یسعیاہ 22
متن
یروشلم کی چھتیں لوگوں سے بھری ہیں، مگر یہ جشن کا شور نہیں بلکہ ایک محاصرہ زدہ شہر کی بوکھلاہٹ ہے: لیڈر بغیر لڑے بھاگ کر پکڑے گئے، مقتول "نہ تلوار سے، نہ میدانِ جنگ میں مرے"، اور نبی رو رہا ہے جبکہ باقی سب دیواروں کی دراڑیں گن رہے ہیں، مکان گرا کر پتھر جمع کر رہے ہیں اور نیا تالاب بنوا رہے ہیں۔ خدا نے ماتم اور ٹاٹ کا حکم دیا، مگر شہر گوشت اور مَے سے لطف اندوز ہو کر کہتا ہے، "آؤ، ہم کھائیں پئیں، کیونکہ کل تو مر ہی جانا ہے۔" باب کا دوسرا حصہ ایک شخص پر مرکوز ہے: محل کا انچارج شبناہ، جو اپنے لئے بلندی پر مقبرہ تراشوا رہا ہے، معزول کیا جاتا ہے، اور اُس کی جگہ اِلیاقیم کو داؤد کے گھرانے کی چابی اور کھونٹی کا مقام ملتا ہے، جو آخر میں خود ٹوٹ کر گر جاتی ہے۔
مرکزی نکتہ
اِس باب کا اصل الزام حیران کن حد تک باریک ہے۔ یروشلم کے لوگ نااہل نہیں تھے؛ اُن کا دفاعی منصوبہ بے عیب تھا، اسلحہ خانے کا معائنہ، فصیل کی مرمت، پانی کا ذخیرہ۔ مگر فیصلہ کن جملہ یہ ہے: "تم اُس کی پروا نہیں کرتے جو یہ سارا سلسلہ عمل میں لایا۔ اُس پر تم توجہ ہی نہیں دیتے جس نے بڑی دیر پہلے اِسے تشکیل دیا تھا۔" گناہ یہاں بدکاری نہیں، بلکہ نظر کی سمت ہے۔ عہد کا خدا تاریخ کا مصنف ہے، اور اُس کے عہد کی قوم اپنی ہی تاریخ کو محض انجینئرنگ کا مسئلہ سمجھ بیٹھی۔ جب خدا توبہ کا دروازہ کھولتا ہے اور قوم اُس دروازے کے سامنے دعوت کا دسترخوان بچھا دیتی ہے، تو ردّ کی گئی فضل خود عدالت بن جاتی ہے۔ "یقیناً یہ قصور تمہارے مرتے دم تک معاف نہیں کیا جائے گا" وہ آواز نہیں جو معاف کرنے سے انکار کرتی ہے، بلکہ وہ آواز ہے جو معافی کو سنجیدگی سے لیتی ہے۔
بڑی کہانی کا سلسلہ
اِس باب کے بیچ میں ایک جملہ ہے جو بعد میں عہدِ جدید تک سفر کرتا ہے: "مَیں اُس کے کندھے پر داؤد کے گھرانے کی چابی رکھ دوں گا۔ جو دروازہ وہ کھولے گا اُسے کوئی بند نہیں کر سکے گا۔" مکاشفہ ۳ باب میں قیامہ مسیح اپنے آپ کو اِنہی الفاظ سے متعارف کراتے ہیں، اور یہ اتفاق نہیں۔ اِلیاقیم ایک وزیر تھا، مگر اُس کا منصب ایک خاکہ ہے: داؤد کے گھر میں ایک ایسا شخص جس کے ہاتھ میں رسائی ہے، جو لوگوں کا "باپ" بنتا ہے، جس کے کندھے پر اختیار رکھا جاتا ہے۔ اور پھر آیت ۲۵ یہ خاکہ توڑ دیتی ہے: کھونٹی گر جاتی ہے کیونکہ پورا خاندان اُس پر لٹک جاتا ہے۔ کوئی انسانی کندھا عہد کا سارا وزن نہیں اُٹھا سکتا۔ یسعیاہ کی کتاب اِسی خلا کی طرف بڑھتی ہے جہاں "حکومت اُس کے کندھے پر" ہو گی اور کھونٹی نہیں ٹوٹے گی۔
آئینہ
ہم یروشلم کے انجینئروں کو آسانی سے پہچان لیتے ہیں۔ بیمہ کی قسط، بچت کا کھاتہ، بچوں کے لئے بہتر سکول، سالانہ طبی معائنہ، گھر کی مرمت: یہ سب دانش مندی ہے، گناہ نہیں۔ خطرہ یہ ہے کہ ہمارا پورا داخلی مکالمہ اِنہی دراڑوں کی گنتی بن جائے، اور اُس کا ذکر تک نہ آئے "جس نے بڑی دیر پہلے اِسے تشکیل دیا تھا"۔ اور جب خوف بڑھتا ہے تو ہم شبناہ کی طرح اپنے لئے یادگاریں تراشتے ہیں، یا یروشلم کی طرح بے حس ہو جاتے ہیں: اسکرین، خریداری، مصروفیت، "کل تو مر ہی جانا ہے"۔ آج دس منٹ نکالیں: کاغذ پر وہ تین انتظامات لکھیں جن پر آپ کی سلامتی کا اصل دارومدار ہے، ہر ایک کے سامنے بلند آواز سے کہیں "یہ تُو نے تشکیل دیا، میں نے نہیں"، اور وہ کاغذ کھلا رکھ کر دعا کریں۔
مرکزی کردار
شبناہ کو صرف دو سوالوں سے بے نقاب کیا جاتا ہے: "تُو یہاں کیا کر رہا ہے؟ کس نے تجھے یہاں اپنے لئے مقبرہ تراشنے کی اجازت دی؟" ایک ملازم، جسے بادشاہ کے گھر کی دیکھ بھال سونپی گئی تھی، چٹان میں اپنی ابدیت کھدوا رہا ہے اور شاندار رتھوں میں گھوم رہا ہے۔ یہ وہ آدمی ہے جس نے عہدے کو ملکیت سمجھ لیا، اور وقت کو اپنی یادگار سے خریدنا چاہا۔ خدا اُسے القاب سے نہیں، صرف "اے مرد" کہہ کر مخاطب کرتا ہے، اور پھر وہ تصویر جو ہنسی اور دہشت دونوں پیدا کرتی ہے: "مروڑ مروڑ کر گیند کی طرح ایک وسیع ملک میں پھینک دے گا۔" جس چٹان میں وہ ہمیشہ کے لئے لیٹنا چاہتا تھا، وہیں اُس کی قبر خالی رہے گی۔ خود کو امر کرنے کی کوشش ہی اُسے بے نام کر دیتی ہے۔
پہلے سننے والے
یہ باب حِزقیاہ کے یروشلم میں سنا گیا، اُس شہر میں جہاں لوگ واقعی فصیل کی دراڑیں بند کر رہے تھے اور پانی کو شہر کے اندر لانے کے لئے کھدائی ہو رہی تھی، جب اسور کی فوج شمال سے بڑھ رہی تھی۔ سننے والوں کے لئے یہ تدبیریں قومی فخر تھیں، مذہبی ناکامی نہیں۔ اور جب محاصرہ کسی طرح ٹل گیا تو چھتوں پر جشن فطری تھا۔ یسعیاہ اِسی جشن کے بیچ کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ خدا نے "گریہ و زاری" کا حکم دیا تھا۔ اِس سے بھی زیادہ دھماکہ خیز یہ تھا کہ نبی ایک زندہ، بااختیار سرکاری افسر کا نام لے کر اُس کی برطرفی کا اعلان کرتا ہے۔ وہ لوگ شبناہ کو جانتے تھے، شاید اُس کے رتھ کو بھی۔ یہ وعظ نہیں تھا، یہ سیاسی خطرہ تھا۔
مشکل سوال
سب سے کانٹے دار آیت ۲۵ ہے۔ خدا خود کھونٹی ٹھونکتا ہے، خود اُسے مضبوط دیوار میں لگاتا ہے، اور پھر خود اعلان کرتا ہے کہ وہ نکل جائے گی اور "اُس کے ساتھ لٹکا سارا سامان ٹوٹ جائے گا"۔ تو کیا خدا کی تقرری بھی ناکام ہو سکتی ہے؟ متن کوئی تسلی نہیں دیتا۔ وہ صرف وجہ کی طرف اشارہ کرتا ہے: رشتے دار، برتن، مرتبان، سب ایک آدمی پر لٹک گئے۔ جہاں لوگ کسی انسان کو نجات دہندہ بنا دیتے ہیں، وہاں خدا اُس انسان کو گرنے دیتا ہے، نہ کہ اپنے وعدے کو واپس لینے کے لئے بلکہ اُس وعدے کو انسان کی گرفت سے آزاد کرنے کے لئے۔ یہ راحت نہیں دیتا، کیونکہ گرنا حقیقی ہوتا ہے اور اُس میں بے گناہ برتن بھی ٹوٹتے ہیں۔ یسعیاہ یہاں درد کو کھلا چھوڑ دیتا ہے۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کی زندگی کی وہ کون سی "دراڑ" ہے جس کی مرمت میں آپ اِس قدر مصروف ہیں کہ آپ نے اُس سے پوچھا ہی نہیں جس نے یہ سب تشکیل دیا؟
آپ کے گرد کون سا انسان، ادارہ یا کردار ایسا ہے جس پر آپ نے اتنا وزن لٹکا دیا ہے کہ اُس کھونٹی کا ٹوٹنا صرف وقت کی بات ہے؟
Isaiah 22 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یسعیاہ 22 کا کیا مطلب ہے؟
یسعیاہ 22 کس بارے میں ہے؟
یسعیاہ 22 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یسعیاہ 22 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یسعیاہ 22 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Isaiah 22 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
