بائبل کی تشریح

یسعیاہ 45:7

بائبل

متن

ایک ہی سانس میں خدا وہ بات کہہ دیتے ہیں جس سے ہمارا دل گھبراتا ہے: ”مَیں ہی روشنی کو تشکیل دیتا اور اندھیرے کو وجود میں لاتا ہوں، مَیں ہی اچھے اور بُرے حالات پیدا کرتا، مَیں رب ہی یہ سب کچھ کرتا ہوں۔“ یہ کسی فلسفی کا نظریہ نہیں بلکہ خداوند کا اپنے بارے میں دیا ہوا بیان ہے، جو خورس سے کی جانے والی گفتگو کے بیچ میں آتا ہے۔ روشنی اور اندھیرا، خوشحالی اور آفت، دونوں کسی حریف دیوتا کے ہاتھ میں نہیں۔ تاریخ کے دونوں رُخ ایک ہی ہاتھ سے نکلتے ہیں، اور وہ ہاتھ اُسی خدا کا ہے جو چند آیتوں بعد کہتا ہے، ”اے زمین کی انتہاؤ، سب میری طرف رجوع کر کے نجات پاؤ!“

مرکزی بات

یہاں خدا اپنی حاکمیت کو اُس جگہ تک پھیلا دیتے ہیں جہاں ہم عموماً اُنہیں رکھنا نہیں چاہتے۔ ہم خوشی سے مانتے ہیں کہ روشنی اُن کی ہے؛ اندھیرے کے لیے ہم جلدی سے کوئی اور ذمہ دار ڈھونڈتے ہیں، کوئی شیطان، کوئی اتفاق، کوئی انسانی غلطی۔ آیت یہ سہارا چھین لیتی ہے۔ غور کیجیے کہ متن اخلاقی بدی کی بات نہیں کر رہا بلکہ ”بُرے حالات“ کی، یعنی مصیبت، شکست، جلاوطنی، وہ سب جو زندگی کو توڑ دیتا ہے۔ خداوند فرماتے ہیں: یہ بھی میرے دائرے سے باہر نہیں۔ اور یہ اعلان ڈرانے کے لیے نہیں، تسلی کے لیے ہے۔ اگر اندھیرا بھی اُن کے قابو میں ہے تو جلاوطنی کسی بے لگام طاقت کا نتیجہ نہیں۔ لیکن تسلی سستی نہیں؛ وہ ہمیں ایک ایسے خدا کے سامنے چھوڑتی ہے جس کے سارے فیصلے ہم سمجھ نہیں سکتے، اور جس کے بارے میں اِسی باب میں کہا گیا ہے: ”یقیناً تُو اپنے آپ کو چھپائے رکھنے والا خدا ہے۔“

سلسلۂ نجات

یہ آیت ہمیں اُس دھاگے سے جوڑتی ہے جو پیدایش کے پہلے دن سے گلگتا تک جاتا ہے۔ ابتدا میں اندھیرے پر خدا کا کلام آیا اور روشنی ہوئی؛ یہاں خداوند فرماتے ہیں کہ دونوں اُن کے ہاتھ کا کام ہیں۔ اور جب وقت پورا ہوا تو تاریخ کا سب سے گہرا اندھیرا دوپہر کے وقت صلیب پر چھا گیا۔ وہاں بھی ہم کہنے پر مجبور ہیں: یہ کسی حریف طاقت کی جیت نہیں تھی۔ اندھیرا خدا کے خلاف نہیں چلا، بلکہ خدا نے اُسے نجات کا راستہ بنا دیا۔ اِسی لیے اِس باب کا انجام عدالت پر نہیں بلکہ دعوت پر ہوتا ہے، ”سب میری طرف رجوع کر کے نجات پاؤ!“ جو خدا اندھیرے کا مالک ہے، وہی اُس میں سے نجات نکال سکتا ہے۔ اور آیت ۲۳ کا وہ فرمان کہ ”میرے سامنے ہر گھٹنا جھکے گا“، نئے عہدنامے میں مسیح پر لاگو کیا گیا ہے، گویا یہ حاکمیت آخرکار ایک مصلوب چہرہ رکھتی ہے۔

آئینہ

یہ آیت ہمارے اُس خفیہ معاہدے کو توڑ دیتی ہے جو ہم خدا کے ساتھ کرتے ہیں: وہ اچھے حالات کے ذمہ دار ہیں، بُرے حالات کسی اور کے کھاتے میں۔ مگر جب نوکری ختم ہوتی ہے، جب رپورٹ میں وہ لفظ لکھا ہوتا ہے جس سے ہم ڈرتے تھے، جب بچہ راستہ بھٹک جاتا ہے، تب یہ آیت ہمیں وضاحت نہیں دیتی، صرف ایک شخص دیتی ہے۔ اور شاید اصل سوال یہ ہے: کیا میں ایسے خدا کے ساتھ رہ سکتا ہوں جو مجھے ہر بات کی وجہ نہیں بتاتے؟ آیت ۹ کا کمہار اور گارے والا منظر یہی چبھتا ہوا سوال ہے۔ غور کیجیے کہ آپ اِس وقت کس چیز کو اپنی زندگی کا ”اندھیرا“ کہتے ہیں۔ آج ہی تھوڑی دیر تنہائی میں بیٹھ کر وہ ایک حالت زبان سے کہہ دیجیے جس کا جواب آپ کو نہیں ملا، اور اُس کے بعد اونچی آواز میں یہ الفاظ دہرائیے: ”مَیں رب ہی یہ سب کچھ کرتا ہوں۔“ کچھ اور کہنے کی ضرورت نہیں۔

پہلے سننے والے

یہ کلام اُن لوگوں تک پہنچا جن کا شہر جل چکا تھا اور جو بابل میں بیٹھے تھے، ایک ایسی ثقافت کے بیچ جہاں روشنی اور اندھیرے کے الگ الگ دیوتا مانے جاتے تھے اور ہر آفت کسی ناراض طاقت کا نتیجہ سمجھی جاتی تھی۔ ایسے کانوں کے لیے یہ آیت دھماکہ تھی: نہ کوئی دوسرا تخت ہے، نہ کوئی دوسرا ہاتھ۔ اور اِس کا مطلب یہ بھی تھا کہ اُن کی جلاوطنی کسی دیوتا کی فتح نہیں بلکہ اُن کے اپنے خدا کے فیصلے کے اندر ہے، جو تکلیف دہ ہے مگر تاریکی سے کہیں بہتر۔ جس خدا نے مارا، وہی چنگا کر سکتا ہے۔ غلام کے لیے یہ خبر ہے کہ اُس کی زنجیر بھی کسی اجنبی کی ملکیت نہیں۔

پس منظر

ہم یسعیاہ کے اُس حصے میں ہیں جہاں خدا ایک غیریہودی بادشاہ خورس کو اپنا ”مسح کیا ہوا خادم“ کہتے ہیں، ایک ایسا لقب جو عام طور پر داؤد کے گھرانے کے لیے مخصوص تھا۔ فارس کی بڑھتی طاقت بابل کو نگلنے والی ہے، اور خدا فرماتے ہیں کہ یہ سیاسی اُتھل پتھل اُن کا اپنا کام ہے: ”گو تُو مجھے نہیں جانتا تھا“ پھر بھی ”مَیں تجھے کمربستہ کرتا ہوں“۔ آیت ۷ اِسی دلیل کی بنیاد ہے۔ اگر خدا کسی بُت پرست شہنشاہ کو اپنا اوزار بنا سکتے ہیں تو اِس کا مطلب ہے کہ اقوام کے عروج و زوال، فتح اور شکست، سب ایک ہی ارادے کے تحت چل رہے ہیں۔ یہ عقیدہ جلاوطن قوم کے لیے خشک نظریہ نہیں تھا بلکہ واپسی کی امید کی واحد بنیاد۔

باریک بات

اُردو ترجمہ ”اچھے اور بُرے حالات“ کہتا ہے، اور یہ لفظی انتخاب اہم ہے۔ عبرانی میں یہاں ”شالوم“ کا لفظ ہے، یعنی سلامتی، بھرپوری، وہ حالت جہاں سب کچھ اپنی جگہ پر ہو۔ اور اُس کے مقابل جو لفظ آتا ہے وہ گناہ نہیں بلکہ ٹوٹ پھوٹ، آفت، خرابی کے معنی رکھتا ہے۔ تو آیت یہ نہیں کہہ رہی کہ خدا بدی کے موجد ہیں؛ وہ کہہ رہی ہے کہ شالوم کے ٹوٹنے پر بھی اُن کا اختیار قائم ہے۔ یہاں ایک خاموشی ہے جسے متن پُر نہیں کرتا، اور ہمیں بھی نہیں کرنی چاہیے۔ خدا اپنے عمل کا دائرہ بتاتے ہیں، اپنی وجوہات نہیں۔ شاید ایمان کی بلوغت اِسی فرق کو برداشت کرنے کا نام ہے۔

غور و فکر

میں اپنی زندگی کے کس حصے کو خدا کی حاکمیت سے باہر رکھنا چاہتا ہوں، اور کیوں؟

اگر خدا مجھے وجہ نہ بتائیں، تو کیا اُن کا ساتھ میرے لیے کافی ہے؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Isaiah 45:7 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

یسعیاہ 45:7 کا کیا مطلب ہے؟
ایک ہی سانس میں خدا وہ بات کہہ دیتے ہیں جس سے ہمارا دل گھبراتا ہے: ”مَیں ہی روشنی کو تشکیل دیتا اور اندھیرے کو وجود میں لاتا ہوں، مَیں ہی اچھے اور بُرے حالات پیدا کرتا، مَیں رب ہی یہ سب کچھ کرتا ہوں۔“ یہ کسی فلسفی کا نظریہ نہیں بلکہ خداوند کا اپنے بارے میں دیا ہوا بیان ہے، جو خورس سے کی جانے والی گفتگو کے بیچ میں آتا ہے۔ روشنی اور اندھیرا، خوشحالی اور آفت، دونوں کسی حریف دیوتا کے ہاتھ میں نہیں۔ تاریخ کے دونوں رُخ ایک
یسعیاہ 45:7 کس بارے میں ہے؟
یہاں خدا اپنی حاکمیت کو اُس جگہ تک پھیلا دیتے ہیں جہاں ہم عموماً اُنہیں رکھنا نہیں چاہتے۔ ہم خوشی سے مانتے ہیں کہ روشنی اُن کی ہے؛ اندھیرے کے لیے ہم جلدی سے کوئی اور ذمہ دار ڈھونڈتے ہیں، کوئی شیطان، کوئی اتفاق، کوئی انسانی غلطی۔ آیت یہ سہارا چھین لیتی ہے۔ غور کیجیے کہ متن اخلاقی بدی کی بات نہیں کر رہا بلکہ ”بُرے حالات“ کی، یعنی مصیبت، شکست، جلاوطنی، وہ سب جو زندگی کو توڑ دیتا ہے۔ خداوند فرماتے ہیں: یہ بھی میرے دائرے سے باہر نہیں۔ اور یہ اعلان ڈرانے کے لیے نہیں، تسلی کے لیے ہے۔ اگر اندھیرا بھی اُن کے قابو میں ہے تو جلاوطنی کسی بے لگام طاقت کا نتیجہ نہیں۔ لیکن تسلی سستی نہیں؛ وہ ہمیں ایک ایسے خدا کے سامنے چھوڑتی ہے جس کے سارے فیصلے ہم سمجھ نہیں سکتے، اور جس کے بارے میں اِسی باب میں کہا گیا ہے: ”یقیناً تُو اپنے آپ کو چھپائے رکھنے والا خدا ہے۔“
یسعیاہ 45:7 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یہ آیت ہمیں اُس دھاگے سے جوڑتی ہے جو پیدایش کے پہلے دن سے گلگتا تک جاتا ہے۔ ابتدا میں اندھیرے پر خدا کا کلام آیا اور روشنی ہوئی؛ یہاں خداوند فرماتے ہیں کہ دونوں اُن کے ہاتھ کا کام ہیں۔ اور جب وقت پورا ہوا تو تاریخ کا سب سے گہرا اندھیرا دوپہر کے وقت صلیب پر چھا گیا۔ وہاں بھی ہم کہنے پر مجبور ہیں: یہ کسی حریف طاقت کی جیت نہیں تھی۔ اندھیرا خدا کے خلاف نہیں چلا، بلکہ خدا نے اُسے نجات کا راستہ بنا دیا۔ اِسی لیے اِس باب کا
یسعیاہ 45:7 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یہ آیت ہمارے اُس خفیہ معاہدے کو توڑ دیتی ہے جو ہم خدا کے ساتھ کرتے ہیں: وہ اچھے حالات کے ذمہ دار ہیں، بُرے حالات کسی اور کے کھاتے میں۔ مگر جب نوکری ختم ہوتی ہے، جب رپورٹ میں وہ لفظ لکھا ہوتا ہے جس سے ہم ڈرتے تھے، جب بچہ راستہ بھٹک جاتا ہے، تب یہ آیت ہمیں وضاحت نہیں دیتی، صرف ایک شخص دیتی ہے۔ اور شاید اصل سوال یہ ہے: کیا میں ایسے خدا کے ساتھ رہ سکتا ہوں جو مجھے ہر بات کی وجہ نہیں بتاتے؟ آیت ۹ کا کمہار اور گارے والا منظر یہی چبھتا ہوا سوال ہے۔ غور کیجیے کہ آپ اِس وقت کس چیز کو اپنی زندگی کا ”اندھیرا“ کہتے ہیں۔ آج ہی تھوڑی دیر تنہائی میں بیٹھ کر وہ ایک حالت زبان سے کہہ دیجیے جس کا جواب آپ کو نہیں ملا، اور اُس کے بعد اونچی آواز میں یہ الفاظ دہرائیے: ”مَیں رب ہی یہ سب کچھ کرتا ہوں۔“ کچھ اور کہنے کی ضرورت نہیں۔
یسعیاہ 45:7 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
یہ کلام اُن لوگوں تک پہنچا جن کا شہر جل چکا تھا اور جو بابل میں بیٹھے تھے، ایک ایسی ثقافت کے بیچ جہاں روشنی اور اندھیرے کے الگ الگ دیوتا مانے جاتے تھے اور ہر آفت کسی ناراض طاقت کا نتیجہ سمجھی جاتی تھی۔ ایسے کانوں کے لیے یہ آیت دھماکہ تھی: نہ کوئی دوسرا تخت ہے، نہ کوئی دوسرا ہاتھ۔ اور اِس کا مطلب یہ بھی تھا کہ اُن کی جلاوطنی کسی دیوتا کی فتح نہیں بلکہ اُن کے اپنے خدا کے فیصلے کے اندر ہے، جو تکلیف دہ ہے مگر تاریکی سے کہیں بہتر۔ جس خدا نے مارا، وہی چنگا کر سکتا ہے۔ غلام کے لیے یہ خبر ہے کہ اُس کی زنجیر بھی کسی اجنبی کی ملکیت نہیں۔
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی Isaiah 45 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

دعا ادارتی کو آیت 11

اے خدا، تُو ہی میرا بنانے والا ہے، اور جو کل آنے والا ہے وہ تیرے ہاتھ میں ہے۔ مجھے معاف کر کہ میں اکثر فکر میں ڈوب جاتا ہوں بجائے اس کے کہ تجھ سے پوچھوں۔ سکھا کہ میں اپنے اور اپنے پیاروں کے بارے میں بےجھجک تیرے سامنے آؤں اور تیرے کام پر بھروسا رکھوں۔

بصیرت ادارتی کو آیت 15

اے اسرائیل کے خدا، اے نجات دہندہ، یقیناً تُو اپنے آپ کو پوشیدہ رکھنے والا خدا ہے۔“ یہ بات جلاوطنی کے بیچ میں کہی گئی، جب خدا ایک اجنبی بادشاہ خورس کے ذریعے کام کر رہا تھا اور کسی کو سمجھ نہ آ رہی تھی۔ غور کرو: اُسے چھپا ہوا کہنے والے نے اُسی سانس میں اُسے نجات دینے والا بھی کہا۔ تیری زندگی میں بھی شاید وہ دکھائی نہ دے رہا ہو، مگر کیا وہ کام نہیں کر رہا؟

بصیرت ادارتی کو آیت 14

قوموں کے لوگ اسرائیل کے سامنے جھک کر کہتے ہیں، ”یقیناً اللہ تیرے ساتھ ہے، اُس کے سوا کوئی اَور خدا ہے ہی نہیں۔“ اُنہوں نے یہ اسرائیل کی شان دیکھ کر نہیں کہا، وہ تو ابھی جلاوطنی سے لوٹا ہی تھا۔ اُنہوں نے اُس کے ساتھ چلنے والے خدا کو پہچانا۔ کیا آپ کی زندگی میں کوئی ایسی بات ہے جسے دیکھ کر کوئی کہے، سچ مچ خدا اِس کے ساتھ ہے؟

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں