یسعیاہ 58
متن
نبی کو حکم ملتا ہے کہ وہ نرم آواز میں نہیں بلکہ نرسنگے کی طرح گلا پھاڑ کر بولے اور قوم کو اُس کی سرکشی سنائے۔ عجیب بات یہ ہے کہ جن لوگوں کو ڈانٹا جا رہا ہے وہ بےدین نہیں، بلکہ عبادت گزار ہیں: وہ روزہ رکھتے ہیں، ٹاٹ اوڑھتے ہیں، راکھ میں لیٹتے ہیں اور شکایت کرتے ہیں کہ خدا توجہ نہیں دیتا۔ خدا کا جواب چیر دینے والا ہے: اُسی روزے کے دن تم اپنا کاروبار چلاتے اور مزدوروں کو دباتے ہو۔ پھر وہ ایک دوسری قسم کا روزہ پیش کرتا ہے، زنجیریں توڑنے، روٹی بانٹنے، بےگھر کو پناہ دینے اور اپنے رشتے دار سے منہ نہ موڑنے والا روزہ، اور اُس کے ساتھ ایسے وعدے جو سانس روک دیتے ہیں: صبح کی پہلی کرنیں، بھرتے ہوئے زخم، کبھی نہ سوکھنے والا چشمہ، اور خدا کی آواز: ’مَیں حاضر ہوں۔‘
اصل بات
یہ باب عبادت کے خلاف نہیں، بلکہ اُس عبادت کے خلاف ہے جو معیشت تک نہیں پہنچتی۔ وہ لوگ واقعی خدا کو ڈھونڈ رہے تھے؛ متن کہتا ہے کہ وہ "میری راہوں کو جاننے کے شوقین ہیں۔" مسئلہ بےپروائی نہیں، تقسیم ہے: خالی پیٹ اوپر خدا کی طرف اُٹھتا ہے جبکہ ہاتھ نیچے مزدور کی اجرت دبائے رکھتے ہیں۔ خدا یہاں اپنے بارے میں ایک بنیادی بات کھولتا ہے: وہ ایسا دیوتا نہیں جسے بھوک، ٹاٹ اور جھکے ہوئے سر کے نذرانے سے راضی کیا جا سکے۔ اُس کی قربت خریدی نہیں جاتی، وہ وہاں ظاہر ہوتی ہے جہاں اُس کا اپنا کردار دہرایا جاتا ہے، یعنی جہاں جوا ٹوٹتا ہے اور روٹی بٹتی ہے۔ اور پھر، جہاں یہ ہوتا ہے، وہاں خدا قرض نہیں چکاتا بلکہ فیاضی سے اپنے آپ کو دے دیتا ہے: روشنی، شفا، راہنمائی، اور ایک ایسا نام جو کھنڈرات کے بیچ کھڑے لوگوں کے لیے بنا ہے، "رخنے کو بند کرنے والا۔" یہ شریعت کی سختی نہیں، یہ فضل کی دعوت ہے کہ ہم خدا جیسے بن کر جئیں۔
مشترکہ دھاگا
اِس باب کی زبان پورے صحیفۂ یسعیاہ میں آگے بڑھتی ہے اور آخرکار ناصرت کے عبادت خانے میں آ ٹھہرتی ہے، جہاں خداوند یسوع نے یسعیاہ کا طومار کھول کر قیدیوں کی رہائی اور مظلوموں کی آزادی کا اعلان پڑھا اور کہا کہ یہ آج پورا ہوا ہے۔ وہی جوا توڑنے والا روزہ جس کا ذکر یہاں ہے، مسیح کی خدمت کی شکل بن گیا: اُس نے بھوکوں کو کھلایا، بیماروں کو چھوا، اور آخر میں اپنا بدن ہی روٹی کی طرح توڑ کر دیا۔ لیکن فرق یہ ہے کہ یسعیاہ ۵۸ میں شرط رکھی گئی ہے، "اگر تُو ایسا کرے"، جبکہ انجیل میں پہلے خدا نے کیا۔ مسیح وہ "رخنے کو بند کرنے والا" ہے جو دیوار کے سوراخ میں خود کھڑا ہو گیا۔ اِس لیے یہ باب اب ہمارے لیے خدا کو راضی کرنے کا طریقہ نہیں، بلکہ اُس زندگی کی تصویر ہے جو بخشے جانے کے بعد ممکن ہو جاتی ہے۔
آئینہ
یہ متن آپ کی عبادت کو نہیں، آپ کے بٹوے اور آپ کے موبائل کو ٹٹولتا ہے۔ وہ گھریلو ملازمہ جس کی تنخواہ ہر مہینے "اگلے ہفتے" ہو جاتی ہے؛ وہ مزدور جس سے آپ نے بھاؤ تاؤ کر کے پانچ سو کم کروائے کیونکہ آپ کر سکتے تھے؛ وہ کزن جس کا نام اسکرین پر آتا ہے اور آپ انگوٹھے سے آگے کر دیتے ہیں کیونکہ معلوم ہے وہ پیسے مانگے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ روحانی زندگی عبادت کے وقت میں ناپی جاتی ہے، مگر خدا اُسے وہاں ناپتا ہے جہاں طاقت کا فرق ہے اور کوئی دیکھ نہیں رہا۔ آیت ۹ کی اُنگلیاں اور بدنامی بھی یاد رکھیں: دوسروں کے بارے میں وہ جملہ جو آپ نے کل کہا تھا۔ آج ہی اُس ایک رشتے دار کو فون کریں جس کی کال سے آپ بچتے رہے ہیں، اور پوری بات سنیں۔
سیاق و سباق
تصویر بنائیے: جلاوطنی سے لوٹی ہوئی ایک چھوٹی، غریب جماعت یروشلیم کے ملبے کے درمیان رہتی ہے۔ ہیکل کی جگہ راکھ ہے، دیواروں میں رخنے ہیں، اور سال میں کئی دن مقررہ ماتمی روزے رکھے جاتے ہیں تاکہ شہر کی تباہی یاد رہے۔ لوگ ٹاٹ پہن کر، سر پر خاک ڈال کر، نرسل کے پودے کی طرح جھکے ہوئے بیٹھتے ہیں۔ ساتھ ہی ایک اور حقیقت ہے: قحط، قرض اور سود۔ جن کے پاس زمین بچی تھی اُنہوں نے اپنے ہی بھائیوں کے کھیت اور بچے رہن رکھ لیے۔ نحمیاہ کی کتاب میں یہی منظر کھلم کھلا بیان ہوا ہے۔ یعنی یہ بات محض اصول کی نہیں تھی: روزے کے دن بھی مالک اپنے مقروض مزدور سے کام لے رہا تھا۔ اِسی ماحول میں نبی کو حکم ملتا ہے کہ نرسنگے کی طرح چیخے۔
ایک تفصیل
آیت ۷ کے آخری فقرے پر رکیے۔ عبرانی میں لفظ بَسار ہے، یعنی "گوشت": اپنے ہی گوشت سے منہ مت چھپا۔ خدا اُس شخص کو، جس سے آپ کترا رہے ہیں، آپ کا جسم کہہ کر پکارتا ہے۔ قدیم اسرائیل میں خاندان ہی سماجی تحفظ کا واحد نظام تھا؛ اگر کوئی قرض میں ڈوب جاتا تو اُس کے رشتے دار پر فرض تھا کہ اُسے چھڑائے۔ منہ چھپانا کوئی بےاعتنائی نہیں، یہ ایک قانونی اور خونی رشتے سے انکار تھا۔ اور یہی وہ جگہ ہے جہاں مذہب سب سے آسانی سے پردہ بنتا ہے: روزے کا بہانہ، مصروفیت کا بہانہ، "میں نے پہلے بھی بہت کیا ہے" کا بہانہ۔ خدا یہ پردہ کھینچ لیتا ہے اور کہتا ہے: وہ تیرا اپنا گوشت ہے۔
دوسرے مقامات کی گونج
نحمیاہ ۵ باب اِس متن کا عملی عکس ہے: لوٹے ہوئے لوگوں کے درمیان بھوک، گروی رکھے بچے، اور رئیسوں کا سود۔ نحمیاہ اُنہیں قسم کھلا کر کھیت واپس دلواتا ہے، گویا یسعیاہ ۵۸ کا "جوا توڑنا" ایک رات میں قانون بن گیا ہو۔ دوسری گونج متی ۲۵ میں ہے، جہاں بادشاہ بھوکوں، ننگوں اور بےگھروں کے ساتھ اپنی ذات کو جوڑ دیتا ہے: وہی چار کام جو یہاں گنوائے گئے ہیں، وہاں آخری عدالت کا معیار بن جاتے ہیں۔ دونوں مقامات ایک ہی بات کہتے ہیں: خدا اپنے لوگوں کی روحانیت کو اُن کے سب سے کمزور پڑوسی کی حالت سے ناپتا ہے، اور یہ پیمانہ نہ عہدِعتیق میں بدلا نہ عہدِجدید میں۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کی زندگی میں وہ کون سا "روزہ" ہے، یعنی وہ دین داری کا عمل جس پر آپ کو فخر ہے، جبکہ اُسی وقت کوئی شخص آپ کے فیصلوں کی قیمت چکا رہا ہے؟
آیت ۹ میں خدا کہتا ہے "مَیں حاضر ہوں۔" آپ نے آخری بار کب محسوس کیا کہ خدا خاموش ہے، اور کیا یہ باب اُس خاموشی کے بارے میں کوئی ایسا سوال پوچھتا ہے جو آپ نے ابھی تک خود سے نہیں پوچھا؟
Isaiah 58 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یسعیاہ 58 کا کیا مطلب ہے؟
یسعیاہ 58 کس بارے میں ہے؟
یسعیاہ 58 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یسعیاہ 58 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یسعیاہ 58 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Isaiah 58 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، میرے اندھیرے میں تیری صبح کا انتظار ہے۔ میرے زخموں کو بھر دے اور مجھے ایسا دل دے جو دوسروں کی بھوک اور تنہائی کو نظرانداز نہ کرے۔ تُو میرے آگے چل اور میرے پیچھے میری حفاظت کر، تاکہ میں ڈر کے بغیر چل سکوں۔
شکر ہے آپ کا کہ آپ کھنڈرات کو یوں ہی نہیں چھوڑتے۔ میری ٹوٹی ہوئی باتیں، ٹوٹے رشتے اور پرانی بنیادیں آپ کے ہاتھ میں پھر سے کھڑی ہوتی ہیں۔ شکر ہے کہ آپ مجھے بھی "رخنوں کو بند کرنے والا" بننے کا شرف دیتے ہیں، تاکہ جہاں دیواریں گر گئی ہیں وہاں آپ کا کام میرے ذریعے ہو۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
