اِفسِیوں 3
متن
پولس اپنی قید کے ذکر سے شروع کرتا ہے، مگر عجیب طور پر: وہ خود کو روم کا نہیں بلکہ "مسیح عیسیٰ کا قیدی" کہتا ہے، اور وہ بھی غیریہودیوں کی خاطر۔ اِس کے بعد وہ اُس "راز" کو کھولتا ہے جو صدیوں تک چھپا رہا: خوش خبری کے ذریعے غیریہودی اب اسرائیل کے ساتھ ایک ہی بدن کے اعضا اور ایک ہی وعدے کے شریک ہیں۔ باب کا دوسرا حصہ گھٹنوں پر ادا کی گئی ایک دعا ہے، کہ اِن نئے لوگوں کے دل مسیح کی اُس محبت کو جان لیں جس کی چوڑائی، لمبائی، اونچائی اور گہرائی کی پیمائش ناممکن ہے، اور آخر میں ایک ایسی حمد جو کلیسیا کو خدا کے جلال کا ابدی مقام قرار دیتی ہے۔
مرکزی نکتہ
اِس باب کا دھڑکتا ہوا دل یہ ہے کہ خدا کا فضل محض ایک شخص کی معافی نہیں بلکہ ایک نئی انسانیت کی تخلیق ہے۔ پولس فضل کو "انتظام" کہتا ہے، یعنی گھر کا وہ بندوبست جس کے ذریعے مالک اپنی دولت تقسیم کرتا ہے۔ اور یہ دولت "لامحدود" ہے۔ غور کریں: نجات یہاں انفرادی چھٹکارے سے آگے بڑھ کر رشتوں کی بحالی بن جاتی ہے۔ جو قومیں پہلے وعدے سے باہر تھیں، وہ اب وارث ہیں۔ اِس کا مطلب ہے کہ خدا کی قدوسیت کسی کو دور نہیں رکھتی جسے مسیح نے قریب کر لیا ہو، اور خدا کی حکمت کا سب سے بڑا ثبوت کوئی تعلیمی نظام نہیں بلکہ ایک ملی جلی، بےمیل جماعت ہے جہاں یہودی اور غیریہودی ایک ہی میز پر بیٹھتے ہیں۔
نجات کی کہانی کا سلسلہ
پولس کہتا ہے کہ یہ راز "گزرے زمانوں میں سب چیزوں کے خالق خدا میں پوشیدہ رہا"۔ پوشیدہ، مگر غیرحاضر نہیں۔ ابرہام کو دیا گیا وعدہ ہی یہی تھا کہ اُس کے وسیلے سے زمین کے سب خاندان برکت پائیں گے؛ نبیوں نے قوموں کے صیّون کی طرف آنے کے خواب دیکھے۔ مگر یہ کسی کے وہم میں نہ آیا تھا کہ قومیں اسرائیل کے مہمان نہیں بلکہ "ایک ہی بدن کے اعضا" بن جائیں گی۔ عہد کا دائرہ چوڑا نہیں ہوا، اُس کی صورت بدل گئی۔ اور یہ سب "ازلی منصوبہ" تھا، جسے صلیب پر پورا کیا گیا۔ خلقت، عہد، اور کلیسیا ایک ہی لکیر پر ہیں: خدا شروع ہی سے ایک ایسا خاندان چاہتا تھا جس میں تمام قومیں شامل ہوں۔
آئینہ
یہ باب ہماری اُس خفیہ خواہش کو بےنقاب کرتا ہے کہ کلیسیا اُن لوگوں سے بھری ہو جو ہم جیسے ہیں: ہماری زبان، ہمارا طبقہ، ہمارا مزاج۔ پولس کہتا ہے کہ خدا کی حکمت کا مظاہرہ عین اُس جگہ ہوتا ہے جہاں یہ آسانی ٹوٹتی ہے۔ آپ کے گروپ میں وہ شخص جس کی موجودگی آپ کو تھکا دیتی ہے، وہی آسمانی حکمرانوں کے سامنے آپ کے ساتھ خدا کی حکمت کا ثبوت ہے۔ اور دوسری بات: پولس زنجیروں میں ہے، پھر بھی کہتا ہے "بےدل نہ ہو جائیں"۔ جب کاروبار ڈوبے، جب رپورٹ اچھی نہ آئے، جب بچہ ایمان چھوڑ دے، ہمارا پہلا خیال یہ ہوتا ہے کہ خدا کا منصوبہ ناکام ہو گیا۔ پولس کی قید کہتی ہے: نہیں، یہ اُسی منصوبے کا حصہ ہے۔
ایک باریک نکتہ
آیت 10 پر ٹھہریں: "اللہ چاہتا تھا کہ اب مسیح کی جماعت ہی آسمانی حکمرانوں اور قوتوں کو اللہ کی وسیع حکمت کے بارے میں علم پہنچائے۔" یہاں کلیسیا معلّم ہے اور سامعین غیرمرئی طاقتیں ہیں۔ یہ صرف تعریفی جملہ نہیں۔ اُس دنیا میں لوگ یقین رکھتے تھے کہ قوموں کی تقسیم، دشمنی اور درجہ بندی روحانی طاقتوں کے زیرِ اثر ہے۔ پولس کہتا ہے: جب دو دشمن قومیں ایک بدن بن جاتی ہیں، تو یہ اُن طاقتوں کے منہ پر ایک اعلان ہے کہ اُن کا دور ختم ہوا۔ اِس لیے آپ کی جماعت کی صلح صرف سماجی خوبی نہیں؛ وہ ایک کائناتی گواہی ہے، ایک زندہ خطبہ جو انسانوں سے زیادہ اونچے سامعین کے لیے دیا جا رہا ہے۔
پہلے سننے والے
افسس کے یہ پڑھنے والے زیادہ تر غیریہودی تھے، ایک ایسے شہر میں جہاں ارتمس کا مندر معیشت اور شناخت دونوں کا مرکز تھا۔ اُن کے کانوں میں یہ الفاظ چونکا دینے والے تھے: وہ جو مندر کے صحن سے باہر رکھے جاتے تھے، اب "پوری آزادی اور اعتماد کے ساتھ اللہ کے حضور آ سکتے ہیں"۔ یونانی میں یہ لفظ اُس حق کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ایک آزاد شہری کو کھل کر بولنے کے لیے حاصل تھا۔ غلاموں اور تاجروں کے اِس ملے جلے مجمعے کو بتایا جا رہا تھا کہ اُن کے پاس بادشاہ کے دربار میں بولنے کا شہری حق ہے۔ اور اُن کا رسول جیل میں تھا، جو اُن کی "عزت کا باعث" قرار دیا گیا۔
دیگر کلامی حوالے
پہلا پطرس میں لکھا ہے کہ فرشتے بھی اِس نجات میں جھانک کر دیکھنے کے مشتاق ہیں؛ یہ آیت 10 کے ساتھ خوب میل کھاتی ہے، کیونکہ دونوں جگہ آسمانی مخلوقات کلیسیا کے ذریعے کچھ سیکھ رہی ہیں۔ اور 1 سلاطین 8 میں سلیمان ہیکل کی مخصوصیت پر دعا کرتا ہے کہ اجنبی بھی آ کر اِس گھر میں دعا کریں؛ وہاں غیریہودی دور سے آتے ہیں، یہاں وہ خود گھر کے افراد بن جاتے ہیں۔ پولس کی دعا کہ آپ "اللہ کی پوری معموری سے بھر جائیں" اُسی جلال کی بازگشت ہے جو ہیکل کو بھر دیتا تھا، مگر اب وہ جلال پتھروں میں نہیں بلکہ اُن دلوں میں بستا ہے جہاں مسیح ایمان کے ذریعے سکونت کرتا ہے۔
غور و فکر
آپ کی جماعت میں کون ایسا ہے جس کی موجودگی آپ کے لیے مشکل ہے، اور اُس کے ساتھ آپ کی صلح آسمانی حکمرانوں کو خدا کی حکمت کے بارے میں کیا بتاتی ہے؟
پولس اپنی قید کو ناکامی نہیں بلکہ خدمت کہتا ہے۔ آپ کی زندگی کی کون سی محدودی آپ کو خدا کے منصوبے سے باہر لگتی ہے، اور کیا ہو اگر وہ اُس کے اندر ہو؟
Ephesians 3 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
اِفسِیوں 3 کا کیا مطلب ہے؟
اِفسِیوں 3 کس بارے میں ہے؟
اِفسِیوں 3 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
اِفسِیوں 3 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
اِفسِیوں 3 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Ephesians 3 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
پولس اپنے آپ کو "تمام مُقدّسین میں سب سے چھوٹا" کہتا ہے، اور اُسی سانس میں "مسیح کی لامحدود دولت" کا ذکر کرتا ہے۔ کیا خوب جوڑ ہے: سب سے چھوٹا ہاتھ، اور اُس میں سب سے بڑا خزانہ۔ خدا نے تجھے بھی اِس لئے نہیں چنا کہ تُو کافی بڑا ہے، بلکہ اِس لئے کہ اُس کی دولت کافی بڑی ہے۔ تیری چھوٹائی اُس پیغام کو کم نہیں کرتی، بس یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ تیرا نہیں، فضل سے ملا ہے۔
پولس قید میں ہے، زنجیروں میں، اور فکر اُسے اپنی نہیں بلکہ اُن کی ہے: "میری گزارش ہے کہ آپ اُن مصیبتوں کے باعث بےدل نہ ہو جائیں جو مَیں آپ کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔" وہ اپنے دُکھ کو اُن کی عزت کہتا ہے۔ سوچیں، کیا کوئی آپ کے لئے خاموشی سے قیمت چکا رہا ہے؟ اور کیا آپ کسی کے لئے چکانے کو تیار ہیں؟
اے خدا، جب میں تیرا کلام پڑھتا ہوں تو میری سمجھ کھول دے۔ مسیح کا وہ بھید جو تُو نے ظاہر کیا ہے، مجھے صرف الفاظ میں نہیں بلکہ دل میں سمجھ آئے۔ جہاں میری عقل کم پڑتی ہے، وہاں تُو خود روشنی بن کر آ جا۔
پولس روم کی زنجیروں میں تھا، لیکن وہ خود کو قیصر کا قیدی نہیں کہتا۔ "مَیں، پَولُس، جو آپ غیریہودیوں کی خاطر مسیح عیسیٰ کا قیدی ہوں۔" اُس کی نظر میں اُسے پکڑنے والا ہاتھ رومی سپاہی کا نہیں بلکہ مسیح کا تھا۔ اور وہ زنجیر بےمقصد نہ تھی، وہ اُن لوگوں کی خاطر تھی جو ابھی خدا سے دُور تھے۔ آج جو حالات آپ کو جکڑے ہوئے ہیں، کیا آپ اُن میں مسیح کا ہاتھ دیکھ سکتے ہیں؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
