یوحنا 12
متن
فسح سے چھ دن پہلے بیت عنیاہ میں ایک کھانا، جہاں وہ لعزر بھی میز پر بیٹھا ہے جو قبر سے نکالا گیا تھا۔ مریم آدھا لٹر خالص عطر خداوند کے پاؤں پر انڈیل دیتی ہے، یہوداہ حساب لگاتا ہے، اور خداوند یسوع اُس حرکت کو اپنی تدفین سے جوڑ دیتے ہیں۔ اگلے دن یروشلم کا ہجوم کھجور کی ڈالیاں لے کر "ہوشعنا" پکارتا ہے، چند یونانی ملاقات کے خواہش مند آتے ہیں، اور اُسی لمحے خداوند گندم کے دانے کی بات کرتے ہیں جسے مرنا ہے؛ باب کا اختتام اُن لوگوں پر ہوتا ہے جو ایمان تو رکھتے تھے مگر اقرار سے ڈرتے تھے۔
مرکزی بات
یوحنا اِس باب میں "جلال" کے لفظ کو ایک نیا مطلب دے دیتا ہے۔ ہجوم جلال کو تاج، نعروں اور کھجور کی ڈالیوں میں دیکھتا ہے؛ خداوند یسوع کہتے ہیں: ”اب وقت آ گیا ہے کہ ابنِ آدم کو جلال ملے“، اور فوراً ایک دفن ہوتے بیج کی تصویر کھینچ دیتے ہیں۔ یعنی خدا کی بڑائی صلیب پر عیاں ہوتی ہے، نہ کہ اُس سے بچ نکلنے میں۔ اور یہ کوئی بےدلی سے قبول کی گئی مجبوری نہیں: ”اب میرا دل مضطرب ہے“ کے فوراً بعد ”مَیں تو اِسی لئے آیا ہوں“ آتا ہے۔ نجات یہاں کسی اصول کا نتیجہ نہیں، ایک شخص کے فیصلے کا پھل ہے جو اپنی جان بچانے سے انکار کرتا ہے تاکہ بہت سا پھل لائے۔
سلسلۂ کلام
گدھے کے بچے پر سواری اتفاق نہیں؛ یوحنا خود زکریاہ نبی کی طرف اشارہ کرتا ہے: ”اے صیون بیٹی، مت ڈر!“ اسرائیل کا بادشاہ گھوڑے پر فاتح کی طرح نہیں، ایک جانور پر امن کی علامت کے ساتھ آتا ہے۔ اِس لئے ہجوم کی توقع اور خداوند کی سواری میں ایک خاموش تضاد ہے۔ دوسری طرف یسعیاہ کا وہ بھاری قول کہ آنکھیں اندھی اور دل بےحس ہو گئے، یوحنا کے نزدیک کوئی حادثہ نہیں بلکہ اُسی کہانی کا تسلسل ہے جو اسرائیل کی نبوّتوں میں چلی آ رہی ہے۔ فسح کے موقع پر، جب ہر گھر میں برّہ ذبح ہو رہا تھا، خدا کا اپنا برّہ یروشلم میں داخل ہوتا ہے۔
آئینہ
یہ باب آپ کو تین آئینوں کے سامنے کھڑا کرتا ہے۔ پہلا مریم ہے: کیا آپ نے کبھی کچھ ایسا دیا ہے جس کی قیمت آپ کو محسوس ہوئی ہو؟ تین سو سِکے ایک مزدور کی سال بھر کی کمائی تھے، اور وہ ایک ہی لمحے میں فرش پر بہہ گئے۔ دوسرا یہوداہ ہے، اور وہ زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ اُس کا اعتراض نیک لگتا ہے: غریبوں کا خیال۔ ہم سب جانتے ہیں کہ دینے سے بچنے کے لئے اچھے دلائل کیسے گھڑے جاتے ہیں۔ تیسرا آئینہ سب سے قریب ہے: وہ راہنما جو ایمان رکھتے تھے مگر ”اِس کا علانیہ اقرار نہیں کرتے تھے“، کیونکہ ”وہ اللہ کی عزت کی نسبت انسان کی عزت کو زیادہ عزیز رکھتے تھے“۔ دفتر میں، خاندان کی محفل میں، واٹس ایپ کے گروپ میں۔ آپ جھوٹ نہیں بولتے؛ آپ بس خاموش رہ جاتے ہیں، اور خاموشی سستی پڑتی ہے۔
آج ہی اُس ایک شخص کو، جس کے سامنے آپ نے مسیح سے اپنی وابستگی چھپائی ہے، ایک مختصر پیغام بھیجیں جس میں صاف لفظوں میں لکھیں کہ آپ خداوند یسوع پر ایمان رکھتے ہیں۔ دس منٹ لگیں گے، اور شاید پورا دن دھڑکتا رہے گا۔
سامعین کا نقشہ
یوحنا کی انجیل جن لوگوں کے لئے لکھی گئی، اُن میں بہت سے ایسے یہودی مسیحی تھے جو عبادت خانے سے خارج کئے جا چکے تھے یا اِس خطرے میں جی رہے تھے۔ آیت 42 کا ذکر اُن کے لئے کوئی تاریخی تفصیل نہیں تھا، یہ اُن کی اپنی کہانی تھی: خاندان، کاروبار، برادری، سب داؤ پر۔ جب اُنہوں نے سنا کہ گندم کا دانہ زمین میں گر کر مرتا ہے تو پھل لاتا ہے، تو یہ کوئی خوبصورت تمثیل نہیں بلکہ اُن کی روزمرہ قیمت کا بیان تھا۔ اور یونانیوں کا آنا اُن کے لئے امید کی کھڑکی تھی: ”سب کو اپنے پاس کھینچ لوں گا“ کا مطلب تھا کہ اُن کی نئی، مخلوط، بےگھر جماعت کوئی غلطی نہیں، بلکہ اُسی کھنچاؤ کا نتیجہ ہے۔
سوال
یسعیاہ کا حوالہ کانٹے کی طرح چبھتا ہے: ”اللہ نے اُن کی آنکھوں کو اندھا اور اُن کے دل کو بےحس کر دیا ہے“۔ کیا خدا خود ایمان کا راستہ بند کرتا ہے؟ یوحنا یہاں کوئی تسلی بخش وضاحت نہیں دیتا، اور ہمیں بھی نہیں دینی چاہئے۔ مگر دو باتیں متن میں موجود ہیں۔ پہلی، یہ فیصلہ نشانوں کی ایک طویل قطار کے بعد آتا ہے، نہ کہ اُن سے پہلے؛ بےحسی پہلے چنی گئی، پھر پکی ہوئی۔ دوسری، اِسی باب کے آخر میں خداوند پکار اُٹھتے ہیں کہ وہ عدالت کرنے نہیں بلکہ نجات دینے آئے ہیں، اور ”سب کو اپنے پاس کھینچ لوں گا“۔ دونوں باتیں ایک ساتھ کھڑی ہیں اور ہم اُنہیں مکمل طور پر جوڑ نہیں سکتے۔ جو شخص اِس تناؤ سے ڈرتا ہے، وہ کم از کم بےپروا نہیں۔
پس منظر
یہ فسح سے پہلے کا آخری ہفتہ ہے۔ یروشلم زائرین سے بھرا ہوا ہے، شہر کی آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے، اور رومی فوج بےچینی سے پہرہ دے رہی ہے، کیونکہ عید آزادی کی یاد ہے اور آزادی کی یاد بغاوت کو جنم دے سکتی ہے۔ اِسی ماحول میں بیت عنیاہ، یروشلم سے تین کلومیٹر دور، ایک گھر میں ایک عورت مہمانوں کے سامنے اپنے بال کھول کر خداوند کے پاؤں پونچھتی ہے: ایک ایسی حرکت جو اُس معاشرے میں شرم اور بےحجابی کے قریب تھی۔ اور راہنما امام، جن کا اقتدار ہیکل اور رومیوں کے ساتھ نازک توازن پر ٹکا تھا، نہ صرف خداوند یسوع بلکہ لعزر کو بھی قتل کرنے کا منصوبہ بناتے ہیں۔ ایک زندہ گواہ کو مٹانا اُنہیں قیامت کے ثبوت کو مٹانے سے آسان لگا۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں وہ کون سی ”قیمتی عطر“ ہے جسے آپ عقلمندی کے نام پر سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں؟
کس کی عزت آپ کے فیصلوں کو سب سے زیادہ چلاتی ہے: خدا کی، یا اُن لوگوں کی جن کے سامنے آپ خاموش رہ جاتے ہیں؟
John 12 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یوحنا 12 کا کیا مطلب ہے؟
یوحنا 12 کس بارے میں ہے؟
یوحنا 12 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یوحنا 12 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یوحنا 12 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی John 12 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
وہ ایمان لے آئے تھے، دل میں جانتے تھے کہ یسوع ہی مسیح ہے۔ پھر بھی خاموش رہے، کیونکہ "وہ اللہ کی عزت کی نسبت انسان کی عزت کو زیادہ پیار کرتے تھے۔" سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایمان کی کمی نہیں تھی، ہمت کی کمی تھی۔ آج تمہیں کس کی نظروں کا ڈر چپ کرا دیتا ہے؟ جس کی واہ واہ تم ڈھونڈ رہے ہو، کیا وہ تمہیں بچا سکتا ہے؟
اِس لئے وہ ایمان نہ لا سکے“ ۔ پہلے لکھا تھا کہ وہ ایمان نہیں لائے، اب لکھا ہے کہ لا نہ سکے۔ انکار کرتے کرتے ایک دن انکار عادت بن جاتا ہے، اور دل اِتنا سخت کہ نرمی یاد ہی نہ رہے۔ یسوع کے نشان اُن کی آنکھوں کے سامنے تھے، مگر دیکھنے سے انکار نے اُنہیں اندھا کر دیا۔ آج تیرے دل میں جو ہلکی سی آواز ہے، اُسے ٹالنا مت۔ کل شاید وہ سنائی ہی نہ دے۔
آسمان سے باپ کی آواز آئی، مگر ہجوم نے کہا، ”بادل گرج رہے ہیں۔“ کچھ نے کہا، ”فرشتہ اُس سے ہم کلام ہوا ہے۔“ ایک ہی آواز، اور اتنے مختلف جواب۔ سوچ کر دیکھ، تیری زندگی میں بھی خدا بولتا رہا ہو گا اور تُو نے اُسے محض اتفاق یا موسم کا شور سمجھ کر گزار دیا ہو۔ سننے کے لیے کان نہیں، دل چاہیے جو یسوع کو پہچانتا ہو۔
یسوع نے صاف کہا، "یہ آواز میرے لئے نہیں بلکہ تمہارے لئے آئی ہے۔" آسمان کی گواہی اُسے یقین دلانے کو نہیں تھی، وہ تو پہلے ہی باپ کی مرضی میں قائم تھا۔ وہ نشان اُن کے لئے تھا جو کھڑے تھے مگر شک میں ڈوبے تھے۔
سوچو، کبھی کبھی خدا کوئی آواز، کوئی تسلی، کوئی نشان بھیجتا ہے، اور ہم سمجھتے ہیں وہ کسی اور کے لئے ہے۔ نہیں، وہ تمہارے لئے ہے۔ تاکہ تم یقین کرو۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
