یوحنا 13
متن
فسح کی عید سے ٹھیک پہلے، اُس شام جب یہوداہ کے دل میں غداری کا ارادہ پک چکا تھا، عیسیٰ دسترخوان سے اُٹھے، اپنا لباس اُتارا، کمر پر تولیہ باندھا اور اپنے شاگردوں کے پاؤں دھونے لگے۔ پطرس نے احتجاج کیا، مگر خداوند نے صاف کہا کہ اگر وہ اُسے نہ دھوئیں تو اُس کا اُن کے ساتھ کوئی حصہ نہیں۔ پھر اُنہوں نے یہ خدمت اپنے شاگردوں کے لئے ”نمونہ“ قرار دیا، غدار کی نشان دہی کی، اور یہوداہ کے رات کے اندھیرے میں نکل جانے کے بعد جلال، رخصتی اور ایک ”نیا حکم“ کی بات کی: ایک دوسرے سے ویسی ہی محبت رکھو جیسی مَیں نے تم سے رکھی۔ باب کا اختتام پطرس کے بلند دعوے اور خداوند کی اُس پیش گوئی پر ہوتا ہے کہ مرغ کی بانگ سے پہلے وہ تین بار انکار کر چکا ہو گا۔
مرکز
یہ باب ہمیں بتاتا ہے کہ خدا کی عظمت جھکنے سے کم نہیں ہوتی، بلکہ جھکنے میں ظاہر ہوتی ہے۔ آیت 3 غور طلب ہے: عیسیٰ اِسی لئے اُٹھے اور تولیہ باندھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ”باپ نے سب کچھ میرے سپرد کر دیا ہے“۔ کائنات کا سارا اختیار ہاتھ میں ہو اور پھر گندے پاؤں کے سامنے گھٹنے ٹیکنا، یہ محض عاجزی کا سبق نہیں، یہ خدا کی ذات کا انکشاف ہے۔ پاؤں دھونا صلیب کا چھوٹا سا نمونہ ہے: لباس اُتارنا، خدمت، پھر لباس پہننا، جیسے موت اور جی اُٹھنا۔ اور فضل کی سختی بھی یہیں ہے۔ پطرس کو دھلائی قبول کرنی ہی پڑے گی، ورنہ ”میرے ساتھ تیرا کوئی حصہ نہیں ہو گا“۔ نجات پہلے دی جاتی ہے، پھر جیئی جاتی ہے؛ خدمت کرنے سے پہلے انسان کو خدمت کرائی جانی چاہئے، اور یہی ہمارے غرور کے لئے سب سے مشکل بات ہے۔
سلسلۂ نجات
فسح کی رات اتفاق نہیں ہے۔ مصر میں خون دروازے پر لگایا گیا تھا تاکہ قوم بچ جائے اور آزادی کے سفر پر نکلے؛ یہاں وہ برّہ خود دسترخوان پر بیٹھا ہے اور اپنے لوگوں کو پاک کر رہا ہے۔ کہانت کی رسم میں ہارون اور اُس کے بیٹوں کو خیمۂ اجتماع میں داخل ہونے سے پہلے ہاتھ پاؤں دھونے پڑتے تھے (خروج 30)، ورنہ حضوری میں کھڑا ہونا ممکن نہ تھا۔ عیسیٰ وہی طہارت اپنے ہاتھوں سے شاگردوں کو دیتے ہیں، مگر اب کاہن خود جھک کر خادم بن جاتا ہے۔ اور نیا حکم؟ سینا پر عہد کے ساتھ شریعت دی گئی تھی؛ یہاں نئے عہد کے ساتھ ایک ہی حکم دیا جاتا ہے، اور اُس کا پیمانہ ہماری استطاعت نہیں بلکہ ”جس طرح مَیں نے تم سے محبت رکھی“۔ فضل پہلے، تقاضا بعد میں: یہ پورے کتابِ مقدّس کا ڈھانچہ ہے۔
آئینہ
پطرس کا انکار ہمارے اندر بھی بولتا ہے۔ ہم مدد کرنے میں راحت محسوس کرتے ہیں، مدد لینے میں شرمندگی۔ بیمار پڑ کر کسی کو اپنا کمرہ صاف کرنے دینا، قرض مانگنا، بچوں کے سامنے معافی مانگنا، یہ سب ہمیں چھوٹا کرتے ہیں، اِس لئے ہم مذہبی زبان میں انکار کرتے ہیں: ”مَیں کبھی بھی آپ کو میرے پاؤں دھونے نہیں دوں گا!“ مگر خداوند کا جواب سخت ہے: قبول نہ کیا تو حصہ نہیں۔ دوسری طرف یہوداہ ہے، جو دھلوائے ہوئے پاؤں لے کر رات میں نکل جاتا ہے۔ ظاہری قربت نجات نہیں ہے۔ دونوں خطرے آج آپ کے دفتر، گھر اور کلیسیا میں موجود ہیں۔ آج ایک کام کیجئے: کسی ایک شخص سے، جس کے سامنے آپ ہمیشہ مضبوط بنے رہتے ہیں، فون پر یا آمنے سامنے یہ ایک جملہ کہیے: ”مجھے تمہاری اِس بات میں مدد چاہئے۔“ اور پھر مدد لے لیجئے۔
پس منظر
یروشلم، عید سے پہلے کی شام، ایک بالاخانہ۔ مہمان مشرقی رواج کے مطابق نیچی میز کے گرد ٹیک لگائے لیٹے ہیں، پاؤں باہر کی طرف۔ سڑکوں کی مٹی اور گوبر میں چلنے کے بعد پاؤں دھونا ضروری تھا، مگر یہ کام گھر کے سب سے نچلے غلام کا تھا، اور یہودی گھرانوں میں عام طور پر غیریہودی غلام کا، کیونکہ یہ کام یہودی غلام سے کرانا بھی توہین سمجھا جاتا تھا۔ شاگرد ایک دوسرے کے سامنے مرتبے کے سوال میں اُلجھے بیٹھے ہیں، اور کوئی نہیں اُٹھتا۔ اِسی خاموشی میں اُستاد اُٹھتے ہیں، لباس اُتارتے ہیں (غلاموں کی طرح) اور تولیہ باندھتے ہیں۔ اِس معاشرت میں یہ منظر شرمناک حد تک الٹا تھا۔ پطرس کا احتجاج بدتمیزی نہیں، اُس دنیا کے تمام آداب کا فطری ردِعمل تھا۔
مرکزی کردار
یوحنا ہمیں یسوع کے اندر جھانکنے دیتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ وقت آ گیا ہے، جانتے ہیں کہ کون غداری کرے گا، جانتے ہیں کہ کہاں سے آئے اور کہاں جا رہے ہیں۔ اور یہی مکمل علم اُنہیں سرد نہیں کرتا: آیت 21 کہتی ہے کہ وہ ”نہایت مضطرب“ ہوئے۔ یہ وہ خدا نہیں جو فاصلے سے تقدیر چلاتا ہے؛ یہ وہ خداوند ہے جو غدار کو بھی لقمہ کھلاتا ہے، جو دوستی کی آخری علامت اُس ہاتھ میں رکھتا ہے جو اُسے بیچے گا۔ اور جب یہوداہ نکل جاتا ہے تو وہ صلیب کو ”جلال“ کہتے ہیں۔ اُن کے لئے تخت اور مصلوبیت الگ الگ چیزیں نہیں۔ محبت اُن میں کوئی جذبہ نہیں جو حالات کے ساتھ بدلے، بلکہ ایک فیصلہ ہے جو ”آخری حد تک“ جاتا ہے۔
سامعین کا خاکہ
یوحنا کی انجیل اُن جماعتوں تک پہنچی جو عبادت خانوں سے نکالی جا چکی تھیں، جہاں ایمان کی قیمت خاندان اور روزگار تھی۔ اُن کے کانوں میں ”جہاں مَیں جا رہا ہوں وہاں تم نہیں آ سکتے“ ایک تازہ زخم تھا: خداوند حاضر نہیں، دشمن حاضر ہے۔ اُن کے درمیان بھی ایسے لوگ رہ چکے تھے جو دسترخوان پر بیٹھے اور پھر رات میں نکل گئے، اِس لئے یہوداہ کا ذکر اُن کے لئے تاریخ نہیں، تجربہ تھا۔ اور اُنہیں پہچان کا نشان کوئی مندر، نسب یا رسم نہیں دی گئی، بلکہ ایک شرط: ”اگر تم ایک دوسرے سے محبت رکھو گے تو سب جان لیں گے کہ تم میرے شاگرد ہو۔“ چھوٹی، بے دفاع، بکھری ہوئی جماعت کے لئے یہ تسلی بھی تھی اور امتحان بھی۔
غور و فکر
کس شخص سے خدمت قبول کرنا آپ کو سب سے زیادہ ناگوار گزرتا ہے، اور یہ ناگواری آپ کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
اگر آپ کی جماعت کی پہچان صرف اُس محبت سے ماپی جائے جو اُس کے لوگ ایک دوسرے کو دکھاتے ہیں، تو باہر والا اِس وقت کیا نتیجہ نکالے گا؟
John 13 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
یوحنا 13 کا کیا مطلب ہے؟
یوحنا 13 کس بارے میں ہے؟
یوحنا 13 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
یوحنا 13 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
یوحنا 13 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
John 13 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
