یسعیاہ 53
متن
خشک زمین سے پھوٹتی ہوئی ایک کمزور سی کونپل: یہی وہ منظر ہے جس سے یہ باب اپنی بات شروع کرتا ہے۔ نبی ایک ایسے خادم کو دکھاتا ہے جس میں دیکھنے والوں کے لیے کوئی کشش نہیں، "نہ وہ خوب صورت تھا، نہ شاندار"، اور جس سے لوگ منہ پھیر لیتے ہیں۔ پھر اچانک نگاہ بدلتی ہے: یہ دُکھ اُس کا اپنا نہیں تھا، بلکہ ہمارا تھا۔ وہ خاموشی سے ذبح ہونے والے برے کی طرح چلا گیا، مجرموں میں شمار ہوا، ایک امیر کی قبر میں رکھا گیا۔ اور پھر، جہاں ہر کہانی ختم ہو جاتی ہے، یہ کہانی کھلتی ہے: وہ اپنے فرزندوں کو دیکھے گا، سیر ہو جائے گا، اور بہتوں کا گناہ اُٹھا کر دُور کر دے گا۔
مرکزی نکتہ
اس باب کا سب سے چبھتا ہوا لفظ "ہم" ہے۔ ہماری بیماریاں، ہمارے جرائم، ہماری سلامتی، ہمارا آوارہ پھرنا۔ گناہ یہاں کوئی مبہم داغ نہیں بلکہ ایک سمت ہے: "ہر ایک نے اپنی اپنی راہ اختیار کی۔" یہی ہماری آزادی ہے اور یہی ہماری تباہی۔ اور اس کے مقابل جو کچھ ہوتا ہے وہ محض ایک المیہ نہیں، ایک فیصلہ ہے: "رب نے اُسے ہم سب کے قصور کا نشانہ بنایا۔" یہاں خدا تماشائی نہیں، وہ خود اس ادلا بدلی کا بندوبست کرنے والا ہے۔ نجات ہمارے اوپر سے نہیں گزرتی، وہ ایک زخمی جسم میں سے گزرتی ہے۔ اور آیت دس کا وہ جملہ جو ہمیں بےچین کر دیتا ہے، "رب ہی کی مرضی تھی کہ اُسے کچلے"، ہمیں یاد دلاتا ہے کہ محبت یہاں سستی نہیں، خون کی قیمت پر ملی ہے۔
مشترکہ دھاگہ
یسعیاہ کے سننے والوں کے پاس اس خادم کا کوئی نام نہیں تھا، صرف ایک خاکہ تھا: ذبح ہونے والا برہ، قصور کی قربانی، وہ جو خاموش رہتا ہے۔ یہ خاکہ قربانی کے اُس پورے نظام سے کھینچا گیا ہے جس میں بےقصور جانور قصوروار کی جگہ لیتا ہے۔ لیکن یہاں ایک فرق ہے جو ہر چیز بدل دیتا ہے: جانور کو معلوم نہیں ہوتا کہ اُس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، جبکہ یہ خادم جانتا ہے اور پھر بھی "اپنا منہ نہ کھولا"۔ رضامندی قربانی کو قربانی بناتی ہے۔ صدیوں بعد گلگتا پر یہ خاکہ گوشت پوست میں کھڑا ہو گیا، اور کلیسیا نے پہچان لیا کہ یہ کسی اَور کا پورٹریٹ نہیں تھا۔ مگر خیال رہے: یسعیاہ 53 مسیح کی طرف صرف اشارہ نہیں کرتا، وہ ہمیں بتاتا ہے کہ مسیح کو کیسے دیکھنا ہے، یعنی نیچے سے، اُس کی بدصورتی کی طرف سے۔
آئینہ
یہ باب ہمیں اُس عادت پر پکڑتا ہے جو ہم سب میں ہے: "لوگ یہاں تک اُس کی تحقیر کرتے تھے کہ اُسے دیکھ کر اپنا منہ پھیر لیتے تھے۔" ہم بیمار رشتہ دار سے، محلے کے اُس آدمی سے جس کی بدنامی ہے، دفتر کے اُس ساتھی سے جس کے ساتھ بیٹھنا ہمارے وقار کو کم کرتا ہے، نگاہ ہٹا لیتے ہیں۔ اور ہم اپنی بےاعتنائی کو انصاف کا نام دیتے ہیں: "ہم سمجھے کہ یہ اُس کی مناسب سزا ہے۔" کتنی آسانی سے ہم دوسرے کے دُکھ کو اُس کا اپنا قصور قرار دے دیتے ہیں، کیونکہ اِس طرح ہم بری ہو جاتے ہیں۔ یسعیاہ کہتا ہے: تم غلط دیکھ رہے ہو۔ آج ہی آیت 4 سے 6 تک بلند آواز میں پڑھیں، مگر ہر "ہم" اور "ہمارا" کی جگہ "میں" اور "میرا" رکھ کر۔ پانچ منٹ، اور اپنی آواز سنیں۔
بین المتون
اعمال 8 میں ایتھوپیا کا خزانچی اپنے رتھ میں بیٹھا یہی باب پڑھ رہا ہے اور فلپّس سے پوچھتا ہے کہ نبی کس کی بات کر رہا ہے، اپنی یا کسی اَور کی۔ یہ سوال بےوقوفانہ نہیں، یہ متن کا اپنا سوال ہے، اور انجیل کا آغاز اُسی سوال کے جواب سے ہوتا ہے۔ دوسری طرف پطرس رسول اپنے پہلے خط کے دوسرے باب میں اِن ہی آیتوں کو ستائے ہوئے غلاموں کے سامنے رکھتا ہے: تمہارا خداوند بھی گالی کے بدلے گالی نہیں دیتا تھا۔ یعنی یہ باب صرف کفارے کا عقیدہ نہیں سکھاتا، وہ ایک چال سکھاتا ہے، چلنے کا ایک انداز، جس میں خاموشی بزدلی نہیں بلکہ سپردگی ہے۔
سوال
"رب ہی کی مرضی تھی کہ اُسے کچلے۔" اس جملے کو نرم کرنے کی کوشش نہ کریں۔ یہ نہیں کہتا کہ خدا نے ہونے دیا، یہ کہتا ہے کہ یہ اُس کی مرضی تھی۔ کیا خدا اپنے بےگناہ خادم پر تشدد کرتا ہے؟ اگر ہم فوراً "ہاں" کہیں تو خدا ایک ظالم بن جاتا ہے، اور اگر ہم فوراً "نہیں" کہیں تو ہم آیت کو کاٹ دیتے ہیں۔ متن خود دونوں راستے بند رکھتا ہے اور ہمیں اُسی جگہ کھڑا چھوڑ دیتا ہے جہاں محبت اور انصاف ایک دوسرے میں گتھے ہوئے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اگلا جملہ سزا پر نہیں، پھل پر ختم ہوتا ہے: "وہ اپنے فرزندوں کو دیکھے گا۔" یہاں معمہ باقی رہتا ہے، مگر یہ ایک زندہ معمہ ہے، سرد نہیں۔
پس منظر
پہلے سننے والے وہ لوگ تھے جو خود حقیر اور مردود تھے: جلاوطن، شکست خوردہ، ایک ایسی سلطنت کے سائے میں جہاں طاقت ہی سچائی کا پیمانہ تھی۔ اُن کے کان میں یہ الفاظ پہلے اپنی ہی تصویر لگے ہوں گے، کیونکہ وہی تو تھے جن سے قومیں منہ پھیرتی تھیں۔ اور پھر متن اُن کے ہاتھ سے پھسل جاتا ہے: یہ کوئی اَور ہے، جو اُن کی جگہ کھڑا ہے۔ جو قوم اپنے دُکھ کو سزا سمجھ کر شرمندہ تھی، اُسے بتایا گیا کہ ایک ایسا دُکھ بھی ہے جو سزا نہیں بلکہ شفا لاتا ہے۔ اور آخری آیت میں فاتحوں کی زبان استعمال ہوتی ہے، لُوٹ کا مال، حصہ، زورآور، مگر یہ فتح ایک قبر سے ہو کر آتی ہے۔ ایسا اعلان صرف وہی سن سکتا ہے جو ہار چکا ہو۔
غور و فکر
آپ آج کل کس کی طرف سے "منہ پھیر" رہے ہیں، اور آپ نے اپنے دل میں اُس کے دُکھ کو کون سا جواز دے رکھا ہے؟
اگر مسیح کی خاموشی بزدلی نہیں بلکہ سپردگی تھی، تو آپ کی زندگی کے کس جھگڑے میں خاموشی ایمان کا کام ہو گی، اور کس میں فرار؟
Isaiah 53 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یسعیاہ 53 کا کیا مطلب ہے؟
یسعیاہ 53 کس بارے میں ہے؟
یسعیاہ 53 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یسعیاہ 53 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یسعیاہ 53 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Isaiah 53 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
