ایوب 27
متن
ایوب اپنی بات جاری رکھتا ہے، مگر اب عدالت کے انداز میں: وہ قَسم کھاتا ہے، اور حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ اُسی خدا کی حیات کی قَسم کھاتا ہے ”جس نے میرا انصاف کرنے سے انکار کیا“۔ جب تک سانس چلتی ہے، وہ جھوٹ نہ بولے گا اور نہ یہ مانے گا کہ اُس کے دوست ٹھیک کہتے ہیں؛ وہ اپنی بےگناہی پر قائم ہے۔ پھر وہ اچانک پانسہ پلٹتا ہے اور خود وہی تعلیم دینے لگتا ہے جو اُس کے دوست دہراتے آئے ہیں: بےدین کی اولاد تلوار کی زد میں آتی ہے، اُس کی چاندی راست باز پہن لیتا ہے، اور ایک رات مشرقی لُو اُسے اُڑا لے جاتی ہے۔
اصل بات
یہ باب دو چیزوں کو ایک ساتھ تھامے ہوئے ہے جنہیں ہم عموماً الگ رکھنا چاہتے ہیں: خدا کے انصاف پر ایمان، اور خدا کے خلاف شکایت۔ ایوب اُسی ہستی کی قَسم کھاتا ہے جس پر وہ ناانصافی کا الزام لگا رہا ہے۔ یہ بےادبی نہیں، یہ ایمان کی انتہائی شکل ہے: اگر خدا نہ رہا تو قَسم بےمعنی ہو جاتی ہے، شکایت بھی بےمعنی ہو جاتی ہے۔ اور دوسری بات: ایوب دیانت داری کو قربان کرنے سے انکار کرتا ہے۔ وہ جھوٹی توبہ کر کے سکون خرید سکتا تھا، مگر وہ اپنے ہونٹوں کو خدا کے سامنے جھوٹ کا آلہ بننے نہیں دیتا۔ خدا کے ساتھ رشتہ سچائی پر کھڑا ہے، خوشامد پر نہیں۔
سلسلہ
بائبل میں ایک دھاگا ہے جو ایوب سے ہوتا ہوا مزامیر کے فریادی تک اور آگے صلیب تک جاتا ہے: وہ راست باز جو دُکھ اٹھاتا ہے اور جس پر اُس کے قریب ترین لوگ گناہ کا الزام لگاتے ہیں۔ ایوب کہتا ہے ”مَیں بےالزام ہوں“، اور ہم جانتے ہیں کہ کتاب کا آغاز اُسے سچا ٹھہراتا ہے۔ یہی نمونہ مسیح میں اپنی انتہا کو پہنچتا ہے، جس پر کفر کا الزام لگا اور جس نے اپنی بےگناہی کے باوجود خاموشی اختیار کی۔ فرق یہ ہے کہ ایوب اپنی صفائی چیخ کر پیش کرتا ہے، مسیح اپنی صفائی باپ کے ہاتھ میں چھوڑ دیتا ہے۔ دونوں ہمیں سکھاتے ہیں کہ دُکھ ہمیشہ گناہ کا حساب نہیں ہوتا۔
آئینہ
ہم میں سے اکثر اُس کمرے کو جانتے ہیں جہاں ہم پر کوئی ایسا الزام لگتا ہے جو سچ نہیں، اور ہم تھک کر سوچتے ہیں: مان لوں تو جھگڑا ختم ہو جائے گا۔ دفتر میں کسی غلطی کا بوجھ اٹھا لینا جو آپ کی نہیں تھی؛ خاندان میں وہ کہانی قبول کر لینا جو آپ کے بارے میں سالوں سے دہرائی جا رہی ہے؛ بیماری میں یہ سمجھ لینا کہ شاید یہ میرے کسی گناہ کی سزا ہے۔ ایوب اِس آسان راستے سے انکار کرتا ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنے دل کی گواہی کو سنجیدگی سے لیتا ہے: ”میرا دل میرے کسی بھی دن کے بارے میں مجھے ملامت نہیں کرتا۔“ آج رات سونے سے پہلے دس منٹ لیجیے اور اپنے آج کے دن کو گھنٹہ بہ گھنٹہ خدا کے سامنے دہرائیے؛ جہاں دل واقعی ملامت کرے، وہاں بلند آواز سے نام لے کر معافی مانگیے۔
پہلے سامعین کا خاکہ
قدیم مشرق میں قَسم کھانا کوئی رسمی بات نہ تھی۔ عدالت شہر کے دروازے پر لگتی تھی، بزرگ بیٹھتے تھے، اور جب گواہ نہ ہوں تو مقدمہ قَسم پر ختم ہوتا تھا: آدمی خدا کو گواہ بناتا اور اگر جھوٹ بولتا تو عذاب اپنے سر لیتا۔ پہلے سامعین نے ایوب کے لفظ سنتے ہی سانس روک لی ہو گی، کیونکہ وہ اُسی منصف کو گواہ بنا رہا ہے جس پر وہ ناانصافی کا الزام لگا رہا ہے۔ یہ قانونی طور پر ایک دھماکہ ہے۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ بیواؤں کا ماتم نہ کر پانا، جیسا آیت ۱۵ میں ہے، صرف غم کی بات نہیں بلکہ انتہائی رسوائی تھی: اتنی تیز تباہی کہ جنازے کی رسم تک باقی نہ رہی۔
مرکزی کردار
ایوب اِس باب میں راکھ پر بیٹھا ایک ایسا آدمی ہے جس کا جسم ٹوٹ چکا ہے مگر زبان نہیں۔ وہ سانس کو خدا کی ملکیت مانتا ہے، ”جب تک اللہ کا دم میری ناک میں ہے“، اور اُسی سانس سے خدا کے خلاف شکایت کرتا ہے۔ یہ تضاد اُس کی عظمت ہے۔ وہ کڑوا ہے، یہاں تک کہ اپنے دشمن کے لیے بےدینوں کا انجام مانگتا ہے، اور ہمیں یہ سن کر ناگوار گزرتا ہے؛ کتاب اِس کڑواہٹ کو چھپاتی نہیں۔ مگر وہ جھوٹا نہیں۔ اُس کا سب سے بڑا خوف تکلیف نہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ مرتے وقت خود سے جھوٹ بول چکا ہو۔ ایمان یہاں آرام نہیں، ضد ہے، مگر خدا کی طرف رُخ کی ہوئی ضد۔
ایک باریک تفصیل
آیت ۱۸ کی تصویر پر رُکیے: بےدین کا گھر ”اُس عارضی جھونپڑی کی مانند جو چوکیدار اپنے لئے بنا لیتا ہے“۔ انگور کے باغ میں فصل کے موسم میں شاخوں اور پتوں سے ایک چھپر کھڑا کیا جاتا تھا، چند ہفتوں کے لیے، تاکہ کوئی رات کو پہرا دے سکے۔ فصل اُٹھتے ہی وہ جھونپڑی وہیں چھوڑ دی جاتی، اور پہلی بارش اور لُو اُسے بکھیر دیتی۔ سامعین نے یہ ویران، ٹیڑھے چھپر اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے۔ ایوب کہہ رہا ہے: جو آدمی ظلم سے پتھر جوڑتا ہے، وہ دراصل پتوں کا چھپر بنا رہا ہے۔ یہ محض اخلاقی نصیحت نہیں، ایک مانوس منظر ہے جو ہر امیر محل کو موسمی بنا دیتا ہے۔
غور و فکر کے سوالات
کیا کوئی ایسا الزام ہے جو آپ نے محض سکون کی خاطر قبول کر لیا ہے، حالانکہ آپ کا دل جانتا ہے کہ وہ سچ نہیں؟
ایوب اُسی خدا کی قَسم کھاتا ہے جس سے اُسے شکایت ہے۔ آپ کی دعا میں شکایت اور ایمان ایک ساتھ رہ سکتے ہیں، یا آپ نے ایک کو خاموش کرا دیا ہے؟
Job 27 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
ایوب 27 کا کیا مطلب ہے؟
ایوب 27 کس بارے میں ہے؟
ایوب 27 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
ایوب 27 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
ایوب 27 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Job 27 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
ایوب وہی بات دہرا رہا ہے جو اُس کے دوست بار بار اُسے سنا چکے تھے: "یہ ہے وہ اجر جو اللہ بےدین کو دیتا ہے، وہ میراث جو ظالم کو قادرِ مطلق سے ملتی ہے۔" فرق صرف اتنا ہے کہ ایوب اِس آئینے میں اپنا چہرہ نہیں دیکھتا۔ وہ خدا کے انصاف کو مانتا ہے، مگر دوستوں کی غلط تشخیص کو قبول نہیں کرتا۔
کبھی کبھی ایمان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ خدا پر بھروسا بھی رکھیں اور لوگوں کے لگائے ہوئے الزام کو بھی نہ اوڑھیں۔ کیا آپ نے کبھی ایسا الزام اپنے اوپر لے لیا جو خدا نے آپ پر نہیں لگایا تھا؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
