یوحنا 1:1
متن
یوحنا اپنی انجیل کا آغاز کسی پیدائش کے قصے سے نہیں بلکہ ازل سے کرتے ہیں: ”ابتدا میں کلام تھا۔ کلام اللہ کے ساتھ تھا اور کلام اللہ تھا۔“ تین چھوٹے فقرے، اور ہر فقرہ ایک قدم اندر لے جاتا ہے۔ پہلا بتاتا ہے کہ کلام وقت سے پہلے موجود تھا؛ دوسرا کہ وہ اللہ کے آمنے سامنے، اُس کی رفاقت میں تھا؛ تیسرا کہ وہ خود اللہ ہی تھا۔ یہ نہ کوئی فرشتہ ہے، نہ کوئی مخلوق، نہ کوئی نیم خدا۔ اور یہی وہ ہستی ہے جس کے بارے میں چودھویں آیت میں لکھا ہے: ”کلام انسان بن کر ہمارے درمیان رہائش پذیر ہوا۔“ ابتدا کا یہ بیان ناصرت کے ایک آدمی پر آ کر ٹھہرتا ہے۔
اصل مرکز
غور کریں کہ یوحنا نے فعل کیسے چنا ہے۔ کلام کے لیے وہ ”تھا“ کہتے ہیں، مگر تیسری آیت میں مخلوقات کے لیے ”پیدا ہوا“۔ یہ محض اندازِ بیان نہیں، یہ ایک سرحد ہے: ایک طرف وہ سب کچھ جس کا آغاز ہے، دوسری طرف وہ جس کا کوئی آغاز نہیں۔ اور یہیں سے وہ بات کھلتی ہے جو پوری بائبل میں پھیلی ہوئی ہے: خدا تنہا نہیں ہے۔ ازل سے اُس کے اندر رفاقت ہے، محبت ہے، ”ساتھ ہونا“ ہے۔ اِس لیے جب وہ دنیا بناتا ہے تو کسی کمی کو پورا نہیں کر رہا؛ تخلیق ضرورت نہیں، فضل ہے۔ اور جب وہ گنہگاروں کو اپنے پاس بلاتا ہے تو اپنی فطرت کے خلاف نہیں جاتا بلکہ اُسی کے مطابق عمل کرتا ہے۔ نجات اِسی ازلی رفاقت کا دروازہ ہے جو ہمارے لیے کھول دیا گیا۔
مرکزی دھاگا
”ابتدا میں“ سنتے ہی ہر یہودی سننے والے کے ذہن میں توریت کی پہلی سطر گونج اُٹھتی ہے۔ یوحنا جان بوجھ کر وہی الفاظ اُٹھاتے ہیں، مگر ایک نیا سِرا جوڑ دیتے ہیں: پیدائش میں خدا بولتا ہے اور روشنی ہو جاتی ہے؛ یہاں وہ بولنے والا کلام خود ایک ہستی ہے، اور وہی کلام آخرکار انسان بن جاتا ہے۔ اسی لیے یہ آیت تخلیق اور نجات کو ایک ہی دھاگے میں باندھ دیتی ہے۔ جس کے وسیلے سے دنیا بنی، وہی اُسے بحال کرنے آیا؛ نجات کوئی متبادل منصوبہ نہیں، بلکہ خالق کا اپنی ملکیت پر دوبارہ ہاتھ رکھنا ہے۔ اور جب یوحنا سترہویں آیت میں شریعت اور فضل کا موازنہ کرتے ہیں، تو وہ موسیٰ کو رد نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں: جو عہد سینا پر لکھا گیا، وہ اب گوشت و پوست میں چل کر ہمارے درمیان آ بسا ہے۔
آئینہ
اگر کلام ازل سے تھا، تو آپ کی زندگی کا مرکز آپ کی پیدائش سے شروع نہیں ہوتا۔ یہ بات ہمارے اُس بےچین احساس کو چیلنج کرتی ہے کہ سب کچھ ہماری کوشش، ہماری کمائی، ہمارے فیصلوں پر ٹِکا ہے۔ دفتر میں جہاں آپ خود کو ثابت کرتے ہیں، گھر میں جہاں آپ سب کو سنبھالے رکھتے ہیں، بیماری کے اُن دنوں میں جب جسم ساتھ چھوڑ دیتا ہے: ایک ہستی موجود ہے جو اِن سب سے پہلے تھی اور اِن سب کے بعد بھی ہو گی۔ یہ بات آرام دہ بھی ہے اور کاٹنے والی بھی۔ کاٹنے والی، کیونکہ اگر یسوع واقعی اللہ ہیں تو اُن کے بارے میں غیرجانبدار رہنا ممکن نہیں؛ اُنہیں محض ایک اچھا اُستاد کہہ کر ٹال دینا خود ایک انکار ہے۔ آرام دہ، کیونکہ جو آپ سے ملنے آیا وہ کوئی پیغام بر نہیں، خدا خود ہے۔
غور و فکر
آپ کی روزمرہ زندگی میں کیا فرق پڑے گا اگر آپ یسوع کو صرف اپنا نجات دہندہ نہ سمجھیں بلکہ وہ ازلی کلام جس کے بغیر آپ کا وجود، آپ کا کام اور آپ کا آج کا دن قائم ہی نہ رہ سکتا؟
John 1:1 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یوحنا 1:1 کا کیا مطلب ہے؟
یوحنا 1:1 کس بارے میں ہے؟
یوحنا 1:1 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یوحنا 1:1 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یوحنا 1:1 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی John 1 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، ابتدا سے پہلے بھی تُو تھا، اور تیرا کلام تیرے ساتھ تھا۔ جب میری سمجھ چھوٹی پڑ جاتی ہے اور سوال بڑے ہو جاتے ہیں، مجھے یاد دلا کہ سب کچھ تجھ سے شروع ہوا۔ میرے دل میں اپنی آواز اتنی صاف کر دے کہ میں اُسے پہچان لوں اور اُس پر بھروسا رکھوں۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں