ایوب 20
متن
ضوفر نعماتی تیسری بار بولتا ہے، اور اِس بار بغیر کسی تمہید کے۔ اُس کے اندر ایک اُبلتا ہوا غصہ ہے: ایوب کی بات نے اُس کی بےعزتی کی ہے، لہٰذا وہ ایک ہی موضوع پر پورا خطبہ دیتا ہے، یعنی بےدین آدمی کا انجام۔ اُس کی خوشی پل بھر کی ہے، اُس کا قد آسمان تک پہنچے تو بھی وہ اپنے فضلے کی طرح مٹ جائے گا؛ جو دولت اُس نے نگلی ہے وہ پیٹ میں سانپ کا زہر بن جائے گی اور اللہ خود اُسے اُگلوا دے گا۔ آسمان اُسے مجرم ٹھہرائے گا، زمین اُس کے خلاف گواہی دے گی، اور آخری آیت مہر لگا دیتی ہے: ”یہ ہے وہ اجر جو اللہ بےدینوں کو دے گا۔“
اصل بات
ضوفر ایک ایسی سچائی کہتا ہے جو غلط جگہ پر رکھی گئی ہے۔ سچائی یہ ہے کہ گناہ اپنے اندر ہی زہر لئے پھرتا ہے۔ آیت 12 سے 14 اِس باب کا دل ہے: ”بُرائی بےدین کے منہ میں میٹھی ہے“، وہ اُسے زبان تلے چھپاتا ہے، جانے نہیں دیتا، اور پھر وہی لقمہ پیٹ میں پہنچ کر سانپ کا زہر بن جاتا ہے۔ یہ محض بیرونی سزا کی بات نہیں؛ یہ گناہ کی اپنی کیمسٹری ہے۔ ظلم سے کمایا ہوا مال ہضم نہیں ہوتا۔ لالچ کبھی سکون نہیں دیتا: ”اُس نے پیٹ میں کبھی سکون محسوس نہیں کیا۔“ خدا کی عدالت کائنات پر چپکائی گئی کوئی چیز نہیں، وہ اُس کے بنائے ہوئے نظام میں بُنی ہوئی ہے۔ غلطی صرف یہ ہے کہ ضوفر اِس آئینے کو ایک بےگناہ آدمی کے چہرے کے سامنے پکڑ رہا ہے۔
نجات کا سلسلہ
ضوفر کے پاس ایک ترازو ہے اور کوئی صلیب نہیں۔ اُس کی دنیا میں دو ہی خانے ہیں: راستباز پھلتے ہیں، بےدین اُگل دیتے ہیں۔ ایسی دنیا میں کسی بےگناہ کے دُکھ اُٹھانے کی گنجائش ہی نہیں، اور اِسی لئے ضوفر کا خانہ آخرکار ٹوٹتا ہے۔ کیونکہ ایک ایسا شخص آیا جس پر آسمان نے نہیں، بلکہ انسانوں نے مجرم کا فیصلہ سنایا؛ جس نے وہ پیالہ پیا جو اُس کا نہیں تھا۔ ایوب اُس کا دھندلا سا سایہ ہے: بےقصور، اور پھر بھی راکھ میں۔ مسیح میں یہ آیت ایک عجیب موڑ لیتی ہے: زہر واقعی پیا گیا، مگر اُس نے پیا جس کے منہ میں بُرائی کبھی میٹھی نہ تھی۔ ضوفر کا اصول باقی رہتا ہے، لیکن اُس کے مرکز میں ایک ایسی فضل کی کھڑکی کھل جاتی ہے جس کا اُسے گمان بھی نہ تھا۔
آئینہ
آپ کی زبان تلے کیا چھپا ہے؟ ضوفر کی تصویر بےرحمی سے درست ہے: ہم گناہ کو نگلتے نہیں، اُسے چوستے ہیں۔ وہ ایک تبصرہ جو آپ نے کسی ساتھی کے بارے میں کیا اور جس کا مزہ ابھی تک باقی ہے۔ وہ حساب جس میں آپ نے کچھ ”ٹھیک کر لیا“ اور خود کو سمجھا لیا کہ سب ایسا ہی کرتے ہیں۔ وہ اسکرین جو رات کو کھلتی ہے۔ وہ مزدور جس کی اجرت آپ نے تین ہفتے ٹال دی، کیونکہ اُس کے پاس دباؤ ڈالنے کی طاقت نہیں۔ آیت 19 اِسی پر انگلی رکھتی ہے: ”اُس نے پست حالوں پر ظلم کر کے اُنہیں ترک کیا ہے۔“ اور آیت 20 وہ چیز کہتی ہے جو ہم سب جانتے ہیں مگر مانتے نہیں: پیٹ میں کبھی سکون محسوس نہیں ہوا۔ زیادہ ملنے سے کبھی کافی نہیں ہوا۔
آج ہی کاغذ کا ایک ٹکڑا لیں اور اُس ایک چیز کا نام لکھیں جو آپ کے منہ میں میٹھی ہے اور جسے آپ جانے نہیں دیتے۔ پھر اُسے بلند آواز میں خدا کے سامنے پڑھیں، یہ کہہ کر: ”یہ سانپ کا زہر ہے“، اور کاغذ پھاڑ دیں۔
ایک مشکل سوال
اگر ضوفر کی بات اُصولی طور پر سچ ہے، تو پھر وہ اِس قدر ظالم کیوں لگتی ہے؟ کیونکہ سچائی وقت اور پتے کے بغیر جھوٹ بن جاتی ہے۔ ایوب کے بچے مر چکے ہیں، اُس کا جسم گل رہا ہے، اور ضوفر تفصیل سے بتاتا ہے کہ کیسے بےدین کی اولاد بھیک مانگے گی اور آگ اُس کے خیمے کے بچے ہوئے لوگوں کو کھا جائے گی۔ وہ ایوب کا نام نہیں لیتا، مگر ہر تیر اُسی طرف ہے۔ کتاب اِس کا کوئی صاف حل نہیں دیتی۔ وہ صرف ضوفر کو بولنے دیتی ہے اور آخر میں خدا فرماتے ہیں کہ اِن دوستوں نے ٹھیک بات نہیں کہی۔ یعنی درست علمِ الٰہیات بھی، جب بےمحبت ہو، خدا کے سامنے غلط ٹھہر سکتا ہے۔ یہ سوچ کر ڈر لگنا چاہیے، خاص طور پر اُنہیں جو دوسروں کو سکھاتے ہیں۔
کلام کی گونج
زبور 73 وہی مسئلہ اُٹھاتا ہے مگر بالکل مختلف لہجے میں: وہاں لکھنے والا پہلے کھلے دل سے مانتا ہے کہ بےدین آرام سے جیتے ہیں اور اُس کے پاؤں پھسلنے کو ہیں، اور جواب اُسے دلیل سے نہیں بلکہ مقدِس میں ملتا ہے۔ فرق ذاتی ایمانداری کا ہے: زبور کہتا ہے ”میں“، ضوفر کہتا ہے ”وہ“۔ اور یسوع کا دولت مند کسان بھی یہی زبان بولتا ہے، ذخیرہ کرنے، بھر لینے اور نفس کو آرام دینے کی، جس سے اُسی رات جان مانگ لی جاتی ہے۔ لیکن یسوع یہ تمثیل کسی دُکھ اُٹھانے والے کو ملامت کرنے کے لئے نہیں، بلکہ سننے والوں کو اپنے دل کی طرف موڑنے کے لئے سناتے ہیں۔ آئینہ وہی ہے؛ ہاتھ بدل گیا ہے۔
پس منظر
یہ بحث کا دوسرا چکر مکمل کرتی ہے، تین دوستوں کی آخری منظم کوشش۔ منظر کسی مندر یا عدالت کا نہیں، ایک شہر کے باہر راکھ کے ڈھیر کا ہے جہاں ایوب بیٹھا ہے۔ اِس دنیا میں دولت اور اولاد خدا کی خوشنودی کا کھلا سرٹیفکیٹ سمجھے جاتے تھے، اور بربادی ایک عوامی الزام تھی۔ ضوفر تینوں میں سب سے تیز اور کم صابر ہے؛ وہ روایتی حکمت کے پیچھے چھپ کر بولتا ہے، ”قدیم زمانے سے“، تاکہ اُس کی بات پر اپیل نہ ہو سکے۔ اُس کے پیچھے ایک ذاتی خوف بھی ہے: اگر ایوب بےگناہ ہے تو ضوفر کی ساری دنیا ہل جاتی ہے۔ اِس لئے وہ اپنے دوست کو بچانے کے بجائے اپنے نظام کو بچاتا ہے۔
غور و فکر کے سوالات
وہ کون سی ”میٹھی“ چیز ہے جسے آپ زبان تلے رکھے ہوئے ہیں، اور آپ کیوں نہیں چاہتے کہ وہ نگل کر ختم ہو جائے؟
آپ نے آخری بار کب کوئی سچی بات ایسے وقت میں کہی جب وہ سننے والے کے لئے زہر بن گئی، اور آپ کو یہ کیسے پتا چلا؟
Job 20 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
ایوب 20 کا کیا مطلب ہے؟
ایوب 20 کس بارے میں ہے؟
ایوب 20 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
ایوب 20 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
ایوب 20 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Job 20 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خداوند، تیرا شکر کہ بُرائی آخر میں بچ نہیں نکلتی۔ جو لوہے کے ہتھیار سے بھاگ جائے، تیرا انصاف اُسے بھی جا لیتا ہے۔ اور شکر اِس بات کا کہ ہمیں اپنی جان بچانے کو بھاگنا نہیں پڑتا، تُو نے اپنے فضل میں ہمیں پناہ دی ہے۔
ضوفر کہتا ہے، ”شریر کی فتح کا نعرہ عارضی اور بےدین کی خوشی پل بھر کی ہے۔“ بات اپنی جگہ سچ ہے، مگر وہ اسے ایوب کے کھلے زخم پر رکھ رہا ہے، جیسے نمک۔ سچائی بھی بےرحمی سے بولی جائے تو کچل دیتی ہے۔ کسی دکھی کے پاس بیٹھنے سے پہلے اپنے دل سے پوچھ: مجھے سچ بولنا ہے یا بحث جیتنی ہے؟
ضوفر بدکار آدمی کی تصویر یوں کھینچتا ہے: "اُس نے کبھی چین نہ پایا، اِس لئے وہ اپنی کوئی بھی پسندیدہ چیز نہ بچا سکے گا۔" غور کریں، سزا باہر سے نہیں آئی، وہ اُس کے اندر ہی بیٹھی تھی۔ جس دل کو کبھی سکون نہ ملا، وہ جمع کرتا رہتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا۔ آپ کے اندر جو بےچینی ہے، کیا آپ اُسے مزید حاصل کرنے سے چپ کرانا چاہتے ہیں؟ چین چیزوں میں نہیں، خدا کے ساتھ صلح میں ملتا ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
