ایوب 10
متن
ایوب اپنے دوستوں سے منہ موڑ کر سیدھا خدا کی طرف پلٹتا ہے اور بغیر ادب کے تکلف کے بولنا شروع کرتا ہے: مجھے میرا الزام بتا، مجھ پر مقدمہ کھول۔ پھر وہ اپنے جسم کی تخلیق کا نقشہ کھینچتا ہے، دودھ اور پنیر، جِلد اور ہڈیاں، اور اُسی سانس میں شکایت کرتا ہے کہ جن ہاتھوں نے یہ سب بُنا وہی ہاتھ اب اُدھیڑ رہے ہیں۔ آخر میں وہ خدا سے صرف ایک چیز مانگتا ہے: مجھ سے نظر ہٹا لے، مجھے چند لمحوں کی مہلت دے، کیونکہ آگے صرف اندھیرا ہے۔
مرکزی بات
یہ باب اُس مقام پر کھڑا ہے جہاں ایمان اور ایذا ایک دوسرے کے گلے پڑ جاتے ہیں۔ ایوب خدا کے وجود سے انکار نہیں کرتا؛ اُس کا مسئلہ اِس سے بھی کڑوا ہے، وہ خدا کی موجودگی سے انکار نہیں کر سکتا۔ ’’تیرے اپنے ہاتھوں نے مجھے تشکیل دے کر بنایا۔ اور اب تُو نے مُڑ کر مجھے تباہ کر دیا ہے۔‘‘ یہی وہ الٰہیاتی چوٹ ہے: خالق اور مخالف ایک ہی ہستی معلوم ہوتی ہے۔ اور یہاں کتابِ مقدّس کچھ حیرت انگیز کرتی ہے، وہ اِس آواز کو سنسر نہیں کرتی۔ خدا اپنے کلام میں ایک ایسے آدمی کی گواہی محفوظ رکھتا ہے جو اُس پر ظلم کا الزام لگاتا ہے۔ گویا وحی خود ہمیں سکھا رہی ہے کہ اِس قدر کھلی شکایت بھی ایمان کے دائرے سے باہر نہیں پھینکی جاتی۔
سلسلۂ نجات کا تار
ایوب کی سب سے گہری خواہش آیت ۲ میں چھپی ہے: مجھے میرا فردِ جرم دکھا۔ اُسے ایک عدالت چاہیے جس میں مدعی اور منصف ایک ہی نہ ہو، ایک ایسا مقام جہاں وہ ’’اپنا سر اُٹھانے‘‘ کی جرأت کر سکے۔ یہی خالی جگہ صلیب پر بھری جاتی ہے۔ مسیح میں خدا خود مقدمے کے کٹہرے میں آ کھڑا ہوتا ہے اور وہ اندھیرا اپنے اوپر لے لیتا ہے جس کا ذکر ایوب آخری آیتوں میں کرتا ہے۔ اور جب یسوع صلیب پر ’’اے میرے خدا، تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟‘‘ پکارتے ہیں، تو یہ ایوب کی آواز کی گونج ہے، مگر اِس بار وہ بےگناہ جو واقعی بےگناہ ہے۔ ایوب کا سوال بےجواب نہیں رہا؛ اُس کا جواب ایک شخص کی صورت میں آیا۔
آئینہ
ہم میں سے اکثر ایوب کی طرح چلّانے کی جرأت نہیں رکھتے۔ ہم شکایت کو مہذب بنا لیتے ہیں: ’’میں جدوجہد کر رہا ہوں۔‘‘ اصل جملہ کچھ اور ہوتا ہے: میں تین سال سے یہ تشخیص لیے پھر رہا ہوں اور دعا سے کچھ نہیں بدلا۔ میرا بیٹا فون نہیں اٹھاتا اور میں ہر اتوار کلیسیا میں مسکراتا ہوں۔ آیت ۲۰ کی درخواست خوفناک حد تک پہچانی ہوئی ہے: ’’مجھے تنہا چھوڑ! مجھ سے اپنا منہ پھیر لے۔‘‘ کبھی ہم بھی یہی چاہتے ہیں، خدا کی برکت نہیں بلکہ اُس کی غیر موجودگی، تاکہ کچھ دیر سانس لے سکیں۔ یہ باب اُس نقاب کو اُتار دیتا ہے۔ اپنی شکایت خدا کے سامنے کھول کر رکھ دینا بےادبی نہیں؛ اُسے دبا کر مؤدب زبان میں لپیٹنا ایک زیادہ خطرناک فاصلہ ہے۔
پہلے سننے والے
جو لوگ یہ کتاب پہلی بار سنتے تھے وہ ایسے معاشرے میں جیتے تھے جہاں مصیبت ایک عوامی فیصلہ تھی۔ بیمار جسم اور اُجڑا خاندان محلے کے لیے اعلان تھا کہ خدا نے فیصلہ سنا دیا ہے۔ اِس لیے ایوب کا ’’مَیں بےقصور ہوں‘‘ کہنا سماجی خودکشی کے برابر تھا: وہ اُس پورے حساب کو جھٹلا رہا تھا جس پر اُس کی دنیا ٹِکی تھی۔ اور سننے والوں کے لیے مزید صدمہ آیت ۳ میں تھا، جہاں ایوب کہتا ہے کہ خدا ’’بےدینوں کے منصوبوں پر اپنی منظوری کا نور‘‘ چمکاتا ہے۔ یہ وہی درد ہے جو جلاوطنی کے بعد اسرائیل جانتا تھا: ظالم پھلتے ہیں، وفادار مٹی چاٹتے ہیں۔ ایوب کا نوحہ اُن کا اپنا نوحہ بن گیا۔
سیاق و سباق
منظر یہ ہے: ایک تباہ حال آدمی راکھ پر بیٹھا ہے، دس بچے دفن ہو چکے، مال گیا، جسم زخموں سے بھرا۔ تین دوست دور سے آئے تھے اور سات دن خاموش رہے، مگر پھر بولنے لگے، اور اُن کی تسلی چاقو بن گئی۔ باب ۹ میں ایوب نے کہا کہ خدا سے مقدمہ لڑنا ناممکن ہے کیونکہ وہ گواہ، منصف اور مخالف سب کچھ ہے۔ باب ۱۰ اُسی سوچ کا اگلا قدم ہے، مگر اب ایوب دوستوں سے بحث چھوڑ کر براہِ راست خدا سے مخاطب ہے۔ لہجہ عدالتی ہے: الزام، تحقیق، گواہ۔ ایک بےبس ملزم اپنے مقدمے کی فائل مانگ رہا ہے، اور کوئی نہیں دیتا۔
ایک باریک نکتہ
آیات ۱۰ اور ۱۱ کو جلدی سے نہ گزریں۔ ایوب اپنی پیدائش کو یوں بیان کرتا ہے: ’’تُو نے خود مجھے دودھ کی طرح اُنڈیل کر پنیر کی طرح جمنے دیا۔‘‘ یہ کسان کے گھر کی تصویر ہے، ایک ماہر ہاتھ جو مائع کو ٹھوس شکل دیتا ہے، پھر جِلد پہناتا ہے، ہڈیاں اور نسیں جوڑتا ہے، جیسے کوئی درزی کپڑا سیتا ہے۔ عبرانی میں یہاں جو لفظ آتا ہے، عصَب، بُننے اور محبت سے تیار کرنے کا احساس رکھتا ہے۔ ایوب یہ سب کیوں گِن رہا ہے؟ اِس لیے کہ وہ خدا کو اُس کی اپنی کاریگری یاد دلانا چاہتا ہے۔ دلیل یہ ہے: جس چیز میں تُو نے اتنی محنت لگائی، اُسے یوں پھاڑ دینا تیرے شان کے خلاف ہے۔ شکایت کے اندر سے، بےخبری میں، ایک ایمان بول رہا ہے: تُو وہ خدا ہے جو بناتا ہے، اِس لیے تیرا آخری کام تباہی نہیں ہو سکتا۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کی سب سے سچی شکایت کون سی ہے جو آپ نے ابھی تک خدا کے سامنے کھلے لفظوں میں نہیں رکھی، اور کس چیز نے آپ کو روکا ہے؟
جب آپ کسی دُکھی شخص کے پاس بیٹھتے ہیں، تو کیا آپ اُس کی زبان سے ایوب جیسے سخت جملے سننے کا حوصلہ رکھتے ہیں، یا آپ فوراً خدا کا دفاع کرنے لگتے ہیں؟
Job 10 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
ایوب 10 کا کیا مطلب ہے؟
ایوب 10 کس بارے میں ہے؟
ایوب 10 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
ایوب 10 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
ایوب 10 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Job 10 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
مجھے اپنی زندگی سے گھن آتی ہے، اِس لئے مَیں آزادی سے آہ و زاری کروں گا، اپنی جان کی تلخی میں بات کروں گا۔“ ایوب اپنی شکایت چھپاتا نہیں، اور خدا اُسے خاموش بھی نہیں کراتا۔ سوچ، تُو نے آخری بار کب دل کی کڑواہٹ اُس کے سامنے کھول کر رکھی؟ وہ تیری صاف بات سے نہیں، تیری دوری سے دُکھ پاتا ہے۔
ایوب اپنے دکھ کی گہرائی میں خدا سے پوچھتا ہے، "کیا تُو نے مجھے دُودھ کی طرح نہیں اُنڈیلا اور پنیر کی طرح نہیں جمایا؟" یہ شکایت نہیں، حیرت ہے۔ جس نے اِتنی نرمی سے مجھے بنایا، وہی آج مجھے توڑ کیوں رہا ہے؟
شاید آج تیرا دل بھی یہی سوال اُٹھا رہا ہو۔ یاد رکھ، جن ہاتھوں نے تجھے دُودھ کی طرح اُنڈیلا، وہی ہاتھ آج بھی تجھے تھامے ہوئے ہیں، چاہے تُو محسوس کرے یا نہ کرے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
