہے؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ اِسی باب میں، صرف چند آیتوں بعد، خدا اِلیاقیم کے کندھے پر ”داؤد کے گھرانے کی چابی“ رکھتا ہے، اور کہتا ہے کہ جو دروازہ وہ کھولے گا اُسے کوئی بند نہیں کر سکے گا۔ یہ تصویر مکاشفہ میں مسیح پر لاگو ہوتی ہے۔ یعنی وہی باب جو ایک بند دل کی بات کرتا ہے، ایک ایسے خادم کا وعدہ بھی دیتا ہے جو دروازے کھولنے کا اختیار رکھتا ہے۔ اور غور کیجئے: یروشلم کے لوگ میز پر بیٹھ کر کہتے ہیں ”کل تو مر ہی جانا ہے“، جبکہ خداوند یسوع میز پر بیٹھ کر کہتے ہیں کہ یہ میرا بدن ہے جو تمہارے لئے توڑا جاتا ہے، اور پھر واقعی اگلے دن مر جاتے ہیں۔ ایک میز خوف سے بھاگنے کے لئے سجائی گئی، دوسری موت کے بیچ سے گزرنے کے لئے۔ انجیل کی خوشی اِسی فرق پر کھڑی ہے۔
یسعیاہ 22:13 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
آج: کاغذ کے ایک ٹکڑے پر وہ ایک بات لکھئے جس سے آپ مہینوں سے خود کو مصروف رکھ کر بھاگ رہے ہیں، پھر فون الٹا رکھ کر، بلند آواز میں وہ جملہ خدا کے سامنے پڑھئے اور کہئے: ”یہ ہے، میں اب اِس سے نہیں بھاگتا۔“ دس منٹ کافی ہیں۔
یسعیاہ 22:13 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یہ لوگ احمق نہیں تھے۔ اُنہوں نے دراڑیں دیکھی تھیں، اسلحہ گنا تھا، پانی کا ذخیرہ کیا تھا، مکان گرا کر دیوار مضبوط کی تھی۔ آٹھویں صدی قبلِ مسیح کے یروشلم میں اسور کی فوج ایک حقیقت تھی، اور ہر گھرانہ جانتا تھا کہ محاصرے میں ذخیرہ شدہ مویشی بھوک سے پہلے مر جائیں گے۔ تو ذبح کرنا عملی بھی تھا۔ مگر یسعیاہ اُن کی حکمتِ عملی پر نہیں، اُن کی آنکھوں کی سمت پر انگلی رکھتا ہے: ”تم اُس کی پروا نہیں کرتے جو یہ سارا سلسلہ عمل میں لایا۔“ اُنہوں نے ہر چیز کا حساب لگایا سوائے اُس کے جس کے ہاتھ میں شہر تھا۔ اُن کے کانوں میں یہ آیت ایک طنز تھی: دیکھو، تم نے سب کچھ دیکھا، بس خدا کو نہیں دیکھا۔
یسعیاہ 22:13 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
جب دل پر بوجھ آتا ہے، تو آپ سب سے پہلے کس چیز کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہیں، اور وہ عادت آپ کے بارے میں کیا بتاتی ہے؟

Isaiah 22 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟

اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں