یرمیاہ 20:9
متن
یرمیاہ ایک فیصلہ کرتا ہے جو ہم میں سے بہتوں نے کسی نہ کسی رات کیا ہے: بس، اب خاموشی۔ ”آئندہ مَیں نہ رب کا ذکر کروں گا، نہ اُس کا نام لے کر بولوں گا۔“ یہ ناراضی کا نعرہ نہیں، تھکن کا فیصلہ ہے؛ مذاق، گالیاں اور کاٹھ کی ایک رات اُس کی پشت پر ہیں۔ مگر فیصلہ ٹکتا نہیں۔ جونہی وہ منہ بند کرتا ہے، کلام اندر سے کام شروع کر دیتا ہے: ”آگ کی طرح میرے دل میں بھڑکنے لگتا ہے۔ اور یہ آگ میری ہڈیوں میں بند رہتی اور کبھی نہیں نکلتی۔“ آیت کا اختتام کسی فتح پر نہیں بلکہ ایک ہار پر ہوتا ہے: ”مَیں اِسے برداشت کرتے کرتے تھک گیا ہوں، یہ میرے بس کی بات نہیں رہی۔“ وہ بولے تو جلے، نہ بولے تو بھی جلے۔
مرکزی بات
یہاں خدا کا کلام کوئی پیغام نہیں جو نبی اپنے کندھے پر اُٹھائے پھرتا ہے اور تھک کر رکھ دے۔ یہ اُس کے اندر ایک زندہ چیز ہے، آگ، جو بولنے سے کم نہیں ہوتی اور چپ رہنے سے بجھتی نہیں۔ عبرانی میں جس لفظ کا ترجمہ ”برداشت کرنا“ ہوا ہے (کُول)، اُس میں برتن کے سمونے کا مفہوم ہے: یرمیاہ ایک ایسا ظرف ہے جو اپنے اندر کی چیز کو سنبھال نہیں پا رہا۔ یہ ہمیں خدا کے بارے میں ایک بےچین کر دینے والی بات بتاتا ہے: وہ صرف بلاتا نہیں، وہ پکڑ لیتا ہے۔ آیت ۷ میں یرمیاہ پہلے ہی کہہ چکا ہے، ”تُو مجھے اپنے قابو میں لا کر مجھ پر غالب آیا۔“ فضل یہاں نرم ہاتھ نہیں، مضبوط گرفت ہے۔ اور شاید یہی اِس کی سب سے بڑی تسلی ہے: اگر ایمان صرف ہمارے ارادے پر کھڑا ہوتا، تو یرمیاہ اُس رات ہی سب کچھ چھوڑ چکا ہوتا۔ وہ نہ چھوڑ سکا، اِس لیے نہیں کہ وہ مضبوط تھا، بلکہ اِس لیے کہ کلام اُس سے زیادہ مضبوط تھا۔
مشترکہ دھاگہ
آگ پیغمبروں کی کتابوں میں بار بار خدا کے کلام کی تصویر ہے: ایسی چیز جو صاف کرتی ہے اور جلاتی بھی ہے۔ مگر یرمیاہ کی آگ کسی قربان گاہ پر نہیں، ایک انسان کی ہڈیوں میں جل رہی ہے۔ یہاں سے ایک باریک دھاگہ آگے جاتا ہے۔ اِنجیل ہمیں بتاتی ہے کہ خدا نے آخرکار اپنا کلام کسی نبی کے سپرد نہیں کیا بلکہ خود کلام بن کر آیا۔ مسیح کو کسی اندرونی آگ سے مجبور ہو کر بولنا نہیں پڑا؛ وہ خود وہ آگ تھے۔ اور جب لوقا کی انجیل میں اِماؤس کے دو مسافر کہتے ہیں کہ راستے میں اُن کے دل جل رہے تھے، تو یہ وہی آگ ہے جو اب مخالفت کا بوجھ نہیں بلکہ پہچان کا نشان بن گئی۔ یرمیاہ کا عذاب ایک وعدے کی طرف اشارہ کرتا ہے: ایک دن کلام ہمارے اندر جلے گا اور ہمیں توڑے گا نہیں۔
آئینہ
یہ آیت اُن لوگوں کو بےنقاب کرتی ہے جو ایمان کو ایک قابلِ انتظام چیز سمجھتے ہیں۔ آپ نے شاید کبھی سوچا ہو کہ بس اب تھوڑا پیچھے ہٹ جاؤں: گروپ کی ذمہ داری چھوڑ دوں، دفتر میں اپنی رائے نہ دوں، اُس رشتہ دار کے سامنے خاموش رہوں جو ہر بار طنز کرتا ہے۔ یہ خواہش گناہ نہیں، تھکن ہے، اور یرمیاہ بھی اِسی جگہ کھڑا ہے۔ مگر اُس کا تجربہ ہمیں خبردار کرتا ہے کہ خاموشی آرام نہیں دیتی؛ اندر کی آگ اور گرم ہو جاتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ آپ کتنے مضبوط ہیں، بلکہ یہ کہ کیا آپ نے اپنی کمزوری خدا کو سنائی ہے یا صرف اپنے دل میں دہرائی ہے۔ آج رات سونے سے پہلے، بلند آواز میں خدا سے یہ ایک جملہ کہیں: ”یہ میرے بس کی بات نہیں رہی۔“ بس یہی، بغیر کسی وضاحت یا معافی کے۔
پہلے سننے والے
یرمیاہ کی یہ ”اعترافی دعائیں“ سب سے زیادہ غالباً اُن لوگوں نے پڑھیں جو بابل میں جلاوطن تھے۔ وہ اُس نبی کے الفاظ پڑھ رہے تھے جس کی بات اُنہوں نے وقت پر نہیں مانی تھی، اور جس کی پیش گوئی اب اُن کے جلے ہوئے شہر کی صورت میں پوری ہو چکی تھی۔ اُن کے کانوں میں آیت ۹ کوئی ذاتی ڈائری نہیں تھی بلکہ ایک گواہی: خدا کا کلام سچ نکلا، اور اُسے لانے والا خود اُس کے بوجھ تلے کراہتا رہا۔ یہ اُن کے لیے تسلی بھی تھی اور شرمندگی بھی۔ تسلی، کیونکہ اُن کا خدا اپنے لوگوں کے درد سے لاتعلق نہیں؛ شرمندگی، کیونکہ وہ درد کسی اور نے اُن کی جگہ اُٹھایا تھا جب وہ ہنس رہے تھے۔
مشکل سوال
کیا یہ ٹھیک ہے کہ خدا کسی انسان پر یوں ”غالب“ آئے؟ یرمیاہ کی زبان نرم نہیں؛ آیت ۷ میں وہ ایسے الفاظ استعمال کرتا ہے جیسے کوئی زبردستی اُس پر ہوئی ہو۔ ہم عموماً ایمان کو ایک آزاد انتخاب کے طور پر پیش کرتے ہیں، اور بڑی حد تک وہ ہے۔ مگر یہاں ایک آدمی کہہ رہا ہے کہ وہ چھوڑنا چاہتا تھا اور چھوڑ نہ سکا۔ کیا یہ محبت ہے یا قید؟ متن جواب نہیں دیتا۔ وہ اِس تناؤ کو کھلا چھوڑ دیتا ہے، اور شاید یہی دیانت داری ہے۔ کچھ لوگ خدا کو ایک ایسی گرفت کے طور پر جانتے ہیں جس سے وہ بھاگ بھی نہیں سکتے اور جس کے لیے شکر بھی نہیں کر پاتے، کم از کم فی الحال نہیں۔ اگر آپ وہیں کھڑے ہیں، تو جان لیں: یہ باب بھی وہیں ختم ہوتا ہے، لعنت کے الفاظ کے ساتھ، اور پھر بھی یہ باب خدا کے کلام میں شامل ہے۔
سیاق و سباق
یہ واقعہ غالباً یہویقیم کے دورِ حکومت میں پیش آیا، بابل کے سائے کے یروشلیم پر گہرے ہونے سے کچھ پہلے۔ فشحور کوئی عام آدمی نہیں تھا: ”وہ رب کے گھر کا اعلیٰ افسر تھا“، یعنی ہیکل کا سیکیورٹی انچارج۔ اُس نے یرمیاہ کو پٹوایا اور کاٹھ میں ٹھونک دیا، اور یہ کاٹھ شہر کے مصروف ترین دروازے پر تھا۔ یہ صرف جسمانی اذیت نہیں تھی؛ اُس معاشرے میں عزت اور بےعزتی زندگی اور موت کے برابر تھی، اور پورا شہر صبح سے شام تک نبی کو مڑی ہوئی حالت میں دیکھتا رہا۔ اگلی صبح وہ رہا تو ہوا، مگر خالی ہاتھ نہیں: اُس کے اندر وہی آگ تھی، اور باہر وہی لوگ جو آیت ۱۰ کے مطابق اُس کے پھسلنے کا انتظار کر رہے تھے۔
غور و فکر
کون سی بات ہے جو خدا نے آپ کے دل میں رکھی ہے اور آپ نے تھک کر بولنا چھوڑ دیا ہے؟ وہ خاموشی آپ کے اندر کیا کر رہی ہے؟
اگر آپ کا ایمان صرف آپ کے ارادے پر کھڑا ہوتا، تو آج آپ کہاں ہوتے؟ اور یہ سوچ کر آپ کے دل میں خوف اُبھرتا ہے یا شکر؟
Jeremiah 20:9 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یرمیاہ 20:9 کا کیا مطلب ہے؟
یرمیاہ 20:9 کس بارے میں ہے؟
یرمیاہ 20:9 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یرمیاہ 20:9 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یرمیاہ 20:9 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Jeremiah 20 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
رات بھر کاٹھ میں جکڑے رہنے کے بعد یرمیاہ کے منہ سے پہلا لفظ شکایت نہیں بلکہ خدا کا پیغام نکلا: ”رب نے تیرا نام فشحور نہیں بلکہ ماگور مسّابیب رکھا ہے۔“ فشحور نے سوچا کہ اُس نے نبی کو خاموش کر دیا، مگر اصل میں اُس نے اپنی زندگی پر ایک نیا نام لکھوا لیا۔ ہم جو دوسروں کے ساتھ کرتے ہیں، وہ آہستہ آہستہ ہماری پہچان بن جاتا ہے۔ تیرے ارد گرد کے لوگ تجھے کس نام سے یاد کریں گے؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں